ہمارے گاؤں کی ٹھنڈی سڑک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کل محترم ایّاز امیر اور برادرم رؤف کلاسرا دونوں نے درختوں اور جنگلوں سے اپنی محبت اور پھر ان کی کٹائی کی صورت میں اس محبت کے لٹنے کی الگ الگ داستانیں لکھیں تو ہمیں بھی اپنے بچپن اور لڑکپن کی دو سڑکیں بہت یاد آئیں جن میں ایک کا نام ٹھنڈی سڑک یا ”ٹاہلیوں والی سڑک“ تھا۔ اپنے گاؤں سے اپنے سکول کی طرف جاتے ہم روزانہ ہی اس ٹھنڈی سڑک سے گزر کر جاتے۔ ہماراسکول ہمارے گاؤں سے نصف کلومیٹر دور مشرق کی طرف تھا۔

آدھے سفر کے بعد اس سڑک کا آغاز ہوتا۔ سڑک کے شروع میں آم، نیم اور شیشم کے درختوں کا ایک جھنڈ تھا۔ اس جھنڈ کی وجہ سے یہاں نصف دائرے میں گھنی چھاؤں اپنے جوبن پر ہوتی۔ ساتھ ہی کینال ریسٹ ہاؤس کی شمالی دیوار، اس دیوار کے ساتھ ایک ٹیوب ویل، بالکل قریب سے پانی کی ایک گزرگاہ جسے ”کھال“ کہا جاتا ہے گزرتی تھی۔ یہ سب مل کر یہاں ایک دلکش منظر پیش کرتے۔ یہاں موجود درختوں کے تنے بہت موٹے گھیر کے تھے اور ان کے سائے میں ان تنوں کے سائز کے موٹے تازے بل بندھے ہوئے ہوتے تھے۔

یہ بل قریبی کیٹل فارم کے تھے اور لاہور کے میلہ مویشیاں سے اکثر صحت مندی کا مقابلہ جیت کر آتے تھے۔ فارم کے ملازمین جب جہازی سائز کے ان بیلوں کو وہاں باندھنے کے لیے آتے تو ہم ان کو رشک بھری اور مرعوبیت کا شکار آنکھوں سے دیکھتے۔ اس جھنڈ میں نیم کا جو درخت تھا، ہم سکول سے واپسی پر اس کے نیچے گری ہوئی ”ممولیاں“ کھاتے جو بیک وقت کڑوی اور میٹھی ہوتی ہیں اور غالباً سلفر سے بھر پور ہوتی ہیں، تبھی تو وہ خون صفا کا کام دیتی ہیں۔ ان ممولیوں کو کھانے میں بڑے ہماری خوب حوصلہ افزائی کرتے کہ ان کے کھانے سے پھوڑے پھنسیاں نہیں نکلتیں۔

اس جھنڈ کے بعد مذکورہ ٹھنڈی سڑک کاآغاز ہوتا جس کے دونوں طرف شیشم کے گھنے درخت تھے۔ درختوں سے پرے دونوں اطراف میں سر سبز کھیت۔ درختوں کے ساتھ ساتھ ان کو پانی دینے کے لیے چھوٹی چھوٹی نالیاں بھی بنی ہوئی تھیں۔ ان گھنے درختوں کی گھنی چھاؤں کی وجہ سے سڑک کا درجۂ حرارت گرمیوں میں ارد گرد کی نسبت بہت ہی کم ہوتا تھا، اس لیے اسے ٹھنڈی سڑک کہتے تھے۔ شیشم کے درختوں کی کثرت کی وجہ سے اسے ”ٹاہلیوں والی سڑک“ بھی کہتے تھے۔

ہمارے گاؤں کی طرف سے سڑک کے اختتام پر شہتوت کے بھی چند درخت تھے جہاں سے لوگ شہتوت کھانے کے علاوہ گرمیوں میں ان کے سائے میں چارپائیاں ڈال کر دوپہر میں راحت حاصل کرتے۔ جہاں تم مجھے یاد ہے گرمیوں میں اس پر چھڑکاؤ بھی کیا جاتا تھا۔ مٹی پر چھڑکاؤ کے بعد جو خوشبوآتی ہے اسے لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے، اسے صرف محسوس کیا جا سکتا ہے۔ آگر آپ کے نتھنے اس خوشبو سے آشنا نہیں ہیں تو یقین کریں آپ ایک بہت بڑی نعمت سے محروم ہیں۔

آپ فوراً خشک مٹی پر چھڑکاؤ کر کے اس احساس کو اپنے اندر سمونے کی کوشش کریں۔ اگر آپ جمالیاتی حس رکھتے ہیں تو آپ کو افسوس ہوگا کہ میں کیونکر دل میں اترنے والی اس باس سے اب تک محروم کیوں رہے۔ مجھے یاد ہے ایک دن سکول سے آتے یا جاتے وقت میں نے اس سڑک پر موجود پانی والی نالی پر اگی ہوئی گھاس پر چلتے وقت اپنے جوتے اتار کر بغلوں میں دبا لیے۔ پاؤں کے نیچے نرم اور گیلی گھاس کالمس اور ساتھ ہی گیلی مٹی کی سوندھی سوندھی خوشبو:

مت پوچھ ولولے دل نا کردہ کار کے

بچپن اور لڑکپن کا حسین دور گزر گیا، ہم اپنی ”جوانی“ کے اولین دور میں بھی ان درختوں کی بہار اور چھاؤں کو دیکھتے رہے۔ اس کے بعد ان درختوں کے لگانے اور سنبھالنے والے چلے گئے اور لوٹنے والے آگئے اور انہوں نے جی بھر کر ان کو لوٹا اور آج اس سڑک پر نشانی کے طور پر درخت کیا، کسی درخت کی ٹہنی بھی باقی نہیں رہی۔ اس سڑک نے اب بہت ترقی کر لی ہے۔ ٹھنڈی سڑک پر تارکول بچھا کر اسے پختہ کر دیا گیا ہے۔ لوگوں کی گاڑیاں، ٹریکٹر اور موٹر سائیکل وہاں فراٹے بھرتے ہیں، مگر ان کو کیا معلوم کہ اس ٹھنڈی سڑک پر موجودپانی والی نالی پر جو گھاس اگی تھی، وہاں ننگے پاؤں چلنے کا کیا رومانس اور سکون تھا، ۔ ”ٹاہلی دے تھلے بہہ کے پیار دیاں گلاں کیسے کی جاتی ہیں“ (نازیہ حسن ) ، مٹی کی خوشبو کہاں کہاں سے دل کے تار کو چھیڑتی تھی؟

دوسری سڑک کا حال پھر کبھی سہی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *