ٹوٹتا تارہ، دعا اور مسیحا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زندگی زمین سے روٹھی نہیں تھی۔ نسل آدم بڑھانے کے لیے ایک عورت موجود تھی۔
“لڑکی ہوئی یا لڑکا، ہم اس کا نام اُمید رکھیں گے”۔
اس بار بھی زندگی وہیں سے شروع ہوئی، جہاں سے پہلی بار ہوئی تھی۔ فرق محض یہ تھا، کہ اس بار آدم اکیلا نہیں تھا۔ اس کے شریک اور بھی تھے، لیکن حوا ایک ہی تھی۔ اس کا نام دعا تھا۔ ان میں سے ہر کوئی ایک واقعہ، ایک کہانی تھا۔ مکمل اشخاص اپنی اپنی فکر لیے اتفاق اور اختلاف کرتے امید سے تھے۔ امید؟ ہاں امید! دعا امید سے تھی۔

وبا کی تباہ کاریوں کے باوجود دنیا ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔ وبا کے بعد زندگی کہیں کہیں بچ رہی تھی۔ ایک دور افتادہ، یا شاید بہت نزدیک، یا کسی گم گشتہ قطعہ زمین پر چند ابن آدم موجود تھے۔ وہ سب نہ جانے کہاں سے، کس دیس، کس خطے سے وہاں آن جمع ہوئے تھے۔ نا ہی ان کے طول عرض کا پتا تھا، نہ طول بلد کا۔ وہ جہاں تھے، وہاں زندگی گزارنے کے وسائل فروانی سے موجود تھے۔ پتھر کے دور میں بھی تو آدم زاد نے ہمیشہ زندگی کا بندوبست کیا تھا۔ اب بھی ہو رہا تھا۔ قدرت کی مہر بانیوں کا حساب لگانا مشکل ہے۔

وہ آفت سے بچ بچا کر، ایک بار پھر دنیا آباد کرنے کی امنگ لیے موجود تھے۔ جدید سامان زیست مفقود تھا، مگر علم سے شناسائی اور ہر راحت کی چاشنی ان کے اذہان پر نقش تھی۔ ممکن ہے ان میں سے کسی نے کبھی نہ سوچا ہو، اگر زمین کے کسی اور مقام پر زندگی کے کچھ آثار باقی ہیں، تو اس دنیا سے معاشرتی قطع تعلقی انھیں کسی ایسے سفر پہ لے جاتی، جہاں یہ ایشیا، یا امریکا کو ایک بار پھر دریافت کرتے۔ یہ بھی ممکن تھا، کہ اس کوشش میں کوئی یورپ، کوئی افریقہ مل جاتا! یا کون جانے وہ وہیں تھے، جس خطے کی تلاش میں انھیں نکلنا چاہیے تھا۔

دعا کا شہر وبا کی آفت نے نگل لیا تھا۔ وبا کے دنوں میں دعا کو پیٹر سے محبت ہو گئی تھی۔ دعا پیٹر کے ساتھ ایک برس گزار چکی تھی۔ اس شہر میں یہ دو ہی تھے، جو بچ نکلنے میں کام یاب ہوئے۔ اسی محبت کے بیج سے امید کا پھول کھلنے جا رہا تھا۔ دعا کے بطن میں ایک ننھے سے وجود کو پلتے پانچ ماہ گزر چکے تھے، جب وہ اس جگہ دوسرے آدم زادوں کے نا معلوم گروہ تک پہنچے تھے۔ اس گروہ میں سبھی نابغہ روزگار ہستیاں تھیں۔ مولانا، پنڈت، پادری، کسان، سائنسدان، سیاست دان، اور بندوق بردار۔ سب کے پاس کچھ نہ کچھ زاد راہ تھا۔ زاد راہ تھا یا ان کی حیات کا نچوڑ تھا۔ پر تھا سب کا الگ الگ ہی۔ اتنا الگ کہ ایک دوسرے سے بانٹ نہ پاتے تھے۔ اگر آپس میں کچھ بانٹا تھا، اور کسی میں کوئی سانجھ تھی، تو وہ سانجھ تھی، پیٹر اور دعا کی۔ تمام کرہ ارض سے رابطہ کٹنے کے باوجود، دونوں کا ایک دوسرے سے ایسا سانجھ کھاتا تھا، کہ دونوں ہی ایک دوسرے کا دل، دماغ، نظریں، ہاتھ، بازو بنے۔

مولانا، پنڈت، پادری، مزدور، کسان، بندوق بردار سبھی کا خیال تھا، پیٹر اور دعا کا رشتہ نا جائز ہے۔ بندوق بردار کا بس چلتا، تو بندوق میں بچ رہی آخری گولی چلا کے دونوں میں سے کسی ایک کا خاتمہ کر دے، تا کہ گناہ کا یہ تعلق ٹوٹ جائے۔ پنڈت، پادری، مولانا کی اس بات پر سبھی کو یقین تھا، کہ دنیا کو انسانوں کے گناہوں ہی نے خاتمے کی طرف دھکیل دیا ہے۔ لیکن بندوق بردار کی آخری گولی کی طرح، دُنیا میں بچ رہی اس آخری عورت کی حفاظت ان آدم زادوں کی مجبوری تھی۔ اس ناجائز تعلق سے جنم لینے والی ہستی سے سبھی کو مطلب تھا۔ سب کی خواہش تھی، نوزائیدہ لڑکی ہو۔ کیوں کہ نسل انسانی کی بقا کا سوال تھا۔ پیٹر اور دعا کو بچے کی جنس سے کوئی غرض نہ تھی۔ انھیں تو خدا سے فقط اپنی محبت کا صلہ چاہیے تھا۔ اس گروہ میں ایک بیس سالہ حاملہ لڑکی اور بچے کے باپ کو ایک الگ ہی الجھن نے گھیرا ہوا تھا۔ گزشتہ سے پیوستہ آدم کی فطرت کے ڈر سے، ان کی آنکھوں میں چمکتے خواب، کبھی کبھی دھندلا جاتے۔ اس جوڑے کو فردا کی فکر کچھ الگ طرح سے کھا رہی تھی۔

آخر وہ دن آ گیا، جب اس پناہ گاہ میں دعا کو درد زہ کی پہلی ٹیس اٹھی۔ ایک کپڑے اور بانسوں کی مدد سے زچہ کو الگ کر دیا گیا۔ پیٹر جہاں اپنے ہونے والے بچے کی ماں کی تکلیف کو دور کرتا، وہاں گہرے رنج میں ڈوب جاتا۔ کبھی مولانا کی باتیں اس کے کانوں میں گونجتیں تو کبھی پنڈت اور پادری کی۔ کبھی دھیان بندوق بردار کی رائفل کی واحد گولی کی طرف جاتا، تو  کبھی کسانوں اور مزدوروں کی وحشت زدہ نظروں سے دماغ سلگ اٹھتا۔ اس بار تمام آدم زاد مل کے ایک لڑکی پیدا ہونے کی دعا مانگ رہے تھے۔ دعا مانگ رہے تھے، مگر کس سے؟ سب کے خدا جدا جدا تھے۔ سائنس دان کی سوچیں تھیں، کہ وہ نوع انسانی کو تیزی سے آگے بڑھانے میں اٹکی تھیں۔ پنڈت چپ تھا، پادری نے بپتسمہ کا انتظام کر رکھا تھا۔ مولانا کے پاس آب زم زم تھا۔ مزدور اور کسان کے پاس، نفسانی خواہشات تھیں، جسے مذہب کے نمایندوں نے عقائد کے پیچھے، اور سرمایہ دار نے جبر کے پردے میں چھپا رکھنے کا گر سکھا رکھا تھا۔

سب نومولود کے لڑکی ہونے کی آرزو کر رہے تھے اور اس بچی کے مستقبل کی بابت خود سے فیصلے کر رہے تھے۔ ہر عقیدے کو پس پشت ڈال کے ہر میدان کو فتح کرنے والے سائنس دان، کسان اور مزدور کو بھی کرہ ارض پر وجود زن درکار تھے۔ سب گریہ کر رہے تھے، کہ دنیا میں ایک اور صنف نازک کی آمد ہو اور زچہ سلامت رہے۔ مناجات کے دوران میں اک تارہ ٹوٹا۔ سب کو یقین ہو گیا کہ ان کی دعائیں قبول ہو چکی ہیں۔ وہ آپس میں پر امن اور محبت بھرے معاشرے کی باتیں کرنے لگے۔ مگر نہ تو پنڈت کی کمر سے دھاگا کھلا تھا، نہ پادری کے گلے سے صلیب اتری تھی، اور نا ہی مولانا کے کی تسبیح نے کافر کافر کہنا بند کیا تھا۔ نہ کسان دھرتی سے مایوس تھا، نہ مزدور کو مشقت کی پروا۔

دن ڈھل چکا تھا۔ آگ کا الاو روشن ہوا، جس دہکتی روشنی میں کئی ماہ سے مشت زنی کرنے والوں کی دھبا نما ٹمٹاتی آنکھیں دکھائی دیتی تھیں۔ دعا اور اس کا محبوب دونوں ہی جانتے تھے کہ بندوق کی آخری گولی کس کے نصیب میں لکھی ہے۔ وہ گولی نال سے چھوٹ کر کس کا سینہ داغنے کی منتظر ہے۔

پیٹر پردے کی اوٹ میں کراہتی دعا کے پاس تھا۔ دعا کی زور دار چیخ کے ساتھ ہی نوزائیدہ کے رونے کی آواز آئی۔ اگلے ہی پل، وہ آواز کہیں کھو گئی۔ پردے کے پار سے کئی متفکر آوازیں ابھریں۔
“کیا ہوا”؟
پیٹر نے باہر آ کر اطلاع دی، بیٹی ہوئی ہے۔ ٹھاہ کی آواز پر سب چونکے۔ نال سے زن کر کے نکلنے والی آخری گولی پیٹر کا بھیجا اڑا چکی تھی۔ آدم زاد پردے کے پیچھے دیکھنے کو لپکے۔ پیٹر اور دعا نے جو کرنا تھا، وہ ہو چکا تھا۔ دعا اور امید دونوں کی گردن آنول نال سے جڑی پڑی تھی۔ ٹوٹتے تارے کو دیکھ کر، زچہ نے جو دعا مانگی تھی، وہ قبول ہو چکی تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *