دعا کے ساتھ احتیاط بھی ضروری ہے

وبا کے اِن ابتدائی دونوں میں اب تک ہمارا بحثیت قوم ریسپانس نہایت مایوس کن رہا، ماسک کے قیمتوں میں اضافہ، وینٹی لیٹرز کی کمی ڈاکٹرز اور تربیت یافتہ عملہ کی کمی بھی اِسکا مقابلہ کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ سامنے آئی ہیں، پر یہاں سب سے مایوس کن بات اب تک بحیثیت قوم ہمارا رویہ ہے۔ رویہ! جی ہاں رویہ، ہم مقابلہ کرنا ہی نہیں چاہتے، ہم تو بس مظلوم بن کر دنیا کے سامنے رونا چاہتے ہیں۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ کوئی باہر سے آئے اور ایک چھڑی ہلائے اور بلا ٹل جائے اور ہم خود اِس کو ہاتھ نہ لگائیں۔ البتہ بہت سے جگہوں پر لوگوں نے کرونا کے مذاق، جگتیں اور یہاں تک اپنی نمبر پلیٹ بھی کرونا کے نام سے منسوب کی۔
چین کی اس بیماری کے خلاف کامیابی میں جو چند باتیں خاص باتیں وجہ بنیں، اُن میں سوشل ایسولیشین سب سے اہم تھی۔ اٹلی نے ان ہی ابتدائی علامات کو نظر انداز کیا اور اب تک خمیازہ بھگت رہے ہیں، کچھ دونوں تک اپنے میل ملاپ کو محدود کر لیں تو ماہرین کے مطابق اِس سے بڑھ کر کوئی ترکیب کارگر نہیں، لیکن شاید ہم نے تو قسم کھائی ہے کہ جب تک پانی سر سے نہ گزرے، ہوش نہیں کرنی۔
مذہبی اور سماجی میل ملاپ کو اگر کچھ عرصہ کم کر لیا جائے، صفائی ستھرائی کا مناسب انتظام کر لیا جائے، تو اس میں کیا بری بات ہے۔ آخر دینِ اِسلام کی بھی بنیادی تعلیم بھی تو صفائی پر ہے، اس کو نصف ایمان کا درجہ دیا گیا ہے۔ وبا سے متعلق چند حدیث بھی اس ہی بات کی طرف اشارہ کرتی اور وبا والے علاقوں سے دوری اختیار اور ان حالات میں احتیاط کرنے کا حکم دیتی ہیں۔ ایک موقع پر آپٌ نے فرمایا: کوئی بیماری ایسی نہیں، جس کا علاج موجود نہ ہو سوائے بڑھاپے کہ، آپ نے ہمشیہ بچاوُ اور علاج کی تلقین کی۔ اس ہی تو بدولت صفائی کو آدھا ایمان قرار دیا گیا ہے۔
بائبل مقدس میں بھی ایک جگہ مرقوم ہے کہ ”اعلی حکومتوں کے تابع رہو“ ساتھ ساتھ ایک جگہ یہ بھی لکھا ہے کہ دانا آدمی وہ ہے جو بلِا کو دیکھ کر چھپ جائے اور بے وقوف آگئے ُ بڑھ کر نقصان اٹھاتا ہے۔
یہ دونوں بڑھے مذاہب اپنے ماننے والوں کو صفائی اختیار کرنے اور دوسرا حکومتوں کی تابع رہنے کا حکم کرتے ہیں، لہذا اس میں کوئی ہرج نہیں اگر انِ حالات میں اپنا اور اپنے پیاروں کا احساس کریں
حکومتی گائیڈ لائنز کو مکمل فالو کریں، ان کو اِس جان لیوا مرض سے بچانا بھی آپ کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
مشورہ یہی ہے کہ کچھ عرصہ تک اپنی تمام سرگرمیوں کو محدود کر لیں، عبادات گھر پہ رہ کر لیا کریں، گھر سے مانگی دعا بھی اپنا اثر اور معانی رکھتی ہے، لیکن شاید کچھ لوگ اس بات سے خائف ہیں کہ اگر لوگوں میں شعور آگیا کہ ان کو اپنی مناجاتیں قبول کروانے کے لئے کسیُ اور کے سہارے کی ضرورت نہیں، تو شاید بہت سے لوگوں کی روزی بند ہو جائے گئی۔

