لے سانس بھی آہستہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہاں مجھے آئے ہوئے کئی دن ہوچکے تھے۔ میں ایک انجینئر کے گھر میں بطور پیینگ گیسٹ سکونت پذیر تھی۔ میں اس گھر میں اپنے ابو کے ایک دوست کے ذریعے سے آئی تھی۔ انجینئر کی فیملی میں اس کی بیوی اور دو بیٹیاں تھیں۔ اس کی بیوی ایک لوکل سرکاری اسکول میں استانی تھی اور اس کی بیٹیاں بالترتیب ساتویں اور دسویں کلاس میں ایک اچھے پرائیویٹ اسکول میں تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔ یہاں رہ کر کبھی بھی اس بات کا ذرا سا بھی احساس نہ ہوا کہ گھر سے باہر نکل کر کوئی جگہ ایسی بھی ہوتی ہے جسے اگر گھر نہ کہا جائے یا سمجھا جائے تو بہت ہی عجیب ہوگا۔

یہاں سب کچھ اچھا تھا سوائے اُس ایک صورت حا ل کے جب انجینئر کے گھر میں مرغا پکتا تھا اور رات کھانے کے وقت یہ پتا چلتا تھا کہ مرغا نکڑ والے مرغ فروش کی دکان کے بجائے ”کہیں“ اورسے بذریعہ ”کوئی“ اور آیا ہوا ہے۔ یہ ایک ایسی صورت حال ہوتی تھی جس کی کراہیت سے سارے وجود میں جیسے کیڑے کلبلانے لگتے تھے اور ایک دو دن تک سارے جسم میں جیسے زہر کا سا اثر رہتا تھا۔ کئی دفعہ اشارتاٌ کنایتاٌ میزبان فیملی کو اس ”عملِ غیر صالح“ کو ترک کرنے کی صلح دینے کی کوشش کی مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔

پھر ایک نیم حکیم خود ساختہ مفتی صاحب سے ایک نازک اور کمزور سا فتویٰ لے کر اور اپنے ناتواں معدے کو سمجھا کر ایک سمجھوتہ کر ہی لیا۔ سمجھوتے کی چھوٹی وجہ انجینئر صاحب کی دو بیٹیاں تھیں۔ جن کی محبت اور معصومیت نے دل میں جیسے کوئی مستقل لنگر ڈال دیا ہو۔ اور سمجھوتے کی سب سے بڑی اور واحد وجہ میری یہاں کے ڈگری کالج میں عارضی بنیادوں پر بحیثیت لیکچرار کی تعیناتی تھی۔ میں دونوں وجوہات سے کسی بھی طور دستبردار نہیں ہونا چاہتی تھی۔

میرا تعلق ایک ایسے گھر یا خاندان سے ہے جہاں ایثار اور خدمت خلق کی روایت کا دیرینہ چلن ہے۔ مذہبی طور ہمارا گھر بنیادی اور ٹھوس اسلامی عقایداور نظریات کا حامل گھر ہے۔ اگر چہ عبادات وغیرہ میں زیادہ شدت کا رجحان نہیں ہے۔ میری پرورش بھی اسی ماحول میں ہوئی یہاں تک کہ میں نے ڈاکٹریٹ کے لئے کشمیر کے سب سے عظیم صوفی بزرگ کواپنی تحقیق کا موضوع چنا۔ اگرچہ ماسٹرز تک انگریزی ادب کو پڑھتے ہوئے بھی ایک تبدیلی ضرور ہوئی تھی مگریہاں سے زندگی کو سمجھنے کا ایک نیا زاویہ اور نئی جہت ملی۔

تصوف اور عرفان کے چند بڑے بڑے نام اور ان کا عظیم کلام پڑھ کر اور اس پر غور کرنے کے بعد اَنفُس اور آفاق کے اندر وقوع پذیر ہونے والی ہر حرکت کا ادراک مجھے اپنے وجود میں ہونے لگا۔ میں اپنے گھریلو ماحول اور اقدار اور اوصاف سے سرک کر کچھ نئے اقدار اور اوصاف اپنانے میں نہ صرف کامیاب ہوئی بلکہ ان کا میرے ذہن و دل اور میری طبعیت اور میرے وجود پر تصرف قائم ہوا۔ میں یہ بالکل محسوس کر رہی تھی کہ میں ایک بدلی ہوئی انسان ہوں۔  جس کے اندر جیسے کوئی نیا سافٹ وئیر نصب کیا گیا ہو۔ اب پہلے کی نسبت میری حیات کا ہر ایک تجربہ اور ہر وجدان دل کی راہوں سے گزر کر منزل کی تلاش میں نکلتا تھا۔ میرے محسوسات اور محسوسات سے حاصل ہونے والے سارے حالات مجھے اپنی روح سے آشنا کراتے تھے۔ میرے رشتوں کی فرہنگ اور فہرست کی تفصیل اورتعریف یکسر بدل گئی تھی۔ نزدیکیوں اور دوریوں کا فرق مٹ چکا تھا۔ طول و عرض اور دیس پردیس کے کوئی معنیٰ نہیں رہے تھے۔ زمان و مکان کے نئے معنیٰ میسر آئے تھے۔ اور سب سے بڑھ کر آج کی سوسائٹی میں قائم محبت اور نفرت کے جتنے بھی معیارات ہیں ان کا محل وقوع ہی تبدیل ہوکے رہ گیا۔

ایک خاص تبدیلی یہ تھی کہ میں ہمیشہ اپنے جسم کے گرد ایک غیر مرئی سا سایہ محسوس کرنے لگی تھی۔ ایسے جیسے کوئی میرے ساتھ ساتھ چل رہا ہے۔ اور کبھی کبھی ایسے بھی محسوس ہوتا تھا کہ میرے کمرے میں کوئی موجود ہے اور میں اس کی موجودگی کا لمس پہچانتی ہوں۔ اس صورت حال سے بہت ڈر لگتا تھا۔ چونکہ یہ ایک ایسی بات تھی جس کا کوئی یقین کرنے والا نہ تھا، اس لئے یہ بات کسی سے کہی بھی نہیں جا سکی۔ خلوت میں رہنا اور تنہائی سے محبت کرنا میری ایک اور عادت بن گئی۔

کبھی بہت زیادہ عبادت کرنا اور کبھی کچھ بھی نہ کرنا طبیعت میں شامل ہوگیا۔ تنہائی میں بلا وجہ اور با وجہ روناجیسے اچھا لگتا تھا۔ کیونکہ اس کے بعد یوں لگتا تھا جیسے کیچڑ سے لت پت پھولوں پر ہلکی پھوار ہوئی ہو اور وہ پھر سے نکھر گئے ہوں۔ اور جیسے پھولوں کی پتیوں کا ہلکا پن اور رنگینی روح میں سرایت کر جاتی ہو۔ کالج میں پڑھانے اور اس کے لئے تیاری کرنے میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہوتا تھا۔ یہ ایک فرض کی ادئیگی کی طرح خوش کن اور باعث اطمینان تھا۔

ہمارا کالج ایک انتہائی خوبصور ت جگہ اور اونچائی پر واقع تھا، جہاں سے سارے قصبے، یہاں کی وادی اور اس کے خوبصورت جنگلوں کا نظارہ کسی بھی عقلی گتھی کو سلجھانے کے لئے کافی تھا۔ میں اکثر تنہا کسی خاموش جگہ پر بیٹھ کر ٹکٹکی باندھے ان سارے نظاروں کو دیکھتی تھی اور ان میں کھو جاتی تھی۔ کبھی کبھی محسوس ہوتا تھا کہ وقت جیسے تھم گیا ہو اور کائنات سمٹ کر میری گود میں آگئی ہو اور میں اس کی قربت سے محظوظ ہورہی ہوں۔

مجھے ارد گرد کے ماحول میں بھی ایک پر اسراریت سی نظر آتی تھی۔ ایسے محسوس ہوتا تھا جیسے ذرے ایک دوسرے سے کانا پھوسی کر رہے ہوں اور جیسے چرند و پرند اور نباتات راز و نیاز میں محو ہوں۔ غم اور خوشی، صحیح اور غلط، اچھا اور برا، سیاہ اور سفید، کفر اور ایمان، اونچ اور نیچ وغیرہ سب جیسے کہیں خلط ملط ہوگئے ہوں۔ اتنا سب کچھ محسوس ہونے کے بعد بھی اندر ہی اندر جیسے کسی چیز کی تلاش رہتی تھی۔ جیسے میرے وجود سے لپٹے ہوئے اس سایے کو میں ایک دم پکڑنا چاہتی تھی اور اسے گلے لگانا چاہتی تھی۔

دو تین ہفتے کالج میں گزرے تھے اور آس پاس کے ماحول اور دیگر اسٹاف سے ایک مانوسیت اور تعارف حاصل ہو چکا تھا۔ کچھ گلی کوچوں اور پاس والے بازار کا نقشہ بھی کچھ کچھ ذہن میں آچکا تھا۔ کچھ نا آشنا چہرے جیسے اپنے محسوس ہوتے تھے اور جن لوگوں کے ساتھ روز کا کام ہوتا تھا، پتا نہیں ان میں سے اکثر کیوں اجنبی اور نامانوس سے لگتے تھے۔ شاید اس کی وجہ ان لوگوں کا برتاؤ تھا۔ جو لوگ دل سے برتتے تھے وہ اپنے لگتے تھے اور جن کے کام اور کلام میں تصنع اور بناوٹ ہوتی تھی وہ بالکل اجنبی اور مکروہ لگتے تھے۔ اس بات کا جیسے کوئی عرفان حاصل ہوا تھا۔

چونکہ میری پرورش جس ماحول میں ہوئی تھی وہاں خانقاہوں اور درگاہوں پر جانا ایک عیب یا گناہ سے کم نہیں سمجھا جاتا ہے۔ مگر ریسرچ کے دوران میں نے چند خانقاہوں اور درگاہوں پر بھیڑ بھاڑ والے دنوں کے بغیرحاضری دی اور مجھے وہاں کے ماحول میں ایک عجیب سی کشش محسوس ہوئی۔ جس کا تعلق کسی باطنی تجربے یا کسی فیض وغیرہ سے نہ تھا بلکہ عام سا ایک تجربہ تھا۔ میں نے کبھی بھی اس تجربے کو کسی مذہبی تقلید یا کسی مکتبہ فکر سے جوڑ کر نہیں دیکھا۔ بلکہ یہ ایک خالص ذاتی اور معمولی تجربے کی نگاہ سے دیکھا۔ ان جگہوں پر میری اُس کیفیت میں اضافہ ہوتا تھا جس کیفیت کے زیر اثر میں اپنے وجود کے گرد کسی مقناطیسی دائرے کو محسوس کرتی تھی۔ دل چاہتا تھا کہ یہیں کہیں پہ کسی کونے میں جاکر ڈیرہ ڈال دیا جائے اور خود فراموشی کا طوق اپنے گلے میں لٹکایا جائے۔ مگر جہاں عورت ذات گھر کے اندر اپنے وجود کو گھسیٹتی پھرتی ہو وہاں کسی درگاہ پہ کس طرح اپنے وجود کو سمیٹے رکھے۔

یہاں کی درگاہ بھی مسلمانوں کے ایک عظیم محسن اور اللہ کے ایک ولی کی آخری آرام گاہ ہے۔ جہاں سال بھر ہزاروں زائرین کا تانتا بندھا رہتا ہے۔ میرے ذہن و دل میں وہاں جانے کا جیسے کوئی الہام سا ہوچکا تھا۔ جب بھی کبھی کبھی دور سے درگاہ کا کوئی حصہ نظر آتا تھا تو وجود میں ایک حرکت سی ہونے لگتی تھی۔ ایک دن اچانک میری میزبان خاتون (جسے میں باجی کہتی تھی) نے وہاں جانے کا فیصلہ کیا۔ مغرب سے پہلے ہم گھر سے نکلے۔

ہمارے ساتھ میزبان خاتون کی چھوٹی بیٹی نوشین بھی تھی۔ گھر سے درگاہ کے راستے تک کا سفر کسی خلائی سفر سے کم نہ تھا۔ مجھے ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے زمین کی کشش ختم ہو گئی ہو اور میں جیسے ہوا کے دوش پر لٹکی ہوئی ادھر اُدھر جھول رہی ہوں۔ بازار کی گہما گہمی، گاڑیوں کا شور اور لوگوں کا ہجوم جیسے کوئی رکاوٹ ہی نہ ہو۔ جب ہم درگاہ کے دروازے پر پہنچے تو سامنے کا منظر اتنا عجیب تھا کہ میں خود کو بالکل ہی بھول گئی۔

مجھے ایسے لگا جیسے وہاں کوئی نہیں ہے اور میں اکیلے وسیع صحن میں محو رقص ہوں۔ آسمان اور زمین کے درمیان جیسے سارے فاصلے ختم ہو گئے ہوں۔ میرے ساتھ چاند ستارے بھی جیسے ناچ رہے ہوں۔ اس ساری کیفیت میں مجھے معلو م ہی نہ ہوسکا کہ میرے ارد گرد کون لوگ ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔ نہ ہی مجھے اس بات کا ادراک ہو سکا کہ ایسا کیوں ہو رہا تھا۔ مجھے نہیں پتا کہ میں اس کیفیت میں کتنا عرصہ رہی اور اس دوران مجھ پر کیا گزری۔ میں اس کیفیت سے تب باہر آئی جب نوشین نے میرا ہاتھ جھٹک کر اپنی امی کا ہاتھ تھام لیا۔ اور ایک چیخ کے ساتھ اپنی ماں سے لپٹ گئی۔ میں اس صورت حال کا اندازہ ہی لگا رہی تھی کہ میں نے اپنے سامنے کسی کو کھڑے پایا۔

وہ ایک مجذوب شخص تھا۔ اس کے سیاہ و سفید بال اور داڈھی بکھرے ہوئے اور بے ترتیب تھے اور لگتا تھاکہ اس کے بال کوئی گھنا جنگل ہوں اور دنیا بھر کے خزانے اس جنگل میں پوشیدہ ہوں۔ جسم پر لباس مگر ڈھنگ کا تھا اگرچہ معمولی تھا۔ اس کے پاؤں میں ایک ٹوٹی پھوٹی چپل بھی تھی۔ میں نے پہلے اسے پتا نہیں کیوں اوپر سے نیچے تک بغیر ڈرے دیکھا۔ جب میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا تو اس کی سرخ سرخ آنکھوں میں ایک عجیب کشش تھی۔ جس کی تاب میں نہ لاسکی اور نظر ہٹائی۔ اچانک میں نے نوشین اور اس کی امی کی طرف دیکھا جو بالکل سہمے ہوئے اور ڈرے ہوئے تھے۔ ان دونوں ماں بیٹی کو دیکھ کر میں بھی ڈر گئی اور میں نے پھر سے اس مجذوب کی طرف دیکھا اور اس کی آنکھوں میں ایک چمک آئی۔ اس کے ہاتھ میں دو سنترے تھے اور اس نے وہ مجھے پیش کیے مگر میں نے لینے سے انکار کیا۔ وہ کئی مرتبہ سر ہلا کے اور ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ مجھے سنترے لینے کے لئے کہہ رہا تھا مگر میں پیچھے ہٹ کر انکار کرتی رہی۔ جب اسے یقین ہو گیا کہ میں وہ سنترے نہیں لے رہی ہوں تو اس کے چہرے پر مایوسی کے آثار نمایاں ہوئے اور اس کی چمکدار آنکھوں میں جیسے کچھ بجھ سا گیا۔ اس نے وہ سنترے اپنی جیب میں رکھے اور درگاہ کی ایک جانب بوجھل قدموں کے ساتھ پلٹا جہاں شاید مسافر خانہ تھا۔

بہت سارے لوگ اس نظارے کو دیکھ چکے تھے۔ کچھ لوگ مجھے قسمت والی سمجھتے تھے اور کچھ لوگ مجھے نادان اور کم عقل۔ کچھ لوگ کہہ رہے تھے کہ میں نے ایک بہت بڑی غلطی کی ہے اور ایک موقع گنوا دیا ہے۔ اور کچھ لوگ کہہ رہے تھے کہ اگر یہ لڑکی یہ سنترے لیتی تو یہ بھی اللہ والی ہو جاتی۔ ایک ادھیڑ عمر کی عورت میرے پاس آئی اور پوچھنے لگی کہ میں کہاں رہتی ہوں وغیرہ وغیرہ۔ اس نے میرے ہاتھوں کو چوما اور دعائیں دیتی ہوئی مسجد کی جانب نکلی۔ میں نے کسی کی بھی باتوں کی طرف دھیان نہ دیتے ہوئے نوشین کو اپنے پاس کیا اور اسے تسلی دی کہ وہ ایک اللہ کا ایک عاجز بندہ ہے اور و ہ کسی کا کچھ نہیں بگاڑتا۔ اور اسے یہ بھی بتایا کہ ہم لوگ خواہ مخواہ ہی ڈر گئے۔

موذن نے مغرب کی اذان دی۔ سب لوگ نماز کے لئے چل پڑے۔ باجی نے مجھے مخاطب ہوکر کہا کہ کیا مجھے نماز نہیں پڑھنی۔ میں نے کہا کہ میں نوشین کو اپنے پاس رکھتی ہوں۔ آپ جا کر پڑھئے۔ باجی نے مجھے عجیب انداز میں دیکھا اور کندھے اچکا کر درگاہ کی بائیں طرف گئی جہاں خواتین کے لئے نماز ادا کرنے کی جگہ مخصوص رکھی گئی تھی۔ لوگ نماز ادا کر رہے تھے اور میں ٹکٹکی باندھے مسافر خانے کی جانب دیکھ رہی تھی جہاں شام کے دھندلکے میں ایک الاؤ جل رہا تھا اور اس الاؤ کے آگ کی لپٹوں میں مجھے اس مجذوب کی سرخ چمکیلی آنکھیں نظر آرہی تھیں۔

اس واقعے کا ایک گہرا اثر مجھ پر قائم ہوا۔ مجذوب کا چہرہ میرے سامنے رہنے لگا۔ گھر میں، کلاس میں، راستے میں، بازار میں، مطلب کہیں بھی اور کسی بھی وقت مجھے اچانک وہ چہرہ اور وہ آنکھیں یاد آتی تھیں اور میں جیسے بے قرار سی ہونے لگتی تھی۔ اس واقع سے جو سب سے بڑا اثر مجھ پر پڑا وہ یہ تھا کہ جو غیر مرئی سا وجود مجھے اپنے ارد گرد محسوس ہوتا تھا اس کی جگہ اب مجھے اس مجذوب کا وجود محسوس ہونے لگا۔ ایسا کئی بار ہوا کہ مجھے اپنے پاس ایک سایہ سا حرکت کرتے ہوئے نظر آنے لگا۔

جب میں اپنے ہوش و حواس مجتمع کرتی تھی تو کچھ بھی نہیں ہوتا تھا۔ میں اس چیز سے نہ ہی خائف ہوتی تھی اور نہ ہی پریشان۔ اس کیفیت میں رہنا میرے لئے اب جیسے قابل قبول ہو گیا ہو۔ اور دل ہی دل میں مجھے ایسی حالت کے ساتھ ایک لگاؤ سا ہونے لگا۔ اور اس کے ساتھ ساتھ مجھے اُس مجذوب سے دوبارہ ملنے کی خواہش ہونے لگی۔ دو تین دفعہ ایسا بھی ہوا کہ خیالوں میں مجھے مجذوب کا مسکراتا ہوا چہرہ نظر آنے لگتا اور میں خود بھی بلا وجہ مسکرانے لگتی تھی۔ شکر ہے کہ ایسا تنہائی میں ہوتا تھا۔ کسی اور کے سامنے ہوتا تو سمجھانے میں عجیب بے بسی کا معاملہ ہوتا۔

مجذوب سے ملنے کی خواہش شدت اختیار کرگئی تھی۔ درگاہ پر جانا میرے لئے مشکل کام نہ تھا۔ میں کسی بھی وقت اکیلی بھی جاسکتی تھی۔ میرے لئے مسئلہ صرف یہ تھا کہ کہ میں اس مجذوب سے کیوں ملوں اور اگر وہ وہیں کہیں آس پاس مل بھی گیا تو کیا ہوگا۔ پتا نہیں وہ کیسا برتاؤ کرے اور یہ بھی ہو سکتا تھا کہ وہ مجھے کوئی نقصان ہی پہنچا دے۔ کبھی کبھی میں دل کے بجائے عقل سے کام لے کر خود کو یہ سمجھانے کی کوشش کرتی کہ بھلا میں کیوں ملوں اُس دیوانے مجنوں اور انجان آدمی سے۔ اور میری عقل مجھے اُس سے نہ ملنے میں بڑی مدد دیتی تھی۔ میں نے باجی سے ایک دو دفعہ اُس مجذوب کے متعلق کچھ سوال کیے مگر مجھے تشفی بخش جواب نہ ملا۔ باجی کا اتنا کہنا تھا کہ وہ اُس کو نہیں جانتی اور اُس کو ایسے لوگوں سے نفرت ہے۔ اور اُسے ایسے لوگ گندے اور منحوس لگتے ہیں۔

باجی کی بڑی بیٹی نورین، ایک دلیر اور عقلمند لڑکی تھی۔ وہ اپنی انگریزی کے ٹیوشن مجھ سے لیتی تھی اور فاضل وقت میں اکثر میرے پاس بیٹھتی تھی۔ اُس نے میرے کچھ ذاتی پہلوؤں کے سوا میری زندگی کی ساری تاریخ اور جغرافیہ معلوم کرکے جیسے حفظ کیا ہو۔ میرا اندازہ تھا کہ وہ لڑکی مجھے اب میرے گھر والوں سے زیادہ جانتی تھی۔ ایک دن خود فراموشی کے حال میں نورین نے مجھے مسکراتے ہوئے دیکھا تھا۔ بس پھر کیا تھا۔ اُس نے باضابطہ استفسار کرنا شروع کیا کہ اُس مسکراہٹ کی وجہ کیا تھی۔ میں نے اُسے بڑا ٹالنے کی کوشش کی مگر اُس کے اِصرار اور ضد کی وجہ سے میں نے اُسے بتایا کہ میں ایک مجذوب کا مسکراتا ہوا چہرہ خیالوں میں دیکھتی ہوں اور پھر خود بھی مسکرانے لگتی ہوں۔ یہ سن کر اُسے بڑا تعجب ہوا اوروہ کئی لمحوں تک مجھے گھورتی رہی۔ اور پھر بتایا کہ اُس کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ مجھے اُس لڑکی پر بہت پیار آیا۔ میں نے اُس کی بے بسی پراُسے کہا کہ جو چیز مجھے خود سمجھ نہیں آرہی وہ میں اُسے کیسے سمجھاتی۔

اچانک مجھے خیال آیا کہ کیوں نہ نورین کو ساتھ لے کر میں درگاہ جاؤں۔ میں نے نورین سے سوال کیا کہ کیا وہ میرے ساتھ کل شام درگاہ پرچلے گی۔ اُس نے ایسے ہاں کی جیسے وہ یہ بات مجھ سے کب کی سننا چاہتی تھی۔ میں نے اُسے گلے سے لگایا اور وہ مجھ سے کسی دودھ پیتے بچے کی طرح چمٹ گئی۔ اور یہ اعلان کرکے کمرے سے نکلی کہ آج رات وہ میرے کمرے میں سوئے گی۔

اگلا دن چھٹی کا تھا۔ میں نے سارا دن کمرے کی صفائی اور کپڑے وغیرہ دھونے میں نکالا۔ چار بجے ہی تھے کہ نورین میرے کمرے میں میرے لئے چائے کا کپ لے کر آئی اورمجھے یاد دلایا کہ ہمیں درگاہ جانا ہے۔ اُس کا یاد دلانا تھا کہ میری آنکھوں کے سامنے مجذوب کا چہرہ گھومنے لگا۔ جب میں نے ذرا خود کو کنٹرول کیا تو مجھے اچانک یہ خیال آیا کہ میں صاحب ِدرگاہ کے بجائے اُس مجذوب کا کیوں سوچتی ہوں۔ میرے کمرے میں میرے پاس ایک چھوٹا سا کتابچہ تھا جس میں اُس علاقے کی تاریخ، ثقافت اور علاقائی رسم و رواج کے متعلق کچھ معلومات تھیں۔ اس کے علاوہ صاحب درگاہ کا بھی تھوڑا بہت ذکر کیا گیا تھا۔ میں نے وہ سارا پڑھا مگر میں پھر بھی اُس مجذوب شخص سے اپنا دھیان ہٹانے میں ناکام رہی یہاں تک کہ نورین میرے کمرے میں دوبارہ آئی اور درگاہ جانے کے لئے مجھے تیار ہونے کو کہا۔

ہم ایک قدرے کم بھیڑ بھاڑ والی گلی کے راستے درگاہ کی طرف چل پڑے۔ میرا دماغ بالکل خالی تھا۔ میں ایک ہلکے معمولی کاغذ کے پرزے کی طرح جیسے اُڑ رہی تھی۔ نورین راستے میں کچھ دکانوں اور جگہوں کا بتا رہی تھی اور میں ہوں ہاں کرکے جواب دے رہی تھی، مگر مجھے بالکل یہ نہیں معلوم کہ وہ کیا کہہ رہی تھی۔ جب ہم نے درگاہ کی چوکھٹ پہ قدم رکھا تو میری نظریں سیدھی مسافر خانے کی طرف اٹھیں مگر وہاں کچھ بچوں کے سوا کچھ بھی نہ تھاجو کسی کھیل میں مشغول تھے۔

چونکہ اُس دن چھٹی کا دن تھا اس لئے کئی لوگ اپنے بچوں سمیت درگاہ پر آئے تھے۔ اور کافی بھیڑ لگ چکی تھی۔ میں نے نورین سے کہا کہ ہم ذرا شور اور بھیڑ سے پرے ہٹ کر وسیع و عریض چبوترے کے آخری کونے پر بیٹھیں گے۔ ہم نے جگہ کو تھوڑا صاف کیا اور بیٹھ گئے۔ پاس ہی کچھ کوے اور کبوتر مکی کے دانے چگ رہے تھے جو کسی زائر نے ڈال دیے تھے۔ ابھی مغرب میں کچھ منٹ باقی تھے۔ نورین مجھے بتارہی تھی کہ وہ کئی بار یہاں آئی ہے وغیرہ وغیرہ۔ اسی اثناء میں اذان سنائی دی اور لوگ نماز کے لئے مسجد کا رخ کرنے لگے۔ کچھ عورتیں بچوں کے ساتھ چبوترے پر ہی دور دور تک بیٹھی رہیں۔

لوگ نماز ادا کر رہے تھے اور میں دل کی کھڑکی کے پٹ کھولے ا س انتظار میں تھی کہ کہیں سے کوئی خوشبو کا جھونکا آئے اور من کے آنگن کو مہکا دے۔ میں انہی سوچوں میں گم تھی کہ مجھے اپنے پیچھے ایک آہٹ سنائی دی۔ میں نے بے اختیار پیچھے کی طرف دیکھا تو مجذوب مجھے ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا تھا۔ نورین نے میرا ہاتھ زور سے پکڑا مگر چونکہ وہ دلیر لڑکی تھی اس لئے خود کو سنبھالے رکھا۔ کچھ لمحوں تک میں بھی مجذوب کو دیکھتی رہی۔ پھر اچانک نظریں پھیر دیں۔ وہ وہیں کھڑا رہا۔ کچھ منٹ ہی گزرے ہوں گی ں کہ وہ اپنی جگہ سے ہٹ کر میرے سامنے بیٹھ گیا۔ میں نے اچانک اسے پوچھا کہ تمہارا نام کیا ہے۔ اُس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ ”پتا نہیں“۔ اُس کی آواز جیسے کسی گہرے کنویں کے اندر سے آرہی تھی۔ مجھے اُس آواز میں ایک چھنکار سی سنائی دی۔ میں نے پھر سے پوچھا کہ یہاں کب سے ہو۔ تو اُس نے پھر سے کہا کہ اُسے کیا خبر کہ وہ کب سے یہاں ہے۔

وہ اپنی انگلیوں کو عجیب حرکتیں دے رہا تھا۔ اور ساتھ ہی کچھ بڑ بڑا رہا تھا۔ اچانک وہ آسمان کی طرف دیکھنے لگا۔ اور چبوترے کے ٹھیک ہمارے اوپر نصب بڑے بلب کی زرد روشنی میں اُس کا چہرہ ایک مریض کا چہرہ دکھائی دے رہا تھا۔ اچانک اُس نے آسمان سے نظریں ہٹاکر مجھے گھورنا شروع کیا۔ مجھے اپنی ریڈھ کی ہڈی میں ایک سنسناہٹ سی محسوس ہوئی۔ وہ بدستور مجھے گھورے جارہا تھا۔ میں نے نظریں نیچی کیں اور خود کو جیسے سمیٹنے لگی۔ نورین نے بھی خود کو کچھ اور میرے قریب کیا۔ وہ پھر سے کچھ بڑبڑانے لگا اور درگاہ کی طرف اشارہ کرکے مجھ سے کہا، ”وہ بڑا پیر ہے نا۔ وہ میرا نام جانتا ہے۔ اُس کو پوچھو میرا نام“۔ مجھے ہنسی آئی اور میں نے ہنس کر کہا کہ وہ مجھے کیسے تمہارا نام بتا سکتا ہے۔ وہ تو وہاں دفن ہے۔ یہ سن کر اُس کی آنکھیں اور زیادہ سرخ ہو گئیں اور غصے میں پتا نہیں کیا بڑ بڑانے لگا۔ اس کے ساتھ ہی وہ اچانک کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا، ”مرتا شرتا کوئی نہیں، دفن شفن کچھ نہیں۔ مرتا شرتا کوئی نہیں۔ دفن شفن کچھ نہیں ”۔ وہ یہ کہے جا رہا تھا اور میرے دماغ پر جیسے کسی ہتھوڑے کی ضربیں پڑتی جارہی تھیں۔ وہ یہی الفاظ دہرارہا تھا اور مسافر خانے کی طرف نکل کر رات کے بڑھتے اندھیرے میں کہیں گم ہو گیا۔ نمازیوں نے نماز ختم کی تھی۔ میں اور نورین اُٹھ کر جانے والے ہی تھے کہ پہلے دن مجھ سے ملنے والی ادھیڑ عمر کی عورت مسجد کی جانب سے کہیں سے اچانک نمودار ہوئی اور میرے پاس آئی۔ سلام کرکے میرے ہاتھوں کو چوما۔ اور دعائیں دے کر دوسری جانب نکل گئی۔

ہم دونوں پورے راستے میں خاموش رہے۔ گھر پہنچے تو میں سیدھے اپنے کمرے میں پہنچی۔ کچھ دیر بعد نورین ہاتھ میں سنترے لے کر میرے پاس آئی۔ اور میں نے گھبرا کر پوچھا کہ یہ سنترے تم نے کہاں سے لئے۔ اتنا سننا تھا کہ وہ بہت دیر تک ہنستی رہی۔ وہ اتنا ہنسی کہ اُسکی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے۔ میں اب بھی حیرت میں اس کو اور ٹیبل پر رکھے سنتروں کو دیکھ رہی تھی۔ نورین نے اپنی بھیگی آنکھیں صاف کیں اور معصومیت سے کہا، ”دیدی۔ یہ پاپا بازار سے لائے ہیں۔ اور ویسے بھی روز ہی تو لاتے ہیں۔ اس میں اتنا زبردست حیران ہونے کی کیا بات ہے ”۔ میں نورین کو کچھ بھی نہ بتا سکی۔ وہ سنتروں کے چھلکے اتارکر پلیٹ میں رکھ رہی تھی اور میں اُسے بڑے پیار کے ساتھ دیکھ رہی تھی۔ اُس نے میری طرف دیکھے بغیر کہا، “ دیدی۔ ایک بات پوچھوں؟ ہاں میری جان۔ پوچھو! میں نے کہا۔ اُس نے میری طرف غور سے دیکھا اور کہا کہ میں نے اُس مجذوب سے اُس کا نام وغیرہ کیوں پوچھا۔ اُس نے یہ بھی کہا کہ مجھے اُس سے کچھ مانگنا تھا۔ میں نے نورین سے کہا کہ وہ مجذوب کسی کو کیا دے سکتا ہے۔ وہ تو خود اللہ کے سامنے عاجز ہے۔ وہ یہ سن کر کچھ سوچتی رہی اور سنترے کی گریوں سے بھرا پلیٹ مجھے پیش کرتے ہوئے یہ کہہ کر کمرے سے نکل گئی کہ دیدی آپ ٹھیک کہہ رہی ہو۔

ہر اتوار شام سے پہلے درگاہ پر پہنچنا اب میرا معمول بن گیا۔ نورین ہمیشہ میرے ساتھ رہتی تھی۔ اُس کی ایک اچھی عادت تھی کہ وہ سوال بہت کم کیا کرتی تھی اور ہمیشہ کسی بھی صورت حال کو دیکھ کر اور پرکھ کر ہی کچھ پوچھتی۔ ہم جب بھی جاتے تھے وہ مجذوب ہمیں ملتا تھا اور ہمارے پاس بیٹھ کر عجیب عجیب باتیں کرتا تھا۔ نورین اکثر کہتی تھی کہ اُسے یہ باتیں سمجھ میں نہیں آرہی ہیں۔ مگر میں اُسے کیسے بتاتی کہ ان باتوں کا عقل کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں۔ ویسے بھی مجذوب کی باتیں بے ترتیب اور بے موضوع ہوتی تھیں، مگر نہ جانے کیوں ہر وقت میرے وجود کا سامان ہوتا تھا۔ میں گھر سے نکلتے وقت خالی جھولی لے کر نکلتی تھی اور مجذوب سے مل کر اور اُس کی باتیں سن کر اپنا دامن بھر کر واپس ہوتی تھی۔ وہ مجذوب اگرچہ عجیب و غریب اور بے تکی باتیں کرتا تھا۔ مگر نہ جانے کیوں مجھے اُس کے ایک ایک لفظ سے زندگی کو سنوارنے کی کنجیاں ہاتھ آتی تھیں۔ مجھے اُس کی باتیں معنیٰ سے بھر پور ملتی تھیں۔

اُس کی تمام باتوں میں فنا، جذب اور بقا کا موضوع پوشیدہ ہوتا تھا۔ وہ اکثر تشبیہات اور استعاروں کاسہارا لے کر روح، قلب، حیات اور ممات، عقل، وحی، جبر و اختیار وغیرہ کے پیچیدہ اسرار بیان کرتا تھا۔ وہ جتنی بھی باتیں کرتا تھا، اس دوران وہ اکثر آسمان کی طرف دیکھتا تھا اور اپنی انگلیوں کو عجیب و غریب انداز میں گھماتا رہتا تھا اور انہیں مروڑتا رہتا تھا۔ وہ جب بھی حیات اور بقا کے تعلق سے کوئی بات تشبیہ یا استعارے کی شکل میں کرتا تھا تو اُس کی نظریں غیر ارادی طور اُس حجرے کی طرف اُٹھتی تھیں جہاں صاحب ِدرگاہ کی آخری قیام گاہ ہے۔

میں کبھی بھی اُس حجرے کی طرف نہیں گئی تھی۔ میں نے کئی بار اس بات کو محسوس کیا اور جب بھی میں یہ بات محسوس کرکے اُس مجذوب کی طرف دیکھتی تھی تو وہ معنیٰ خیز نظروں سے مجھے دیکھتے تھے۔ اُس کی آنکھوں میں ایک پھولوں سے بھرا گلشن آباد تھا جس کی فصیل کے گرد آگ کی لپٹوں کا جیسے پہرہ تھا۔ مجذوب کی مہربانیوں کے علاوہ بوڑھی ماں جی کا پیار اور دعائیں بھی میرے اطمینان اور تسکین کا ذریعہ تھے۔

اکتوبر کے مہینے کے آخری دن تھے اور سردیاں بڑھ رہی تھیں۔ میرے دل میں کئی دنوں سے بار بار یہ خیال آرہا تھا کہ میں مجذوب کے لئے کچھ کپڑے، موزے اور اچھے جوتے لے کر جاؤں۔ ایک اتوار کی شام جب میں مجذوب کے پاس تھی تو میں بار بار اس کے میلے کچیلے فرن، اور اس کے پھٹے پرانے جوتوں کو دیکھ رہی تھی اور اندرہی اندرسوچ رہی تھی کہ میں اس کے لئے اگلی دفعہ کپڑے اور جوتے لاؤں گی۔ میں یہ خیال ہی کر رہی تھی کہ مجذوب نے میری طرف مسکرا کر دیکھا اور بڑبڑانے لگا، ”پاگل لڑکی۔ پاگل لڑکی۔ جس جسم پر سے خون ٹپک رہا ہو اُس کو سجانے سے کیا فائدہ ”۔ میں نے اُس کا اشارہ محسوس کیا مگر پھر بھی ٹھان لی کہ اگلی دفعہ نئے کپڑے اور جوتے لے کر میں ضرور آؤں گی۔ مجھے اچھی طرح سے یاد ہے جب ہم اُس شام واپسی کے لئے پلٹے تو مجذوب کا جسم ٹھنڈ کی وجہ سے کپکپا رہا تھا۔ مگر اُس کی آنکھوں میں اب بھی جیسے کوئی الاؤ دہک رہا تھا۔ میں نے ایک اچھا سا فرن بنوایا اور ایک جوڑا آرام دہ جوتوں کا بھی خریدا۔ دو جوڑے موزے بھی خریدے۔ میں اتوار کا بے صبری سے انتظار کر رہی تھی۔ مگر مجھے جیسے محسوس ہو رہا تھا کہ میرا دل کچھ بجھا بجھا سا اور بھاری بھاری سا ہے۔ میں نے اس چیز کی طرف سے دھیان ہٹایا اور بچوں کے امتحانات کے سلسلے میں تیاریوں کا جائزہ لیتی رہی۔

اتوار کی شام میں نورین کو لے کر درگاہ کے لئے چل پڑی۔ ہلکی سردی کی وجہ سے ہم دونوں نے دو شالے اوڑھے ہوئے تھے۔ اور مجذوب کے لئے کپڑوں اور جوتے وغیرہ کا تھیلا میں نے اپنے ہاتھوں میں پکڑا ہوا تھا۔ شام کے سایے پھیل رہے تھے۔ جب ہم درگاہ کو جانے والی گلی کے کنارے پر مڑے اورکھلی سڑک پر پہنچے جہاں سے درگاہ کا داخلی دروازہ ہے تو وہاں ایک ہجوم دیکھ کر مجھے گھبراہٹ سی محسوس ہوئی۔ پتا نہیں میں جیسے بے قرار سی ہو گئی اور میں نے نورین کا ہاتھ پکڑ کر بے اِختیار ہجوم کا رُخ کیا۔

جب ہم بھیڑ کے قریب پہنچے تو میں نے کسی کو یہ کہتے سنا کہ ”یہ تو بے چارہ پاگل تھا۔ پتا نہیں کس بے رحم گاڑی والے نے ٹکر مار کر ہلاک کر دیا“۔ میں نے جب قریب جاکر دیکھا تو مجذوب خون میں لت پت بیچ سڑک پر پڑا ہوا تھا اور سکی آنکھوں میں دہکتا ہوا الاؤ ٹھنڈا ہو چکا تھا۔ میں حیرت اور غم کے ملے جلے احساسات کے ساتھ مجذوب کی لاش کو ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھی۔ اور میرے کانوں میں اُس کے الفاظ گونج رہے تھے کہ ”مرتا شرتا کوئی نہیں۔ دفن شفن کچھ نہیں ”۔ لوگ عجیب عجیب باتیں کرہے تھے۔ میں نے اپنا دوشالہ اُتار کر مجذوب کے اکڑتے ہوئے جسم پر ڈال دیا اور بہت تیزی کے ساتھ درگاہ کی طرف جیسے بھاگی۔ نورین بے چاری کچھ سمجھنے سے قاصر تھی مگر مجھے برابر سنبھالے ہوئے تھی۔ میں سیدھے حجرے کے اُس طرف گئی جہاں خواتین کا مخصوص حصہ تھا۔ اور ایک کونے میں بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ مجھے اپنے آس پاس کسی بھی چیز کا احساس نہ تھا۔ البتہ اس بات کا احساس برابر تھا کہ نورین بھی روئے جا رہی تھی اور مجھے زور سے پکڑے ہوئے مجھ سے کہہ رہی تھی“ دیدی پلیز چُپ کرو، دیدی اللہ کے لئے رونا بند کردو ”۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں کب تک روتی رہی۔ اور میرے دل کا بھاری پن جب ختم ہوا تو میں نے نورین کی طرف دیکھا اور اُسے گلے سے لگایا اور اُس کو چوما۔ وہ نازک جان اس سارے معاملے سے بہت زیادہ پریشان ہو گئی تھی۔

ہم جب حجرے سے باہر نکلے تو باہر قدم رکھتے ہی میری ہی عمر کا ایک نوجوان جس کے بال اور داڈھی بکھرے ہوئے تھے اور جسم پر معمولی کپڑے تھے، میرے سامنے آیا اور میرے ہاتھ میں جھول رہے تھیلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا، ”دیدی یہ کپڑے اور جوتے مجھے دیدونا۔ اللہ کے لئے دیدو نا۔ دیدی“۔ میں اس بات سے بالکل حیران نہ ہوئی کہ اِس نوجوان دیوانے کو کیسے معلوم کہ اس تھیلے میں کیا ہے۔ میں نے خوشی سے تھیلا اُس کے حوالے کیا اور تیز تیز قدموں سے خارجی دروازے کی جانب بڑھی۔ ہم جب دروازے سے نکلنے ہی والے تھے تو میں نے بوڑھی اماں جی کو دروازے کے پاس کھڑا پایا۔ اُس نے میرے ہاتھ اور میرا ماتھا چوما ا اور کہا کہ وہ یہاں سے کل فجر کے وقت جانے والی ہے۔ اُس کے ہاتھ میں ایک پیکٹ تھا۔ اُس نے پیکٹ سے ایک دوشالہ کھول کر مجھے اوڑھا دیا۔ میں نے نہ جانے کیوں انکار نہیں کیا۔

میں نے آخری بار مسافر خانے کی طرف دیکھا۔ وہاں الاؤ بدستور جل رہا تھا۔ اور اُس الاؤ کے آگ کی لپٹوں میں مجھے نوجوان مجذوب کی آنکھیں دکھائی دے رہی تھیں، جس نے حجرے کے پاس مجھ سے کپڑوں کا تھیلا لیا تھا۔ میرے سارے وجود میں گھنٹیاں سی بج رہی تھیں۔ اور صدائے باز گشت کی طرح مجذوب کا جملہ مجھے تسکین دیے جا رہاتھا کہ ”مرتا شرتا کچھ نہیں۔ دفن شفن کچھ نہیں“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
معراج زرگر (ترال – کشمیر) کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *