ذہانتَ (افسانہ)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”بابا! اس سامنے والے جہاز میں کھڑکیاں کیوں نہیں ہیں! ؟ “

جہاز کی کھڑکی والی سِیٹ پر بیٹھی حرِیم نے، جہاز اُڑنے سے قبل، ٹیکسی کے دوران، کھڑکی سے نظر آنے والے، ایئرپورٹ پر کھڑے، دوسرے جہاز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے ابا سے حیرتَ کے مارے دریافت کیا۔

شاید اس نے ایسا جہاز، اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔

”بابا، یہ کارگو کا جہاز ہے، اس لیے۔ “ جہاز کی گلی کی سائیڈ والی سیٹ (آئل سیٹ) پر بیٹھے اس کے ابُّو نے حریم کو پیار سے جواب دیا۔

”کارگو کا جہاز کیا ہوتا ہے بابا! ؟ “ اس نے دوبارہ تجسّس سے جاننے کی کوشش کی۔

”جس میں سامان لے جایا جاتا ہے اور مُسافر سفر نہیں کرتے۔ اور چُونکہ سامان کو ہماری طرح دورانِ سفر جہاز سے باہر کا نظارہ نہیں کرنا ہوتا، لہٰذا سامان کے جہاز میں کھڑکیاں نہیں ہوتیں۔ “ حریم کے ابُّو نے اسے تفصیلاً سمجھایا۔

دونوں کی درمیان والی نشست پر بیٹھی حریم کی امّی بھی اس بات چیت میں دلچسپی لینے لگی، اور کبھی اپنی بیٹی کے سوال پر تو کبھی اپنے شوہر کے جواب پر مُسکرا کر ریسپانس دیتی رہی۔

”اچھا! اب سمجھ گئی۔

مگر اب میں آپ سے ایک سوال کروں؟ دیکھتی ہوں، آپ کتنے ذہین ہیں! ”حرِیم نے اپنے ابّو کو چیلینج کیا۔

اس کی امّی کی دلچسپی بھی بڑھ گئی۔

”جی، پُوچھیں! “ حریم کو اس کے ابّو نے جواب دیا۔

”کارگوپلین میں سِیٹ بیلٹس بھی نہیں ہوتے ناں؟ جیسے ہم نے باندھ رکھے ہیں۔ “

”جی۔ نہیں ہوتے! “ ابّو نے توجہ سے حریم کا آدھا سوال سنتے، بیٹی کو جواب دیا۔

”کیوں نہیں ہوتے! ؟ وجہ بتائیں۔ “

”اُممممممم۔ اس لیے کہ۔ ، بے جان سامان کو ہماری طرح، سِیٹ بَیلٹ باندھنے کی ضرُورت نہیں ہوتی۔ “ اس کے ابو نے اپنے تئیں اسے عقل سے بھرپُور مُدلّل جواب دیا۔

”نہیں! بالکل غلط! “ حریم پر اعتماد لہجے میں بولی۔

”تو پھر! ؟ “

”اس لیے کہ، کارگو جہاز میں سِیٹس ہی نہیں ہوتیں۔ تو سِیٹ بیلٹس کہاں ہوں گے۔ “

حرِیم نے فاتحانہ انداز میں اپنے ابّا پہ ہنستے ہوئے اپنی ماں سے تالی ملائی اور دونوں ماں بیٹی کافی دیر تک بیچارے پر ہنستی رہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *