فائدہ (افسانہ)

  آج صبح بھی جب وہ فجر کے وقت جاگا تھا تو اسے امید تھی کہ نیم گرم پانی کا گلاس یا تو بستر کے سرہانے رکھا ہو گا یا جب وہ وضو سے فارغ ہو گا تو شاید اسے نیم گرم پانی کے گلاس کی آفر ہوگی، مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔ مجبوراً اور حسب عادت خود ہی کچن میں جا کر ایک گلاس اٹھایا اور گیزر سے آدھا گلاس گرم پانی نکالا اور پھر ٹھنڈے پانی کے نل

Read more

نیا سال اور وہی پرانی دھمال

اللہ کے فضل و کرم سے عرب و عجم اور حجاز و غیرِ حجاز میں تمام جامعات، دارالعلوموں، بڑے بڑے مدارس، جمعیتوں اور جماعتوں، غیر سرکاری فلاحی اداروں اور ٹرسٹوں، اسلامک سینٹروں وغیرہ وغیرہ کے نئے سال یعنی 2024 عیسوی کے وال کلینڈر، ٹیبل کیلینڈر، ڈائریز اور ڈائجسٹ مختلف ڈیزائنوں اور رنگا رنگ فارمیٹ میں چھپ کر آ گئے۔ اکثر جگہوں پر کلینڈروں وغیرہ کی با ضابطہ رسمِ رونمائی بھی ہوئی۔ الحمد للہ سارے کے سارے مسلمان شمسی کلینڈر کے

Read more

یونس ایمرے۔ عشق و محبت کا تُرک شاعر

2019 میں کورونا وائرس کے پھیلتے کچھ اچھا خاصا وقت میسر آیا۔ اگر چہ ہم سے سرکاری نوکری کی وجہ سے ذمہ داری نہیں چھوٹی لیکن پھر بھی قدرے کچھ وقت ناسازگار حالات اور کو وِڈ کے پھیلنے سے بہرحال ملا۔ اس دوران پڑھنے کو کچھ خاص نہیں ملا، البتہ ترکی کے کچھ سیریل دیکھنے کا وقت ملا۔ ان میں ترکی کے عظیم قومی صوفی شاعر اور فلسفی یونس ایمرے کی زندگی، ان کے روحانی سفر اور تصوف کی تعلیمات

Read more

انسانی تاخت و تاراج اور تہذیبی شکست و ریخت کے بیچ جنگیں اور ان سے جڑی نفسیات

جنگیں بذاتہہ اور بنفسہ ہولناک اور تباہ کن ہوتی ہیں۔ جنگیں اگرچہ نظام عالم کو درست کرنے کے لئے لڑی جانی ہونی ہیں، مگر انسانی تاریخ ایسے ہزاروں وحشتناک جنگوں کا حوالہ فراہم کر سکتی ہے جو انا، ضد، ہٹ دھرمی، مذہبی انتہا پسندی، لوٹ مار، نفرت اور ایسے ہی دیگر بنیادوں پر لڑی گئیں اور انسانیت اور آدمیت کو روندا گیا۔ عہد قدیم میں بادشاہوں اور سلاطین کی جنگیں، آپسی رسہ کشی کی جنگیں، مذہبی جنگیں، دور وسط میں

Read more

اہلِ جہاں اِسے کُرسی کہتے ہیں

اِس کی نہ تو کوئی آنکھیں نہ ہی کان، نہ ہی منہ اور نہ ہی کوئی لمبی سی دُم ہوتی ہے۔ ہاں چار ٹانگیں اور دو عدد بازو ضرور ہوتے ہیں۔ چشمِ عیاں سے دیکھیں تو بظاہر ایک معمولی سی اور بے جان شے نظر آتی ہے، مگر ہے بڑے کام کی چیز۔ سینگ نہ رکھتے ہوئے بھی اکثر و بیشتر ایسا دھاوا بول دیتی ہے کی بڑے سے بڑے سانڈ اور بھینسے بھی اِس کے سامنے حقیر و ناتواں

Read more

فرمانروائے شہر کا بے ڈھب مُشاعرہ

اِ سے ”آپ امیر“ ِ شہر کہیے یا ”فرمانروائے شہر“ ۔ ایک ہی تو بات ہے۔ ویسے عام آدمی تو بے چارہ اِنتشار اور مصیبت کا شکار ہے۔ اِسے آپ معاف ہی رکھیں تو مہربانی ہوگی۔ ”تفریق و تشخیص“ کے معاملے میں یہ ہمیشہ ہی کُند ذہن اور لا تعلق واقع ہوا ہے۔ ہاں، فرمانروائے شہر کے ”خاصانِ خاص“ اِسے اپنے اپنے مزاج اور ”وابستگی“ کے اعتبار سے امیرِ شہر بھی کہہ سکتے ہیں اور فرمانروائے شہر بھی۔ خیر اِسے

Read more

یہ جو زندگی کی کتاب ہے (نوائے سروش)

نوًے کی دہائی کے آخری سال تھے۔ دسمبر یا جنوری کی سرد راتیں تھیں۔ اور تقریباً رات کے آٹھ یا نو بج چکے تھے۔ باہر خوف کا عالم تھا۔ فوجی بنکروں سے وقف وقفے سے سیٹیوں کی آوازیں دلوں پہ کسی بھاری بم کی طرح جیسے گر رہی تھیں۔ ہم نے سارے گھر کی روشنیاں گل کی ہوئی تھی، سوائے ایک کمرے کے جس میں سب لوگ بیٹھے تھے۔ اور کمرے کی واحد کھڑکی کے شیشوں پر ایک کمبل لٹکا

Read more

اگ رہا ہے در و دیوار پہ سبزہ غالب

سن 1911 میں ایک انگریزی اخبار میں مسوری میں رہنے والے ایک انگریز ڈاکٹر جے مارٹن نے A Neglected Grave یعنی ”ایک نظر انداز شدہ قبر“ کی سرخی سے شائع ہونے والے خط کے بعد غالب کے چاہنے والوں کی سوچ بدلی۔ قبر کو محفوظ کرنے کے لئے لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور ادارے بننے لگے۔ کئی ادارے بنے لیکن 1950 ء کے بعد جب مولانا ابوالکلام آزاد آ گئے اور انہوں نے اس وقت کے مرکزی سکریٹری ڈاکٹر شانتی

Read more

کانفرنس آف برڈس

کردار۔ 1۔ ایک بوڑھا درخت 2۔ کبوتر 3۔ کوئل 4۔ کوا 5۔ مینا 6۔ بلبل 7۔ ابابیل سین ایک بوڑھا درخت اکیلا کھڑا ہے۔ مایوس اور فکر مند۔ کئی لمحے گزرتے ہیں۔ اچانک ایک کبوتر اور ایک کوا اڑ کر درخت کی شاخ پر بیٹھتے ہیں۔ کوا اور کبوتر (ایک ہی آواز میں ) : سلام۔ بوڑھے درخت۔ کیسے ہو؟ درخت ( حیران ہو کر ) : سلام میرے کوے اور میرے کبوتر۔ میرے بچو۔ بڑے لمبے دنوں کے بعد

Read more

منشی خستہ حال یخ بستہ بنام غالبؔ

سنائیو مرزا۔ کیا حال ہیں۔ سنا دلی جل رہی ہے۔ دلی کیا، گرد و نواح جل رہے ہیں۔ کہیں سورج اگلے مہینے سے آگ برسانے کو تیار ہووے تو کہیں گرمیٔ گفتار امیر شہر سے رعایا کے دل پارہ پارہ ہیں۔ کلیجے جھلس رہے ہیں۔ دماغ کی نسیں پھٹنے کو ہیں۔ رگ جان میں گرم لہو ابل رہا ہے۔ شعلہ زنی سے بازار حیات بھسم ہے۔ زبانیں جلی کٹی سنا رہی ہیں۔ تالو ایسے کہ چھالے پڑے ہیں۔ چشمان خواص

Read more

لے سانس بھی آہستہ

یہاں مجھے آئے ہوئے کئی دن ہوچکے تھے۔ میں ایک انجینئر کے گھر میں بطور پیینگ گیسٹ سکونت پذیر تھی۔ میں اس گھر میں اپنے ابو کے ایک دوست کے ذریعے سے آئی تھی۔ انجینئر کی فیملی میں اس کی بیوی اور دو بیٹیاں تھیں۔ اس کی بیوی ایک لوکل سرکاری اسکول میں استانی تھی اور اس کی بیٹیاں بالترتیب ساتویں اور دسویں کلاس میں ایک اچھے پرائیویٹ اسکول میں تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔ یہاں رہ کر کبھی بھی

Read more