قدم بڑھاؤ عمران خان، ہم تمہارے ساتھ ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونا وائرس عالمی وبا کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس سے کوئی بھی انسان محفوظ نہیں جبکہ عالمی حفاظتی measures میں تنہائی اور Social Distancing یعنی سماجی روابط میں کمی کو اس موذی مرض کے خلاف ہتھیار قرار دیا جا رہا ہے۔ چین نے بھی اسی بنیاد پر اس مرض کا مرکز قرار دیے جانے والے شہر ویان سے کرونا کو ختم کیا اور پھر اپنے ملک میں اس کی شدت کو کم کر رہا ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی انہی بنیادوں پر انتظامات کیے گئے ہیں اور عملی طور پر لاک ڈاؤن کیا جا چکا ہے مگر پاکستانی حکمرانوں کی سوچ و فکر ہی نرالی ہے۔ ہم نے کرنا کچھ نہیں بس تقریریں کروا لیں اور بس۔ پاکستان کے وزیراعظم جناب عمران خان نے ملک میں لاک ڈاؤن کرنے سے ایک بار پھر سے انکار کر دیا ہے جبکہ صوبائی سطح پر لاک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے اور اس سلسلے میں فوج سے مدد طلب کی گئی ہے۔

مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان پالیسیوں کا تضاد ملک میں کسی نئے المیہ کو جنم دینے کا باعث بن سکتا ہے۔ سندھ کی صوبائی حکومت اپنے محدود ترین وسائل کے ساتھ اس وبا کے خلاف جنگ میں مصروف ہے۔ اس نے اپنے صوبے میں موجود اہل ثروت احباب سے مدد کی اپیل کی اور انہوں نے بھی لبیک کہتے ہوئے اپنی خدمات پیش کر دیں تاکہ مستحق افراد تک راشن اور ادوایات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے علاؤہ وزیراعلیٰ سندھ نے بجلی کے 5000 سے کم بل نا لینے کا حکم دیدیا، بلز آیندہ دس ماہ میں قسطوں میں، مالک مکان کرایہ داروں کو اس ماہ کا کرایہ ملتوی کریں، غریب لوگوں کو گھروں میں راشن دینے کا اعلان کیا ہے۔ مجھے یقین کامل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے یہ نیک بندے اس ذمہ داری کو پوری دیانتداری کے ساتھ نبھائیں گے اور اپنے دستر خوان کشادہ کر لیں گے۔ سندھ میں لاک ڈاؤن کیا جا چکا ہے تاکہ تفتان بارڈر پر ہونے والی ریاستی بد نظامی سے جنم لینے والی صورتحال پر قابو پایا جا سکے۔

وزیراعظم پاکستان کی اب تک ہونے والی دونوں تقاریر نے ہی عوام کو مایوس کیا ہے۔ لوگ سوچ رہے ہیں کہ کیا ہماری گلی سڑی لاشوں پر عمران خان حکومت کرنا چاہتے ہیں؟ عمران خان کرونا کی عالمی امداد میں حصہ تو چاہتے ہیں مگر عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں؟ تو کیا حکومت چاہتی ہے کہ کرونا وائرس پھیلے؟ تاکہ وہ مال اکٹھا کر سکیں؟ بلاشبہ وبا کے دنوں میں سامنے آنے والا یہ سیاسی چہرہ انتہائی بھیانک ہے جس پر قوم انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔

وزیراعظم کا یہ کہنا کہ لوگ خود کو محدود کریں تو جناب اس سے بھی معیشت کا پہیہ چلنا رکنا ہی ہے کیونکہ لوگ نکلیں گے ہی نہیں تو کام کس نے کرنا ہے۔ وائرس پھیل رہا ہے اور دنیا بھر میں پہلا کیس سامنے آنے کے 25 دن بعد کی شرح دیکھیں تو پاکستان اٹلی کے نزدیک نزدیک ہے کہ پہلے کیس کے 25 دن بعد تا دم تحریر مریضوں کی تعداد سات سو تین تک پہنچ چکی ہے۔

وزیر اعظم پاکستان بھول جاتے ہیں کہ ملک میں بین الاقوامی میچوں کے انعقاد کے دوران سڑکیں اور اسیڈیم سے ملحقہ مارکیٹیں بند کر دی جاتی ہیں اور لوگوں کو شدید کوفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس وقت تو دیہاڑی دار مزدور طبقے اور تاجر برادری کے مفادات کی کسی کو فکر نہیں ہوتی۔ پی ٹی آئی کے دھرنے کے دوران لوگوں نے شدید قسم کے مسائل کا سامنا کیا مگر تبدیلی سرکار کو تب اس سے کوئی سرو کار نہیں تھا تو اب غریب عوام کے نام پر ملکی سالمیت اور بقا کے ساتھ کھیلنے کی توجیہ سمجھ نہیں آتی۔

وزیر اعظم پاکستان نے اپنی حالیہ تقریر میں عوام کو سلف آئیسولیشن پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ 25 فی صد طبقہ متاثر ہو گا تو وزیراعظم صاحب آپ کی پالیسیوں کی وجہ سے 97 فیصد طبقہ پہلے ہی متاثر ہو چکا ہے۔ کئی افراد تین نہیں دو ٹائم کا کھانا کھاتے ہیں کیونکہ مہنگی بجلی اور گیس پانی کا بل انہیں دینا ہے۔ مہنگائی کا سامنا کرنا ہے آپ کو عوام کا اتنا درد ہوتا تو اپنی حکومت کے ان دو سالوں میں کم از کم کوئی ایک سہولت تو عوام کو ملتی۔

آپ کا لاک ڈاون نا کرنے کا فیصلہ اپنی 25 فیصد اس رعایا کا سوچ رہے ہیں جو دھاڑی دار ہیں، لاک ڈاون سے ملک انارکی کی طرف جائے گا لیکن بطور ریاستی سربراہ ان لوگوں کو کم سے کم راشن تو فراہم کریں، ان کے بجلی، گیس اور پانی کے بل تو معاف کریں، جو لوگ چند ہزار روپے ماہوار کرائے کے گھر میں رہ رہے ہیں ان کو کچھ تو حکومت ریلیف دلائے۔ لوگوں کے گھروں تک آٹا، گھی، دالیں ضروری اشیا تو بھجوائیں، ووٹ مانگنے کے لیے گھر گھر جانے والے آپ کے سب نمائندوں کو اپنے اپنے علاقوں کی کچی بستیوں اور پسماندہ علاقوں کا پتہ معلوم ہے۔

تاہم اس وقت سوال یہ ہے کہ ریاست مدینہ کے پاس کوئی پلان ہے اس وبا کے نتائج بھگتنے کے لئے؟ آپ کہتے ہیں کہ ہم منگل کو پلان دیں گے مگر وبا کے دنوں میں فیصلوں میں تاخیر نقصان نہیں المیوں کا باعث بنتی ہے اور جب آپ کہتے ہیں مجھے دیہاڑی دار کی مزدوری کی فکر ہے۔ تو کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ ایک ماہ میں کتنا کماتا ہے؟ آپ اپنے ملک میں دیکھیں مراعات یافتہ طبقہ کتنی دولت کا مالک ہے؟ پہلی دفعہ یہ یورپ بھی نہیں بھاگ سکتے۔ انہیں یہیں کے کمی کمینوں کے ساتھ جینا مرنا ہوگا۔ آپ ملکی سطح پر ایک فنڈ کیوں نہیں بناتے اور مراعات یافتہ طبقے کو کیوں نہیں کہتے کہ پیسے نکالیں؟

ملکی سطح پر ہر امیر کی لسٹ بنائیں صوبائی سطح پر ضلعی سطح پر۔ یہ کیوں نہیں دیں گے۔ یہ غریب کا پیسہ ہے۔ غریب مہینہ گھر بیٹھے یہ لوگ پیسہ نکالیں۔

سب سے پہلے آپ اعلان کریں اپنی کنٹریبوشن کا۔ اس کے بعد وفاقی وزرا، تمام ایم پی اے اور ایم این اے یہ سب وڈیرے جاگیردار اور سرمایہ دار ہیں ان میں غریب شاید ہی کوئی ہو ان سب سے پیسہ نکالیں۔ ساری زندگی غریبوں کی خون پسینے کی کمائی سے عیاشیاں کرتے رہے تو کیا ایک مہینہ غریب کا کچن نہیں چلا سکتے؟ جناب وزیر اعظم صاحب وڈیروں جاگیرداروں سرمایہ داروں بیوروکریٹوں کی لسٹ بنائیں اور ٹاسک دیں۔

خان صاحب ریاست مدینہ میں جب قحط آیا تھا تو عمر فاروق رض نے فرنٹ سے لیڈ کیا۔ خود لذت والا کھانا چھوڑ دیا۔ گھر والوں کو تنبیہ کی اگر میرے حکم کی خلاف ورزی کی تو تم لوگوں کو عام آدمی کے مقابلے دگنی سزا دوں گا۔ آپ کہاں ہیں اس وقت؟ قوم اتنی باشعور نہیں ہے۔ یہ شادیوں میں مصروفِ ہے آج کل۔ یہاں کمپلیٹ لاک ڈاؤن کرائیں اور غریبوں کے کچن کا خرچہ امرا سے نکالیں ورنہ سب قصے کہانیاں ہیں۔

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ عوام خود کو محدود کر لیں اور آپ کا ساتھ دیں اور آپ کی گائیڈ لائن پر عمل کرکے محفوظ ہوں تو بطور سربراہ آپ بھی کوئی تو عوام کو ریلیف دیں، ان کو یقین ہو کہ ہم اپنے وزیر اعظم کے کہنے پر گھروں میں رہیں گے اور تو ”کورونا“ سے بچ جائیں گے لیکن بھوک سے نہیں مریں گے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *