دا اوور سٹوری: رچرڈ پاورز کا ناول اور درختوں سے محبت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دا اوور سٹوری، رچرڈ پاورز کا بارہواں ناول ہے، جو بکر انعام کے لئے شارٹ لسٹ رہا اور پلٹزر انعام جیتا، اس ناول کو پڑھتے ہوئے آپ یقینی طور پر سوچیں گے کہ جو کتاب آپ کے ہاتھ میں ہے وہ کس درخت سے بنی ہے، جس کرسی یا بستر کو آپ استعمال کرتے ہیں اس کے لئے کون سے درخت کاٹے گئے، جن دروازوں میں سے آپ اپنے گھروں اور دفاتر میں گزرتے ہیں ان کے لئے کتنے درخت کاٹے گئے۔ یقینی طور پر یہ کتاب نا صرف آپ کو درختوں اور ماحول کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرے گی بلکہ کہانی کے بیانیہ کے متعلق آپ کو جھنجھوڑے گی۔ جیسے کہ کہانی کا ایک کردار پوچھتا ہے ”کہانیاں کیا کرتی ہیں؟ “ ”وہ ہمیں تھوڑا سا مار ڈالتی ہیں اور ہمیں تبدیل کر دیتی ہیں“۔

رچرڈ پاورز ذہانت اور شوق کے ساتھ درختوں کی دنیا، ان کی قدیم ذہانت اور نازک ماحولیاتی نظام میں ان کے مرکزی مقام کے متعلق لکھتے ہیں۔ یہ ایک طویل ماحولیاتی فکشن کا کام ہے، جو ہمارے سیارے کی حالت اور انسانیت نے کس طرح اس کی تباہی میں حصہ ڈالا ہے کو پیش کرتا ہے۔

1989 ء میں، جب اولیویا وانڈرگریف کالج سے فارغ ہونے سے ایک سمسٹر کی دوری پر ہے، تو ایک دن وہ نشے میں دھت بجلی کے جھٹکے کا شکار ہو جاتی ہے، کچھ دیر نیم مردہ حالت میں رہنے کے بعد اس کو یقین آتا ہے کہ اعلی طاقتیں اسے پیغام دینے کی کوشش کر رہی ہیں۔ کارکنوں کے ایک گروپ کے بارے میں ایک خبر دیکھنے کے بعد، جس کے ممبران تین فیصد بچ جانے والے ”ریڈووڈ“ کے بڑے درختوں کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ فیصلہ کرتی ہے کہ اس کا مقصد ان میں شامل ہونا ہے۔ وہاں جاتے ہوئے رستے میں وہ پینتیس سالہ نیکولس ہوئل سے ملتی ہے جس کی زندگی شدید مشکلات کا شکار ہے، اس کا فارم بک چکا ہے اور اس کا درخت مر رہا ہے۔ اولیویا سے بات کرنے کے بعد، وہ اس کے مشن میں اس کے ساتھ شامل ہونے کا فیصلہ کرتا ہے۔

اسی دوران پورٹلینڈ آریگان میں چینی انجینئر (جو خودکشی سے مر چکا ہے ) کی بیٹی ممی ما جو کارپوریٹ کی دنیا میں کامیابیاں سمیٹ رہی ہے، اس کی رہائشی عمارت کے پاس درختوں کا ایک چھوٹا سا جھنڈ شہری انتظامیہ کے ہاتھوں کٹنے والا ہے۔ وہ ان کو کاٹنے کے خلاف احتجاج کرنے کے لئے ٹاؤن ہال کے اجلاس میں شرکت کرنے پر غور کررہی ہیں لیکن اس سے پہلے ہی شہری انتظامیہ رات کو درختوں کو کاٹ ڈالتی ہے۔

ڈگلس پاولسیک پانچ سال سے بڑی کمپنیوں کے لئے درختوں کو ایک جگہ سے اکھاڑ کر دوسری جگہ لگا رہا ہے، لیکن یہ دیکھ کر کہ اس کے لگائے بہت سے درخت کاٹ دیے گئے ہیں وہ شدید مایوسی کا شکار ہوجاتا ہے۔ وہ ان کی تباہی کو روکنے کی کوشش کرتا ہے اور اسے گرفتار کرلیا گیا ہے۔ جب وہ واپس لوٹتا ہے تو اس کا سامنا ممی ما سے ہوتا ہے، جسے جلدی سے احساس ہوتا ہے کہ وہ ماحولیات کا ماہر ہے۔ دونوں مل کر ماحولیاتی تباہی کے خلاف مظاہروں میں شامل ہونے کی تیاری کرتے ہیں۔

نک اور اولیویا غیر متشدد بنیاد پرستوں کے ایک گروپ میں شامل ہو جاتے ہیں اور اپنے آپ کو درختوں کے نام دیتے ہیں، نک ”واچ مین“ اور اولیویا ”میڈین ہیر“ کے نام چنتے ہیں۔ جب انہیں دو ہفتوں تک ”میماس“ نامی ایک بڑے ”ریڈووڈ“ درخت میں بیٹھنے اور اس کی حفاظت کے لئے کہا جاتا ہے تو اولیویا خوشی سے پھولے نہیں سماتی۔ ان کا قیام ایک سال سے زیادہ عرصہ تک جاری رہتا ہے، اس دوران ان کے آس پاس کا جنگل صاف کر دیا جاتا ہے۔ آخر میں ان کی ملاقات ایڈم اپچ سے ہوتی ہے، جو ماحولیاتی ماہرین پر تھیسس کررہا ہے۔ جس رات وہ وہاں ان دونوں کے ساتھ ہوتا ہے، نِک اور اولیویا کو آخر کار درخت سے باہر نکال کر گرفتار کرلیا جاتا ہے تاکہ ”میماس“ کو کاٹا جاسکے۔ نک اور اولیویا رہائی کے بعد اوریگون میں مزید کام کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔

ممی ما اور ڈگلس احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں جہاں پولیس ان پر بے دردی سے تشدد کرتی ہے اور انہیں گرفتار کرلیا جاتا ہے۔ ممی کو بالآخر اس کی ملازمت سے برخاست کردیا جاتا ہے اور وہ بھی ڈگلس کی طرح کل وقتی کارکن بن جاتی ہے۔

اولیویا اور نک کے ساتھ اپنے گزرے وقت کے باعث ایڈم اب تبدیل ہو چکا ہے اور ان کے ساتھ دوبارہ شامل ہونے کے لئے اوریگون پہنچتا ہے، جہاں اس کی ملاقات ممی ما سے ہوتی ہے، جو اب ”مولبیری“ اور ڈگلس ”ڈگ۔ فیر“ کے نام اپنا چکے ہیں۔ وہ ایک مہینہ ان کے ساتھ رہتا ہے اور انہیں یقین ہوتا ہے کہ وہ آخر کار کچھ حاصل کر لیں گے پھر ایک دن جنگل کے حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعہ ان کا کیمپ تباہ کر دیا جاتا ہے۔

تکرار میں ممی اور ڈگلس دونوں بری طرح زخمی ہوئے ہیں۔ جوابی کارروائی میں یہ گروپ لکڑی کے سامان میں آگ لگا دیتا ہے۔ نتائج سے خوش ہوکر یہ لوگ دو اور جگہوں پر آگ لگاتے ہیں اور تیسری آگ کو آخری معرکہ کہتے ہیں۔ تیسرے معرکے کے دوران اولیویا زخمی ہونے کے بعد دم توڑ جاتی ہے، اور باقی چار کارکنان اس کا جسم اور بکھرے ہوئے سامان کو جلا دیتے ہیں۔

ممی ما اپنے باپ سے ملی انمول وراثت کو بیچتی ہے تاکہ خود کو بحال کر سکے۔ نک خانہ بدوش ہو جاتا ہے، ڈگلس ایک بی ایل ایم رینجر اور ایڈم تعلیمی میدان میں واپس آتا ہے۔

ڈگلس، جو کچھ بھی بیتتی ہے اس سے کرب میں مبتلا ہے اور اب بھی اس کی وجہ سے پریشان ہے اور وہ اپنے جرنل (ڈائری) میں ہر ایک کے بارے ان کے درختوں کے نام استعمال کرتے ہوئے لکھتا ہے۔ بعد میں اس کا جرنل (ڈائری) ایف بی آئی کے ہتھے چڑھتا ہے اور اسے گرفتار کر لیتے ہیں۔ ممی ما کی حفاظت کے لئے وہ ایک نام ایف بی آئی کو دینے کا فیصلہ کرتا ہے اور نیو یارک جاتا ہے جہاں وہ ایڈم کو ڈھونڈتا ہے اور آگ والے واقعات کی یاد تازہ کرتا ہے۔ ڈگلس کی مخبری پر ایڈم کو گرفتار کیا گیا اور اسے 140 سال قید کی سزا سنائی گئی، جو اسے بہت معمولی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اتنے برس ایک بڑے درخت کی زندگی میں معمولی حیثیت رکھتے ہیں۔

ممی ما، جو اب غیر روایتی بغیر لائسنس کے معالج کی حیثیت سے کام کررہی ہے جب گرفتاریوں کے بارے میں سنتی ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ ڈگلس نے اس کی حفاظت کے لئے ایڈم کا نام دیا۔

جنگل میں رہتے ہوئے، نک شاخوں اور مردہ لکڑی سے ایک بڑا پیغام تیار کرتا ہے جسے خلا سے پڑھا جاسکتا ہے۔ اس منصوبے میں اس کی مدد ایک مقامی امریکی شخص کرتا ہے، جو اس وقت وہاں سے گزر رہا ہوتا ہے، اور بعد میں اس شخص کے خاندان کے کچھ افراد بھی مدد کرتے ہیں۔ پیغام ہوتا ہے ”Still“ ”ابھی بھی“ جو دو سو سال تک خلا سے نظر آتا ہے اور پھر جنگل کے گھنے پن میں جذب ہو جاتا ہے۔

پانچ سو زائد صفحات پر مبنی یہ ناول آپ کو ایک لمبے عرصے تک یاد رہے گا اور درختوں کے متعلق آپ کے نظریہ کو بدل دے گا۔ پاکستان میں یہ ناول باآسانی میسر ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
راشد محمود بٹ کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *