کرونا وائرس اور غریب کا بچہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”بابا! یہ سب لوگ منہ پر کیا پہنے پھر رہے ہیں“

بارہ سالہ بچے کے سوال پر اس کا مزدور باپ چونک اٹھا۔

”یہ ماسک ہے بیٹا“ باپ نے نہایت شفقت سے جواب دیا۔

”بابا! یہ ماسک کیوں پہنتے ہیں؟ “

”تاکہ جراثیم سے محفوظ رہیں، وہ آج کل ایک عجیب سی بیماری پھیلی ہوئی ہے نا“

”تو بابا! ہم نے یہ ماسک کیوں نہیں پہنا؟ “

بیٹے کے اس معصومانہ سوال پر باپ کی آنکھیں بھر آئیں۔

”بتائیں نا بابا، ہم کیوں نہیں پہنتے ماسک“

بیٹے کے سوال نے باپ کو ہلا کر رکھ دیا

”کیونکہ ہم غریب ہیں بیٹے“

”تو اس کا مطلب یہ بیماری غریبوں کو کچھ نہیں کہتی“ بیٹے نے فاتحانہ انداز میں اچھلتے ہوئے کہا: ”ارے واہ“

باپ نے بیٹے کی نفی کرتے ہوئے کہا:

” نہیں بیٹا ایسا نہیں ہے۔ اللہ تعالی بہت انصاف پسند ہے۔ تمام آفات اور بیماریاں سب کے لئے یکسر ہوتی ہیں۔ وہ جتنا امیروں کو نقصان پہنچاتی ہیں، اتنا ہی غریبوں کو۔ ان سے کوئی محفوظ نہیں رہ سکتا، سوائے اس کے جسے اللہ چاہے“

چند لمحے سوچنے کے بعد بچہ دوبارہ بولا:

”ارے نہیں بابا، ایسا نہیں ہے، اب دیکھیں نا، غریبوں کے پاس تو بھوک اور مفلسی جیسی اور بھی بہت سی بیماریاں ہیں اب اگر ایسا ہوتا تو امیر بھی تو بھوکے رہتے، وہ بھی یہ عذاب جھیلتے۔ مگر وہ تو ہمیشہ پیٹ بھر کے کھاتے ہیں“

بچے کے ان الفاظ نے باپ کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس کی آنکھ سے آنسو بہنے لگے، تو بچے نے محسوس کیا کہ شاید اس نے کچھ غلط بول دیا ہے اور وہ چپ سادھ کر بیٹھ گیا۔

لیکن باپ نے کچھ سوچتے ہوئے جیب کھنگالی اور باہر کی جانب چل دیا۔ چند دس دس والے نوٹ اور کچھ سکے لئے ایک دکاندار سے ماسک طلب کیا تو اس نے ستر روپے کا تقاضا کر دیا۔ مزدور نے یہ سوچ کر ارادہ ترک کر دیا کہ اتنے پیسوں میں تو ہم ایک دن کا کھانا خرید سکتے ہیں۔

اور وہ افسردہ چہرہ لیے واپس گھر کی جانب چل دیا۔ راستے میں ایک کوڑا دان کے قریب پڑا ایک ماسک اٹھایا اور اسے جھاڑ کر گھر لے گیا۔ ماسک دیکھ کر بیٹا بہت خوش ہوا اور فوراً وہ ماسک پہن لیا۔

پھر نہ جانے کس لمحے وہ دوبارہ بول اٹھا

”بابا! دوسروں کے ماسک تو سیدھے اور صاف ہوتے ہیں۔ پھر میرا والا کیوں خراب ہے؟ “

یہ سنتے ہی مزدور بلک بلک کر رونے لگا، اب اسے اپنے آنسوؤں کی بھی پرواہ نہیں تھی:

”تو اس میں برائی ہی کیا ہے؟ بیٹا ہم غریب ہیں۔ ہمیں کب کون سی چیز نئی ملی ہے۔ بچپن سے دوسروں کی اترن پہنتے آئے ہیں۔ “

باپ روتا جا رہا تھا اور بولتا جا رہا تھا

”۔ دوسروں کا بچا ہوا کھانا کھاتے ہیں، تو پھر کسی اور کا استعمال شدہ ماسک پہننے میں کیا تکلیف ہے۔ بیٹا! پانچ روپے والا ماسک ستر میں بک رہا ہے۔ اور مقصد تو صرف بیماری روکنا ہی ہے نا، چاہے نیا ہو یا پرانا“

یہ باتیں بچے کی عمر سے بہت بڑی تھیں لیکن باپ کی حالت دیکھ کر اس نے گہری چپ اختیار کر لی۔

اس طرح کے ہزاروں گھرانے پاکستان میں موجود ہیں۔ جنہیں بیماری کے دنوں میں ماسک تو دور کی بات، دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں۔ جن کی مزدوری بند ہے، جن کے گھر کا چولہا بند ہے۔ خدارا ان کا خیال رکھیں، اپنے آس پاس نظر رکھیں اور اپنی استطاعت کے مطابق ان کی مدد کریں۔ حدیثِ نبوی (ص) ہے :

”: وہ مومن نہیں جو خود پیٹ بھر کر کھانا کھائے اور اس کا پڑوسی بھوکا رہے“

اور چاہے تو کچھ ماسک ہی خرید کر دے دیں، کیونکہ یہ بیماری پھیلنے سے روکنے میں مددگار ثابت ہو گا اور اس میں آپ ہی کا فائدہ ہے۔

کسی دوسرے کا نہیں تو اپنا فائدہ سوچئے۔ قدم بڑھایئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “کرونا وائرس اور غریب کا بچہ

  • 23/03/2020 at 4:20 pm
    Permalink

    Wonderful….

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *