اگلے 7 روز انتہائی اھم قرار دے دیے گئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملک کے تمام فوجی ہسپتالوں کو کرونا وائرس کے لئے بند کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، اس کی وجہ یہ بیان کی جارہی ہے کہ کرونا وائرس کے مریضوں کا علاج معالجہ ایک خاص حد تک ہی ممکن ہے، اس کے بعد اس کا کوئی علاج دستیاب نہیں جبکہ ابتدائی ادویات گھر پر بھی لی جاسکتی ہیں ”

دوسری طرف پاکستان میں کرونا وائرس کے تناظر میں آئندہ ہفتے کو اھم ترین قرار دے دیا گیا، ماہرین کا کہنا ہے ”اگلے ہفتے کے دوران اس موذی وباء کے اثرات کے حوالے سے پاکستان“ making or breaking ”یعنی“ آر یا پار ”والی صورتحال سے گزر رہا ہوگا، مطلب یا تو اس سے نکل جانے کے مرحلے میں داخل ہو جائے گا یا پھر۔ ۔ ۔ “ آنے والے 7 دن پاکستان کے لئے کرونا وائرس کی موذی وباء کے حوالے سے انتہائی اھم قرار دیے جارہے ہیں، اس وقت اس مہلک وباء کو پاکستان میں داخل ہوئے 4 ہفتے ہوچکے ہیں اور اس وقت پانچویں ہفتے کا بھی نصف گزر چکا ہے۔ ۔

حکومت کو موصولہ اعداد و شمار کے مطابق ماہ رمضان کے آغاز تک متاثرین کی تعداد 10 سے 12 ہزار تک بڑھ جانے کا خدشہ ہے جبکہ سرکاری ذرائع کے مطابق جرمنی نے پاکستان کو وینٹی لیٹرز کی فراہمی سے انکار کر دیا ہے۔ حکومت نے جرمنی سے 500 وینٹی لیٹرز کی خریداری کا آرڈر بھیجا تھا۔ جرمنی کی حکومت نے کہا ہے ”ھماری وینٹی لیٹرز بنانے کی اتنی دفتار ہی نہیں کہ آپ کی ڈیمانڈ پوری کر سکیں، آپ کو گفٹ میں 12 سے 15 وینٹی لیٹرز ابھی بھجوا دیتے ہیں لیکن آپ کا 500 وینٹی لیٹرز کا جو آرڈر ہے، اس کے لئے آپ کو کم از کم ایک مہینہ انتظار کرنا ہوگا“

دوسری طرف سوائے ”سی ایم ایچ“ اور ”ایم ایچ“ شفا ہاسپٹل، معروف ہاسپٹل، قائد اعظم انٹرنیشنل ہاسپٹل، اسلام آباد ڈائگناسٹک سنٹر اور بحریہ ٹاؤن ہسپتال سمیت راولپنڈی کے ایک درجن سے زائد اسپتالوں میں مجموعی طور پر صرف 20 وینٹی لیٹرز قابل استعمال حالت میں ہیں جبکہ سی ایم ایچ، ایم ایچ (ملٹری ہاسپٹل) ، پی اے ایف ہاسپٹل اور نیول ہاسپٹل میں مجموعی طور پر دستیاب وینٹی لیٹرز کی تعداد بمشکل 46 ہے

پرل کانٹی نینٹل، میریٹ، ہالیڈے ان، شالیمار، بیسٹ ویسٹرن اور بحریہ ٹاؤن کے ”سفاری کلب“ سمیت اسلام آباد کے 6 اسپتالوں کو خالی کروا کے سٹینڈ بائی پوزیشن پہ رکھ دیا گیا ہے، کرونا وائرس سے متاثرہ شہریوں کی تعداد بڑھ جانے کی صورت میں وفاقی دارالحکومت کے ان 6 ہسپتالوں کو فی الفور ”آئسولیشن وارڈز“ میں بدل دیا جائے گا جن کے ہر کمرے میں ایک بیڈ رکھ دیا گیا ہے اور ڈرپس نصب کر دی گئی ہیں۔ ۔

تمام بڑے ہسپتالوں میں سے ہر ایک میں مختلف امراض کے 200 سے 300 تک مریض داخل بتائے جاتے ہیں، صرف راولپنڈی کے سی ایم ایچ کے گائنی وارڈ میں 46 خواتین اور افسر ز وارڈ میں 73 مردانہ و زنانہ مریض داخل ہیں جبکہ ”JCOs وارڈ“ اس کے علاوہ ہے۔ ۔

مارکیٹ سے ہینڈ گلووز (دستانے ) ، فیس ماسک اور سینی ٹائزرز وعیرہ غالب ہوگئے جس پر حکومت نے نہایت سخت کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے اور ایک روز قبل 24 گھنٹے کے اندر صرف راولپنڈی اسلام آباد سے 22 کروڑ مالیت کے ذخیرہ کیے گئے فیس ماسک، گلووز اور ہینڈ سینی ٹائزرز قبضے میں لے کر سی ایم ایچ سمیت سرکاری ہسپتالوں میں آنے والے شہریوں میں مفت تقسیم کرنا شروع کر دیے گئے ہیں

ملک میں کرونا وائرس کی وبا قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے، بتایا جاتا ہے کہ بڑے شہروں تک میں تنگ گلیوں والے گنجان آباد علاقوں کی وجہ سے اس کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنا ناممکن ہوسکتا ہے کیونکہ ایسے کسی علاقے میں اگر ایک شخص بھی اس کی زد میں اجاتا ہے تو محض چند گھنٹوں کے اندر متاثرین کی تعداد دوگنا تین گنا ہوجائے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply