کورونا وائرس کے اٹھائے ہوئے سوالات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک طرف امریکہ اور چین کے درمیان کرونا وائرس کے حوالے سے میڈیا میں الزامات اور الفاظ کی جنگ جاری ہے تو دوسری طرف اس وائرل وبا سے نمٹنے کے لئے پوری دُنیا میں اقدامات اورسائنس دانون کی تحقیق جاری ہے۔

31 دسمبر کو چین کے علاقے ووہان سے رپورٹ ہونے والے کووڈ۔ 19 وائرس جسے ورلڈ ہیلتھ ارگنائزیشن بعد میں وبا قراد دی اب پوری دُنیا میں بے چینی پھیلا دی ہے۔ حالیہ رپورٹ کے مطابق، یہ لکھنے کے وقت، دُنیا میں 142 ممالک اور علاقوں میں یہ وائرس پھیل چُکی ہے جس سے دو لاکھ اسی ہزار لوگ متاثر، گیارہ ہزار لوگوں کی موت، اور اٹھتر ہزار نو سو ننانوے لوگ بیماری لگنے کے بعد دوبارہ صحت یاب ہو چکے ہیں۔ پاکستان میں اب تک کے اعدادو شمار کے مطابق 784 لوگوں میں کرونا وائرس کی تصدیق ہو چُکی ہے جنہیں طبی قید میں رکھ کر اُن کا علاج ہورہا ہے۔

یہ کسی کو بھی معلوم نہ تھا کہ کرونا وائرس دُنیا میں وبا کی شکل اختیار کرے گی، اور جنگل میں آگ کی طرح پھیل جائے گی۔ یہ وائرل بیماری اب پوری دُنیا میں ایک خوفناک ہیجان پیدا کرچُکی ہے جس سے پوری دُنیا میں نظام زندگی بُری طرح متاثرہو چُکی ہے۔ چین سے دلچسپ خبر ابھی آئی ہے کہ وہاں وائرس پر قابو پانے کے بعد حالات دوبارہ معمول کے مطابق شروع ہو گئے ہیں۔

پہلی، دوسری اور تیسری دُنیا میں اِس وبا کے حوالے سے اقدامات، حکمت عملی اور عوامی شعور وکردار بالکل مختلف ہے لیکں یہ وبا پوری دُنیا میں یکسر اثر انداز ہو چُکی ہے، اور یہ اِنسان کو دوبارہ یاد دلا دی ہے کہ باہمی اشتراک، انحصار اور معاشرے میں متوازن نمو اور ترقی سسٹینبیلٹی کے لئے ضروری ہے۔

اِنسان نے نظام حکومت اور معاشرت تقسیم کے نظریات پر رکھدی اور وہ جو استحصالی نظام تھا اب بھی اُس طبقاتی نظام کے اُصولوں پر چلی آرہی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک دُنیا میں اپنے سیاسی اور معاشی مفادات کی جنگ اور دوڑ میں سرگردان ہیں اور غریب ممالک بقا کی تگ ودو میں۔ اور یہ حیران کن پیداوار، منافع اور دولت کی مرکزیت (چند ممالک اور چند لوگوں میں ) چند مرکزی قوتوں کے پاس ہونے کی وجہ سے فیصلے اور پالیسی بھی اسی طرح بنتے ہیں جس میں اُن کے مفادات کو نقصان نہ ہو، جس سے فطرت میں غیر توازن اُسکا ایک عندیہ ہے۔

جسطرح جنگ، انقلاب اور کوئی واقعہ اپنے ساتھ ایک تبدیلی لاتی ہے اِسی طرح یہ وائرل وبا ایک طرف دُنیا میں لوگوں کے آپس میِں ”فاصلہ“ رکھنے کی حد ”چھ فٹ“ مقرر کر دی جوکہ پہلے ہی سے معاشرے میں موجود ہے (جوکہ غیرمتعیں تھی ) اور دوسری طرف مل کر ایک وبا کا مقابلہ کرنے پر مجبور کردی ہے۔ اِس وبا کی وجہ سے سارک ممالک کے نمائندے باہمی اشتراک سے اقدامات کرنے پر اتفاق کیے جس کی ایک مثال ہے۔

فطرت نے دُنیا کو اب یہ احساس دلا دی کہ متوازن اور اجتماعی بہتری (ہولسٹک ڈولپمنٹ) کتنی ضروری ہے۔ جب تک تیسری دُنیا سے یہ وبا ختم نہ ہو سکتی، پہلی اور دوسری دُنیا، میں بھی اس وائرس سے محفوظ نہیں ہوسکتی۔

انسان کو فطرت نے اب اُس چوراہے پہ کھڑا کیا ہے جس میں سب کو، مجبوراً، ساتھ مل کر زبان زد خاص وعام دشمن (کرونا وائرس) کا مقابلہ کرنا ہے۔ اس مقابلے میں چند لوگوں کے پاس جنگی ہتھیار، ضروریات اور وسائل موجود ہیں اور اُن کے ساتھ موجود دوسرے لوگوں کے پاس نہ جنگی ہتھیار، نہ ضروریات کی چیزیں اور نہ وسائل۔ اور سب سے زیادہ مسئلہ اس طبقے کو پتا ہی نہیں کہ یہ کس کی جنگ ہے، کیوں لڑا جاتا ہے، اور لڑائی کہاں سے شروغ کرنی ہے۔

اُن میں اکثریت کو نہ جنگ کے بارے میں کوئی علم اور نہ لڑنے کے وسائل موجود ہیں، اور جسے تھوڑی بہت معلومات ہیں وہ اوہام پرستی اور دوقیانوسی سوچ اور ذرائع پر یقیں رکھتے ہیں۔ تیسری دُنیا میں اس قسم کے لوگوں کی اکثریت بستی ہے۔ پاکستان میں یہ لوگ کچی آبادی اور دیہی علاقوں میں رہتے ہیں جنہیں دوسرے الفاظ میں ”پرفیرل ریجن“ بھی کہہ سکتے ہیں۔ فطرت نے دوبارہ اُن علاقوں کی طرف دُنیا کی نظر مبذول کی ہے اور یہ فطرت کا اصل پیغام ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *