آدمی مگر انساں نہ ہوا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم کس قدر اخلاقی پستی کا شکار ہیں اس پر نظر ڈالنے کے لیے کرونا کی پاکستان آمد سے لے کر اب تک کے مختصر سے دورانیے کا جائزہ ہی کافی ہے۔ تاجر برادری تو جیسے کرونا کو مرحبا کہنے کی ہی منتظر تھی۔ اِدھر کرونا کی پاکستان میں آمد کی تصدیق ہوئی اُدھر تاجر برادری انسانیت بھُول بھُلا کر دس روپے میں بکنے والے عام ماسک کو دگنے چگنے داموں بیچنے لگی، یہ ٹھیک وہی رویہ ہے جو پھل اور سبزی فروش ہر سال رمضان میں اپناتے ہیں۔ معذرت کے ساتھ ایسا منافع جو اخلاقیات، انسانیت، احساسات کو روند کر حاصل کیا جائے وہ منافع نہیں بلکہ حرص ہے۔

کارِ دنیا ہو، فنِ شعر ہو یا دیں داری

ہم دکھاتے ہیں فقط حرص فقط مکاری!

پھر کوئی بندہِ خدا اٹھا جس نے روایت بدلی اور مفت ماسک کی تقسیم شروع کی، تو کئی مجرم ذہنوں نے ماسک پر بے ہوشی کی دوا لگا کر ڈکیتی کی غرض سے ماسک بانٹنا شروع کر دیے۔ اس عمل کی شرح اگرچہ کم رہی مگر ہم کمزوریوں کا فائدہ کس حد تک اٹھا سکتے ہیں وہ ظاہر ہو گیا۔

وہ ڈاکٹرز جو مسیحا سمجھے جاتے ہیں، ان کی مسیحائی اس دورانیہ میں عروج پر جا پہنچی۔ ان کی اپنے شعبے سے مخلصی کی حقیقت بھی اسی کرونا نے کھول کر رکھ دی۔ آج کے استاتذہ اور مسیحاؤں کی مادہ پرستی نے خدمتِ خلق کے دو شعبوں کو داغ دار کر دیا ہے۔ پنجاب کے بیشتر ینگ ڈاکٹرز نے او پی ڈیز میں کام کرنے سے انکار کر دیا۔ یعنی کرونا کے علاوہ دیگر امراض کو کرونا کی رخصتی تک بغیر علاج کے برداشت کیجیے۔ یہ مشکل ہمارے ایک عزیز کو کل کنٹونمنٹ ہسپتال جانے پر درپیش ہوئی اور بغیر چیک اپ واپس آنا پڑا۔ صدر وائے ڈی اے جنرل ہسپتال عمار یوسف کے بقول حکومت کی جانب سے ہسپتال کے عملے کے مقابلے میں کم سیفٹی کٹس فراہم کی گئیں۔ مگر جتنی کٹس کی فراہمی تھی اتنا عملہ بھی کام نہیں کر رہا تھا۔ گویا مسیحاؤں کے ان شعبوں کے چناؤ کی وجہ پیسوں کا حصول یا ذاتی مفاد تھا نہ کہ خدمتِ خلق اور انسانی ہمدردی۔

سنا ہے ڈوب گئی بے حسی کے دریا میں

وہ قوم جس کو جہاں کا امیر ہونا تھا

حکومت کی بے حسی اور ناقص اقدامات کا مظاہرہ کیجیے، ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کے لیے سیفٹی کٹس کی عدم فراہمی ہے۔

ادھر عمران خان صاحب نے کرونا سے جنگ کے خلاف ابھی سے ہاتھ کھڑے کر دیے کہ ہم ترقی پذیر لوگ کرونا سے لڑنے کی سکت نہیں رکھتے اور انٹرنیشنل پلیٹ فارم پر بیٹھ کر کرونا کا رونا روتے ہوئے قرضوں کی معافی کا سوال پیش کر دیا۔ انھیں بھی دیر سے سہی مگر احساس ہو ہی گیا کہ مجھ سے تو کچھ ہو نا پائے گا کیوں نہ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ بھیک و معافی تلافی سے کام لے لیا جائے۔

یہ تُو جو محبت میں صلہ مانگ رہا ہے

اے شخص تُو اندر سے بھکاری تو نہیں؟

دوسری طرف ایران سے آنے والے زائرین کو جس قرنطینہ سینٹر میں رکھا گیا اُسے ٹارچر سینٹر کہنا زیادہ بہتر ہو گا۔ جہاں کوئی کرونا سے اثر انداز ہو نہ ہو گندگی اور وہاں کے ماحول سے ضرور بیمار ہو جائے گا۔ زائرین میں سے چند کرونا وائرس کے شکار مریضوں کو بغیر چیکنگ کے پورے پاکستان میں جہاں چاہے پھیلنے دیا گیا۔ یہ عمل بائیس کروڑ زندگیوں کے لیے خطرے کا باعث ہے۔ بے حسی اور انسانی جان کی ناقدری کے بعد ڈھٹائی کا عالم یہ رہا کہ عمران خان نے قوم سے خطاب میں اس بدترین انتظام کو بہترین قرار دے کر جام کمال حکومت کو شاباش دی۔

اس میں کیا شرم اگر شرم بھی کم رکھتے ہیں!

بے حسی یہاں ختم نہیں ہوئی، کئی تعلیمی اداروں کے سربراہان نے اساتذہ کو سکولز اور یونیورسٹیز آنے پر مجبور کیا علاوہ ازیں سرکاری ملازمین کو بھی دفاتر میں بلایا جاتا ہے۔ تین ہفتے گزر جانے کے باوجود آن لائن سسٹم آپریٹ کرنے کی اب تک کوئی تدبیر نہیں اور انسانی صحت کو خطرے میں ڈالا جا رہا ہے۔

یہ جانتے ہوئے شاید آپ کو بھی شرم آ جائے کہ یہ واقعات جس دورانیے کے ہیں اس کی مدت محض تین ہفتے ہے۔ ایک تاجر سے لے کر ملک کے حکمران تک ہر اک شخص ممکنہ حد تک بے حسی میں ڈوبا ہوا ہے۔ با اختیار ہوتے ہی خود غرض ہو جانا ہماری روایت ہے۔

افسوس کے ساتھ میرا تعلق اس معاشرے سے ہے جہاں اخلاقیات کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ ہم سب حیوان حیوانوں کے ریوڑ میں بستے ہیں۔ یہاں قومی درد، خیر و شر ناپید ہو چکے ہیں۔ چار اطراف ذات اور مفاد کے اسیر گھومتے ہیں۔

ہم لوگ تو اخلاق بھی رکھ آئے ہیں ساحل

ردی کے اسی ڈھیر میں آداب پڑے تھے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
حلیمہ بی بی کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *