حکمرانو! کچھ کرونا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں رواں دائرے میں رہ گیا ہوں

اس لیے راستے میں رہ گیا ہوں

ہر خسارے کو سوچ رکھا تھا

میں بہت فائدے میں رہ گیا ہوں

مرقومہ بالا شعر بہاولپور کے ایک ذرخیز دماغ اظہر فراغ کا ہے۔ اور حالاتِ حاضرہ کے تناظر میں بار بار گنگنانے کو دل کر رہا ہے۔ کورونا کی وبا پھیل گئی ہے۔ کچھ اور پھیلے گی۔ کچھ کیس ریکارڈ پہ آگئے ہیں۔ کچھ اور آئیں گے۔ اور آتے چلے جائیں گے۔ آخری جُملہ اللہ کرے غلط ہو، جھُوٹ ہو جائے۔ مگر حالات کا من موجی ٹائی ٹینک بد مست ہاتھی کی طرح جن راہوں پہ گامزن ہے حالات ایسے ہی لگتے ہیں۔ حُکمران طبقہ سکتے کے عالم میں ہے۔ کُچھ سُجھائی نہیں دیتا کرنا کیاہے۔

لاک ڈاؤن، یا کریک ڈاؤن۔ کریک ڈاؤن کا پہلا مرحلہ ہم ہار گئے ہیں۔ کرونا کے خلا ف کریک ڈاؤن کا مرحلہ! تفتان بارڈر پہ پہلے زبردست وار کا مرحلہ!

ائر پورٹس پہ کریک ڈاؤن کا مرحلہ! کوئی سرگوشی کرتا ہے کہ وزیروں نے کالیں کر کے اپنے ہم مسلک قرنطینہ سے نکلوا لیے۔ کوئی چنگاڑتا ہے کہ ائیر پورٹ عملے نے پیسے لے کر بندے چھوڑ دیے۔ زبانِ خلق نقارہ خُدا ہے۔

اپوزیشن حکومت کے پھُولے سانسوں کا خیال کرنے کی بجائے اپنا رنگ جمانا چاہتی ہے۔

کیونکہ یہی اُصولِ دُنیا ہے۔ وار کرو جب اگلا کمزور ہو یا حالتِ دفاع میں ہو۔ حکومت کیا ہے دلی کے بانکے ہیں، ترکی بہ ترکی وار کرتے ہیں۔ مجال ہے وقت کے ٹن ٹن کرتے گھنٹال پہ آواز دھریں۔ جو لحظہ بہ لحظہ حالات کی سنگینی کا احساس دلا رہا ہے۔ مُلک کے حالات گھر کی طرح ہی ہوتے ہیں۔ سب کی سوچ یکساں نہیں ہوتی۔ یہی حُسن ہے۔ یکساں ہوجائے۔ تو بوریت حکمرانی کرے۔ جب گھروں میں کوئی شدید مسئلہ سر اُبھارے تو الزام تراشیوں، ہاہاکاریوں کا ایک سلسلہ ہوتا ہے نا۔ جی بالکل ہوتا ہے! رواں دائرے کا سفر!

پھر ایک دانا آگے بڑھتا ہے۔ وہ سب کے سر جڑواتا ہے۔ سوچ و بچار ہوتی ہے۔ اور حل نِکل ہی آتا ہے۔ مُلکوں کے حالات میں بھی یہی کُلیہ چلتا ہے۔ سیاستدانوں پہ تو پہلے ہی الزام ہے۔ کہ انہیں کوئی کام ڈھب سے کرنا نہیں آتا۔ یہی وقت ہے۔ اپنا لوہا منوانے کا۔

داناؤ! آگے بڑھو، سر جوڑو۔ سیاسی داؤ پیچ مناسب وقت کے لیے سنبھال رکھو۔ جنتا بچے گی تو سیاست بھی کرلو گے۔ ورنہ مر جائے گی مخلوق تو پھر خاک کرو گے!

ہم ٹھہرے تھرڈ ورلڈ کے کشکول بردار۔ یہاں اٹلی و امریکہ جیسے مہاراج لرزاں و ترساں ہیں۔ تمام سٹیک ہولڈرز سے صلاح طلب کرو۔ پیر، فقیر، گدی نشین، اینکرز، موٹیویشنل سپیکرز، تمام مسالک کے جید عُلماء۔ الغرض جس جس کا بھی حلقئہ اثر ہے۔ ان کی مدد لو۔ جو جو احتیاطی تدابیر ضروری ہیں۔ اس بابت بیان ریکارڈ کرواؤ اور میڈیا کی جُملہ اقسام کے ذریعے وائرل کرواؤ۔ مُلک کا ایک کثیر طبقہ جو حکومتی ہدایات کو ہوا میں اُڑا رہا ہے وہ مذہبی طبقہ ہے۔ جن کے کچھ عُلماء کرام کو دیکھا گیا ہے جو، میں نا مانوں، کا راگ الاپ رہے ہیں۔

وباؤں کے آزمائشی دور میں جب مذہب ایمرجنسی نافذ کرنے کے احکامات دیتا ہے۔ طاعُون کی وبا میں آفت زدہ علاقوں کے حوالے سے آمدو رفت کے بارے میں ممانعت احادیث میں موجود ہے۔ جب کوڑھ کے مریضوں سے سلام تک نہ کرنے اور دور رہنے بارے نبی رحمت کے احکامات موجود ہیں۔ جب شدید بارشوں کے آزمائشی دور میں نمازیں گھر پڑھنے کی ہدایات ہیں۔ جب جنگ میں زرہ پہننے کے بعد توکل کرنے کا کہا گیا۔ جب اُونٹ باندھنے کا کہا گیا، توکل کا مرحلہ بعد میں آیا۔

تو انہی احادیث کی بُنیاد پہ ہر مسلک کے دارالافتاء سے فتاوٰی جات جاری کرواؤ اور میڈیا کمپئین کے ذریعے عوام تک پہنچاؤ۔ اس کے علاوہ ہر مسلک کی نمائندہ تنظیموں کے ذریعے ملک بھر کے تمام مدارس اور مساجد کے منتظمین تک اسے پہنچایا جائے۔ تاکہ گلی گلی اپنا ڈنکا بجاتے، عوام کو عقیدے کی کمزوری کا خوف دلاتے اور ریاستی احکامات ہوا میں اُڑاتے یار لوگوں کا کوئی حل نِکل سکے۔ باوُجود اس کے جو معدودے چند باز نہ آئیں تو ریاستی قُوت کیا طاقوں میں سجانے کے لیے رکھی ہے۔ آزمائیں اور بھرپُور آزمائیں۔

جُزوی لاک ڈاؤن کا آپشن بھی آزمانا پڑے تو پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔ اس بابت ایک مسلئہ سب سے زیادہ پریشان کُن ہے اور وہ ہے مزدور پیشہ لوگوں کے راشن کا۔ تو اس بابت بھرپُور قسم کی میڈیا کمپئین چلائی جائے۔ مخیر حضرات سے اپیل کی جائے کہ وہ اپنے علاقے کے مستحق خاندانوَں کے لیے راشن کا انتظام کریں۔ لوگ کریں گے۔ بلکہ مختلف فورمز پہ لوگوں نے ابھی سے اس سلسلے میں مُہم شروع کربھی دی ہے۔ حکومت اپیل کرے، عُلماء کرام، پیر فقیر، گدی نشین، سیاستدان الغرض ہر اُس بندے کی مدد لی جائے جس کا تھوڑا بہت بھی اثرو رسوخ اپنے علاقے میں ہے۔ مخیر حضرات مدد کریں گے ہر صورت کریں۔ اس معاملے میں ہمارا ریکارڈ شاندار ماضی کا حامل ہے۔

عوام کالانعام ہوتے ہیں۔ بمثلِ چوپائے! اور انہی قدموں پہ چلتے ہیں جن پہ حُکمران چلانا چاہتے ہیں۔ عوام کو صرف یہ احساس ہوجائے کہ حکمران سنجیدہ ہوگئے ہیں۔ رسمی کارروائی نہیں ہو رہی۔ فقرہ بازی نہیں چل رہی۔ من جُملہ سنجیدگی جب نظر آئے گی تو عوام حکمرانوں سے دو قدم آگے نظر آئیں گے۔ شادیاں منسُوخ ہوجائیں گیں۔ بے وجہ کی مجلسیں برخواست ہوجائیں گی۔ گلی محلے دشت ہوجائیں گے۔ نقل و حرکت رک جائے گی۔ ایسا جمود ہوگا جو حالات کا متقاضی ہے۔

حکمرانو آگے آؤ،

دائرے کے سفر سے نکلو!

خسارے کا سوچو!

قبل اس کے کہ وار کرنے کا آخری موقع بھی گنوا بیٹھو!

اگر تم نے عمل کر ڈالا تو

میں کسی داستاں سے اُبھروں گا

میں کسی تذکرے میں رہ گیا ہوں

ایک شاندار مستقبل اس قوم کا منتظر ہوگا۔ کیونکہ کرونا کے بعد دنیا بدل کے رہ جائے گی۔ ۔ سوچوں کے زاویوں سے سیاست کے راستوں تک!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply