کرونا کی کرامت اور اٹلی کا سفر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج لاک ڈاؤن کا دوسرا ہفتہ تھا۔ روز باہر سے ایک نئی خبر سننے کو ملتی تھی اور ایک نئی ٹیس صابر کے دل میں اٹھتی تھی۔ صابر ایک اسکول کے باہر آلو کے چپس بیچتا تھا۔ جس دن وزیرِاعلی نے اسکول بند کرنے کا اعلان کیا، اس کے پاس پانچ کلو آلو موجود تھے۔ لیکن اگلے دن اسکولوں میں بچے نہ تھے۔ اس کی کمائی نہ ہوسکی۔ آنے والے دنوں میں راہ گیروں نے معمول سے کم چپس کھائے۔ پھر ایک دن پولیس کی ایک گاڑی گشت پر آئی اور اسے دھمکی دی کہ اگر اب وہ سڑک پر چپس بیچتا نظر آیا تو اسے پکڑ کر حوالات میں بند کردیا جائے گا۔

صابر کرونا وائرس کو کوستا اور روتا ہوا جب گھر کی طرف بڑھ رہا تھا تو اسے اپنی آنکھوں کے سامنے گڈو کے اسکول کی فیس، شمائلہ کے دودھ کی بوتل، بجلی اور پانی کے بِل اور ثمینہ کی ترسی نگاہیں منہ چڑاتی محسوس ہوئیں۔ گھر میں روز گن گن کر حساب سے آلو بن رہے تھے۔ پھر بھی ختم ہونے پر تھے۔ آٹا پہلے ہی نہیں تھا۔

روزانہ کی دہاڑی ملنے پر روز آٹا خرید کر کھانے والے صابر نے جب محلے کی دکان والے سے کچھ دن کا آٹا ادھار دینے کی التجا کی تو دکان دار نے اسے بڑے فخر سے بتایا، ”صابر بھائی، میں ضرور آپ کو آٹا دیتا لیکن کچھ لوگ بڑی بڑی گاڑیوں میں آئے تھے۔ وہ سارے کا سارا آٹا خرید کر لے گئے ہیں۔ میرے تو اپنے گھر کے لیے بھی آٹا نہیں بچا۔ ہاں مگر میری دو دن میں اتنی کمائی ہوگئی ہے جتنی پورے مہینے میں نہیں ہوتی۔ “ ’ہاں اب تمھارے بچوں کو بھوک لگے تو تم انھیں روٹی کے بجاے پیسے کھلانا!

’ صابر تاسف سے سوچتا ہوا آگے بڑھ گیا۔ یکے بعد دیگرے کئی دکانوں کے چکر لگانے کے بعد اس پر یہ انکشاف ہوا کہ آٹا شہر بھر میں ناپید ہوچکا ہے۔ وہ چلتے چلتے کافی دور نکل گیا تھا۔ خالی ہاتھ گھر کی جانب چلتے ہوئے اس نے سامنے سے گزرتی چنگچی میں بیٹھے لوگوں کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھا۔ بِنا ماسک کے ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر بیٹھے ہوئے لوگ، جو باتوں کے ساتھ ساتھ چھینکتے اور کھانستے بھی جارہے تھے۔

’ایسا لگتا ہے کرونا نے ان کا کچھ نہیں بگاڑا۔ ساری مصیبتیں مجھ غریب کے لیے ہی ہیں۔ ‘ صابر گھر پہنچا تو بڑی بیٹی ثنا نے خوش خبری سنائی کہ صرف آج رات کے آلو رہ گئے ہیں، اگر پیسوں کا بندوبست نہ ہوا تو کل سے فاقے کرنے ہوں گے۔

صابر نے ثنا کو ٹھنڈی سانس بھر کر دیکھا۔ ’شادی کی عمر کو تو پہنچ گئی ہے یہ۔ سارا چولھا چوکی سنبھالتی ہے۔ لیکن میرے پاس اتنی رقم ہی نہیں کہ اس کی شادی کا سوچ سکوں۔ شادی ہالوں پر بھی پابندی لگ گئی ہے۔ اگر اس کا کوئی رشتہ جڑ گیا ہوتا تو کتنا اچھا موقع تھا کہ اس صورتِ حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے رخصت کردیتا۔ رشتے داروں کو بھی نہ بلانا پڑتا۔ کتنا خرچا بچ جاتا۔

دوسرے ہفتے کے ساتھ گھر میں فاقے شروع ہوچکے تھے۔ ثنا جن بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی تھی، انھوں نے بچوں کو بنا فیس دیے گھر میں بٹھا لیا تھا۔ جو رہے سہے پیسے تھے وہ چھوٹی شمائلہ کے علاج پر خرچ ہوگئے تھے۔ خالی پیٹ ٹی وی کی آواز بھی چبھتی ہوئی معلوم ہورہی تھی۔ کہیں شبہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ کرونا کے مریض قرنطینہ سے فرار ہوگئے ہیں تو کہیں گھروں میں رہنے کی تاکید کے باوجود ریلیاں نکالی جارہی تھیں۔

صابر یہ خبریں سن کر اپنی سوچوں میں غلطاں تھا کہ اذان کی آواز سنائی دی۔ ثمینہ روکتی رہ گئی لیکن صابر جمعے کی نماز کے لیے نکل گیا۔ اسے لگا تھا کہ جب دنیا کی بڑی عبادت گاہوں میں اجتماعات پر پابندی لگ گئی ہے تو یہاں تو شاید وہ اکیلا اپنے خدا کے ساتھ ہوگا۔ لیکن نہیں، اِدھر تو پوری خلقت جمع تھی۔ ایک لڑکا ماسک پہنے نماز ادا کرنے آیا تو سب نے اسے یوں گھور کر دیکھا جیسے اس کے ایمان پر شک ہو۔ مولوی صاحب نے خطبے میں کرونا وائرس کو یہودیوں کی کارستانی قرار دیا اور کہا کہ یہ ہماری عبادت گاہیں بند کروانے کی سازش ہے۔ صابر انتظار میں رہا کہ شاید وہ ان متاثرین کے لیے بھی کوئی اعلان کریں جن کا ذریعہ معاش کرونا کی وجہ سے بند ہوگیا ہے لیکن اس کے کان ترسے ہی رہے۔

پڑوس سے کسی کو پیٹنے کی آوازیں آرہی تھیں۔ کان لگانے پر پتا چلا کہ عرفان اپنے جواں سال بیٹے کی ٹھکائی کر رہا تھا۔

”اگر اب تم گئے اس لڑکی سے ملنے تو میں تمھیں رسیوں سے باندھ دوں گا۔ کیوں اپنی جان کے اور ہم سب کے دشمن ہوئے ہو؟ جب کالج بند ہے، پارک بند ہے، ہوٹل بند ہے، تو تم کل کے چھوکروں سے دو دن سکون سے گھر پر نہیں بیٹھا جاتا؟ اب تم گھر سے قدم نکال کر دیکھو! “

صابر کو اس وقت عرفان مسجد کے مولوی سے زیادہ عقل مند محسوس ہوا۔ پڑوس کے شور شرابے کے ساتھ جب شمائلہ نے رونا شروع کردیا تو ان کے غل غپاڑے کو کم کرنے کے لیے ثمینہ نے اونچی آواز میں ٹی وی لگا دیا۔ اسکرین پر اٹلی کے مناظر دکھائے جارہے تھے جہاں لاشوں کی تعداد میں اس قدر اضافہ ہوچکا تھا کہ ٹرک بھر بھر کے انھیں لے جایا جارہا تھا۔ دفنانے کے لیے انتظامات کی کمی۔ نہ کفن میسر، نہ جنازہ۔ نہ میت پر بین کرتے رشتے دار!

’اتنی آسان موت! ‘ صابر اکثر سوچا کرتا تھا کہ اگر اسے کچھ ہوگیا تو اس کے گھر والے اس کے کفن دفن کا بندوبست کیسے کریں گے۔ بریانی میں بوٹی ڈھونڈتے اور قرض واپس مانگتے رشتے داروں کا منہ کون بند کروائے گا۔ دفعتا صابر کو یوں لگا جیسے اسے کوئی حل مل گیا ہو۔ اس نے چپل پہنی اور باہر جانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔

”کہاں جارہے ہو؟ یہ ماسک تو لیتے جاؤ۔ میں نے سیا ہے، “ پیچھے سے ثمینہ کی لرزتی ہوئی آواز آئی۔

”اٹلی! “ صابر نے پیچھے مڑے بغیر جواب دیا۔

Latest posts by خوشبو رفیق (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
خوشبو رفیق کی دیگر تحریریں

خوشبو رفیق

 خوشبو رفیق ایک سرکاری جامعہ میں میڈیا اسٹڈیز کے شعبے میں تدریسی فرائض انجام دیتی ہیں

khushboo-rafiq has 1 posts and counting.See all posts by khushboo-rafiq

Leave a Reply