وبا کے دنوں میں محبت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر سعدیہ کے دل کی دھڑکن معمول سے کچھ زیادہ تیز تھی۔ ہاسپٹل میں اس دن کام کا رش نسبتاً کم تھا۔ ڈاکٹر خرم کے کمرے کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے اس نے دو تین بار اپنی بے ترتیب سانسوں کو نارمل کرنے کی کوشش کی مگر دل کم بخت بڑے زور دھڑک رہا تھا۔ ڈاکٹر سعدیہ کو ڈاکٹر خرم پر بہت غصہ آ رہا تھا۔ آخر وہ سمجھتا کیوں نہیں ہے۔ کتنی بار اس نے اپنے دل کو سمجھانے کی کوشش کی تھی مگر دل مانتا ہی نہیں تھا اور دوسری طرف ڈاکٹر خرم کی بیگانگی اس کے دل پر چرکے لگاتی رہتی تھی۔ آج اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ ڈاکٹر خرم سے بات کر کے رہے گی۔

دروازہ بند تھا، اس نے دروازہ کھولا اور اندر جھانک کر دیکھا۔ اندر ایک درمیانی عمر کی عورت معائینہ کروا رہی تھی۔ ڈاکٹر خرم کے چہرے پر ایک گھمبیر سنجیدگی طاری تھی۔ عورت کو کھانسی آ گئی۔ اس نے دونوں ہاتھ منہ پر رکھے اور کھانسنے لگی۔

”اوہو! آپ کو ایسے نہیں کھانسنا چاہیے، کہنی موڑ کر اس میں کھانسیں۔ “ ڈاکٹر خرم نے سر ہلایا۔ عین اسی وقت اس کی نظر ڈاکٹر سعدیہ پر پڑی۔

”ڈاکٹر خرم مجھے آپ سے بات کرنی ہے“ سعدیہ نے اسے اپنی طرف دیکھتے پا کر فوراً کہا۔

”پلیز ابھی آپ جائیے، میں آپ سے بعد میں بات کروں گا۔ “ ڈاکٹر خرم نے ذرا تیز لہجے میں کہا۔

سعدیہ کو برا تو لگا لیکن وہ پلٹ آئی۔ اب اسے خود پر غصہ آ رہا تھا۔ مجھے وہاں جانا ہی نہیں چاہیے تھا۔ ایک وہ ہے جسے میری ذرا بھی پرواہ نہیں اور میں خواہ مخواہ اسے سب کچھ بتانے کے لیے مری جا رہی ہوں۔ وہ یہی سوچتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف جا رہی تھی۔ کوریڈور میں اسے سامنے سے ڈاکٹر جمال آتا دکھائی دیا۔

”ہیلو ڈاکٹر“ اس نے چلتے چلتے کہا۔

”ڈاکٹر سعدیہ آپ نے خبریں سنیں۔ چین میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد تین ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ وہاں یہ وبا قابو سے باہر ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ شکر ہے ہمارے ملک میں کورونا کا کوئی مریض نہیں۔ “ ڈاکٹر جمال نے کہا۔

”لیکن ڈاکٹر! یہاں کسی بھی وقت کوئی مریض سامنے آ سکتا ہے۔ یہ وبا دنیا کے کئی ممالک میں پھیل چکی ہے۔ “ سعدیہ نے سنجیدگی سے کہا۔

”دیکھا جائے گا۔ آپ فری ہیں تو کھانے کے لیے چلیں۔ لنچ ٹائم ہو گیا ہے۔ “ ڈاکٹر خرم نے مسکرا کر کہا۔

”شکریہ! مجھے ابھی بھوک نہیں ہے۔ “ سعدیہ نے جلدی سے کہا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ خرم کندھے اچکا کر رہ گیا۔

ابھی اسے اپنے کمرے میں بیٹھے ہوئے چند منٹ ہی گزرے تھے کہ دروازہ کھلا اور ڈاکٹر خرم کا چہرہ دکھائی دیا۔

”سوری ڈاکٹر سعدیہ آپ مجھ سے کوئی بات کرنا چاہتی تھیں لیکن میں الجھا ہوا تھا۔ “ خرم نے معذرت خواہانہ لہجے میں کہا۔

”کوئی بات نہیں آپ اس ہاسپٹل کے سب سے مصروف ڈاکٹر جو ہوئے۔ ہر وقت کسی نہ کسی مسئلے میں الجھے رہتے ہیں۔ “ سعدیہ نے نارمل انداز میں کہا لیکن خرم اس جملے میں چھپے طنز کو محسوس کیے بغیر نہ رہ سکا۔

”اچھا آئیں لنچ کرتے ہیں۔ مجھے آپ سے ایک بہت ضروری بات کرنی ہے۔ “ خرم نے اس کی بات پر کوئی تبصرہ کیے بغیر کہا۔

”چلیں“ سعدیہ نے فوراً حامی بھرتے ہوئے کہا۔

”ایک منٹ۔ میرے خیال میں پہلے بات کر لینا مناسب ہو گا۔ “ خرم نے الجھے ہوئے لہجے میں کہا۔

سعدیہ کا دل ایک بار پھر زور سے دھڑکنے لگا۔ کیا بالآخر خرم اس سے وہ بات کرنے والا ہے جسے وہ کئی مہینوں سے سننا چاہتی تھی۔

”ہاں بتائیے ناں کیا بات ہے“ سعدیہ کا لہجہ بے حد نرم تھا۔ اس کے سرخ و سپید چہرے پر ہلکی سی سرخی آ گئی تھی اور پلکیں جھکی جا رہی تھیں۔

”ڈاکٹر سعدیہ ہم بہت بڑی مشکل میں پھنسنے والے ہیں۔ “ خرم نے پریشانی کے لہجے میں کہا۔

”کیا مطلب؟ کیسی مشکل؟ “ سعدیہ چونک اٹھی۔

”میرے کمرے میں آپ نے جس عورت کو دیکھا تھا، اس کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ پازیٹو ہے۔ وہ چند دن پہلے فلو اور کھانسی کے علاج کے لیے آئی تھی۔ مجھے اسی وقت اس پر شبہ ہوا تھا۔ میں نے اس کا ٹیسٹ کروایا اور اب ثابت ہو گیا ہے کہ وہ ہمارے ملک میں کورونا کی پہلی مریضہ ہے۔ “ خرم نے بتایا۔

”اوہ! تو اس کا مطلب ہے وبا ہم تک آن پہنچی ہے۔ اب کیا ہو گا۔ “ سعدیہ بھی پریشان ہو گئی۔

”میں ابھی ایم ایس سے بات کرتا ہوں، ہمیں ہنگامی اقدامات کرنے ہوں گے۔ “

وہ دن گزر گیا اور پھر اس کے بعد ہر روز کہیں نہ کہیں سے کورونا کے مریضوں کی خبریں آنے لگیں۔ چند دن کے اندر کورونا کے مریضوں کی تعداد سو سے تجاوز کر چکی تھی۔ ڈاکٹرز اور نرسیں ماسک پہن کر اور دیگر حفاظتی انتظامات کے ساتھ مریضوں کی دیکھ بھال میں مصروف تھے۔ سعدیہ اور خرم تو اسلام آباد کے ایک سرکاری ہسپتال میں تھے جہاں دو تین کورونا متاثرین تھے لیکن سندھ میں متاثرین کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی تھی۔ یہ وائرس یورپ اور امریکہ میں بھی نمودار ہو چکا تھا۔

صبح جب سعدیہ اپنی گاڑی میں ہسپتال کی طرف رواں دواں تھی تو سڑکوں پر رش تھا۔ سڑکیں اور بازار لوگوں سے بھرے پڑے تھے۔ ان کے چہروں پر کسی قسم کی فکرمندی نظر نہیں آتی تھی جب کہ سعدیہ کا دل ڈرا ہوا تھا۔ وہ سوچ رہی تھی آج نہ جانے کورونا کے کتنے مریض سامنے آئیں گے۔ لنچ ٹائم تک وہ بے حد مصروف رہی اس کے بعد وہ جب ڈاکٹر خرم کے ساتھ چائے پی رہی تھی تو اس نے اپنی منگنی کی بات کر کے اسے چونکا دیا۔

”میرے ابا بھی عجیب مزاج رکھتے ہیں۔ دنیا ایک مصیبت میں پڑی ہے اور انہیں میری شادی کی فکر لگی ہوئی ہے۔ آج شام ہمیں لڑکی والوں کے گھر جانا ہے۔ یہ بھی بس ضابطے کی کارروائی ہے۔ ابا جان فیصلہ تو پہلے ہی کر چکے ہیں۔ “ خرم نے وضاحت کی۔

”کیا مطلب؟ آپ ایسے ہی کسی سے شادی کر لیں گے صرف ابا کے کہنے پر۔ “ سعدیہ نے دھیرے سے کہا۔

”دیکھیں، میں عشق وغیرہ کے چکر میں کبھی پڑا نہیں ورنہ میڈیکل کالج میں ہی جوڑی بن جاتی۔ سچی بات تو یہ ہے کہ میں اپنے والدین کا بڑا احترام کرتا ہوں۔ ہمیشہ ان کی ہر بات مانی ہے۔ بینا ابا جان کے ایک دوست کی بیٹی ہے۔ وہ تقریباً دو دہائیوں سے آسٹریلیا میں سیٹلڈ ہیں مگر داماد ان کو پاکستانی چاہیے۔ دو تین بار وہ ہمارے گھر بھی آئے ہیں۔ اس بار وہ دو مہینے کے لیے آئے ہیں اور شادی نمٹا کر واپس جانا چاہتے ہیں۔ “ خرم نے کہا۔

”چلیں مبارک ہو آپ کو۔ “ سعدیہ کو برا تو لگ رہا تھا پھر بھی اس نے چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ سجاتے ہوئے کہا۔

”چھوڑیں کیسی مبارکباد۔ میں تو ان دنوں کورونا کی وبا کے حوالے سے بڑا پریشان ہوں۔ ابا تو منگنی کا بہت بڑا فنکشن کرنا چاہتے تھے۔ میں نے انہیں کہا کہ اگر رشتہ کرنا ہے تو بس سادگی سے رسم ادا کریں۔ شکر ہے میری یہ بات وہ مان گئے۔ بہر حال میں یہاں سے صرف آپ کو اور ڈاکٹر جمال کو بلا رہا ہوں اور کسی کو نہیں۔ “ خرم نے کہا۔

سعدیہ نے سر ہلایا اور چائے پینے لگی۔ دو دن بعد ڈاکٹر خرم کی منگنی ہو گئی مگر سعدیہ نے شرکت سے معذرت کر لی تھی۔ اس کے بعد جیسے ہی دونوں کی ملاقات ہوئی خرم نے پہلی فرصت میں گلہ کر دیا۔

”میرا آنا ضروری تو نہیں تھا“ سعدیہ نے کہا۔

”کیوں ضروری نہیں تھا۔ ایک آپ ہی تو ہیں جن سے میں ہر بات کرتا ہوں۔ آپ میرے لیے کولیگ سے بڑھ کر ہیں۔ ایک دوست کی طرح۔ آپ ہی شامل نہیں ہوئیں۔ “

”آپ نے دوست سمجھا ہوتا تو بینا کے بارے میں پہلے ہی بتا دیتے۔ “ سعدیہ نے بھی شکوہ کیا۔

”کیا بتا دیتا۔ کوئی بات تھی ہی نہیں۔ جب ابا جان نے حکم دیا تو میں نے آپ کو بتا دیا۔ “

”اچھا جانے دیں، میں آپ کی شادی میں آ جاؤں گی، ویسے کب کر رہے ہیں شادی۔ “

”یہ بھی ایک مسئلہ ہے۔ وہ لوگ فوراً شادی کرنا چاہتے ہیں یعنی اسی مہینے۔ “

”تو کر لیں ناں، اس میں کیا مسئلہ ہے۔ “

”مسئلہ یہ ہے کہ میں ان حالات میں صرف اپنے فرض کی طرف متوجہ ہوں، آپ کو پتا ہے دنیا بھر میں کورونا کے مریضوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور ہمارے ملک میں بھی کم سہی مگر اضافہ ہو رہا ہے۔ سندھ میں مریضوں کی تعداد زیادہ ہے۔ “

”ہاں! اس کی ایک وجہ تو یہ بتائی جا رہی ہے کہ ایران سے آنے والے زائرین مناسب چیکنگ اور سکریننگ کے بغیر ملک میں آ گئے اور وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بنے۔ “ سعدیہ بولی۔

”ایک وجہ یہ ہے مگر ملک کے تمام ائیر پورٹس سے آنے والے مسافروں کے بارے میں کیا خیال ہے؟ ایک غیر مصدقہ اطلاع کے مطابق کئی مسافر ائیرپورٹ پر رشوت دے کر آ گئے اور ان میں کورونا پازیٹو تھا۔ “ خرم نے سر ہلایا۔

ٹی وی سکرین پر نیوز چینل میں اسی حوالے سے خبریں چل رہی تھیں۔ وہ خبروں کی طرف متوجہ ہو گئے۔ چین کے شہر ووہان سے ڈاکٹرز اور نرسوں کی ٹیمیں واپس جا رہی تھیں۔ خبر دی جا رہی تھی کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں سے چین میں ایک بھی نیا مریض رپورٹ نہیں ہوا۔ ووہان جہاں سے یہ وبا پھوٹی تھی اب کورونا سے پاک ہو چکا تھا۔

”گڈ یہ اچھی خبر ہے۔ “ سعدیہ بولی۔

”اس کے ساتھ ساتھ ایک فکر مندی کی بات یہ ہے کہ اٹلی میں وبا بے قابو ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ یورپ بھی اس کی لپیٹ میں ہے، امریکہ بھی پھنسا ہوا ہے اور ہم بھی محفوظ نہیں رہے۔ خطرہ ہمارے سر پر منڈلا رہا ہے۔ “ خرم نے کہا۔

”حکومت نے تمام تعلیمی ادارے بند کر دیے ہیں اس کے باوجود بازار، شاپنگ مال اور سڑکیں لوگوں سے بھری پڑی ہیں۔ یہ لوگ گھروں میں خود کو محدود کیوں نہیں کر لیتے۔ “ سعدیہ پریشان تھی۔

”شاید اس سے کام نہیں چلے گا۔ لوگ کورونا کو سیرئس نہیں لے رہے ہیں۔ حکومت نے اجتماعات میں شامل ہونے سے منع کیا ہے، کرکٹ میچز منسوخ ہو چکے ہیں، طلبہ کے سالانہ امتحانات معطل ہیں لیکن لوگ ہجوم بنانے سے گریز نہیں کر رہے ہیں۔ ماسک پہنے ہوئے لوگ بھی خال خال ہی نظر آتے ہیں۔ “ خرم نے کہا۔ اس کے چہرے پر بھی فکر مندی کے آثار تھے۔

اس شام جب خرم گھر پہنچا تو گھر کے تمام افراد بے چینی سے اس کے منتظر تھے۔ اس کا بھائی کامران، چھوٹی بہن افرا، امی اور ابا سب لاؤنج میں تھے۔

”خرم بھائی آ گئے“ اسے دیکھتے ہی کامران نے نعرہ لگایا۔

”کیا بات ہے آپ سب میری گھات میں کیوں ہیں؟ “ خرم مسکرایا۔

”بیٹھو بیٹا تمہاری شادی کی تاریخ فائنل کرنی ہے۔ “ اس کے ابا نے کہا۔

”ابا جان! میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ ان لوگوں سے بات کر لیں۔ آپ وبا کے دنوں میں میری شادی کی بات کر رہے ہیں۔ “

”بیٹا ان سے ہی بات کی تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ شادی ابھی کرنی ہے۔ پھر تمہارے آسٹریلیا جانے کے انتظامات بھی کرنے ہیں۔ اسی لیے تو جلدی کر رہے ہیں۔ یوں بھی سارے کام چلتے رہتے ہیں اور یہ وبا بھی پاکستان میں نہیں ہے خواہ مخواہ زیادہ واویلا کیا جا رہا ہے۔ “

”اباجان یہ واویلا نہیں ہے۔ کورونا ایک حقیقت ہے۔ اس وقت ہمیں اس سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ “

”بھائی جان یہ وبا چین میں پھوٹی اور ان کی حرام خوری کی وجہ سے پھوٹی۔ چمگادڑ، کتے، چوہے کچھ بھی تو نہیں چھوڑتے۔ “ کامران نے لب کشائی کی۔

”کم تولنا، ملاوٹ کرنا، رشوت لینا، ذخیرہ اندوزی، ناجائز قبضے، تیزاب گردی، ریپ یہاں کیا کچھ نہیں ہو رہا، کیا عذاب یہاں نہیں آ سکتا۔ “ خرم کا لہجہ تلخ ہو گیا۔

”بیٹا اصل میں اس بیماری کا وائرس امریکہ کی بائیولوجیکل لیبارٹریز میں تیار کر کے منصوبہ بندی کے ساتھ چین میں پھیلایا گیا تاکہ اس کی ترقی کو بریک لگائی جا سکے کیوں کہ وہ ایک معاشی ریچھ بنتا جا رہا تھا۔ مجھے عبدالقدوس صاحب بتا رہے تھے کہ چین کو سینکڑوں ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ امریکہ کو اس حرکت سے جہاں تجارتی جنگ میں فائدہ ہو گا وہیں اس کی دوا ساز کمپنیاں وائرس سے تحفظ کی ویکسین، جو پہلے ہی تیار کی جا چکی ہے، فروخت کر کے مزید اربوں ڈالر منافع حاصل کریں گی۔ “

”ابا جان! ہمارے ہاں کانسپریسی تھیوریز پھیلانا کوئی نئی بات نہیں۔ گلوبل اکانومی کی شد بد رکھنے والے جانتے ہیں کہ عالمی معیشت میں چین کاحصہ قریباً 20 فی صد بنتا ہے۔ چین کی معیشت بیٹھے گی تو تمام دنیا کا اقتصادی نظام بیٹھ جائے گا۔ اس وقت عالمی معیشت کا پہیہ مکمل طور پر رکا ہوا ہے اور کئی ممالک معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے اپنے اپنے ریزرو میں سے خطیرسرمایہ نکالنے کو مجبور ہو رہے ہیں۔ شاید آپ کو معلوم نہیں کہ امریکہ کورونا کی تباہ کاری سے متاثر ہونے والے پہلے پانچ ملکوں میں شامل ہے۔ ہزاروں امریکی مر چکے ہیں۔ جب کہ ان کے لیے ایک فرد کا مرنا بھی بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ بالفرض یہ تھیوری مان بھی لی جائے تو یہ دو طاقتور ملکوں کا معاملہ ہے، ہم تو نہ تین میں نہ تیرہ میں۔ “

”بیٹا میں تمہارے جتنا پڑھا لکھا نہیں ہوں اور اچھا ہے کہ نہیں ہوں ورنہ تمہاری طرح جمعے کی نماز پڑھنے مسجد میں نہ جاتا، میں تو گیا تھا اور کندھے سے کندھا ملا کر، ٹخنے سے ٹخنہ ملا کر نماز پڑھی اور پھر تمام نمازیوں سے ہاتھ ملا کر آیا۔ “ اس کے ابا کا انداز طنزیہ تھا۔

”اباجان! میں معذرت کے ساتھ عرض کروں گا کہ یہ بھی درست نہیں ہے۔ کورونا وائرس اسی طرح پھیلتا ہے۔ کورونا سے متعلق سازشی نظریات پھیلانے کی وجہ سے ہی لوگ احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کر رہے۔ پولیو کی بیماری سے دنیا کب کی نجات حاصل کر چکی، مگر ہم آج تک اس لیے چھٹکارا حاصل نہیں کر پائے کیوں کہ ہمارے بعض لوگ اس کی ویکسین کو مسلمانوں کی نسل کشی کی صیہونی سازش سمجھتے ہیں۔ کئی لوگ اپنے بچوں کو ویکسین پلانے کو تیار نہیں ہوتے اور اصرار پر مرنے مارنے تک اتر آتے ہیں۔ اب کثیر آبادی ہاتھ ملانے سے باز نہیں آ رہی، کہتے ہیں جو رات قبر میں لکھی ہے وہ باہر نہیں آ سکتی۔ ہم کیوں نہیں سمجھتے کہ اللہ پر بھروسا رکھنے کے ساتھ ساتھ اونٹ کی رسی باندھنا بھی ضروری ہے۔ “

”یہ کیا آپ نے بحث شروع کر دی ہے۔ اس بحث کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ بیٹا ہم تو شادی کی تاریخ فائنل کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے تھے۔ “ اس کی امی جان نے بات کو کسی اور رخ کی طرف جاتے دیکھ کر مداخلت کی۔

”ہوں! اب اس طرف آتے ہیں۔ بیٹا خرم! وہ لوگ پندرہ دن بعد شادی کی بات کر رہے ہیں۔ “ ابا جان نے ایک گہری سانس لے کر کہا۔

”میں عجیب مشکل میں ہوں۔ شاید مجھے کچھ دنوں بعد ہسپتال تک محدود رہنا پڑے، بہرحال جیسے آپ کا حکم، بندہ حاضر ہے۔ “ خرم دور خلا میں گھور رہا تھا۔

”خیر کی بات کرو بیٹا، اللہ مالک ہے۔ “ اس کی ماں نے کہا۔

”بس تو پھر ٹھیک ہے، میں اُن سے بات کر لوں گا“ ابا بولے۔

”شکر ہے شادی تو فائنل ہوئی“ افرا خوش ہو کر بولی۔

”اتنا خوش ہونے کی ضرورت نہیں، یہ شادی بڑی سادگی سے ہو گی۔ نہ مہندی وغیرہ ہو گی نہ مہمان بلائے جائیں گے۔ “ خرم بول اٹھا۔ اس کی بات سن کر افرا کا منہ بن گیا۔ ابا گہری سوچ میں تھے۔

رات کو خرم سونے کے لیے لیٹا تو عجیب قسم کی بے چینی محسوس کر رہا تھا۔ وہ اپنی کیفیت کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن سمجھ نہیں پا ریا تھا۔ پھر اس نے موبائل فون اٹھایا اور ایک نمبر ڈائل کیا۔

”ہیلو! ڈاکٹر صاحب کیا بات ہے آپ کو نیند کیوں نہیں آ رہی؟ “ دوسری طرف سے سعدیہ کی آواز سنائی دی۔

”آپ کو کیسے پتا چلا۔ “ خرم مسکرا اٹھا۔

”ظاہر ہے اتنی رات کو کسی کا فون آئے تو اس کا یہی مطلب ہو سکتا ہے۔ “

”تو پھر کوئی نیند کی دوا تجویز کر دیں، مجھے واقعی نیند نہیں آ رہی۔ “

”آپ خود بھی تو ڈاکٹر ہیں، اپنا علاج خود کیوں نہیں کر لیتے؟ “

”کر تو لیتا مگر میری فیس بہت زیادہ ہے۔ میرے پاس پیسے کم تھے“

”اوہوہوہو۔ میری فیس تو آپ ادا ہی نہیں کر سکتے۔ عام مریضوں کی بات دوسری ہے مگر آپ کے لیے فیس کچھ اور ہے۔ “ سعدیہ بھی ہنس پڑی۔

”میری جان لیں گی کیا؟ “ خرم نے شرارت سے کہا۔

”اچھا چھوڑیں، اصل بات کریں کیا مسئلہ ہے؟ “ سعدیہ نے موضوع بدلنے کی کوشش کی۔

”پتا نہیں کیا بات ہے، مجھے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا۔ میں کل اپنا مکمل چیک اپ کروانا چاہتا ہوں۔ “

”کیا ہوا؟ آپ ٹھیک تو ہیں ناں“ سعدیہ نے فوراً پریشانی سے کہا۔

”پتا نہیں، اچھا کل ملتے ہیں۔ “ خرم سوچ رہا تھا کہ اسے یہ بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔ وہی ہوا اب سعدیہ کرید رہی تھی اور اسے جوابات دینے پڑ رہے تھے۔

اگلے دن اس نے ٹیسٹ کروائے، جب رزلٹ آیا تو اس کے بد ترین خدشات درست ثابت ہوئے۔ وہ خود بھی کورونا وائرس کا شکار ہو چکا تھا۔ اسے فوری طور پر آئیسولیشن روم میں منتقل کر دیا گیا۔ جب سے کورونا کے مریض ہسپتال میں آنا شروع ہوئے تھے تمام ڈاکٹر اور نرسیں ماسک استعمال کرتے تھے۔ اس کے باوجود ڈاکٹر خرم کو کورونا نے جکڑ لیا تھا۔ اس کے تمام کولیگ باری باری ملنے آئے۔ سعدیہ جب اس کمرے میں آئی تو اس نے بڑی مشکل سے اپنے آنسوؤں کو بہنے سے روکا۔

”آخر اس کورونا نے مجھے بھی جکڑ لیا۔ “ خرم نے اسے دیکھ کر کہا۔

”فکر نہ کریں ڈاکٹر صاحب، آپ جلد ہی صحت یاب ہو جائیں گے۔ “ سعدیہ نے پرامید لہجے میں کہا۔

”ڈاکٹر سعدیہ میں مسلسل سوچ رہا ہوں کہ مجھے یہ وائرس کہاں سے لگا ہے۔ کسی مریض سے منتقل ہوا ہے یا کسی اور سے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ میرے گھر میں کسی کو۔ براہ کرم میری فیملی کے سب افراد کا ٹیسٹ کروا دیں۔ “

”آپ پریشان نہ ہوں، میں کروا دوں گی۔ “

”بہت شکریہ“

”اس میں شکریے کی کیا بات ہے۔ آپ ایسی باتیں نہ کیا کریں۔ “ سعدیہ بولی۔ چند دن میں خرم کے گھر کے تمام افراد کی ٹیسٹ رپورٹس آ گئیں۔ سب نیگٹو تھیں۔ خرم نے شکر ادا کیا کہ وہ سب محفوظ تھے۔ احتیاط کے پیش نظر انہیں بھی خرم سے ملنے نہیں دیا گیا تھا۔ ڈاکٹر سعدیہ خرم کے علاج پر مامور تھیں۔ روز بروز خرم کی حالت بگڑتی جا رہی تھی۔ ظاہر ہے کورونا کی کوئی ویکسین ابھی بنائی ہی نہیں گئی تھی۔ خرم بخار میں مبتلا تھا۔ وقفے وقفے سے اسے کھانسی آتی تھی۔ وہ سانس لینے میں دقت محسوس کر رہا تھا۔

سعدیہ ٹی وی چینلز پر خبریں دیکھتی تو اس کا دل دہل جاتا۔ اٹلی سب سے زیادہ تباہ کاری کا شکار تھا۔ وہاں ستر ہزار سے زیادہ لوگ کورونا کا شکار ہو چکے تھے۔ ہلاکتیں سات ہزار سے تجاوز کر گئی تھیں۔ امریکہ، فرانس، سپین، جرمنی، ایران سمیت بہت سے ملکوں میں سینکڑوں کی تعداد میں روزانہ لوگ مر رہے تھے۔ مجموعی طور پر ساڑھے تین لاکھ افراد کورونا وائرس کا شکار ہو چکے تھے اور مرنے والوں کی تعداد سولہ ہزار سے زائد ہو چکی تھی۔ پاکستان کے لوگ بھی بالآخر سنجیدگی سے حکومت کی جاری کردہ ہدایات پر عمل کرنے لگے تھے۔ ٹی وی پر دکھایا جا رہا تھا۔ تمام بڑے شہروں میں ہو کا عالم طاری تھا۔ بازار اور سڑکیں ویران پڑی تھیں۔ لاک ڈاؤن پر عمل ہو رہا تھا۔ لوگوں سیلف آئسولیشن میں چلے گئے تھے۔

خبریں سننے کے بعد وہ خرم کے کمرے میں آئی تو اس کا دل جیسے کوئی مٹھی میں مسلنے لگا۔ وہ اپنے آنسوؤں پر قابو نہ پا سکی۔ اس کے آنسو مسلسل آنکھوں سے نکل کر اس کے ماسک میں جذب ہو رہے تھے۔ خرم کی حالت بہت خراب تھی۔ اس کے جسم کو جھٹکے لگ رہے تھے۔ وہ شدید کھانسی میں مبتلا تھا۔ اس سے دیکھا نہ گیا۔ اس نے فوراً باہر نکل کر سینئیر ڈاکٹر زیدی اور ڈاکٹر جمال کو بلایا۔ وہ دونوں فوراً کمرے میں آئے۔ اس کی حالت دیکھنے کے بعد وہ ایک کونے میں کھڑے ہو کر بات کر رہے تھے۔

ان دونوں کی مشترکہ رائے تھی کہ اب ڈاکٹر خرم کے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ شاید وہ اگلے چوبیس گھنٹے نہ نکال سکے۔ سعدیہ ان کی باتیں سن کر کانپ اٹھی۔ وہ بمشکل خود کو چیخنے سے روک پائی۔ پھر گویا اس میں کسی نے توانائی بھر دی۔

”خاموش ہو جائیے، آپ ایک مریض کے سرہانے کھڑے ہو کر اس کی موت کی باتیں کر رہے ہیں۔ آپ کیسے مسیحا ہیں۔ “ اس نے چلا کر کہا۔

دونوں ڈاکٹر خاموش ہو گئے۔ وہ حیرت سے اس کی طرف دیکھنے لگے۔

”سوری ڈاکٹر سعدیہ! میں سمجھ سکتا ہوں ہم سے غلطی ہوئی، ہمیں اس طرح سے بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔ “ ڈاکٹر زیدی نے معذرت کی۔

”لیکن ڈاکٹر! حقیقت تو یہی ہے نا، ڈاکٹر خرم تقریباً موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔ “ ڈاکٹر جمال نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔

ڈاکٹر سعدیہ نے شعلے برساتی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا لیکن ابھی کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ ڈاکٹر زیدی بول اٹھے۔

”ڈاکٹر جمال مجھے آپ سے اس رویے کی توقع نہیں تھی۔ آپ مجھے اپنے رویے سے ڈاکٹر نہیں ایک بے رحم قصاب لگ رہے ہیں۔ اگر آپ اس مشکل وقت میں کوئی حوصلہ افزا بات نہیں کر سکتے تو براہِ کرم تشریف لے جائیے۔“

ڈاکٹر جمال نے ایک لمحے کے لیے سوچا پھر ڈاکٹر سعدیہ کو گھورتے ہوئے باہر چلا گیا۔ ڈاکٹر سعدیہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

”ڈاکٹر زیدی! آپ نے ہالی وڈ کی 2019 میں ریلیز ہونے والی فلم ’بریک تھرو‘ دیکھی ہے؟ “

ڈاکٹر زیدی نے چونک کر سعدیہ کی طرف دیکھا۔ انہیں اس موقعے پر اس سے ایسے سوال کی توقع بالکل بھی نہیں تھی۔

”نہیں، لیکن تم کیوں پوچھ رہی ہو؟ “

”یہ فلم ایک حقیقی واقعے پر مبنی ہے۔ اس فلم میں جاش نامی ایک چودہ پندرہ برس کا لڑکا جو باسکٹ بال کا اچھا کھلاڑی بھی تھا۔ اپنے دوستوں کے ساتھ گھر جاتے ہوئے اپنے علاقے کی منجمد جھیل تک پہنچا تو اچانک برف کی جمی ہوئی پتلی سطح ٹوٹ گئی اور وہ اپنے دوستوں سمیت یخ بستہ پانی میں ڈوبنے لگا۔ “ سعدیہ جیسے کسی ٹرانس میں بول رہی تھی۔ ڈاکتر زیدی بڑے غور سے اس کی بات سن رہے تھے۔

”پھر کیا ہوا؟ “

”وہ دو لڑکے تو فوراً نکل آئے لیکن جب جاش کو امدادی ٹیم نے نکالا تو پندرہ منٹ گزر چکے تھے۔ اس کی نبض رک چکی تھی، اس میں زندگی کے کوئی آثار نہیں تھے۔ اس کی ماں کو اطلاع کر دی جاتی ہے۔ وہ ہسپتال میں آ جاتی ہے۔ پھر جب ڈاکٹر مایوسی کے عالم میں آخری کوشش کر رہے ہوتے ہیں تو ماں تڑپ کر اپنے بیٹے کا ہاتھ تھام کر روتے ہوئے کہتی ہے کہ آنکھیں کھولو، تم مجھے چھوڑ کر نہیں جا سکتے۔ تم تو بچپن سے ایک فائٹر رہے ہو، ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ بس پندرہ منٹ پانی میں رہے اور ہار گئے۔ تم ہمت کرو دیکھو میں تمہارے ساتھ ہوں۔ یک دم جاش کے جسم سے جڑی مشینوں پرزندگی کی لکیر میں حرکت پیدا ہوتی ہے، ڈاکتر چونک کر آگے بڑھتے ہیں۔ مشین پر اوپر نیچے حرکت کرتی لکیر زندگی کا پتا دے رہی ہوتی ہے۔ وہ بچ گیا تھا اوراس نے پھر دوبارہ کھیل کے میدان میں اتر کر پہلے سے زیادہ شاندار کھیل پیش کر کے ثابت کیا کہ وہ واقعی فائٹر ہے۔ ”

ڈاکٹر زیدی بڑی دلچسپی سے اس کی بات سن رہے تھے۔ سعدیہ نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

”ڈاکٹر خرم بھی فائٹر ہیں۔ وہ نہیں ہار سکتے۔ میں ان کے ساتھ ہوں۔ وہ بالکل ٹھیک ہو جائیں گے اور پھر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ مجھے پورا یقین ہے۔ “ سعدیہ کی آنکھوں میں آنسو تھے مگر لہجہ مضبوط تھا۔ ڈاکٹر زیدی سر ہلا کر رہ گئے۔

ڈاکٹر خرم پر پھر کھانسی کا دورہ پڑا تھا۔ وہ دونوں اس کی طرف متوجہ ہو گئے۔ اتنے میں ڈاکٹر جمال نے اندر جھانکا۔

”ڈاکٹر زیدی باہر ڈاکٹر خرم کے گھر والے آئے ہوئے ہیں۔ میں نے انہیں بہت سمجھایا ہے مگر وہ ڈاکٹر خرم سے ملنے پر اصرار کر رہے ہیں۔ “

”ڈاکٹر سعدیہ آپ پلیز انہیں ڈیل کریں۔ میں انہیں دیکھتا ہوں۔ “ ڈاکٹر زیدی نے کہا۔

سعدیہ سر ہلاتے ہوئے باہر آ گئی۔ تھوڑی دیر بعد وہ خرم کے والدین اور بہن بھائی کے سامنے تھی۔ وہ انہیں سمجھانے لگی کہ کورونا وائرس کے شکار مریض سے کسی کو ملایا نہیں جا سکتا۔ اس طرح وائرس پھیلنے کا بہت زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔

”آہ کسی بے بسی ہے۔ ہم اسے دیکھ بھی نہیں سکتے۔ “ خرم کی ماں کے آنسو چھلک پڑے۔

”فکر نہ کریں ماں جی، وہ بالکل ٹھیک ہو جائیں گے۔ “ ڈاکٹر سعدیہ نے تسلی دی۔

”لیکن آپ کی تو اپنی آنکھیں سرخ ہیں۔ آپ بھی روتی رہی ہیں کیا؟ “ افرا بول اٹھی۔

”چپ، کیا بول رہی ہو“ کامران نے فوراً اسے روکا۔

اتنے میں ڈاکٹر زیدی بھی آ گئے۔ انہوں نے تفصیل سے انہیں سمجھا دیا۔ سعدیہ پھر ڈاکٹر خرم کے کمرے میں چلی گئی۔

”پلیز ہمت کریں، آپ نے کورونا کو شکست دینی ہے۔ پلیز میری خاطر، اپنی سعدیہ کی خاطر۔ “ وہ مسلسل بڑبڑا رہی تھی۔ وقت گزرا اور صبح ہو گئی۔ چوبیس گھنٹے گزر چکے تھے۔ ڈاکٹر خرم کی حالت کافی حد تک سنبھل چکی تھی۔ اس کے بعد ہر لمحہ بہتری کی جانب تھا۔ چند دن بعد جب خرم تقریباً ٹھیک ہو چکا تھا تو سعدیہ اس کے کمرے میں داخل ہوئی۔

”آؤ ڈاکٹر تم اچھی مسیحا ہو مریض کو اکیلا چھوڑ کر کہاں چلی جاتی ہو۔ “ اس نے مذاق کیا۔

”میں ڈاکٹر ہوں آپ کی بیوی نہیں ہوں جو ہر وقت ساتھ چپکی رہوں۔ “ سعدیہ بھی خوشگوار موڈ میں تھی۔

”ہیں، یہ خیال مجھے پہلے کیوں نہیں آیا۔ سچ پوچھو تو تم مجھے بہت اچھی لگتی ہو۔ مگر میری شادی ہونے والی ہے، سوری“

”ہونے والی ہے نہیں، تھی۔ آپ کی منگیتر صاحبہ آپ کی بیماری کی خبر سنتے ہی واپس آسٹریلیا چلی گئی تھیں۔ “

”اوہ! مجھے اس سے یہی امید تھی“ ڈاکٹر خرم نے خوشی کا اظہار کیا۔

”لیکن میں آپ کی جان چھوڑنے والی نہیں ہوں، کوئی شک“ سعدیہ نے آنکھیں نکالیں۔

”تم تو شادی سے پہلے ہی آنکھیں دکھانے لگی ہو بعد میں کیا ہو گا۔ یا اللہ خیر، میری مدد فرما۔ “ خرم نے ہاتھ اٹھا دیے۔

”کیا مطلب؟ آپ مجھ سے تنگ ہیں؟ “ سعدیہ نے پھر گھورا۔

”ارے نہیں بابا! وبا ابھی ختم نہیں ہوئی۔ لاک ڈاؤن تو ہے مگر مریض ابھی بھی رپورٹ ہو رہے ہیں۔ میں اپنے لیے خدا سے مدد مانگ رہا ہوں کہ جلد از جلد مکمل صحت یاب ہو کر اپنا فرض ادا کر سکوں۔ “ ڈاکٹر خرم نے پیار بھرے لہجے میں کہا۔

”آمین“ سعدیہ نے فوراً اس کی تائید میں سر ہلا دیا۔ کھڑکی کے شیشے میں سے باہر کا منظر نظر آ رہا تھا۔ چمکیلی دھوپ پھیلی تھی۔ جو اندھیرے کے خاتمے کا اعلان کر رہی تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply