بلوچستان میں تھیٹر مر چکا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بلوچستان ایکسلینس ایوارڈ یافتہ عبداللہ النور بلوچ نے 2011 میں بطور تھیٹر آرٹسٹ اپنے کیرئیر کا آغاز کیا انہوں نے 2015 میں بلوچستان آرٹس کونسل میں بطور تھیٹر آرٹسٹ باقاعدہ تربیت حاصل کی ہے لیکن عبداللہ النور سمجھتے ہیں کہ بلوچستان میں تھیٹر ڈرامے اب فوت ہوچکے ہیں اس کی وجہ بتاتا ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومتی اور سینئر اداکاروں کا نوجوان تھیٹر اداکاروں کا سرپرستی نہ کرنا ہے۔

عبداللہ کے مطابق: بلوچستان میں تھیٹر ہے نہیں جو ہے وہ صرف انٹرٹنٹمنٹ اور جگت بازی تک محدود ہے، تھیٹر میں کلاسیکل اور بامعنی ڈرامے ہوتے ہیں اور اس کے لئے ایک مخصوص تھیٹریکل آڈیٹوریم ہوتا ہے لیکن پورے بلوچستان میں ایک بھی مطلوبہ ہال نہیں ہے اور میر نصیرخان نوری کمپلیکس جو ہال ہے وہ بھی تھیٹر کے معیار کا نہیں اس کے باوجود وہاں اداکاروں کو پرفارم کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

بلوچستان میں اسی اور نوے کی دہائی میں تھیٹر اپنے عروج پر تھا کوئٹہ شہر کے مرکزی شاہراہ جناح روڈ پر واقع ادارہ ثقافت میں واقع تھیٹر ہال میں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی تھی سینما کے بعد بلوچستان کے لوگوں کی تفریح کا ذریعہ تھیٹر ڈرامہ ہوتے تھے، لیکن بلوچستان میں تھیٹر کے زوال کے بعد ادارہ ثقافت میں واقع تھیٹر ہال کو گرا دیا گیا اور اس کی جگہ پر لائیبریری قائم کردی گئی۔

حاجی رمضان تھیٹر ڈراموں کا باقاعدہ شائق تھا انہوں نے ماضی کے ادارہِ ثقافت میں ہونے والے تھیٹر ڈراموں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا اسی نوے کی دہائی میں ہمیں جمعہ کے روز کا انتظار رہتا تھا کیونکہ ہم پورے ہفتے کام کرتے تھے اور جمعہ کے دن ہم تفریح کے لئے اپنے دوستوں کے ساتھ تھیٹر ڈرامہ دیکھنے کے لئے ادارہ ثقافت کا رخ کرتے تھے۔

حاجی رمضان کے بقول: ادارہ ثقافت تھیٹر ہال میں لوک اور مزاحیہ ڈرامے پیش کیے جاتے تھے جس کو دیکھنے کے لئے لوگ دور دور سے آتے تھے یہاں تک فیملیز بھی ہال میں موجود ہوتی تھی لیکن وقت کے ساتھ ڈراموں جگت بازیوں اور فحاشی نے لے لیا، بے ہودہ ڈانس کا ڈراموں کا حصہ بننے کے بعد فیملیز نے ہال میں آنا چھوڑ دیا یہی سے بلوچستان میں تھیٹر کا زوال شروع ہوا۔

عمرفاروق سنیئر تھیٹر آرٹسٹ /پروگرام افسر کلچرڈائریکٹریٹ وہ سمجھتے ہیں اسی اور نوے کی دہائی میں بلوچستان میں تھیٹر کے شعبے میں بہتر کام ہورہا تھا اس زمانے میں نہ صرف قومی زبان بلکہ مقامی زبانوں میں بھی تھیٹر ڈرامے پیش کیے جاتے تھے اور اسے دیکھنے کے لئے تھیٹر ڈرامہ شائق بڑی تعداد میں تھیٹر ہال کا رخ کرتے تھے لیکن اب وہ سلسلہ نہیں رہا اور اس کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔

عمرفاروق کے مطابق: نوے کے دہائی میں کچھ ایسے تھیٹر ہوئے جو فحاشی کی ذمرے میں آتے تھے اور یہ ڈرامے ان لوگوں نے پیش کیے جن کا مقصد صرف پیسے بنانا تھا اور یہی لوگوں نے تھیٹر کے زوال میں بنیادی کردار اداء کیا۔ ان کے مطابق بلوچستان میں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ تھیٹر بالکل رک گیا اس کے بعد بلوچستان کے نوجوانوں نے تھیٹر بحال کرنے کی بڑی کوششیں کیے لیکن یہ کام تسلسل کے ساتھ ہو نہیں سکا۔

اے ڈی بلوچ ڈرامہ نویس /ہدایتکار ہے وہ تھیٹر کے زوال کو ٹی وی چینلز اور بلوچستان کے حالات کو قرار دیتے ہیں ان کے مطابق بلوچستان میں بم دھماکے اور دیگر تشدد کے واقعات کی وجہ سے تھیٹر ڈراموں پر غیر اعلانیہ پابندی لگادی گئی تھی جس کی وجہ سے بلوچستان میں تھیٹر کا زوال شروع ہوا۔

اے ڈی بلوچ کے مطابق: پابندیوں کے بعد بلوچستان میں اکا دکا ڈرامہ ہوتا تھا لیکن اب تقریبا تھیٹر ڈرامہ نہیں ہورہا ہے۔ صرف سنگت تھیٹر سوسائٹی گاہے بگاہے تھیٹر ڈرامہ کرتی ہے وہ بھی صرف تھیٹر ڈرامہ کو زندہ رکھنے کے لئے باقی کہیں پر کوئی کام نہیں ہورہا ہے۔

اے ڈی بلوچ فحاشی ِ ڈانس اور گانوں کو بھی تھیٹر کے زوال کا سبب گردانتے ہیں دوسری طرف ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں ایک تھیٹر آڈیٹوریم تھا جس کو توڑ دیا گیا اب بلوچستان میں تھیٹر ڈرامے کی ضروریات کو پورا کرنے والا کوئی تھیٹریکل ہال نہیں ہے

ظفربلیدی سیکرٹری ثقافت و سیاحت بلوچستان تھیٹر کے زوال کو بلوچستان کے حالات اور ڈراموں میں بیہودہ مواد کو قرار دیتے ہیں ان کے مطابق بلوچستان میں تھیٹر ایک بار پھر سے بحال ہورہا ہے، حکومت بلوچستان ڈراموں میں بیہودہ مواد کے روک تھام کے لئے صوبائی سطح پر اپنا سنسربورڈ بنا رہا ہے۔

ظفر بلیدی کے مطابق: چونکہ اٹھارویں ترمیم کے بعد سنسربورڈ بنانے کا اختیار صوبوں کو منتقل ہوا ہے لیکن ہم اس بابت کوشش کررہے ہیں کہ اپنا سنسر بورڈ قائم کرے اس کا اسٹریکچر اور قواعد و ضوابط طے نہیں کیے لیکن ہم کوشش کررہے ہیں کہ ایسا نظام بنائے جس کی وجہ سے بلوچستان میں تھیٹر کو ایک بار پھر فروغ ملے اور تھیٹر ڈرامے قومی سلامتی، دینی اقدار اور معاشرتی اقدار سے متصادم نہ ہوں۔

ظفربلیدی کے مطابق: حکومت بلوچستان تھیٹرڈراموں کو فروغ دینے کے لئے ڈویژن سطح پر کلچر سینٹر ز بنارہے ہیں جس میں تھیٹر کے لئے مخصوص ہال بھی بنائے جائیں گئے اور اس سلسلے کے پہلے دو سینٹر تربت اور ژوب میں بن رہے ہیں۔

ظفر بلیدی نے اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں تھیٹر کے لئے نہ تو کوئی قانون سازی ہے اور نہ اس کے لئے کوئی بجٹ مختص ہے لیکن محکمہ ثقافت اگلے مالی سال میں تھیٹر کے فروغ کے لئے تھیٹر آرٹسٹوں کواکیڈیمز میں تربیت فراہم کرے۔

ظفر بلیدی کے مطابق: بلوچستان میں چونکہ تھیٹر آرٹس کی تربیت گاہیں نہیں ہے اس سلسلے میں کوشش کررہے ہیں کہ بلوچستان کے اداکاروں کو ملک کے بڑے شہروں میں قائم اکیڈمیوں ان کو تربیت کے لئے بھیج دیے۔

معروف محقیق اور ستارہ امتیاز عرفان بیگ سمجھتے ہیں کہ مطابق نوے اور اسی کے دہائی میں لوگوں کا تفریح کا واحد ذریعہ تھیٹر تھا اور تھیٹر ہی تھا جو بلوچستان میں موجود لوگوں کو ایک ہال میں اکٹھے کرلیتے ان کے مطابق دنیا کہا سے کہا پہنچ گیا، لیکن لندن آج بھی تھیٹر پر چل رہا ہے وہاں پر ماحول ہے لیکن بلوچستان میں تھیٹر کا ماحول حکومتی عدم توجہی کی وجہ سے ناسازگار ہوا۔

عرفان بیگ کے مطابق: حکومت اگر ترجیحی بنیادوں پر اگر کام کرے اور آرٹسٹوں کو تربیت فراہم کرے اور ان کی حوصلہ افزائی کرے تو بلوچستان میں تھیٹر کا کھویا مقام بحال ہوسکتا ہے اور یہ وقت کی ضرورت بھی ہے کیونکہ تھیٹر ہی لوگوں کو قریب لاسکتے ہیں۔

بلوچستان میں تھیٹر کے ساتھ سینما بھی زوال پذیر ہے جس کی وجہ سے صوبے سستی تفریح کی مواقع دن بدن کم ہوتے جارہے جبکہ دوسری طرف تھیٹر آرٹسٹ بھی تھیٹر ڈرامے نہ ہونے کی وجہ سے اداکاری سے کنارہ کشی اختیار کررہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *