محبت ہی ولایت ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جس طرح چھوٹی چھوٹی نفرتیں دل کو پتھر کرتی جاتی ہیں یہاں تک کہ انسان نفرتوں کا بیوپار کرتے کرتے فرعون کے عہدے تک جا پہچتا ہے

اگر اس میں تعریف و توصیف کی لت بھی لگ جائے تو سمجھو انسان کو خدا بننے سے کوئی نہیں روک سکتا

یہی وجہ ہے بے جا تعریف کرنے والے کو شریعت ناپسند کرتی ہے

اسی طرح چھوٹی چھوٹی محبتیں انسان کو گل سے گل بدن اور گل بدن سے گل بداناں تک لے جاتی ہے

اگر اس عمل میں عاجزی در آئے اور خلق خدا کی خیر مطلوب ہو تو سمجھو آپ کو ولیوں اور پیغمبروں کی ڈیوٹی کے لئے چن لیا گیا ہے

” ایک دفعہ سیدنا عبدالقادر جیلانی سے دریافت کیا گیا کہ“ محبت کیا ہے؟ ”تو آپ نے فرمایا:“ محبت، محبوب کی طرف سے دل میں ایک تشویش ہوتی ہے پھر دنیا اس کے سامنے ایسی ہوتی ہے جیسے انگوٹھی کا حلقہ یا چھوٹا سا ہجوم، محبت ایک نشہ ہے جو ہوش ختم کر دیتا ہے، عاشق ایسے محو ہیں کہ اپنے محبوب کے مشاہدہ کے سوا کسی چیز کا انہیں ہوش نہیں، وہ ایسے بیمار ہیں کہ اپنے مطلوب (یعنی محبوب) کو دیکھے بغیر تندرست نہیں ہوتے، وہ اپنے خالق عزوجل کی محبت کے علاوہ کچھ نہیں چاہتے اور اس کے ذکر کے سوا کسی چیز کی خواہش نہیں رکھتے۔ ”

آپ آج ہی مشاہدہ کریں محبت والے بندوں کی ٹوہ لگائیں

واقعی محبت جن کے قلوب میں جاگزیں ہو چکی ہے

ان کا تکلم ان کی عادات ان کی بیٹھک ان کی چال آپ کو زمانے سے جدا دکھائی دے گی

پتھر کھا کر دعائیں دینا یہ بھی ایک محبت تھی

سانپ نے کاٹ لیا ہے اور درد اتنا ہے کہ آنکھیں آنسووں سے بھر گئیں

لیکن سرکار کو آہ تک نہیں پہنچنے دی

محبت کی ایک لازوال ادا یہ بھی تھی

حالانکہ مجھے یہ عجیب لگتا ہے کہ کتے کے پاوں چوم لینا

لیکن کیا کہا جائے قیس کی یہ اپنی محبت تھی

میرا ماننا ہے اللہ بھی محبت کے لئے بندے سلیکٹ کرتا ہے

ایک لاکھ چوبیس ہزار کی لڑی سلیکٹ ہی تو کی تھی

پھر صوفیائے اکرام کچھ تو اللہ نے آشکار کر دیے کیونکہ اصلاح مطلوب تھی

اور کچھ آج بھی ہمارے درمیان موجود ہیں

جنہیں نظر والی نظریں ہی دیکھ سکتی ہے

ابھی بھی یہ لڑی ٹوٹی نہیں ہے اللہ بانٹ رہا اپنے فیض کو ہاں

یہ وہ سوغات ہے جو ہر کسی کو نہیں ملتی

یار لہجے کو نرم کرنا کوئی اسان کام ہے

لوگوں کے رویئے اور گالیاں کھا کر بھی بے مزہ نہ ہونا ایک ٹانگ پر چلہ کاٹنے سے زیادہ مشکل ہے

ہم تو فجر کی نماز پڑھ لیں تو پیٹ پھٹنے کو آجاتا ہے کہ کیسے بتایا جائے

لیکن جن کی کبھی عصر کی سنتیں قضا نہ ہوئی ہوں وہ اپنا راز آشکار ہونے پر رنجیدہ ہو جاتے ہیں

کشف ا المحجوب میں لکھا ہے کہ داتا صاحب کسی کے ہاں مہمان تھے

آپ نے روزہ رکھا ہوا تھا انہوں نے کھانا پیش کیا آپ نے کھانا کھا لیا یعنی روزہ توڑ دیا اور ان پر یہ ظاہر نہیں ہونے دیا کہ میرا روزہ تھا

یعنی اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کر دیا

یہ ہے عشق کی افضل ترین صفت کہ آپ کی راز و نیاز اللہ سے براہ راست ہو جائے

ریا کاری جہاں موت سے بدتر لگے

خود کو بیچ کر انسانیت بچانا

نقصان کو فائدہ سمجھنا

اور فقیری کو امیری

اور یہ بھی سمجھنا کہ

” ہم تو آئے ہیں دنیا میں کہ تیرا نام رہے“

جی ہاں۔

یہ وہ پیوند کاری ہے جو چھوٹی چھوٹی محبتوں سے پھوٹتی ہے میں تو کہتا ہوں چڑیوں کو دانہ ڈالنا بھی دلوں کا نرم کرتا ہے یہ وہ خیر کے پہلو ہیں جو خدمت کا درس دیتے ہیں

خدمت ہی اصل میں ولائت ہے

اس لئے خیر طلب کرتے رہا کیجیئے

کیونکہ۔

قید مسلک کی نہیں، شرط عقیدے کی نہیں

جانے کس وقت وہ کس دل میں محبت رکھ دے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
وسیم رضا، سعودی عرب کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *