ملتان قرنطینہ میں قیام پذیر زائرین کی بے تاب فرمائشیں: بیویوں کو ساتھ رکھنے دیا جائے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملتان قرنطینہ میں قیام پذیر زائرین نے نت نئی فرمائشوں سے انتظامیہ کو زچ کر ڈالا۔ 16 زائرین نے مطالبہ کیا ہے کہ بیویوں کو ساتھ رکھنے کی اجازت دی جائے۔

تفصیلات کے مطابق ملتان قرنطینہ سینٹر میں موجود زائرین کی جانب سے نت نئی فرمائشیں سامنے آنے لگیں ہیں۔ کچھ زائرین کا کہنا ہے کہ قرنطینہ سنٹر میں وقت گزارنا مشکل ہو گیا ہے۔ وقت گزارنے کیلئے لڈو فراہم کی جائے۔ جبکہ دیگر نے کیرم سمیت نرم بستر کی فراہمی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ زائرین نے کھانے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے، کچھ کا کہنا ہے کہ سفید آٹے کی روٹیاں فراہم کی جائیں، جبکہ دیگر زائرین براؤن آٹا کھانا پسند کرتے ہیں۔

ملتان قرنطینہ سنٹر کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ موجودہ وسائل میں تمام ممکنہ سہولیات فراہم کی جا رہیں ہی۔ تاہم بیوی کو ساتھ رکھنے کے معاملے پر ابھی تک انتظامیہ گومگو کا شکار ہے، یہ زائرین کے اہل خانہ کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ بات بھی قابل غور رہے کہ ایران سے آنے والے زائرین کو ملک کے مختلف شہریوں میں قائم قرنطینہ سنٹر میں رکھا گیا ہے۔

اس حوالے سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ ایران میں موجود 9 ہزار میں سے تین ہزار زائرین کو براہ راست فیصل آباد لانے کا فیصلہ کیا گیا۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے 26 میں سے 20 ہاسٹل قرنطینہ سنٹر کے لیے مختص کر لیے گئے ہیں۔ ان زائرین کو فیصل آباد ائیرپورٹ سے مخصوص بسوں کے ذریعے زرعی یونیورسٹی کے ہاسٹل میں منتقل کیا جائے گا جنہیں قرنطینہ کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ یہ قرنطینہ سنٹر پاک فوج کے جوانوں کی نگرانی میں بنائے گئے ہیں۔ ان زائرین کو 14 دن تک اسی قرنطینہ سینٹر میں رکھا جائے گا۔

 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *