کورونا وائرس: کیا بھیلواڑہ ’انڈیا کا اٹلی‘ ثابت ہو گا؟

سوتک بسواس - بی بی سی نیوز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بھیلواڑہ

آٹھ مارچ کی صبح پانچ بجے انڈیا کی شمالی ریاست راجستھان میں ایک نجی ہسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ میں ایک 68 سالہ شخص نمونیہ جیسی علامات کے ساتھ زیر علاج تھا اور اس شخص کو سانس لینے میں بھی دشواری پیش آ رہی تھی۔

بھیلواڑہ علاقے کے برجیش میموریل ہسپتال میں 58 سالہ ڈاکٹر آلوک متتل ااور ان کی ٹیم ایک اور مریض کا معائنہ کر رہی ہے۔ اس مریض سے نہ تو یہ پوچھا گیا کہ آیا حال ہی میں انھوں نے کوئی سفر کیا ہے یا نہیں اور نہ ہی مریض نے خود سے کوئی تفصیل بتائی۔ اس وقت آئی سی یو میں مزید چھ مریض زیر علاج ہیں۔

68 سالہ شخص کی حالت میں کوئی بہتری نہیں آئی اور دو روز بعد مریض کو خصوصی علاج کے لیے تقریباً 250 کلومیٹر دور جے پور شہر کے ایک نجی ہسپتال پھیج دیا گیا۔

ہسپتال کی نرس کا کہنا تھا کہ ہمیں نہیں معلوم تھا کہ کیا ہونے والا ہے۔

جے پور کے ہسپتال نے بھی نمونیہ کے شکار اس شخص کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ نہیں کیا۔ مریض کی حالت بگڑتی گئی اور کچھ دن بعد 13 مارچ کو یہ شخص ہلاک ہو گیا۔ مریض کے مرنے کی اطلاع ڈاکٹر متتل اور ان کی ٹیم کو بھی دے دی گئی۔

 

حیرانی کی بات ہے کہ ڈاکٹر حالات کی سنگینی کو سمجھ ہی نہیں پائے حالانکہ یہ بات واضح تھی کہ انڈیا میں کورونا وائرس کا پھیلنا ناگزیز ہے۔

ابھی تک انڈیا میں کورونا وائرس کے 460 تصدیق شدہ کیسز ہیں جبکہ نو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ خبروں کے مطابق نو مارچ کو ڈاکٹر متتل اور دیگر کچھ لوگ اودے پور شہر کے ایک ریزارٹ میں رہے اور وہاں ہولی بھی کھیلی گئی۔ (بی بی سی نے متعدد مرتبہ فون کے ذریعے ڈاکٹر متتل سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ناکامی رہی۔)

نمونیہ کے اُس مریض کی موت کے کچھ عرصے بعد ڈاکٹر متتل اور ان کی ٹیم کے کچھ ساتھی ایک سرکاری ہسپتال کے ایک وارڈ میں قرنطینہ میں چلے گئے۔ اگلے چند دنوں میں ان کے ہسپتال کے مزید کچھ لوگ اسی وارڈ میں پہنچ گئے۔ان میں ڈاکٹر متتل سمیت 12 لوگوں کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا۔

اگلے ہی روز یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ یہ نجی ہسپتال مقامی لوگوں میں بہت مقبول تھا اور بے شمار لوگ یہاں علاج کے لیے آیا کرتے تھے۔ اس خبر نے لوگوں میں افراتفری مچا دی اور لوگ ڈاکٹروں کو موردِ الزام ٹھہرانے لگے۔

انتظامیہ نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے شہر میں کرفیو لگا دیا۔ لوگوں کے گھر سے باہر نکلنے پر پابندی لگا دی گئی، تمام تقریبات منسوخ کر دی گئیں، لوگوں کی ضلع کی حدود سے باہر نکلنے یا داخل ہونے پر بھی پابندی لگا دی گئی۔

اس نجی ہسپتال کو بند کر دیا گیا اور اس کے 88 مریضوں کو دوسرے طبی مراکز میں منتقل کر دیا گیا۔ ایک مقامی صحافی پرمود تیواری نے مجھے بتایا کہ ’حکام کا کہنا تھا کہ معاملہ بہت سنگین ہے اور یہاں وبا پھیلنے کا خطرہ ہے۔‘

بھیلواڑہ میں کورونا کی وبا پھیلنے کا خطرہ محسوس کیا جا رہا ہے۔ چار لاکھ کی آبادی والا یہ شہر، جو ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لیے مشہور ہے، انڈیا میں کورونا وائرس کا گڑھ بن سکتا ہے۔

ضلع کے چیف میڈیکل افسر ڈاکٹر ارون گور نے بتایا کہ اتوار کی شام تک جن 69 لوگوں کا ٹیسٹ کیا گیا تھا ان میں سے تیرہ لوگوں کا نتیجہ مثبت آیا۔ ان افراد کی عمریں 24 سے 58 برس کے درمیان ہیں۔ ان میں تین ڈاکٹر اور طبی عملے کے نو ارکان بھی شامل ہیں۔ ہسپتال کے عملے کے 31 لوگوں کو تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر لوگوں کی حالت ٹھیک ہے۔

حالات بہت خراب ہو سکتے ہیں

20 فروی کو قرنطینہ میں جانے سے پہلے تک ڈاکٹر متتل اور ان کی ٹیم ہسپتال میں ہی تھی اور انھوں نے 6،192 مریضوں کو دیکھا جو راجستھان کے 13 اضلاع سے آئے تھے۔ 39 مریضوں کا تعلق اردگر کی چار ریاستوں سے تھا۔ چین اور اٹلی کے تجربات کو دیکھتے ہوئے اب ڈاکٹروں کو انداز ہو رہا ہے کہ یہ نجی ہسپتال اس وبا کے پھیلنے کی اصل وجہ بن سکتا ہے۔

سارس اور ایم ای آر ایس میں بھی ہسپتالوں سے ہی سب سے زیادہ لوگوں میں وائرس منتقل ہوا تھا۔ حکام کو لگتا ہے کہ بھیلواڑہ ہسپتال سے بڑے پیمانے پر لوگوں میں یہ وائرس منتقل ہونے کا خدشہ ایک حقیقت ہے۔

تو کیا یہ وائرس اس شخس کے ذریعے شہر میں پہنچا جس کا علاج تین ہسپتالوں میں کیا گیا اور مرنے سے پہلے اس کا ٹیسٹ بھی نہیں کیا گیا۔

یہ بات اس وقت تک واضح نہیں ہو گی جب تک اس کی مکمل تحقیقات اور ٹیسٹ نہ ہوں اور وہ بہت ہی مشکل کام ہے۔

ٹھوس اطلاعات نہ ہونے کے سبب افواہوں اور قیاس آرائیوں کو ہوا ملتی ہے۔ مقامی میڈیا میں رپورٹ کیا گیا کہ ایک ڈاکٹر کے گھر سعودی عرب سے مہمان آئے تھے جن سے ڈاکٹر کو وائرس لگا اور اس ڈاکٹر نے ہسپتال میں دوسرے لوگوں میں وائرس منتقل کیا۔

اس ڈاکٹر کو انتہائی نگہداشت میں رہتے ہوئے ایک ویڈیو ریکارڈ کر کے سوشل میڈیا پر ڈالنی پڑی کہ یہ افواہ غلط ہے۔

آئی سی یو میں ماسک پہنے ہوئے ڈاکٹر نیاز خان نے پھولتی سانسوں کے ساتھ کہا کہ ’میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ سعودی عرب میں میرا کوئی رشتے دار نہیں ہے۔ میرا ایک بیٹا اور بیوی ہے، ان کا ٹیسٹ ہو چکا ہے اور انھیں کورونا وائرس نہیں ہے۔برائے مہربانی میڈیا کی رپورٹس پر بھروسہ نہ کریں۔‘

ایک اور ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ ہسپتال پر الزام لگانا ٹھیک نہیں ہے کیونکہ مریض نے ڈاکٹر سے یہ بات چھپائی کہ وہ حال ہی میں بیرون ملک سے واپس آیا ہے۔

ڈاکٹر متتل کی بیوی کا ٹیسٹ رزلٹ بھی مثبت آیا ہے۔ انھوں نے اپنا ایک وڈیو ریکارڈ کر کے سوشل میڈیا پر ڈالا ہے اور کہا ہے کہ فکر نہ کریں ’میں ٹھیک ہوں۔‘ جبکہ ایک نامور ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ ’گھبرائیں نہیں۔‘

حالات کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے حکومت کے اہلکاروں اور رضا کاروں کی 300 ٹیمیں بھیلواڑہ شہر میں پھیل گئی ہیں۔ یہ ٹیمیں لوگوں کے دروازوں پر دستک دے کر پوچھ رہی ہیں کہ کیا ہسپتال میں ان کا علاج ہوا ہے اور ان کے گھر بیرون ملک سے کوئی مہمان تو نہیں آیا ہوا۔

ٹیمیں یہ بھی پوچھ رہی ہیں کہ آیا وہ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جس کا ٹیسٹ رزلٹ مثبت آیا ہو۔ یہ سروے 18 مارچ کو شروع ہوا اور 25 مارچ تک جاری رہے گا۔

ایک مقامی باشندے نے مجھے بتایا کہ ٹیم میں شامل لوگ ان سے پوچھ رہے ہیں کہ کیا انھیں بخار یا کھانسی ہے؟ اگر ایسی کوئی علامتیں ہیں تو سرکاری ہسپتال جا کر ٹیسٹ کروائیں۔

وبا کے پھیلنے کے خدشے کے پیشِ نظر ہسپتال میں مزید بستر لگائے جا رہے ہیں، قرنطینہ وارڈ بھی قائم کیا گیا ہے، ضلع کے سینیئیر افسر راجندربھٹ کا کہنا تھا کہ ایسا لگ رہا ہے جیسے جنگ کا سماں ہے لیکن ہم پوری طرح الرٹ ہیں۔

انڈیا کے دیگر علاقوں کے لوگوں کی طرح یہاں کے رہائشی بھی کرفیو اور لاک ڈاؤن کے باعث گھروں میں بیٹھے ہیں۔ کمپیوٹر سائنس کے پروفیسر راج کمار جین کا کہنا تھا کہ وہ دو منزلہ مکان میں اپنے خاندان کے 14 لوگوں کے ساتھ بند ہیں۔ ہر کوئی خوفزدہ ہے لوگ کہہ رہے ہیں کہ ’بھیلواڑہ انڈیا کا اٹلی بن جائے گا۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14571 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp