میرے شہر میں کرونا آیا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سمجھ نہیں آرہی کہ سرکار نے لاک ڈاؤن کسے کیا ہے کہ جن کی حفاظت کے پیش نظر دفاتر اور سکول بند کیے ہیں وہ سب تو سڑکوں پر ہیں۔ یقینا آپ میری اس بات سے اختلاف نہیں کریں گے کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے آپ بھی تو شہر کا چکر لگا کر آئے ہیں، لیکن مجھے یقین نہیں تھا سوچا بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ جس وائرس نے پوری دنیا کو گھروں میں بند رہنے پہ مجبور کردیا وہ یہاں کے لوگوں کو پابند نہ کر سکا، بس اسی کی تصدیق کرنے میں خود شہر کا وزٹ کرنے گئی تو دیکھا حالات بالکل ویسے ہی تھے جیسا وزیر اعظم اپنی تقریر میں بیان کر چکے تھے، کہ ہم لاک ڈاؤن کر تو رہے ہیں لیکن اس کو لاک ڈاؤن نہ سمجھا جائے۔

جب حکمران خود بار بار کہہ رہے ہیں کہ اسے لاک ڈاؤن نہ سمجھا جائے تو لوگوں کا فرض ہے اس پہ من و عن عمل کریں۔ لہذا موٹر سائیکل والے بھی گھوم رہے ہیں پرائیوٹ گاڑیاں بھی چل رہی ہیں اور پیدل والوں کا تو پوچھیں ہی مت وہ حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کرنے کے لئے واک کرنے سڑکوں پرموجود ہیں۔ کرونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے، ممکن ہے یہ سب کرونا سے لڑنے کے لئے ہی باہر نکلے ہوں، ایک صاحب کو شہر کی اہم شاہراہ پر جوتے سجائے بیٹھے دیکھا، ہو سکتا ہے وہ کرونا سے لڑنے کے لئے انھیں لے کر بیٹھا ہو، ماربل فیکٹری والے بھی ماربل کٹنگ کی مشین چلا کر اس کی آواز سے کرونا کو ڈرا رہے تھے، شام کے وقت کچھ چاند گاڑیوں والے اینٹ، بجری جیسی چیزیں ان پہ لوڈ کر کے گھوم رہے تھے کہ اگر کرونا نظر آئے تو اس پہ اینٹ بجری کا وار کردیں۔ کرونا جیسی چیزوں سے لڑنے کے لئے متحد ہونے کی ضرورت ہے لہذا تمام بزرگ شہر کی سڑکوں پر مشاورت کے لئے مل بیٹھے ہیں۔

جبکہ نوجوان اور بچہ پارٹی دیگر مشاغل میں مصروف ہو چکے ہیں۔ یہ چونکہ فرصت کے دن ہیں اور فرصت کے دن قسمت سے نصیب ہوتے ہیں اور ان دنوں چونکہ فرصت ہی فرصت ہے تو یہی وہ دن ہیں جب گلی محلے کے بچے مل کر فزیکل ایکٹیویٹی کی طرف مائل ہورہے ہیں، کچھ لوگ ان دنوں وہ کام بھی کررہے ہیں جو عام دنوں میں مصروفیت کی بناء پہ نہیں کر سکتے تھے، جیسا کہ ٹھیکیدار کو چوری سے روکنے کے لئے اپنی نگرانی میں عمارتیں بنوانا شروع ہو گئے ہیں۔

فرصتوں کے یہ دن محبتیں بڑھانے کے لئے بہترین ہیں، یہی وہ قیمتی لمحات ہیں جب پورے انہماک سے تعمیراتی کاموں کے لئے افرادی قوت بڑھائیں گے، ان دنوں کچھ لوگ روٹھے ہوؤں کو جپھیاں ڈال کر بھی منا رہے ہیں، میڈیا، سرکاری عہدے دار جتنا مرضی فاصلہ رکھنے کو کہے، کوئی ہر گز اس بات پہ دھیان نہیں کرے گا، کہ فاصلہ تو بیماروں سے رکھا جاتا ہے لہذا صحتمند انسانوں کو اس تکلف کی قطعی ضرورت نہیں، بلکہ ہم تو محبت بانٹنے والے ایسے پیارے لوگ ہیں جو دل آزاری کے خیال سے بیاروں سے بھی احتیاط نہیں کرتے۔

ویسے بھی زیادہ لوگوں کا خیال ہے کہ جو لوگ کرونا کاشکار ہوئے ہیں وہ اپنی غلطی یا بے احتیاطی سے نہیں بدقسمتی سے ہوئے ہیں، کہ ہمارا ایمان ہے جو بھی ہوتا ہے قسمت کا لکھا ہوتا ہے، سو اگر کسی پہ یہ وائرس حملہ کرے تو لوگ اسے قسمت کا لکھا سمجھ کے قبول کر لیں گے، ان کا ایمان ہے کہ کرونا کی میزبانی نصیب میں لکھی جا چکی تو اس کو کوئی نہیں روک سکتا، جب سب کچھ اوپر آسمانوں پہ لکھا جا چکا تو پھر احتیاط کاہے کی۔

زیادہ تر افراد کی رائے یہی ہے کہ جو رات قبر میں آنی وہ باہرکیسے آسکتی ہے، تو موت آنی ہی ہے تو پھر ڈرنا کیسا، بس یہی سوچ کر لوگ احتیاط سے دور ہیں اور کھل کر جی رہے ہیں۔ ویسے بھی ہمارا سلطان کہہ گیا تھا کہ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی بہتر ہے، لہذا حکومت لاک ڈاؤن کے سلسلے میں سنجیدہ نہیں تو عوام کو بھی اسے زیادہ سیریئس لینے کی ضرورت نہیں، ہاں بعد میں اگر کچھ ہوا تو دیکھ لیں گے۔ اگر ڈاکٹر جان ہتھیلی پہ رکھ کر میدان میں کھڑے ہیں تو عوام گھروں میں کیوں بیٹھیں، ڈاکٹروں حوصلہ بڑھانے کے لوگ بھی سڑکوں پہ موجود رہیں گے، شاید اسی طرح ان میں سے کسی کو بہادری کا نوبل پرائز ملے گا۔ تاہم اگر حکومت کرفیو لگا دے تو ہو سکتا پھرحالات مختلف ہوں، ورنہ بھرپور جینے کے لئے لوگ شغل میلہ جاری رکھیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *