مثبت خبریں، تبلیغی جماعتیں اور کرونا کا کہرام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہماری قوم مجموعی طور پر بھیڑ چال کا شکار ہے۔ جہاں اندھی تقلید پرستی، مکھی پہ مکھی مارنے کی روش اور ڈھیروں فکری مغالطے ڈیرہ جمائے بیٹھے ہوں وہاں بعض کلیشے، تراکیب اور جملے اس قدر زبان زد خاص و عام ہو جاتے ہیں کہ کچھ عرصے بعد اس قوم و معاشرے کا ٹریڈ مارک بن جاتے ہیں اور سادہ لوح، معصوم اور فہم و فراست سے عاری لوگ بغیر سوچے سمجھے محل و بے محل ان کا پرچار کرتے رہتے ہیں۔ جب ایسے لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ حضورإ ذرا اپنے قول زریں کی وضاحت فرما کر ہم عقل و خرد سے تہی دامنوں کی راہنمائی فرمایے تو آگے سے بے موقع اور لایعنی تقریر کا ایسا طومار باندھتے ہیں کہ مرزا غالب یاد آنے لگتے ہیں جنہوں نے ایسے ہی کسی موقعے پر فرمایا تھا کہ

مدعا عنقا ہے اپنے عالم تقریر کا

مثال کے طور پر آج کل کرونا وائرس کی یلغار کے حوالے سے کچھ مہاتما اور افلاطون زماں بغیر سوچے سمجھے کچھ فقرے انڈیلتے رہتے ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں کثیر تعداد میں لوگ ان باتوں کو سچ سمجھ کر حرز جان بھی بنا لیتے ہیں۔ مثلاً یار! کرونا کی آفت کے دوران میں حکومت اور اس کی پالیسیوں پر تنقید نہ کریں۔ کرونا پر سیاست نہ چمکائیں۔ تفتان کی بد ترین بد انتظامی کو زیر بحث لاکر مذہبی فرقہ واریت نہ پھیلائیں۔ اس دوران میں منفی باتوں سے اجتناب کر کے مثبت اور اچھی خبروں کی تشہیر کریں وغیرہ۔

جہاں تک جنگ، آفت یا وبا کے ہنگام حکومت کی پالیسیوں اور کاموں کو تنقید کا نشانہ نہ بنانے کے بھاشن کا تعلق ہے تو اس حقیقت میں تو کوئی شک نہیں کہ حکومت کے اچھے کاموں کو نہ صرف سرہانا چاہیے بلکہ حتی المقدور دامے درمے سخنے اور قدمے اس کی مدد بھی کرنا چاہیے۔ مگر سوال یہ ہے کہ جب یہی حکومت اور اس کے کل پرزے عین حالت جنگ میں بھی مجرمانہ غفلتوں کا مظاہرہ کریں گے تو محب وطن لوگ اور میڈیا والے اس کی نشاندہی بھی نہیں کریں گے؟

ریاست مدینہ کا لولی پاپ دینے والے کیا یہ تاریخی حقیقت نہیں جانتے کہ خلیفہٕ دوم نے عین حالت جنگ میں تاریخ اسلامی کے سب سے بڑے سپہ سالار اور سیف اللہ کا لقب پانے والے حضرت خالد بن ولید رض کو سپہ سالاری سے معزول کر کے ان کی جگہ حضرت ابو عبیدہ رض کو سپہ سالار مقرر کر دیا تھا اور انہیں حکم دیا تھا کہ اب وہ ایک عام مجاہد کی طرح لڑیں گے؟ وہاں تو کسی نے نہیں کہا کہ جنگ کے ہنگام سالار نہ بدلا جائے۔ دور کیوں جائیں دوسری جنگ عظیم کے عروج کے زمانے میں برطانیہ میں ناقص کارکردگی کی وجہ سے وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد لا کر اس کی جگہ ونسٹن چرچل کو وزارت عظمٰی کے منصب پر فائز کروایا گیا تھا اور پھر چرچل نے اپنی ذہانت، کامیاب حکمت عملی اور خداد قائدانہ صلاحیتوں کے طفیل جنگ جیت لی تھی۔ اس وقت تو کسی افلاطون و ارسطو نے اس اقدام کو ملک دشمنی، غداری اور احمقانہ نہیں کہا۔

جہاں تک تفتان کی بد انتظامی کو تنقید کا نشانہ بنانے یا اس پر سیاست کرنے کے الزام کا تعلق ہے تو کیا دنیا نہیں جانتی کہ پاکستان میں کرونا کا سونامی تفتان کے راستے آیا؟ کیا ہم نہیں جانتے کہ وزیر اعظم کے کھلنڈرے غیرملکی متمول مشیر زلفی بخاری نے اس حوالے سے کتنی خطرناک مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا؟ تفتان کی بد انتظامی، زائرین کو رشوت دے کر چھوڑ دینا، قرنطینہ میں صحتمند اور متاثرین کو ایک ساتھ رکھنا، کھانے پینے اور علاج معالجے کے ناقص انتظامات، ایک باتھ روم میں پچاس بندوں کو گھسانا، غلاظت اور گندگی کے ڈھیر پر زائرین کو بٹھانا اور ایرانی حکومت سے اس مسئلے پر برائے نام مذاکرات بھی نہ کرنا; کیا یہ سب کچھ اپوزیشن یا میڈیا کے کہنے پر کیا گیا تھا؟ آپ بائیس کروڑ انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال دیں تو یہ سیاست نہیں ہے اور ہم آپ کی مجرمانہ غفلتوں پر انگلی اٹھائیں تو یہ سیاست ہے؟

چھ ماہ تک مثبت خبریں دینے کا نادری حکم طاقت کے سرچشموں کی طرف سے سال سوا سال قبل آیا تھا جس کے جواب میں یار لوگوں نے شدید منفی خبروں اور واقعات پر بھی جھوٹ و مصلحت کی ملمع کاری کر کے عوام تک پہنچانا شروع کر دیا تھا۔ یہ سلسلہ چھ ماہ کے بجائے سال بھر جاری رہا مگر جب حکومت کے نگار خانے سے ایک بھی اچھی خبر نہ آئے تو خان اور ”خان اعظم“ کے پسندیدہ ترین صحافی بھی کب تک کھلے جھوٹ کا چورن بیچیں۔ سو جب میڈیا نے یو ٹرن لے کر حکومت کو آئینہ دکھانا شروع کیا تو اس کی چیخیں نکلنے لگیں۔

آج کل پھر ملک کے ہمدردوں اور خیر خواہوں بلکہ خدائی فوجداروں کو مثبت خبروں کے دورے پڑ رہے ہیں تاکہ عوام ”دیانتدار“ حکمران کے ساتھ مل کر کرونا وائرس کا مقابلہ کر سکیں۔ یقیناً ہم بھی ایسا ہی چاہتے ہیں لیکن آپ ہی انصاف سے بتایے کہ جہاں دیانتدار حکمرانوں اور اس کے بے تدبیر وزیروں مشیروں کی ایما پر تفتان کی بد انتظامی کے بعد تبلیغی جماعت کی سرگرمیوں سے ملک بھر کرونا کا چھڑکا ٶ کیا جارہا ہو اور ملک کا ”دیانتدار“ حکمران اسی جماعت کے سرخیل سے میڈیا پر اپنے حق میں رقت آمیز دعاٶں کا میلہ لگائے تو اس مجرمانہ اور سفاکانہ غفلت کے مظاہرے پر مثبت خبریں کیسے دی جاسکتی ہیں۔ کپتان صاحب فرماتے ہیں کہ ہم نے پندرہ جنوری سے کرونا وائرس کے خلاف اقدامات شروع کر دیے تھے۔ یہی وہ اقدامات تھے کہ آپ دو ماہ میں پوری دنیا سے دین کی دعوت کے نام پر آئے مبلغین اور واعظین کا کا انتظام نہیں کر سکے جو اپنے ساتھ کرونا بم باندھے قریہ قریہ شہر شہر موت بانٹتے رہے۔

غریبوں، لاچاروں اور کمزوروں کو تو احتیاط نہ کرنے پر آپ سر عام ڈنڈے مار کر مرغا بنا کر انسانیت کی تذلیل کر کے قانون کی رٹ قائم کرتے ہیں مگر زلفی بخاری، علی زیدی، ماریہ اور اس کے خاوند جیسوں کو کرونا وبا کے پھیلاٶ کے باوجود سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں اور جب کوئی ڈاکٹر دانش آپ کے چہیتوں کا نام لیتا ہے تو آپ اسے نوکری سے نکلوا دیتے ہیں اور اس پر زعم یہ کہ ہمارا میڈیا مغربی میڈیا سے بھی زیادہ آزاد ہے۔

ہمارا یہ ایمان ہے کہ کرونا کی طوفانی یلغار کے ہنگام حکومت اور اس کی مجرمانہ غفلتوں پر پردہ ڈالنا ہر گز حب الوطنی نہیں بلکہ یہ اقدام انتہائی درجہ کی پیشہ ورانہ بد دیانتی ہے جس کی وجہ سے ملک کے مقتل بن جانے کا شدید خطرہ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *