پاکستان میں ایک دن میں پچاس ہزاراسپتال بنائے جا سکتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملک میں صورت حالات بالکل بگڑ جائے، اسپتال کم پڑجائیں، ڈاکٹر کم پڑجائیں، پھر کیا ہو گا؟ اور ایسے میں بڑی سطح پر کرونا مریض ہر گاؤں، شہر میں بڑھنے لگیں تو ان کو کہاں لے جایا جائے گا؟ آخر کرونا مریض کو کہاں لے کر جایا جائے گا؟ اس سوال نے اوسان خطا کیے ہوئے ہیں۔ کیونکہ ہم نے دیکھا ہے کہ یورپ اور امریکا کا بیسٹ میڈیکل سسٹم پورا نہیں پڑ رہا پھر ہم کس کھیت کی مولی ہیں کہ جو ایک ایکسیڈنٹ کے کیسز کو سنبھال نہیں سکتے، ہزاروں، بلکہ خدا نخواستہ لاکھوں خطرناک مریضوں کو کیسے سنبھالیں گے؟ ہمارے اسپتال تو پورے نہیں پڑیں گے، بلکہ دنیا میں کسی بھی ملک کے اسپتال ایک ساتھ لاکھوں لوگوں کے لئے کافی نہیں پڑتے

میرے خیال میں عوام کو اس سلسلے میں خود ہی تیاری کر لینی چاہیے۔ ایسے میں ہم گاؤں کی سطع پر ایک دن کے اندر ہزاروں بیسک ہیلتھ یونٹ اپنی مدد آپ کے تحت بنا سکتے ہیں۔ دیہاتی زندگی گزارنے والے ہر شخص کو پتہ ہے کہ ہر گاؤں میں ایک سے زیادہ بڑے کھلے، بیٹھک، اوطاق، حجرے ہوتے ہیں، گھروں سے ہٹ کر، الگ تھلگ، وہاں ویسے ہی شام کو کچہری لگتی ہے، سو سو لوگ آکر بیٹھتے ہیں۔ ان حجروں، اوطاقوں، بیٹھکوں کو کچھہ مہینے کے لئے گاؤں والے اپنے لئے ہی اسپتال میں تبدیل کر دیں۔ اگر خدا نخواستہ حالات بگڑ جائیں تو یہ ان کے اپنے اسپتال بہت کام آئیں گے۔

ہر بیٹھک میں مناسب فاصلے پر، چالیس، پچاس یا جتنی جس اوطاق کی گنجائش ہو چارپائیاں لگا دی جائیں، چارپائیوں کی گاؤں میں کمی نہیں ہوتی۔ ہر چارپائی پر مچھردانی لگا کر، ڈرپ ٹانگنے کے لئے ایک لکڑی اوپر پاوے کے ساتھ باندھ دی جائے۔ کچرے کے لئے ہر چارپائی کے ساتھہ ڈبہ رکھیں، بستر، گاؤں کے لوگوں کے پاس بہت ہوتے ہیں، وہ مریضوں کے استعمال میں لاکر بعد میں سپرد آتش کر دیے جایئں۔

ان اسپتالوں کے لئے گاؤں میں ایک ڈاکٹر اگر ہے تو ایمرجنسی میں کافی ہوگا۔ اس کی مدد کے لئے، لیڈی ہیلتھ ورکر، کمپاؤنڈر سے مدد لی جا سکتی ہے، عطائی ڈاکٹروں سے بھی کمپاؤنڈر کا کام لیا جا سکتا ہے۔ گاؤں کے ڈاکٹر اور دیگر اسٹاف کو کرونا مریض سے ڈیل کرنے، کون سی سپورٹنگ دوائیاں دینی ہیں؟ مریض کو کیسے رکھنا ہے، اور دیگر بنیادی معلومات آن لائن دے کر ایک دن میں تربیت یافتہ بنایا جا سکتا ہے، ایسے اسپتال حکومت کے لئے بھی بہت مددگار ثابت ہوں گے کہ صرف ایک ڈاکٹر اور کچھ میڈیسن بھیج کر، گاؤں میں موجود ہیلتھ ورکر، کمپاؤنڈر اور رضاکاروں کی مدد سے پورا گاؤں کور کیا جا سکتا ہے، ویسے بھی ہمارے ملک میں سرکاری اسپتالوں میں اس سے زیادہ مریض کے لئے کیا ہوتا ہے؟

ہو سکے تو اسپتال قائم کرنے والی گاؤں کی پنچائت، ایمرجنسی دواؤں، ڈرپس، انجیکشنس، کا تھوڑا اسٹاک کر دے۔ مجھے یقین ہے، بنیادی صحت مرکز آپ کے پاس اپنا ہوگا تو، حکومت باقی مدد ضرور کرے گی۔ ظاہر ہے، وینٹیلیٹر تو اس وقت ہر مریض کو ملیں گے نہیں۔ اگر گاؤں کے لوگ اپنے گاؤں میں صرف چند مہینے کے لئے ایسے اسپتال بنا کر اپنے گاؤں کو کرونا میں سنبھالتے ہیں تو یہ اپنی، اپنے پیاروں کی بہت بڑی مدد ہوگی اور حکومت کے لئے بھی بڑی مدد ہوگی۔ ورنہ سرکاری اسپتال اس آفت میں بالکل بھی کافی نہیں ہیں۔

۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *