کرونا وائرس : ابلیس کے ہاتھوں میں ہے دنیا کی حکومت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا بھر میں کرونا وائرس کی تباہ کاریاں جاری ہیں۔ پاکستان میں کرونا سے متاثرین کی تعداد نو سو سے تجاوز کرچکی ہے جب کہ کرونا سے مشتبہ متاثر افراد کی تعدادساڑھے ساتھ ہزار سے زائد ہوچکی ہے اور سات افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ وزیراعظم نے مکمل لاک ڈاؤن کی مخالفت میں جو دلائل دیے ہیں وہ قابلِ فہم ہیں، لیکن ہمارے یہاں یہ دستور تنقید برائے تنقید کا ہے لہذا مخالفین نے ان دلائل کو بھی رد کرکے تنقید کا نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔

یہ درست ہے کہ عمران خان نے مکمل لاک ڈاؤن کی مخالفت کی ہے لیکن صوبائی حکومتوں نے لاک ڈاؤن کو نافذ کیا ہے۔ اگر وفاق اس لاک ڈاؤن کے نفاذ میں رکاوٹ ڈالتا تو صوبائی خودمختاری اور وفاق کی اجارہ داری کی ایک نئی بحث بھی شروع ہوجاتی جس کا ملک اس وقت متحمل نہیں ہوسکتا ہے۔ حوصلہ افزاء بات یہ ہے کہ اس صورتحال میں حزبِ اختلاف حکومت کا دست و بازو بننے کے لیے تیا ر ہے خدا کرے کہ عمران خان کے مشیربھی سیاسی فہم کا مظاہرہ کریں اور عمران خان کو اس موقع پر حزبِ اختلاف کے ساتھ کسی قسم کی محاذ آرائی کے لئے نہ اُکسائیں جیسا کہ وہ تحریک انصاف کی حکومت دوران کرتے چلے آرہے ہیں۔ نامساعد معاشی حالات میں حکومت نے امدادی پیکج کا اعلان کیا ہے جو خوش آئیند ہے۔ وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ ہمیں زیادہ خطر ہ کرونا سے نہیں بلکہ اس بدنظمی اور افراتفری کی کیفیت سے ہے جو ملک میں دیکھی جارہی ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں عوام سے اپیل پر اپیل کررہی ہیں کہ خدا را! گھروں میں رہیں لیکن

عوام کی جانب سے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا جارہا ہے۔ لیکن بہر حال ایک خوف کا عالم بھی ہے، خاص کر وہ افراد جن کی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں عوامی معاملات سے ہیں وہ انتہائی خوف اور ڈر کا شکار ہیں، اُسی طرح جس طرح آج سے دس بارہ سال قبل جب ملک میں خودکش حملوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ تھا تو دفاتر اور خاص کر سرکاری دفاتر پر متعین سیکورٹی کا عملہ بھی خوف اور ڈر کا شکار تھا۔ خوف کے عالم کا یہ حال ہے کہ راقم کی اسلام آباد کے جس علاقے میں رہائش ہے اس علاقے کے چھوٹے کلینک اور اسپتال بند ہوگئے ہیں، اس سے ان سینکڑوں مریضوں کو سخت پریشانی ہوگی جو بلڈ پریشر اور شوگر کی سطح بڑھنے یا کم ہونے اور دیگر بیماریوں کے سبب ان دواخانوں کا رخ کیا کرتے تھے۔

خوف کی صورتحال پیدا کرنے میں سب سے بڑا کردار سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کا ہے۔ سوشل میڈیا پر کسی فلم کے اس منظر کو جس میں درجنوں لوگوں کے سڑک پر گرے نظر آتے ہیں یہ کہہ کر پھیلایا جارہا ہے کہ یہ کرونا کے ہلاک شدگان ہیں۔ لوگوں کو یہ بتایا جارہا ہے کہ کرونا سے فوت ہونے والوں کو کفن کی بجائے پلاسٹک میں لپیٹ کر دفنایا جائے گا، جنازے میں قریبی عزیز بھی شریک نہیں ہوں گے، وغیرہ وغیرہ۔ الیکٹرانک میڈیا پر ہر گھنٹے بعد ملک ملک کی صورتحال اس طرح بتائی جارہی ہے کہ کرونا وائرس کے اتنے مریض شکار ہوئے، اتنے ہلاک ہوئے اور اتنے صحت یاب ہوئے۔

یہ نہیں بتایا جارہا ہے کہ جو لوگ صحت یاب ہوئے ہیں انھیں کون سی ادویات اور کس طرح کی خوراک دی گئی، یہ بھی نہیں بتایا جارہا ہے کہ جو لوگ زیر علاج ہیں ان میں سے کتنوں کی حالت بہتر، زیادہ بہتر یا کم خراب یا زیادہ خراب ہے۔ اسی طرح کرونا سے بچاؤ کی حفاظتی تدابیر بتائی جارہی ہیں لیکن یہ نہیں بتایا جارہا کہ اس کا شکار ہونے والے کو ابتدائی طبی امداد میں کیا ادویات اور خوراک دی جانی چاہیے۔

اب کرونا وائرس کے حوالے سے بائیں بازو کے معاشی اور سیاسی نقطہ نظر اور تجزیوں کو دیکھا جائے توایک اور قسم کی صورتحال سامنے آتی ہے۔ بائیں بازو کے دو سکہ بند دانشوروں اور رہنماؤں کے تجزیوں کا خلاصہ پیش کروں تو پاکستان مزدور محاذ کے سیکرٹری جنرل شوکت چودھری بتاتے ہیں کہ جب بھی کسی وائرس کی تباہ کاریوں نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے اس کی ویکسین بنانے والی ادویات کی کمپنیوں نے کھربوں ڈالر کمائے اور پسماندہ ممالک کی پس ماندگی کو برقرار رکھتے ہوئے آج بھی اربوں ڈالر کما رہے ہیں۔

پوری دنیا کے عوام کا دھیان اس طرف لگا کر کہ اس وائرس کو امریکہ نے چین کی معیشت کو سبوتاژ کرنے کے لیے بنایا ہے، ملٹی نیشنل کمپنیوں کے بھیانک کردار پر پردہ ڈالا جارہا ہے۔ ایک کھیل ملٹی نیشنل کمپنیوں کا بھی ہے، جن کا گلوبل کیپیٹل پر قبضہ ہے، اور چین، روس، یورپ اور امریکہ کی سب کمپنیاں ساجھے دار ہیں۔ آج ساڑھے سات ارب کی آبادی میں ساڑھے پندرہ ہزار افراد کا سوگ منانے والی کمپیناں دو عالمی جنگوں میں کروڑوں انسانوں کے ہونے والے خون سے خود کو کیسے مبرا کرسکتی ہیں۔

موجودہ صورتحال نے دنیا کے وسائل پر قابض ساہوکار طبقے کا ایک بار پھر کھلا میدان فراہم کردیا ہے وہ جس انداز میں چاہے پیداوار سے لے کر محنت کار کی اجرتوں اور سہولیات کو طے کرے۔ محنت کش طبقے کو اس صورتحال سے جو نقصان پہنچا ہے اور مستقل میں پہنچے گا اس کی وجہ سے یہ طبقہ پھر بے نظمی کا شکار ہوجائے گا۔ لیکن اس کے باوجود عالمی قبضے کی خواہش لیے ہوئے یہ سرمایہ دار اپنی فاضل پیداوار کے بدترین بحرانوں پر قابو پانے میں ناکام رہیں گے جیسا کہ ماضی میں بھی رہے ہیں اور یہ مارکیٹ اکانومی کی ناکامی ہی ہے کہ دنیا بھر کے عوام اور محنت کشوں کی اکثریت سوشلسٹ اکانومی پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے۔

عوامی ورکرز پارٹی کے رہنما محمد حنیف گورایہ ہمیں بتاتے ہیں کہ سرمایہ داری کا عالمی نظام اپنی ڈوبتی کشتی کو بچانے کے لیے ہردس سے پندرہ سال کے بعد ایک ایسا مسئلہ کھڑا کرتا ہے جس سے دنیا کی توجہ سرمایہ دارانہ نظام کی تباہ کاریوں سے ہٹ کر دوسری جانب متوجہ ہوجائے۔ وہ نائن الیون کے بعد افغانستان پر حملہ ہو، کمیائی ہتھیاروں کے نام پر عراق میں جارحیت ہو، مشرق وسطی میں انارکی پھیلا کر وہاں کے وسائل کولوٹنا ہو، مصر اور لیبیا کی حکومتوں کے خلاف بغاوت کروانی ہو، برازیل میں منتخب حکومت کے خلاف بغاوت ہو، شام میں خانہ جنگی کروا کر دس لاکھ سے زائد عوام کا قتل عام ہو اور دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کے نام پر دنیا کے ممالک کو کھربوں ڈالر کا اسلحہ بیچنا ہو، یہ سب ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔

اسی طرح اب امریکہ سامراج نے کرونا وائرس کا ایشو کھڑا کرکے پوری دنیا کے ممالک اور میڈیا کو اس طرف لگا دیا ہے اور 53 بلین ڈالر کی امداد کا اعلان بھی کردیا ہے جو مختلف ممالک کو دی جائے گی۔ اس ضمن میں پاکستان کو بھی سات ارب ڈالر کی خطیر رقم ملنے کی توقع ہے۔ گورایہ صاحب کی رائے ہے کہ امریکہ نے وبائی دہشت گردی کی اصطلاح ایک نئے عالمی سرمایہ داری آڈر کی تیاری ہے اس میں جنوبی ایشائی ممالک کی معیشتوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانا لگتا ہے۔

ایسی صورتحال میں خلقِ خدا، گڑگڑا کرجاوید غامدی صاحب کے ان اشعار کے الفاظ میں اپنے پروردگار سے سراپا التماس ہے کہ:

دنیا کہ سیاست میں کوئی حق ہے نہ باطل

ہر چیز یہاں معرکہء سود و زیاں ہے

افسوس کے پژمردہ ہے انصاف کا چہرہ

اور ظلم کو دیکھیں تو وہ پہلے سے جواں ہے

ابلیس کے ہاتھوں میں ہے دنیا کی حکومت

یہ تیرا جہاں ہے تو خدایا، تو کہاں ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *