آفتوں کی زد میں آئی قوم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کورونا سے قبل کبھی کوئی مسئلہ نہیں تھا اور کورونا کے بعد کوئی مسئلہ نہیں ر ہے گا، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے، ملک کے تمام صوبے مسائل کا گڑھ بنے ہوئے ہیں۔ اس وقت وفاق سمیت تمام صوبائی حکومتیں کورونا کے نام پر سب سے زیادہ متحرک ہیں اور انہوں نے مل کر بڑی کامیابی سے کورونا کی آڑ میں دیگر مسائل کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ کورونا کے نام پر صوبائی حکومتوں کی چلت پھرت کے نتیجے میں یہ سارے مسائل کہیں غائب تو نہیں ہوئے، البتہ ان کی شدت مزید بڑھ گئی ہے۔

اس وقت عام آدمی دو طرح کی مشکل میں پھنسا ہوا ہے، ایک طرف لاک ڈاؤن نے عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی مشکل کر دی ہے تو دوسری طرف کو رونا کے خوف نے زندگی مشکل بنا دی ہے۔ ایسے میں حکومت کا فرض ہے کہ وہ عام آدمی کی مشکلات میں کمی کو یقینی بنائے، اس حوالے سیسب سے پہلے پرائیویٹ ملازمین کے روزگار کو تحفظ دینے کے لیے اقدمات کرنے چاہیے۔ حکومت کو فوری طور پر ایک قانون بنانا چاہیے جس میں کسی کو بھی کورونا اَفت کے دوران نوکری سے نکالنے پر پابندی ہونی چاہیے۔

اگر کوئی تنخواہ نہیں دے سکتا تو اس کو حکومت سے مدد لینی چاہیے، لیکن ملازم کو نوکری سے نکالنے پر پابندی ہونی چاہیے، اس موقع پربھارت نے دیہاڑی دار لوگوں کے لیے پیکیج کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان میں بھی ایسے ہی پیکیج کا اعلان ہونا چاہیے۔ پوری دنیا میں حکومتیں اپنی عوام کی مدد کر رہی ہیں، تحریک انصاف حکومت کو بھی معاشی بحران کا رونا رونے کے بجائے عام آدمی کی مدد کے اعلانات پر عمل در آمد کو یقینی بنا نا چاہیے، تاکہ آفتوں کی زد میں آئی عوام کو کچھ تو رلیف مل سکے۔

اس میں شک نہیں کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں اپنے اپنے دائرہ کار میں کورونا پر قابو پانے اور عوام کی زندگیاں بچانے کے لئے سرگرم عمل ہیں، لیکن عوام کے عملی تعاون کے بغیر یہ کام اتنا آسان نہیں ہے، اسی لئے لوگوں پر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے لئے بار بار زور دیا جا رہا ہے، اسپتالوں اور قرنطینہ مراکز کا عملہ مریضوں کے علاج کے لئے ہر وقت تیاری کی حالت میں ہے، اپوزیشن پارٹیاں پورے ملک میں لاک ڈاؤن پر زور دے رہی ہیں، جبکہ وزیراعظم اس سے بوجوہ گریز کر رہے ہیں، کیو نکہ مسئلہ لاک ڈاؤن کا نہیں، بلکہ مسئلہ لاک ڈاؤن کے بعد حالات خراب ہو نے کا ہے۔

اس لیے وفاق اور صوبوں میں کو ئی مشترکہ حکمت عملی وضع نہیں ہو رہی ہے، اس کے باوجود سندھ اور پنجاب میں لاک ڈاؤن شروع کر دیا گیا ہے، دیگردو صوبوں میں بھی لاک ڈاؤن کی کیفیت ہے۔ لاک ڈاؤن کے نتیجے میں سب سے زیادہ اثر روز مرہ محنت مزدوری کرنے والوں اور کم تنخواہ پانے والوں پر پڑے گا۔ چھوٹے دُکاندار، دھاڑی دار اور مارکیٹوں میں کام کرنے والے کارکن بری طرح متاثر ہوں گے، وفاقی حکومت ایسے ہی لوگوں کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک بھر میں لاک ڈاؤن کرنے سے گریز کررہی تھی، تاہم صوبائی حکومتوں نے لاک ڈاؤن میں خیال رکھا ہے کہ غریب کم وسیلہ اور دیہاڑی دار افراد کے لئے مشکلات پیدا نہ ہوں، اس صورت حال کا تقاضا ہے کہ حکومت کی طرح عوام بھی سنجیدگی، ذمہ داری اور دانشمندی کا مظارہ کرتے ہوئے غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرے، تاکہ لاک ڈاؤن کے مروجہ نتائج حاصل کیے جاسکیں۔

اس سے قطع نظر کہ لاک ڈاؤن کے نتائج کتنے حوصلہ افزا سامنے آتے ہیں، وزیر اعظم عمران خان کا موقف اپنی جگہ درست ہے کہ کورونا کے بجائے گھبراہٹ اور افرا تفری سے خطرہ زیادہ ہے، لیکن وزیر اعظم کو دیکھنا چاہیے کہ گھبراہٹ اور افرا تفری کون پھیلا رہا ہے، حکومت کو میڈیاتنقید پر تو اعتراض ہے، لیکن کتنے کروڑ متاثر ہوں گے اور کتنے لاکھ مریں گے، تجزیہ کرنے والوں کوپیمرا روکنے میں ناکام نظر آتاہے۔ حکومت کوکورونا کے مریضوں اور مرض کو پھیلنے سے روکنے کا کام جو پہلے کرنا چاہیے تھا، وہ بہت وقت گزرنے کے بعد میں کیا جا رہا ہے۔

حکو مت کاسب سے پہلا کام پروازوں اور سرحدوں کی بندش تھا، لیکن حکومت نہیں کر سکی، اس کے بعد معیاری اور حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق آئسو لیشن سینٹر یا قرنطینہ نہیں بنائے جاسکے۔ اگر پہلے ہی مرحلے میں بہتر حکمت عملی سے موثر اقدامات کو یقینی بنا جاتا تو لاک ڈاؤن یا کرفیو کی نوبت نہیں آنی تھی، لیکن ا ب الزام اور جوابی الزام کا کھیل ختم کر کے وفاقی حکومت کو اپنا حقیقی رول ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ وفاقی حکومت کوتمام صوبوں کے اعلی عہدیدارین کو ایک جگہ جمع کر کے اس معاملے کو قومی سطح پر مشترکہ اتفاق رائے کے ذریعے حل کرنا چاہیے۔ کرونا وائرس سے بچاؤ کا بہترین حل یہی ہے کہ خود بھی احتیاط کی جائے اور عوام کو بھی احتیاط پر مجبور کیا جائے، لیکن حکمران تو مشترکہ حکمت عملی کے دعوؤں کے ساتھ آپس میں لڑ رہے ہیں۔

یہ وقت حکومت گرانے اور اپنی حکومت بنانے کی سازشیں کرنے کا نہیں اور نہ ہی کورونا پر سیاسی پو ائنٹ سکورنگ کا ہے، اس وقت کرونا وائرس کے مسئلے پر پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن ) سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو سیاسی پوائنٹ سکورنگ چھوڑ کر اس عالمی وبا سے نمٹنے کے لیے حکومت کا ساتھ دینا چاہیے۔ میاں شہباز شریف وطن واپس آئے ہیں تو بلاول بھٹو کی طرح انہیں بھی حکومت پر بے جاتنقید نہ کرنے کا اعلان کرنا چاہیے، کیونکہ سیاسی بیان بازی سے ناصرف ماحول خراب ہونے کا اندیشہ ہے، بلکہ منفی بیانات سے عوام میں بھی مایوسی پھیلتی ہے۔

میاں شہباز شریف کو چاہیے کہ وہ اپنی جماعت کے دیگر قائدین کو بھی ہدایات جاری کریں کہ غلطیوں کی نشاندہی اصلاح کے لیے کی جائے، تاکہ اس سارے عمل میں حکومت پر اپوزیشن کا حقیقی دباؤ برقرار رہے کہ اگر انہوں نے کوتاہی کا مظاہرہ کیا تو ایک متحرک اور باخبر حزب اختلاف انہیں معاف نہیں کرے گی۔ حزب اختلاف کے قائد میاں شہباز شریف کی موجودگی میں یہ کام بہتر طور پر ہو سکتا ہے۔ حکومت پر حزب اختلاف کا دباؤرہنے سے کرونا کے خلاف بہتر اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں۔ ملک میں لاک ڈاؤن ایک مشکل فیصلہ ہے، یہ محض دکھاؤئے کے لئے نہیں، بلکہ اس کے حوصلہ افزا نتائج بھی آنے چاہئیں، اگرحکومت اور اپوزیشن نے واقعی ذمہ دارانہ طرز عمل کا مظاہرہ کیا تو آفتوں کی زد میں آئی قوم بہت جلد وبائی حملوں سے بچ کر دوبارہ معمول کی زندگی گزارنے کے قابل ہو جائے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *