آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہتے ہیں کہ ہوس کا کوئی اختتام نہیں، چاہے وہ دولت کی ہو، شہرت کی، یا طاقت و اقتدار کی۔ موجودہ حالات میں دنیا کے کئی ممالک وائرس سے پیدا ہونے والی وبا سے نبرد آزما ہیں۔ ایک مسلسل پریشانی کا دور جار ی ہے اور مصیبت یہ ہے کہ اس کا کوئی علاج نہیں۔ چین کا الزام ہے کہ امریکہ کے ساتھ فوجی مشقوں سے وہاں یہ وائرس شروع ہوا۔ یہ الزام کہاں تک درست ہے، اس کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ تو یقینا نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ امریکہ اور امریکی صدر کی قوت و طاقت اور اقتدار و حکومت کی خواہش (یا ہوس) ایک ناقابلِ تردید اور مسلمہ حقیقت ہے۔

وائرس کی وبا سے چین اور ساتھ ساتھ پاکستان اور ایران کی معیشت کو بھی خاصا ضرر پہنچ چکا ہے۔ ظاہر ہے امریکہ ان تینوں میں سے کسی بھی ملک سے خوش نہیں اور نہ ہو سکتا ہے۔ بالخصوص پاک چین دوستی اور تعاون، سی پیک، اور گوادر پورٹ امریکہ کو کہاں برداشت ہو سکتی ہے؟ سی پیک سے پاک چین تعاون کی نئی راہوں کا کھلنا، اس سے خاص طور پر پاکستان کی معیشت پر بھی مرتب ہونے والے اچھے اثرات، اور اب چین کا بین الاقوامی بیلٹ روڈ منصوبہ، امریکہ یہ سب کہاں چاہے گا؟

اگر اس الزام کو درست تسلیم کر لیا جائے کہ امریکہ نے فوجی مشقوں کی آڑ میں چین کو معاشی طور پر مفلوج کرنے والا تباہ کن وائرس چین میں چھوڑا، تو یہ اتنا غلط بھی نہ ہو گا۔ یہ بات شک و شبہہ سے بالاتر ہے کہ جدید ٹیکنالوجی سے مزین امریکی تجربہ گاہوں میں ایسے حیاتیاتی ہتھیار (Biological Weapons) تیار کیے جاتے ہیں جنہیں حریف ممالک کو ”مزہ چکھانے اور راہِ راست پہ لانے“ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اندرونی کہانیوں سے قطع نظر، ظاہری حالات تو چین کے الزام کو درست ثابت کر رہے ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ چین سے سب سے زیادہ مسئلہ امریکہ کو ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اقتدار سنبھالتے ہی جو اقدامات اور اعلانات کیے تھے، ان سے ظاہر ہو گیا تھا کہ وہ کس طرح کی خارجہ پالیسی چاہتے تھے اور حلیف و حریف ممالک کے لئے ان کے ارادے کیا تھے۔ گذشتہ چند سالوں میں چین جس طرح عالمگیر معاشی طاقت بن کر ابھر ا ہے، اس سے یقینا امریکہ خائف ہے اور کسی صورت اسے آگے نکلتا نہیں دیکھ سکتا۔ اور بات صرف امریکہ تک ہی محدود نہیں، بڑے مغربی ممالک بھی چین کو اپنے لئے ایک خطرہ تصور کرتے ہیں۔

چین اور امریکہ میں فرق یہ ہے کہ امریکہ طاقت اور ہتھیار کے زور پر اپنا تسلط چاہتا ہے۔ عراق، ایران، اور افغانستان امریکی طاقت کے استعمال کی مثالیں ہیں۔ جبکہ چین معاشی محاذ پر فتح کا خواہشمند ہے۔ اگرچہ چین کی معاشی قوت سے بھی کئی ممالک خائف ہیں اور ان کی معیشتوں کو اس سے خطرہ لاحق ہے، لیکن معاشی میدان میں جو مقابلہ اور مسابقت درپیش ہوتی ہے، وہ کئی ممالک کو مثبت طور پر آگے بڑھانے کا باعث بنتی ہے۔ ایک طاغوتی طاقت کسی بھی سطح پر قابلِ قبول نہیں کیونکہ دنیا کے امن و سلامتی کو خطرہ ہوتا ہے، جبکہ معاشی قوت کا حصول اس وقت ہر ملک و قوم کی اولین ترجیح ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشی قوت کا ساتھ دینے او ر ساتھ حاصل کرنے میں کسی ملک و قوم کو عذر نہ ہو گا جب تک اس کے اپنے مفادات محفوظ رہیں۔ مگر ایک سامراجی اور طاغوتی طاقت کا ساتھ وہی ملک و قوم دے سکتا ہے جو یا تو مجبور و بے بس اور کمزور ہو یا اس کا اپنا ایجنڈا ہتھیار کے زور پر حکمرانی کرنا ہو۔

موجودہ دور میں جنگ روایتی طرز پر ہتھیاروں سے نہیں لڑی جائے گی، سوائے جغرافیائی سرحدوں کے یا جہاں کسی ملک کو physical نقصان پہنچانے کی ضرورت ہو۔ اب وہ دور ہے کہ کسی قوم کو نظریاتی اور معاشی سطح پر ضرب لگائی جائے کہ اس کی بقا مشکل ہو جائے۔ جب کسی ملک و قوم کی بقا اور وجود خطر ے میں پڑ جائے تو وہ کسی اور کے لئے خطرے کا باعث نہیں رہتا۔ چین کی بڑھتی ہوئی معیشت کو اب کچھ عرصے کے لئے ہی سہی لیکن بریک ضرور لگ گیا ہے۔ اگرچہ چین جیسی قوم کو ابھرنے سے روکنا زیادہ دیر تک ممکن نہیں۔

اگر یہ حقیقت ہے کہ کرونا وائرس امریکی تجربہ گاہوں میں تیار ہوا اور چین کی بڑھتی ہوئی معیشت کے آگے بند باندھنا ہی اس کا مقصد تھا تو یہ مقصد حاصل ہو گیا۔ اس وقت پاکستان سمیت دنیا کے تقریباً تمام ممالک نے چین سے تجارت اور کسی بھی طرح کی مصنوعات خریدنے پر پابندی لگا ر کھی ہے۔ لیکن امریکہ اس مصیبت کا کیا کرے گا جو اس کے اپنے گھر میں داخل ہو چکی ہے۔ اطلاعات کے مطابق سینکڑوں امریکیو ں میں کرونا وائرس کی رپورٹ پازیٹو ہے۔

ایک عالمی طاقت ہونے کے باوجود وہاں فیس ماسک، وینٹی لیٹرز، ٹیسٹ کٹس، اور دیگر طبی ضروریات کی کمی واقع ہو چکی ہے۔ وہاں کا طبی عملہ اور ڈاکٹرز پریشان ہیں کیونکہ ان کی اپنی صحت اور زند گی اس وقت خطرے میں ہے۔ امریکہ بہادر نے دشمن کو ختم کرنے کے لئے تمام دنیا کو مصیبت میں مبتلا کر دیا لیکن اب تو اس کی اپنی سلامتی کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ چونکہ وہ بھی اسی دنیا اور سیارے کا حصہ ہے تو خود کیسے بچ سکتا ہے؟ حریف کا سر کچلنے کے چکر میں بات خود اپنے سر تک آن پہنچی۔ گویا ”آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا“۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *