حکومت کرونا کے بارے میں عوام کو سچ بتائے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک عرصہ طب سے وابستہ رہنے کے سبب بتا سکتا ہوں کہ بہت حد تک موت کا باعث بننے والی مرض کی تشخیص ہونے کے بعد مریض کو آگاہ کیے جانے سے متعلق دو مکتب ہائے فکر ہیں۔ ایک پرانا مکتب ہے جس میں مریض کے اقرباء کو حقیقت بتا دی جاتی مگر مریض کو یہی کہا جاتا کہ کوشش کر رہے ہیں، ٹھیک ہو جائیں گے۔ یوں مریض خوش فہمی میں مبتلا رہتے ہوئے اس جہان سے چلا جاتا ہے۔

ایک نسبتاً نیا مکتب ہے جو مریض کو ہی مرض کے مہلک ہونے سے متعلق آگاہ کرنے کو مقدم جانتا ہے تاکہ وہ خود کو جو ہونا ہے اس کے لیے تیار کرے، ساتھ ہی اگر اسے کوئی ضروری کام سرانجام دینے ہیں، کوئی وصیت نصیحت کرنی ہے یا کوئی خواہش پوری کرنی ہے وہ کرلے اور حقیقت کو حقیقت جان کر اس کا سامنا کرے۔

پہلا مکتب آج سے پہلے کے جاگیردارانہ سماج کا امین تھا جس میں وضعداری، بھائی بندی، مشترکہ خاندان وغیرہ ہوا کرتے تھے، اپنوں کے دکھ لے لینے کو انسانیت اور اپنے سگے کو تکلیف سے بچانے کو اپنا فریضہ خیال کیا کرتے تھے۔

گذشتہ کئی دہائیوں سے تقریباً تمام ہی ملکوں میں سرمایہ دارانہ سماج جسے آپ چاہیں تو مادہ پرستی میں مبتلا سماج بھی کہہ لیں، گھر کر گیا ہے۔ اس سماج میں آپ کو اپنے دکھ آپ سہنے ہوتے ہیں۔ اپنی مشکلات کا بھی خود سامنا کرنا ہوتا ہے۔ مشترکہ خاندان یا تو تمام ہوئے یا ان کی چولیں ہل گئیں۔ صنعتی سماج میں ہر شخص مصروف ہوتا ہے چنانچہ ہر شخص اپنی صحت کا خیال بھی آپ رکھتا ہے۔ ڈاکٹر کے پاس جانا ہو، لیب ٹیسٹ کروانے ہوں، ہسپتال میں داخل ہونا ہو، سب اکیلا کرتا ہے۔ اس لیے کسی بھی شخص کی مہلک مرض سے متعلق ڈاکٹر اس شخص کو ہی آگاہ کرتے ہیں، ماسوائے بچوں کے جن کے والدین کو بتایا جاتا ہے۔

سچ بتانے اور ڈرانے میں فرق ہوتا ہے۔ سچ بتانے سے عارضی طور پر انسان کا حوصلہ کم ہوتا ہے مگر وہ بتدریج حقیقی حالت کا مقابلہ کرنے کی خاطر خود کو رضامند کر لیتا ہے جب کہ ڈرانے سے انسان کا حوصلہ یک لخت پست ہو جاتا ہے جس کو وہ بلند کرنے میں اکثر ناکام رہتا ہے۔

اس انفرادی مثال کے بعد یہ بھی بتانا ہوگا کہ اجتماعی مصائب سے آگاہی کے بھی یہی دو انداز ہیں یعنی یا تو آپ معاملات کو لوگوں سے مکمل طور پر یا کسی حد تک چھپائیں یا انہیں صاف صاف بتا دیں کہ کیا معاملہ ہے۔

ایک انداز نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کا ہے جو اپنے ملک کے عوام کو بتاتی ہیں کہ جاری وبا سے دسیوں ہزار ولندیزی ہلاک ہو سکتے ہیں ایسا نہ ہونے دینے کی خاطر آپ کو یہ یہ احتیاطیں کرنی ہوں گی۔ دوسرا انداز نیدرلینڈ یعنی ہالیند کے وزیر اعظم کا ہے جو لوگوں کو بتاتے ہیں کہ خطرہ بہت زیادہ ہے مگر ہم لاک ڈاؤن کی سی صورت حالات پیدا نہیں کرنا چاہتے۔ ہاتھ بیس سیکنڈ دھوئیں ایک دوسرے سے ڈیڑھ میٹر دوری کا فاصلہ قائم رکھیں۔ علاج اس وائرس سے مریض ہونے کا ہے نہیں اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ لوگوں میں ”گلے کی سی مدافعت“ یعنی Herd immunity پیدا ہو جائے۔

اور ایک انداز ہمارے وزیر اعظم کا ہے جو پہلے بتاتے ہیں کہ 90 % تو خود بخود ٹھیک ہو جاتے ہیں، بس دو تین فیصد لوگ مرتے ہیں، یہ بتاتے ہی نہیں کہ وہ جو سات آٹھ فیصد ہیں ان کو کیا ہوتا ہے۔ پھر کہا کہ لاک ڈاؤن نہیں کروں گا کیونکہ لاک ڈاؤن کا مطلب کرفیو لگانا ہے۔ پھر کہا کہ لاک ڈاون کے کئی مراحل ہوتے ہیں، کرفیو اس کا آخری مرحلہ ہوتا ہے۔ پھر فرما دیا کہ Covid۔ 19 کوئی 20 / 20 میچ نہیں، چھ ماہ بھی جاری رہ سکتا ہے۔ ایک عالمی وبا میں کھیل کی اصطلاح برتنا ویسے ہی غیر سنجیدہ رویہ ہے۔

آئیے اب حقیقت دیکھ لیتے ہیں، اس وقت یعنی بارہ بجے دن بروز بدھ 25 مارچ 2020 تک دنیا میں اس مرض میں متاثر ہونے والوں کی تعداد 425،059 ہے جن میں سے صحت یاب ہوئے 109،225 افراد۔ جو ابھی تک ہسپتالوں میں یا گھروں میں علیحدہ رکھے گئے ہیں ان کی تعداد 296،890 افراد ہے۔ ان میں سے 283،761 افراد معمولی مریض ہیں جبکہ 13،129 کی حالت یا تو سنگین ہے یا نازک۔ مرنے والوں کی تعداد اس وقت تک 18،944 ہے۔

اب ہم اس وقت تک مختلف ملکوں میں شرح اموات دیکھتے ہیں۔ چین میں 81218 میں سے 3281 مر گئے۔ شرح 4 فیصد سے کچھ زیادہ۔ اٹلی میں 69,176 مریض ہوئے جن میں سے 6,820 مر گئے، شرح اموات 9 اعشاریہ 85 %، سپین میں 42,058 مریض ہوئے اور اموات ہوئیں 2,991 شرح رہی 7 اعشاریہ 12 فیصد۔ ایران میں مریض ہوئے 24,811 جن میں سے 1,934 مر گئے، شرح اموات رہی 7 اعشاریہ 8 فیصد۔

علاوہ ازیں اگر ہم اس سے پہلے کے پیرے میں کل مریض افراد، گھروں یا ہسپتالوں میں علیحدہ کیے گئے اور زیر علاج مریضوں کے ساتھ ساتھ صحت یاب ہونے والوں کی تعداد کو دیکھیں تو معلوم ہوتا کہ قریبا 26 فیصد لوگ صحت یاب ہوئے، مریض افراد میں سے 96 فیصد معمولی مریض اور 4 فیصد شدید یا نازک صورت احوال سے دو چار۔ جبکہ صحت یاب ہونے والے 85 فیصد رہے اور مرنے والے 15 فیصد۔ چار روز پہلے مرنے والوں کی شرح 10 فیصد تھی پھر 11 فیصد ہوئی، 12 فیصد ہوئی، 13 فیصد ہوئی، 14 فیصد ہوئی اور آج 15 % ہے۔ شام تک یہ بلا شبہ 16 فیصد ہوگی۔

ہماری حکومت کو چاہیے کہ لوگوں کو کھل کے بتائے کہ اگر احتیاط کی گئی تو کتنے لوگوں کے مریض ہونے، کتنے کے سنگین مریض پڑنے اور کتنوں کے مرنے کا اندیشہ ہے اور اگر احتیاط نہ کی گئی تو یہ تعداد کتنی زیادہ ہوگی۔ ایک اندازے کے مطابق اگر وسیع پیمانے پر ٹیسٹ نہ کیے گئے تو یکم جون تک دو کروڑ افراد کے مریض ہونے کا خطرہ ہے، مرنے والوں کی تعداد تیس سے پچاس ہزار تک ہوگی۔ سچ بتانے اور ڈرانے میں فرق ہوتا ہے۔ ڈرانا جھوٹ ہوتا ہے۔ سچ بولنا آنکھیں کھولنا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *