میاں، بیوی اور کرونا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سب سے پہلے شوہر نے بیس سیکینڈ تک اچھی طرح ہاتھوں کو دھونے کے بعد اپنے نوارانی چہرے پر ماسک پہنا اور پھر ہاتھوں میں صاف دستانے بھی پہن لیے، جس کے بعد وہ گھر کا سامان لینے کے لیے بازار کی طرف روانہ ہوگیا۔ شوہر کم سے کم دس دنوں کا سامان خرید لایا،

اس سامان می مختلف سبزیاں اور پھل، دالیں، آٹا، گوشت، ایک عدد کنڈوم کا بڑا پیک، ایک درجن سگریٹ کے پیکٹ اور نیند کی گولیاں شامل تھیں۔

اب شوہر کو حکومت کی باتوں پر عمل پیرا پوتے ہوئے اپنے گھر پر مکمل طور پر بند رہنا ہے، اور واضح رہے کہ شوہر کے ساتھ گھر پر موجود ایک عدد بیوی بھی ہے۔

شوہر کی کوشش تھی کہ ہم دونوں کی صبح دیر بعد تک ہی آنکھ کھلے، پھر ہماری آنکھ صبح گیارہ بجے کھل جاتی ہے۔ جس کے بعد شوہر واش روم کے لیے روانہ ہوتا ہے۔ ابھی دس منٹ کا وقت ہی گزرا ہوتا ہے کہ پیچھے سے بیوی کا شور شروع ہوجاتا ہے کہ، مر تو نہیں گیا؟ جلدی باہر نکل، میں نے بھی جانا ہے۔ شوہر پھر واش روم سے نکل کر ایک نظر اپنی بیگم کی طرف ضرورت سے زیادہ آنکھیں کھول کر غصے میں گھورتا ہے، بیوی ان دیکھا کرتے ہوئے واش روم چلی جاتی ہے، بیس منٹ سے زیادہ کا وقت ہوچکا ہوتا ہے پھر شوہر شور کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جلدی نکل اور ناشتہ بنا، مجھے بھوک لگی ہے۔ مگر بیوی اپنے وقت پر ہی واش روم سے باہر نکلتی ہے اور شوہر کو کہتی ہے کہ اگر بہت بھوک ہے تو خود بنا لے۔ پھر دونوں میاں بیوی شور شرابا کرتے ہوئے مل کر ناشتہ بنا لیتے ہیں اور ساتھ میں ٹی وی پر خبریں دیکھتے ہوئے ناشتہ کرتے ہیں، یہ ہوتے ہوتے دوپہر کا ایک بج جاتا ہے۔

پھر شوہر الماری سے ایک عدد کنڈوم نکال کر استعمال کرتا ہے اور یہ کرنے سے آدھے گھنٹے کا مزید وقت اور گزر جاتا ہے۔

اب دوپہر کے کھانے کا وقت ہوا جاتا ہے جس کے انتظام کے لیے بیگم سبزی اور چھری اٹھا کر شوہر کے سامنے رکھ دیتی ہے اور بیگم کچن میں دوسرے کام کرنے میں مصروف ہو جاتی ہے۔ ساتھ میں مختلف موضوع پر بحث اور جھگڑے بھی چل رہے ہوتے ہیں اور یہ سب ہوتے ہوتے ساتھ میں کھانا بن رہا ہوتا ہے۔ چناچہ شام کے چار بج جاتے ہیں اور گرما گرم کھانا تیار ہوچکا ہوتا ہے، جو میاں بیوی ساتھ مل کر کھا لیتے ہیں۔

جس کے بعد شوہر الماری کی طرف جاتا ہے اور ایک عدد کنڈوم نکال کر استعمال کر لیتا ہے، اس عمل کی مدد سے آدھے گھنٹے کا مزید وقت گزر جاتا ہے۔

اب گھر کی صفائی کا وقت ہوا جاتا ہے، بیگم اپنے شوہر کے ہاتھوں میں جھاڑو تھما دیتی ہے اور خود پوچا پکڑ کر آہستہ آہستہ صفائی کے عمل لگ جاتی ہے۔ ایسے کرتے کرتے شام کے چھ بج جاتے ہیں۔ صفائی کرنے کے بعد چائے اور ساتھ میں پاپ کارن کا وقت ہوا جاتا یے اور ساتھ میں ٹی وی پر ایک عدد تین گھنٹے کی فلم لگا دیتے ہیں۔ فلم دیکھتے دیکھتے بے مقصد باتوں پر جھگڑا بھی ہورہا ہوتا ہے اور ساتھ میں فلم سے بھی لطف اندوز ہورہے ہوتے ہیں۔ فلم ختم ہونے کے بعد رات کے کھانے کا وقت ہوجاتا ہے۔ پھر وہی دوپہر کا بنایا ہوا کھانا رات میں دوبارہ گرم کرکے کھالیتے ہیں۔

جس کے بعد شوہر پھر الماری کی طرف جاکر دن کا آخری کنڈوم نکال کر استعمال کرلیتا ہے، اور ایسے میں 15 منٹ کا مزید وقت گزر جاتا ہے۔ واضح رہے کہ شوہر پورے دن کا تھک چکا ہوتا ہے اس ہی لیے اس کے پاس بقیہ پندرہ منٹ محنت کرنے کی طاقت باقی رہ جاتی ہے۔

آخر میں شوہر دو گلاس میں پانی بھر لیتا ہے اور دونوں گلاس میں ایک ایک عدد نیند کی گولی ڈال کر پی لیتا ہے اور ساتھ میں بیگم کو پیلا دیتا ہے جس کی مدد سے وہ دونوں لمبے وقت کے لیے سوجاتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *