برکینا فاسو کی کرونا وائرس سے جنگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

برکینا فاسو مغربی افریقہ کا ایک لینڈ لاکڈ ملک ہے یعنی کسی طرف سے اسے سمندر تک رسائی حاصل نہیں۔ ہمسایہ ممالک ایوری کوسٹ، غانا، ٹوگو، بینن، نائیجراور مالی ہیں۔ کل رقبہ دو لاکھ چوہتر ہزار مربع کلومیٹرز جبکہ آبادی دو کروڑ سے زائد ہے۔ جس میں ساٹھ فیصد مسلمان، (متفرق مسالک) تئیس فیصد عیسائی ہیں اور دیگر میں دہریہ اور لامذہب لوگ شامل ہیں۔

یہاں کرونا وائرس کا پہلا باقاعدہ کیس 9 مارچ 2020 کو سامنے آیا۔ ایک معروف پادری اور ا س کی بیوی فرانس میں ہونے والی ایک مذہبی کانفرنس میں شریک ہوئے اور واپس آتے ہوئے وائرس بھی ساتھ لیتے آئے۔ ملک میں آنے کے بعد ان کا میل ملاپ اور چرچ کی تقریبات جاری رہیں۔ جب 9 مارچ کو ان دونوں کے ٹسٹ پازیٹیو آئے تو حکومت فوری ہوشیار باش ہوگئی۔

اعلیٰ سطحی مشاورت اور اجلاس کے بعد 11 مارچ کو وزیر صحت اور وزیر اطلاعات نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ دونوں وزراء نے یہ پریس بریفنگ اور اس کے بعد سوالات کے جوابات باہم فاصلہ رکھتے ہوئے کھڑے ہو کر دیے۔ یعنی پہلے دن سے ہی اقدامات کرنے شروع کر دیے اورعملی نمونہ دکھا کر عوام کو احتیاط کرنے کا پیغام دے دیا۔

اس کانفرنس میں اعلان کیا گیا کہ ملک بھر میں ہر قسم کی سرکاری و غیر سرکاری تقریبات فوری طور پر معطل کی جارہی ہیں۔ تمام نیشنل ایونٹ ملتوی کر دیے گئے۔ عوام کو ایک دوسرے سے فاصلہ رکھنے اور حکومتی ہدایات پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ حوصلہ دیا گیا۔

اس کے ساتھ ہی اعلان کیا کہ متاثرہ پادری اور اس کی بیوی کی مدد سے ایک سو بیس افراد کو قرنطینہ میں ڈال دیا گیا ہے۔ اور یہ کام پادری کی نشاندہی پر کیا گیا کہ واپس کے بعد کن کن لوگوں سے ان کی ملاقات ان دنوں میں رہی تھی۔

14 مارچ کو فیصلہ کر لیا گیا کہ ملک بھر میں تمام تر تعلیمی ادارے تا اطلاع ثانی بند رہیں گے۔

19 مارچ سے ملک بھر میں باہم مشاورت کے بعد مساجد، چرچ اور عبادت گاہیں بند کر دی گئیں۔ بعض مسالک نے جمعہ 20 مارچ پڑھنے کے بعد مساجد بند کر دیں۔

20 مارچ کو صدر مملکت نے قوم کے نام اپنے مختصر ویڈیو پیغام میں درج ذیل اقدامات کا اعلان کیا۔

· کسی بھی تقریب کے لئے پچاس سے زائد افراد جمع نہیں ہو سکتے۔

· ملک بھر میں 21 مارچ سے شام سات بجے سے صبح پانچ بجے تک مکمل کرفیو نافذ العمل ہوگا۔ ا س پر اس سختی عمل ہو رہا ہے کہ شام سات بجے کے بعد کوئی اپنے دروازے کے سامنے اور اپنی گلی میں بھی نظر نہیں آتا۔ میں نے دیکھا کہ چھ بج کر پچپن منٹ تک جو بچے اپنی ہی گلی میں کھیل رہے تھے اگلے ہی منٹ میں گھروں میں از خود داخل ہو چکے تھے اور ہر طرف سناٹا چھا گیا۔

· کمرشل فلائٹس کے لئے دارالحکومت میں واقع انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور بوبو جلاسو شہر کا نیشنل ائیر پورٹ دو ہفتے کے لئے بند کر دیا گیا ہے۔ صرف فوجی ضرورت اور سامان کی ترسیل کے لئے جہاز فلائی کر سکیں گے۔

· سامان کی ترسیل کے علاوہ تمام زمینی راستے (ریل اور سٹرک ) دو ہفتے کے لیے بند کر دیے گئے ہیں۔

· انتخابات کے لئے بننے والی بائیومیٹرک لسٹوں کا کام فوری طور پر روک دیا گیا ہے۔

· بائیومیٹرک قومی شناختی کارڈ بننے کا کام فوری طور پر بند کر دیا گیا ہے۔

22 مارچ سے تمام پبلک ٹرانسپورٹ بند کر دی گئی ہے۔

ہر سپر مارکیٹ، سٹور کے دروازے پر متعین سیکورٹی گارڈ ہر آنے والے کے ہاتھ سینیٹائزر سے صاف کرواتا ہے۔

مارکیٹس کے اندر باسکٹس اور ٹرالی کو مسلسل الکحل سے صاف کیا جا رہا ہے۔ ہر آنے والے کو صاف کی ہوئی ٹرالی ملتی ہے۔

مارکیٹ کا عملہ چہرے پر ماسک اور ہاتھوں پر دستانے چڑھائے ہوئے ہے۔ آپ کی ڈیمانڈ پر وہ دستانے تبدیل کر کے نئے پہن لیں گے اور ا س کے بعد آپ کو سرو کریں گے۔

دفاتر کے باہر سینیٹائزر اور ہاتھ دھونے کے لئے صابن اور پانی کا اہتمام کر دیا گیا ہے۔

میڈیا کا کردار

ملک بھر میں سترہ نیشنل اور پانچ ریجنل ٹی وی چینلز ہیں۔ پرائیویٹ ٹی وی چینلز کی تنظیم عوام کی راہنمائی کے لئے کسی ایک پلیٹ فارم سے اس وبا سے نمٹنے کے لئے پروگرام بنا رہی ہے۔ کسی چینل کو اپنی ریٹنگ کی پری ہے نہ کوئی میڈیا ہاؤس اپنی دکان چمکانے کی فکر میں ہے۔ فکر ہے تو صرف یہ کہ قوم کو اس المیہ سے کس طرح نکالنا ہے، کس طرح ان کی راہنمائی کرنا ہے۔ میڈیا کے اس متحدہ پلیٹ فارم سے صرف ماہرین ہی اس بیماری کے حوالے سے بات کر سکیں گے۔ ہر ایرے غیرے اور غیر متعلقہ شخص کو من مانی کرنے ا ور جو مرضی بیان داغ دینے کی اجازت نہیں ہے۔

حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ہر روزاس وبا کے حوالے سے اپ ٹوڈیٹ کیاجائے گا۔ آفیشل ویب سائٹ پر یہ معلومات دی جارہی ہیں۔ 22 مارچ تک کل 75 کیسز کنفرم ہو چکے ہیں۔ سب سے پہلے کرونا وائرس پازیٹیو پایا جانے والا پادری اور اس کی بیوی شفا یاب ہو چکے ہیں۔ اب تک کل پانچ کیس صحت مند ہو گئے ہیں جبکہ پانچ اموات بھی ہو چکی ہیں۔ کل چھ سو چار لوگوں کو مکمل آئسولیشن میں رکھا گیا ہے۔

آگے چل کرخدا تعالیٰ کی تقدیر کیا عجائبات دکھائے گی ا س کا علم کسی کو نہیں لیکن جو انتہائی اقدامات برکینا فاسو حکومت نے اب تک کر لئے ہیں اور جس طرح مسلسل اس معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس سے امید کی جانی چاہیے کہ اگر عوام کا بھر پور تعاون رہا تو یہاں اس وبا پر قابو پانے میں بہت مدد ملے گی۔

اور ہاں ان اقدامات میں عقل مندوں کے لئے بہت کچھ سیکھنے اورعمل کرنے کو ہے۔ اگر ایک غریب ملک اپنے عوام کے لئے اس قدر اقدامات کر سکتا ہے تو پاکستان جیسے ملک میں خواہ مخواہ کی دیر کس لئے کی جاتی رہی اور کی جا رہی ہے۔ برکینا فاسو کا مطلب ہے ایماندار اور معز ز لوگوں کا قبیلہ۔ اور یہ واقعی ایمانداری اور محنت سے کرونا وائرس کو شکست دینے کے لئے میدان عمل میں کود پڑے ہیں باقی نتائج کی ڈور مالک کے ہاتھ میں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *