کھڑکی میرے من کی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کھڑکی کی اہمیت کو وہ سمجھتا ہے جس کا باہر کی دنیا سے تعلُق اِسی کھڑکی کے ذریعے ہوتا ہے۔ آج کی دُنیا اس لحاظ سے بہتر ہے کہ سائنس کی نت نئی ایجادات کی بدولت اب کھڑکی روائیتی کھڑکی نہیں رہی بلکہ یہ ایسی کھڑکی بن چُکی ہے کہ جو ہمیں دیس دیس کے لوگوں سے مُلاقات اور اُن کے بارے میں جاننے اور سمجھنے کے مواقع بھی فراہم کرتی ہے۔

ایک زمانہ تھا کہ لوگ جب پردیس جا تے تھے تو مہینوں اپنے پیاروں کا حال احوال نہ جان پاتے تھے۔ چٹھیاں لکھنے کا رواج تھا اور اُن کے آ نے میں بھی مہینوں لگ جاتے تھے۔ اور سالوں تک تو پیاروں کی صورت نہ دیکھ پاتے تھے۔ پردیس ہی کیا دیس کے دوسرے شہروں میں رہنے والوں سے بھی رابطہ آسان نہ تھا۔ خط و کتابت ہی واحد ذریعہ تھا۔

پھر ٹیلی فون آیا تو اپنے ساتھ کُچھ آسانیاں لایا کہ اب مہینے دو مہینے میں بات ہو جاتی تھی۔ اپنے پیاروں سے بات کرنے کے لئے ٹیلیفون ایکسچینج کے باہر گھنٹوں قطار میں کھڑے ہونا کوئی زیادہ پُرانی بات نہیں ہے۔ ہم نے اپنے بچپن میں یہ نظارے دیکھ رکھے ہیں۔ کُچھ اور ترقی ہوئی تو فون گھروں تک پہنچ گیا۔ موبائل تو گھروں کے ساتھ ساتھ جیبوں تک پہنچ گیا۔ اس کے ذریعے بات کرنا نہ صرف آسان ہوا بلکہ دل کی بات کرنے کا ذریعہ بھی میسر آ گیا۔

کمپیوٹر کی ایجاد نے تو د نیا میں ایک انقلاب ہی بپا کر دیا۔ دنیا سمٹ کر جیسے مُٹھی میں آگئی۔ ستر کی دھائی میں تین کمروں پر پھیلا ہوا کمپیوٹر 2020 تک ہتھیلی تک پہنچ چُکا ہے۔ اس نے جو کھڑکیاں کھولیں ہیں کہ الامان والحفیظ، کچھ بھی مخفی نہ رہا۔ اسی کے ذریعے تو ہم ایسے غریب اُلوطنوں کی زندگی آسان ہوئی ہے۔ اپنے پیاروں کی اپنی زمین کی پل پل کی خبر رہتی ہے پر اتنا باخبر ہونا بھی کبھی کبھی بہت تکلیف دیتا ہے۔

اپنے مُلک کے الیکٹرانک میڈیا میڈیا کی کھڑکی جسے عرفِ عام میں ٹی وی چینل کہتے ہیں، ہر پاکستانی امیگرنٹ کے گھر کا ایک لازمی جزو ہے۔ وہ تمام لوگ جو اپنی عمر کا ایک بڑا حصّہ اپنے ملک میں گُزار کر آتے ہیں وہ ذہنی طور پر ہمیشہ بٹّے رہتے ہیں، آدھے یہاں اور آدھے وہاں۔ خاص کر نئے آنے والے کہ جُدائی شروع میں ہمیشہ تکلیف دہ ہوتی ہے۔ وقت آہستہ آہستہ کُچھ زخم بھر دیتا ہے۔ ملکی چینلز پر جب ٹاک شوز چلتے ہیں اور کویڈ 19 جیسے نازُک اور اہم معاملے پر سیاسی بونوں کی اُچھل کود ایک دوسرے پر الزام تراشی اور حکومتی حلقے کی لن ترانیاں سُننے کو ملتی ہیں تو دِل اس کھڑکی سے اُکتا جاتا ہے۔ ایسے میں یہ کھڑکی بند کرنے میں ہی عافیت محسوس ہوتی ہے۔ صرف اس پر ہی کیا موقوف افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اکثر معاملات میں اس کا کردار ایسا ہی ہے۔

اب ہم دوسری کھڑکی کا رُخ کرتے ہیں۔ یہ ہے سوشل میڈیا کی کھڑکی یہاں تو اور بھی بُرا حال ہے۔ یہاں تو ہر بالشتیہ ہرفن مولا ہے۔ ابھی بڑے بڑے جغادری کرونا کا علاج ڈھونڈھ نہیں پائے پر یہاں آپ کو دسیوں علاج ملیں گے۔ تو دوسری جانب جُگت بازی کا مقابلہ ہوتا نظر آئے گا۔ ایک جانب قیامت کی منظر کشی کی جا رہی ہے گویا بس کل ہی ہے۔ ارے اگر ہے بھی تو آج تو جی لینے دو۔ اس کو مذہبی کاروبار چمکانے کا ذریعہ تو نہ بناؤ کہ کمزور دل کرونا سے نہیں خوف سے ہی مر جائے۔ دراصل ہم ڈنڈے کے اتنا زیر اثر ہیں کہ نظر صرف قہاریت پر جاتی ہے رحمت نظر ہی نہیں آتی وہ ستر ماؤں سے بڑی مُحبت اوجھل ہو جاتی ہے یاد رہتا تو بس اتنا کہ یہ قہرِ الٰہی ہے۔ گھبرا کر یہ کھڑکی بھی بند کردی۔

بات ہورہی تھی کھڑکی کی۔ تنگ آ کر ہم نے سمبالک کے بجائے اصل کھڑکی کا رُخ کیا۔ پہلے یہ بتا دیں کہ ہم نے جب بھی کوئی گھر لیا تو یہ ضرور دیکھا کہ اس میں بہت سی کھڑکیاں ہوں۔ ہمارا کھڑکیوں سے ایک قسم کا رومانس ہے۔ جس گھر میں ہم رہتے ہیں اس کے مشرق وَ مغرب دونوں اطراف میں کھڑکیاں ہیں۔ ان کھڑکیوں پر صرف رات میں ہی پردہ پڑا رہتا ہے۔ صبح آٹھ بجے سے رات کے بارہ بجے تک پردہ ہٹا رہتا ہے اور ان سے باہر کا نظارہ کرنا ہمارا محبوب مشغلہ ہے۔

ان ہی کھڑکیوں کے ذریعے ہمیں اپنے آس پڑوس کے لوگوں کے بارے جانکاری ملی۔ بچے کب اسکول جاتے ہیں، کب آتے ہیں اور آتے سمے اُن کی موج مستی یہ ہی کھڑکی تو دکھاتی ہے۔ کس گھر میں پارٹی ہی، کون کُتے کو ٹہلا نے نکلا ہے، کون واک پہ جا رہا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اب یہ نہ سمجھیں کہ ہمیں کن سوئیاں لینے کی عادت ہے۔ کینیڈا کے سرد موسم میں جب باہر نکلنے کی ہمت نہ ہو تو انسان کُچھ تو کرے گا۔ بس اسی طرح دل بہلاتے ہیں۔ بچے کام پہ چلے جاتے ہیں تو گھر کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے۔ اسی لئے تو کھڑکیوں سے دوستی ہے۔

پر ابھی چند دنوں سے یہ کھڑکیاں بہت اُداس ہیں۔ وہ سارے نظارے جو روز کا معمول تھے غائب ہو چُکے ہیں۔ گھنٹوں کھڑکی کے باہر جھانکا پر کوئی زی روح دکھائی نہیں دیتا حالانکہ کہ یہ ایک ٹاؤن ہاؤس کومپلیکس ہے گھر سے گھر جُڑا ہے کوئی تین سو گھر تو ہوں گے۔ کل پورے دن میں صرف چاد لوگ دکھائی دیے، اِکا دُکا گاڑیاں نظر آئیں ہر طرف سناٹے کا راج ہے لگتا ہے ہر گھر خالی ہے جیسے کوئی ذی روح رہتا ہی نہ ہو۔ فضا میں ایک عجیب سی اُداسی ہے۔

ہمیں رہ رہ کر اُس بوڑھے انگریز کی فکر ستاتی ہے جو ہم سے دو گھر چھوڑ کے رہتا ہے، وہ ایک ٹانگ سے معذور ہے فوج میں تھا کسی معرکہ میں ٹانگ چلی گئی، خدا جانے کس حال میں ہوگا؟ کئی بار من کیا کہ حال احوال پوچھ آؤں پر ہمت نہیں جُٹا پاتی کہ سوشل ڈسٹنس کا زمانہ ہے شاید دروازہ ہی نہ کھولے۔ برابر کے دونوں گھروں میں پاکستانی خاندان رہتے ہیں اور ہر گھر میں چار چار بچے ہیں جو عام دنوں میں باہر دھما چوکڑی مچائے رکھتے تھے، پچھلے دو ہفتوں سے کسی ایک کی بھی صورت نہیں دیکھی۔

دائیں جانب سکھ فیملی رہتی ہے جن سے اکثر ہیلو ہائے رہتی تھی اُن کی گاڑی تو باہر گھڑی ہے پر نہ تو بہو نظر آتی ہے اور نہ ساس۔ ہماری پنجابی بولنے کی ٹھرک بس اُن سے ہی بات کر کے پوری ہوتی تھی، اب تو سننے کو بھی کان ترس گئے ہیں۔ سامنے کی جانب ایک چائنیز رہتا ہے اُس کے پاس ایک بہت خوبصورت کُتا ہے جسے وہ بلا ناغہ ٹہلانے نکلتا تھا، وہ دو ہفتے سے باہر نہیں آیا۔ انسان تو حالات کو سمجھتے ہیں پر وہ بے زبان کیسے گھر میں بند رہتا ہوگا۔ سوچ کر ہی ہول اُٹھتا ہے۔ اس کے برابر والے گھر میں پولش رہتے ہیں اُن کی دونوں چھوٹی بچیاں بھی باہر نہیں آتیں۔

سامنے والی سڑک پر سے دِن بھر میں اب اِکا دُکا گاڑی گزرتی ہے۔ ہر گھر کے سامنے صرف گاڑیاں کھڑی ہیں اُنہیں چلانے والا کوئی نہیں، لگتا گھر انسانوں کے اور گلیاں گاڑیوں کا قبرستان بن گئی ہیں۔ رات کے سناٹے میں واک پر نکلتی ہوں تو لیمپ پوسٹ کی زرد روشنی اس ماحول کو اور بھی پراسرار بنا دیتی ہے مانو بھوتوں کی نگری ہے یا کوئی آسیب ہے جس نے ہر طرف پنجے گاڑ رکھے ہیں۔

گھر کی پچھلی جانب کریبین فیملی رہتی ہے، یہاں ہر ویک اینڈ پر پارٹی ہوا کرتی تھی اور موسیقی کی دُھنیں سنائی دیتی تھیں، گیراج ڈانسنگ ہال بنا ہوتا تھا، ویران پڑا ہے۔ ہر طرف موت کا سا سناٹا ہے۔ اب تو فون کی گھنٹی بھی کم کم ہی بجتی ہے ایسا لگتا کہ سوشل کے ساتھ ساتھ جذباتی لگاؤ میں بھی کمی آ رہی ہے۔ جب ہر جانب ہو کا عالم ہو تو سمجھ نہیں آتا کہ کون سی کھڑکی کھولوں؟ تو ایسے میں ایک ہی کھڑکی بچتی ہے اور وہ ہے میرے من کی گھڑکی جو آج میں نے کھول دی ہے۔

ایک چھوٹی سی نظم جو اِن ہی احساسات کی غماز ہے۔

یہ کھڑکی میرے گھر کی ہے

اس سے جب بھی باہر جھانکا

ہر پل ایک نظارہ دیکھا

بادل بارش، چاند ستارے

سورج خوب چمکتا دیکھا

برف کے گرتے گالے دیکھے

کلیوں کو چٹکتے دیکھا

موسم کے ہر رنگ کو دیکھا

انسانوں کے ڈھنگ کو دیکھا

جینے کے آداب بھی سیکھے

اور سب سے بڑھ کر جینا سیکھا

اب کھڑکی ویران پڑی ہے

بستی سب سنسان پڑی ہے

کہاں سے یہ عفریت ہے آیا

کیسا یہ آسیب ہے چھایا

موت کی زردی، ہر اور کھنڈی ہے

زندگی جیسے روٹھ گئی ہے

تنہائی سے پہلی بار ڈری ہوں

اور ڈر سے ڈر کر

من کی کھڑکی کھول رہی ہوں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “کھڑکی میرے من کی

  • 29/03/2020 at 1:04 am
    Permalink

    غزاله بی :
    تم نے دل کے دریچہ سے جھانک جھانک کر ، اپنے من کی گہرائیوں سے اچھلتا ہوا لاوا اور جذباتی آتش فشاں جو،  اردو ادب کی وادیوں میں اگل دیا ہے۔ ہم کچھ نہیں کہیں گے۔ مگر کچھ کہے بنا رہا نہیں جاتا ہے کہ کسی کی اتنی خوبصورت نگارش کو پڑھنے کا موقع ملا اور اس کی تعریف میں کچھ نہ لکھیں ۔ خاص طور پر یہ کھڑکی سے باہر کا نظارہ کبھی میرے دھیان و گمان میں بھی نہیں تھا ۔کیوں کہ گنگا کنارے کھلے میدانی برساتی ماحول میں اور پنجاب کے  کھڑک سنگھ کی کھڑکیوں میں فرق تو ہے ۔ہمیں تو ہر کھڑک سے بے دھڑک، بنگال کی سیدھی سڑک اور بھیگی بھیگی گلی کوچوں میں دروازے پر ٹاٹ کے جھروکوں سے جھانکتی ہوئی گرمجوش محبتیں ملتی رہی ہیں ۔
    نظم تو خوبصورت ہے ہی، اس کے مقدمے میں جو نثری تعارف بھی لکھا اور خوب لکھا ہے ۔اس بہانے سنسان ماحول اور فرصت کے شب و روز میں اپنی مشغولیت کے ساتھ ساتھ قارئین کو بھی گذر اوقات کا اچھا وسیلہ فراہم کر رہی ہو ۔
    اللہ بھلا کرے اور اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ۔
    رہی اس منحوس وائرس کی بات، تو اس وقت سرور بارہ بنکی کا شعر یاد آگیا :
    ہے افق سے ایک سنگ آفتاب آنے کی دیر  
    ٹوٹ کر مانند آئینہ بکھر جائے گی رات 
    ارادتمند: منظر اکبر از رشت ایران

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *