وبا، تنہائی اور شاعرکی وحشت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہماری بہت پیاری دوست، اور ہر دو اعتبار سے بہترین مسیحا، ثروت زہرا، کا فون آیا، احمد کے لیے متفکر تھی۔ وہ خود بھی ایک حساس شاعرہ ہے۔ شا عرانہ مزاج کی نزاکتوں اور حساساسیت سے واقف ہے۔ کہنے لگی مجھے معلوم ہے احمد بھا ئی کو گھر پر روکے رکھنا ایک مشکل کام ہے لیکن انہیں باہر نکلنے مت دیجیے گا۔

میں نے کہا انہیں گھر پر روکنا، کرونا کو روکنے سے زیادہ مشکل ہے۔

بات تو مذاق تھی۔ مگر فکری سطح کے حامل حساس طبع لوگ جا نتے ہیں کہ شام ڈھلنے کا وقت شاعرانہ طبع پر کیسا بار ہے۔ سرِ شام گھبراہٹ، اضطراب اور اداسی کا بیاں میر تقی میر کے ہاں کیا خوب ہے

شام ہی سے بجھا سا رہتا ہے
دل ہے گویا چراغ مفلس کا

میر تقی میر کی آشفتہ سری قید میں مہیز ہو تی تھی، انہیں دیوانگی بھی شہر میں راس آتی تھی۔

شاعر کے مزاج میں اتار چڑھاؤ کسی سانحے، واقعے، موسم، خوشی اور غم کے محتاج نہیں ہو تے۔ بے بات گریہ و نالہ پیدا کریں اور پر خار رستوں پرطربیہ گیت لکھیں۔ ان کی جلوت میں خلوت اور خلوت میں جلوت ہوتی ہے۔ دان رات، صبح و شام کو اپنی قدرت میں رکھنا چا ہتے ہیں۔ ایسے میں حاکمِ وقت انہیں، ان کے پیاروں کی زندگی کا واسطہ دے کر گھر میں ٹکے رہنے کو کہے تو خود دساختہ قید قبر کی مانند محسوس ہوتی ہے۔ لیکن سانسیں لیتے لوگوں کی سانسوں کو اپنے سینے کی پھنسی سانسوں میں الجھانا بھی گوارا نہیں۔

مگرپھر چڑچڑے پن کا مظاہرہ بات بے بات الجھنا بچوں کی مانند باہر نکلنے کو بہانا تلاش کرنا۔ ایسے میں ہماری جانب سے یہ دھمکی کہ

کہ جائیں چلیں جائیں باہر، مگر یہ کرونا بالکل شاعرانہ نہیں۔ منحوس بڑا غیر رومانٹک وائر س ہے۔ چودہ دن قرنطینہ میں رہنا پڑے گا۔ دیکھیں نام ہی میں صوتی حسن نہیں، بصری حس بھی کام نہ آئے گی۔ بشری حسن دیکھنے کو نہیں ملے گا۔ بیمار کو ملنے نہیں دیا جا تا۔ مزاج پرسی تو کجا کوئی پرسہ نہیں دیتا۔ پچھلے زمانے کے شاعر تو مخروطی ہاتھ دیکھ کر عاشق ہو جاتے تھے۔ لیکن یہاں تو مسیحائی کرنے والوں نے آنکھ ناک کان جسم کو ماسک، دستانے اور بڑے سے چوغے میں چھپایا ہوا ہے۔ کچھ معلوم نہیں پڑتا کہ جلتے ماتھے پر طبیب کا ہاتھ ہے یا طبیبہ کا، جب پتہ ہی نہیں چلے گا تو روح تک مسیحائی کی تاثیرپہنچے گی، نہ ان کے دیکھے سے بیمار کے چہرے پر رونق کا کوئی امکان ہے۔

ایسا الم ناک نقشہ کھینچنے پر اضطراری کیفیت میں ذرا دیر کو قرار آتا ہے مگر پھر جاؤں جاؤں کی تکرار دل دہلائے رکھتی ہے۔ ادھر دھیان چوکا ادھر غائب۔

مگر دس منٹ بعد ہی گھر کے اندر۔ چہرہ دھواں دھواں آواز میں غبار۔ بولے گھر باہر سب ایک سا ہے۔

بے بسی وحشت اداسی ایک ہو جائیں تو پھر

گھر قفس کر لوں کہ صحرا کہیے گھر کا کیا کروں

احمد نوید

دن کے ہنگامے میں وقت کا پتہ نہیں چلتا لیکن شام سے رات کا وقت پہاڑ معلوم ہو تا ہے۔ اور جب شہر میں وبا کا آسیب ہو گھر کی رونق بھی ماند پڑ جائے تو دل کی حالت عجیب ہو جا تی ہے۔ ساقی امروہوی نے اس کیفیت کو کیا خوب بیان کیا ہے۔

میں اب تک دن کے ہنگامے میں گم تھا

مگر اب شام ہو تی جارہی ہے

اور احمد نوید نے شام کی اداس کیفیت یوں رقم کی

دل کی حالت شام ہو تے ہی بگڑ جاتی ہے روز

اور مری وحشت بڑھانے روز آجاتی ہے شام

خود ساختہ قید میں، میرے شاعر کو تیسرا روز ہے اس کی زود رنجی کا عالم سوا ہے۔ شاید غالب کا یہ شعر وبا کے دنوں میں ہی لکھا گیا ہو۔

کاوے کاوے سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ

صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا

ا ب تو یہ عالم ہے کہ س غریب شاعر کو پاؤں کی نادیدہ بیڑیوں سے دیدہ رسن بھلی لگنے لگی ہے۔ بالکنی سے گردن لٹکائے نیچے بند دکانوں، خالی ٹھیلوں، اور ہولناک سناٹے سے بھلا پھانسی گھاٹ کا منظر لگتا ہے اور اکا دکا پژمردہ چہروں اور تھکے ہوئے پولس کے چہروں سے زیادہ تازہ دم پھانسی دینے والا اور دار سے جھولتی گردن میں شان نظر آتی ہے۔

مگر اس کے لیے قتل ضروری ہے۔ قتل کرنا اب کوئی مشکل بھی نہیں ہاتھ ملاؤ، جھپی پاؤ۔ ہو جمالو

مگر سزا میں قرنطینہ بھی قبول نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *