کرونا، ہم اور مولوی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ مذہب کا سائنس سے کوئی تقابل نہیں، ان دونوں کی ڈومینز الگ ہیں۔ یہ زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو سائنس، سائنٹفک میتھڈز اور نیچرل پراسس کو یا تو جھٹلاتے آئے ہیں یا پھر انہوں نے ہمیشہ مذہب کو نیچرل سائنس پر حاوی جانا ہے۔

انہوں نے ہمیشہ یہ دعوا کیا ہے کہ ان کی مقدس کتابیں دنیا کے ہر قانونِ قدرت کے علم یا نیچرل سائنس کا احاطہ کیے ہوئے ہیں۔

لیکن آج مذہبیت سے بڑھ کر تقدیس سائنس اور ریسرچ کی ہے۔ نیچرل سائنس کی ترقی کی بنیاد پر آج کا وائرولوجسٹ دنیا کو درپیش خطرے کووِڈ نائنٹین وائرس کا علاج ڈھونڈ رہا ہے۔

جبکہ مذہبیت جو کہ سائنس کے سامنے اپنی ذاتی اتھارٹی کو خدائی کہہ کر ناقابلِ تردید کہتی رہی ہے آج سائنس سے پیچھے کھڑی ہے۔

ایسا اس لیے ہوا، کیونکہ مذہبیت سوال سے، چیلنج کیے جانے سے ڈرتی ہے۔ تفکر کو دباتی ہے۔ اس کے ہاں مذہب کو دلیل، عصری سائنس اور ثابت حقیقت کا تابع نہیں بنایا جاتا بلکہ حقیقت کو مولڈ کر کے مذہب کا تابع بنایا جاتا ہے۔

جو فِکر کو مذہبی دائرے سے باہر نکلنے کی اجازت نہ دے اور نِت نئی تشریحات گھڑتا رہے اُس خوف کو مذہبیت میں ناقابلِ سوال عقیدہ کہا جاتا ہے۔

جبکہ سائنس چیلنج سے نہیں ڈرتی نہ ہی اپنے علم کو خدائی علم کہ کر آفاقی کہتی ہے۔ عقیدہ اپنے نرگسی رویے کی وجہ سے منجمد ہو جاتا ہے۔ اس کا معاشرتی غلبہ بتدریج کم ہوتا جا رہا ہے۔

سائنس نہ تو کبھی تقدیس کا دعوا کرتی ہے اور نہ ہی منجمد ہوتی ہے اسی لیے اس کا غلبہ معاشرے پر برقرار ہے اور مضبوط تر ہوا ہے۔

مذہبیت اگر انسان کے فکری اور نفسیاتی مسائل سمجھ کر اور انہیں عصری ضرورت کے مطابق حل کر کے نسلِ انسانی کی مجموعی معاشرتی فلاح اور بقاء انسانی کے لیے کام کرتی رہتی۔

فرد کی آزادی اور حقوق کے استحصال سے اجتناب برتتی اور شخصی آزادی و معاشرتی تخریب کے بیچ توازن قائم کرتے ہوئے معاشرتی سدھار کا کام کرتی رہتی، عصری علوم کے مراکز سے فکری ڈائلاگ کرتی، معاشرتی انتشار کو روکتی۔

اگر یہ انسانی تہذیب کی بقا کو درپیش خطروں کی سلیقے سے نشاندہی کر کے ان کا حل بتاتی رہتی تو آج اپنے رد کیے جانے کے ڈر سے اپنے دفاع کی لیے نت نئی تاویلیں نہ تراش رہی ہوتی۔

لوگ سمجھدار ہوتے رہے ہیں۔ اور اب وہ مذاہب کو ویسے ہی دیکھتے ہیں جو چہرہ آج کا مذہبی راہنما انہیں بنا کر دکھاتا ہے۔

اس لیے یہ بحث عام انسان کے لیے نہیں ہے کہ مذہب کیا تھا۔ آج کی دنیا کا معاملہ تو یہ ہے کہ مذہب کی اس وقت کیا شکل رائج ہے اور اسے رائج کرنے والے افراد کیا فِکری گہرائی اور طرزِ عمل رکھتے ہیں۔

میرا ماننا ہے کہ مذاہب یا ادیان چنی ہوئی ہستیوں پر وحی کے ذریعے انسان کی روح کی تربیت کے لئے آئے ہیں، کیونکہ یہ انسان کی ارتقائی ضرورت ہے۔ اس کو نیچرل سائنس سے نتھی کرنا کم عقلی ہے۔

ساؤتھ ایشیا اور مڈل ایسٹ میں مذہبی لوگوں کو جعلسازی کی بیماری تو پہلے سے لاحق تھی لیکن جب سے عقلی علوم اور نیچرل سائنسز نے زیادہ ترقی پائی ہے، مذہبیت میں مبتلا افراد کو سائنٹفک اصولوں پر بنی ہر جدید پراڈکٹ کی ایک نام نہاد مذہبی تاریخ اور جعلی نعم البدل تیار کرنے کی بیماری شدید تر ہو کر وباء کی شکل اختیار کر گئی ہے۔

کرونا یا کووڈ نائنٹین وائرس چین کے شہر ووہان اور پھر وہاں سے دنیا بھر میں کیسے پھیلا یہ تو ہم جانتے ہیں لیکن یہ وائرس اپنی موجودہ شکل میں کسے وجود میں آیا، یہ بات حتمی طور پر ہم نہیں جانتے۔ کوئی کہتا ہے کہ کرونا وائرس کا یہ سٹرین جدید ترین سپر کمپیوٹرز کے طاقتور ترین کمپیوٹنگ نیٹورکس پہ کام کرتے مجموعی انسانی ذہانت سے کہیں زیادہ ذہانت اور ڈیٹا رکھتے الگوردمز کی کارروائی ہے۔

کوئی کہتا ہے کہ چینیوں کے چمگادڑ یا دوسرے جانور کھانے سے یہ وائرس ارتقاء پا کر چمگادڑ کے جسم سے ہوتا ہوا انسان کے جسم میں آیا۔

کوئی اسے قدرت کی طرف سے زمینی حیات یا ایکو سسٹم کو اجاڑتے انسان کے لیے قدرت کا انتقام کہتا ہے۔

کوئی عذابِ الہٰی کی وعید دیتا ہے، تو کوئی اسے کسی خلائی مخلوق یا پھر شہابِ ثاقب سے جوڑتا ہے۔

چینی حکام نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے کرونا وائرس کو وباء کے سر اٹھانے کے وقت ووہان شہر میں موجود امریکی فوجیوں سے جوڑ دیا ہے۔

جو بھی ہے، یہ وائرس نسلِ انسانی کو درپیش سب سے بڑا خطرہ بن کر سامنے آ گیا ہے۔

ہیومن کرونا واِئرس کی عالمی وباء فطری ہے یا غیر فطری یہ تو میں نہیں جانتا لیکن مجھے لگتا ہے اس آفت کا یوں اچانک سامنے آ جانا اور دیکھتے ہی دیکھتے ساری دنیا کو لپیٹ میں لے کر مفلوج کر دینا ایک نیو ورلڈ آرڈر کا اعلان ہے۔

اعلان انسانی ہے، خلائی ہے، فطری ہے، غیر فطری ہے یا کوئی خدائی اعلان ہے۔ جو بھی ہے لیکن ہے بہت زوردار۔

پھر سے چلتے ہیں پاکستان کی طرف جہاں بیشتر نوسرباز لمبی لمبی چھوڑ کر پیر، فقیر، گدی نشین، درویش یا کرامتی بنے ہوئے ہیں۔

کرونا وائرس انفیکشن کا کوئی علاج ان میں سے کسی کے پاس نہیں ہے، اس لیے جب تک کرونا کا کوئی ویکسین یا مستند ایلوپیتھک علاج مارکیٹ میں نہیں آ جاتا، تب تک آئسولیٹ ہونا ان اللہ کے خودساختہ دوستوں کی مجبوری ہے۔

اور تصوف کی لائن میں جو تھوڑا بہت کھرا مال ہے، وہ معاشی تنگی اور سوشل آئسولیشن کے لیے پہلے سے ٹرینڈ ہے۔ اس کے لیے آئسولیٹ ہونا مشکل نہیں۔

پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ آج کا مفتی، تبلیغی اور مولوی آئسولیٹ ہو کر کیا کرے گا۔ان میں سے ہر ایک کا کام نماز، روزے اور تبلیغ کی اوٹ میں مجمع لگا کر عوام کو ٹوپیاں پہنانا اور دیہاڑی لگانا ہے۔ معاشی تنگی تو اس گروہ نے کئی دہائیوں سے نہیں دیکھی اور نہ ہی یہ آئیسولیٹ ہونے والا مٹیریل ہے۔ مر جائے گا، مار دے گا، لیکن یہ گروہ پاکستانی معاشرے میں سوشل آئیسولیشن قائم نہیں ہونے دے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *