کرونا اور ہماری زندگیوں پر اثرات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل کرونا کی وجہ سے بہت زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔ بچوں کے اسکول بند ہو گئے ہیں ’امتحانات ملتوی ہو گئے ہیں۔ اور تو اور تفریح گاہیں‘ مارکیٹیں اور کھانے پینے کی دیگر جگہیں بھی بند کر دی گئی ہیں۔ جس سے زندگی صرف گھر کی چاردیواری تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ بچوں نے امتحانات کی تیاری کی ہوئی تھی اب ان کے پاس کرنے کو کچھ نہیں ایسے میں ان کو چاہیے کہ اپنے وقت کو بہتر انداز میں تقسیم کریں دہرائی کا وقت ضرور متعین کریں اپنے مضامین کو سلیبس کو تقسیم کر کے بہتر انداز میں دہرائی کریں ایسا سوچیں کہ ان کو بونس وقت مل گیا ہے اپنی کمیوں کو پورا کر لیں اس کے ساتھ ساتھ خود کو جسمانی اور دماغی کاموں میں مصروف کریں۔

باغبانی ایک اچھا شوق ہے اور موسم بہاراں بھی ہے رنگ برنگے پھولوں سے اپنے آنگن کو سجا سکتے ہیں اس کے علاوہ ہم آن لائن بھی ٹیٹوریل لے کر اپنی دلچسپی سے کچھ نئی مہارت حاصل کر سکتے ہیں ’آرٹیکلز پڑھ کر اپنے علم میں اضافہ کر سکتے ہیں اس کے علاوہ اچھی اور معیاری کتب کا مطالعہ کر کے بھی اپنے وقت کا بہترین استعمال کر سکتے ہیں۔ کتابیں بہترین ساتھی ہوتی ہیں کبھی ہمیں بور نہیں ہونے دیتیں۔ بچیاں یوٹیوب سے ٹیٹوریل دیکھ کر مزیدار کھانے بنا سکتی ہیں قدرت نے ایک موقع دیا ہے کہ ہم اپنی مصروفیت کی زندگی سے نکل کر اپنی مرضی سے اپنے شوق پورے کر سکیں۔ چیزوں کو مثبت لینا اور وقت کا صحیح استعمال کرنا سیکھیں۔

کرونا کا سب سے زیادہ نقصان کاروبار کو ہوا ہے شادی کا سیزن ہے شادی ہالز پر پابندی اور دفعہ 144 کے نفاز کے بعد لوگوں کی پریشانیوں میں اضافہ ہو گیا ہے بہت سارے لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں گزر و بسر مشکل ہو گیا ہے۔ شادی کی تقریبات سادگی میں ڈھل گئی ہیں اور تمام تقریبات گھر کے افراد تک ہی محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔

شادی کو لے کر سب کے ارمان ہوتے ہیں خاص طور پر ایک لڑکی کے ’سجنے سورنے کا شوق ہوتا ہے اپنے اس ایک خاص موقع کو لے کر بہت سارے ارمان ہوتے ہیں شادی کے دن بیش قیمت جوڑا پہننا‘ پارلر سے تیار ہونا ’مایوں‘ مہندی ’ولیمہ‘ فوٹوشوٹ دعوتیں ’سیروتفریح اس طرح کی بے شمار خواہشات۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک خاص دن ہوتا ہے جو زندگی میں صرف ایک دفعہ ہی آتا ہے۔ کرونا کی وجہ سے وہ سارے خواب بکھر کر رہ گئے ہیں۔ کچھ لوگوں نے شادی آگے کر دی ہے جو کر سکتے تھے لیکن ان میں سے کچھ لوگ آگے نہیں کر سکتے تھے ان کو شدید ذہنی اذیت کا سامنا ہے کہ کیا اور کیسے کیا جائے۔

اس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ ہمارے دینِ اسلام نے ہمیں سادگی کا حکم دیا تھا لیکن ہم نے ان رسومات کو بہت بڑھا لیا۔ جس کے بوجھ تلے غریب بے چارہ دب گیا تھا اب وہ وقت ہے جب ہم ان رسومات کو ختم کر سکتے ہیں سادگی کو اپنا سکتے ہیں اور ہمیں لوگوں کی باتوں کا ڈر بھی نہیں ہو گا۔ قدرت نے یہ موقع فراہم کیا ہے کہ ہم خود کو سنوار لیں اور اپنی زندگیوں کو آسان کر لیں ان فرسودہ رسومات سے خود کو آزاد کر لیں۔

میرے خیال میں یہ قدم جو حکومت نے اس وباء کی وجہ سے اُٹھایا ہے اس کو برقرار رکھنا چاہیے شادی کی ’نکاح کی رسم کو آسان بنانا چاہیے تاکہ غریب آدمی باآسانی اپنی بیٹیوں کو رخصت کر سکے۔ بلکہ جہیز کو ختم ہونا چاہیے اس کی جگہ یہ لازم ہونا چاہیے کہ ہم اپنے بچوں کی بہترین تربیت کریں‘ تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں اور ان کو وراثت میں حصہ دیں جو کہ ان کا بنیادی حق ہے۔ قیمتی سامان ’کپڑا‘ زیور خوشیوں کی ضامن نہیں ہو سکتیں۔ گھر کو جنت بنانے میں عورت اور مرد دونوں کا ہاتھ ہوتا ہے لہٰذا تربیت پر توجہ دی جائے تاکہ زندگی خوش و خرم اور سکون سے گزر سکے۔ اس

طرح جو اچھی ’پرسکون زندگی کا جو خواب ہوتا ہے اس کو پائیہ تکمیل تک پہنچایا جا سکتا ہے۔

اگر سوچا جائے تو اللّٰہ نے ہمیں ایک خوبصورت موقع فراہم کیا ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو سنوار کر اسلام کے اصولوں کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ میرے خیال میں اس پابندی کو تھوڑی بہت ترامیم کے ساتھ مستقبل میں جاری رکھا جائے اور حکومت اسی طرح سخت اقدامات کے ذریعے ان احکامات پر عمل بھی کروائے تاکہ نکاح آسان ہو اور غریب آرام سے سکون سے اپنی شہزادیوں کو اپنے گھروں سے رخصت کر کے اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو سکے۔ اسلام کے اصولوں پر چل کر ہی ہم اپنی زندگیوں میں سکون لا سکتے ہیں اور بہت ساری معاشرتی برائیوں کو ختم کر سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *