مجید نے دوست کی دعوت کی۔ ہوشنگ مرادی کرمانی کی کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تحریر: ہوشنگ مرادی کرمانی ترجمہ: عارف بھٹی

ہوشنگ مرادی کرمانی کا تعلق ایران سے ہے۔ وہ بچوں کے مقبول ادیب ہیں۔ ان کی کتابوں پر کئی مشہور فلمیں اور ٹی وی سیریز بنائے جا چکے ہیں۔ یہ کہانی ان کے ایک مقبول کردار ”مجید“ کے بارے میں ہے۔
۔

تین چار ڈول پانی کنویں سے نکالا اور دیوار کے ساتھ بنے ہوئے حوض میں ڈال دیا۔ اپنے کپڑے اتارے اور تھوڑا تھوڑا کر کے، حوض میں سے پانی لے کر اپنے سر اور کندھوں پر ڈالا۔ یہ تازہ پانی صاف، شفاف اور ٹھنڈا تھا اور اس جھلسا دینے والے اس گرمی کے موسم میں خوشگوار لگ رہا تھا۔ جیسے ہی ٹھنڈا پانی میری جلد پر پڑتا تو کپکپی کی ایک لہر سی اٹھتی۔ لیکن پھر کچھ ہی دیر میں جسم عادی ہو گیا اور مجھے لطف بھی آنے لگا۔ بی بی بھی صابن اور تولیہ میرے قریب ہی رکھ گئی۔ میں نہا دھو کر اور صاف ستھرا ہو کر راحت محسوس کرنے لگا۔

ہمیں حاج ماشاءاللہ کے گھر، ان کے بیٹے عبداللہ کی ختنے کی رسم میں شرکت کرنے جانا تھا، اسی دن صبح صبح عبداللہ خود ہمارے گھر ہمیں دعوت دینے آیا تھا۔ اس نہانے دھونے سے فارغ ہو کر اور جسم کو تولیے سے خشک کرنے اور پھر عمدہ کپڑے پہننے کے بعد میں نے خود کو آئینے میں دیکھا۔ اپنے سراپے پر ایک نظر ڈالی اور معلوم یہ ہوا کہ واقعی ہی کیا روپ نکل آیا ہے۔ خود کو آئینے میں صاف ستھرا، نفیس اور مرتب دیکھ کر مجھے بہت لطف آیا۔

میری دادی یعنی بی بی نے ابھی اپنے کپڑے نہیں بدلے تھے۔ وہ کبھی یہاں جاتی تو کبھی وہاں۔ کبھی اِس کمرے میں جا رہی ہے۔ برتنوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ رکھتی ہے تو کبھی مرغیوں اور بھیڑوں کے پاس۔ مجھے معلوم تھا کہ بی بی کو تیار ہونے میں ڈیڑھ دو گھنٹے لگیں گے۔ مجھے خیال آیا کہ اس طرح بن سنور کر دو گھنٹے یہاں گھر میں اور کمرے میں بیٹھ کر خراب کرنے کے بجائے، اس روپ کے ساتھ ذرا دیر کے لئے باہر گلیوں اور سڑکوں کا ایک چکر ہی لگا آنا چاہیے۔ بازار میں تھوڑی سی چہل قدمی، اب آپ سے کیا چھپانا کہ اپنی نمائش کی جائے۔ چنانچہ میں نے بی بی سے کہا، ”تمہارے تیار ہونے تک میں باہر ذرا ہوا خوری کر کے بس ابھی آیا۔ “

بی بی اس وقت دنبے کے سامنے چارا ڈال رہی تھی۔ بولی، ”جلدی لوٹنا۔ “

بہرحال، میں گھر سے باہر نکلا۔ ہمارے گھر کے قریب، گلی میں مجھے میرا ہم جماعت احمد، جو ہمارا ہمسایہ تھا، مل گیا۔ میں نے کہا، ”آؤ ذرا اکٹھے گھومنے چلتے ہیں“۔ اسے کوئی کام تھا۔ وہ اپنے گھر جانا چاہتا تھا۔ چنانچہ اس کی سائیکل لے کر اور یہ وعدہ کر کے کہ، ”بس ابھی آیا اور تمھاری سائیکل واپس کروں گا۔ “

سائیکل پر گلیوں اور سڑکوں کے چکر لگانے لگا۔ کبھی ادھر تو کبھی ادھر۔ واقف کاروں کو سلام کرتا اور ان کا حال احوال پوچھتا جاتا تھا۔ میں سینما کی طرف جانا چاہتا تھا تاکہ یہ دیکھوں کہ انہوں نے کوئی نئی فلم لگائی ہے یا نہیں۔ میں سینما کے باہر لگے پوسٹروں کو بھی دیکھنا چاہتا تھا۔ سڑک پر جاتے ہوئے، اچانک کسی کی آواز سنائی دی، کوئی چلا رہا تھا۔ میں نے سنا کہ ”مجید، مجید! “ کہہ رہا ہو۔ میں فورا رکا۔ مڑ کر دیکھا کہ وہ میرا ایک پرانا دوست ابراہیم تھا۔

ابراہیم آغا اکبری کا بیٹا تھا۔ آغا اکبری ایک بھلے آدمی تھے۔ جب میں اور بی بی گاؤں سے آ کر شہر میں آباد ہوئے تو انھوں نے ہماری کافی مدد کی تھی۔ ہم کافی عرصہ انھی کے گھر ٹھہرے رہے تھے۔ مختصر یہ کہ ان کے ہم پر بہت احسان تھے۔

چنانچہ اسی وقت سے میں اور ابراہیم، جو کہ میرا ہم سال تھا، دوست بن گئے تھے۔ لیکن اب تقریباً دو سال بیت چکے تھے ہمیں ایک دوسرے کو دیکھے ہوئے۔ وہ اپنے والد، آغا اکبری کے ساتھ، جو کہ سرکاری ملازم تھے، کسی دوسرے شہر چلا گیا تھا اور ہم بھی شہر کے اس طرف چلے آئے تھے۔

جب میری نگاہ ابراہیم پر پڑی تو مجھے بے حد خوشی ہوئی۔ میں نے فورا سائیکل کو روکا تاکہ اتر کر اس سے بغل گیر ہوں۔ لیکن میرا پاؤں سائیکل کے اگلے ڈنڈے سے الجھ گیا۔ میں منہ کے بل سائیکل کے اوپر گرا۔ میرے پیٹ میں سائیکل کا پیڈل لگا اور پیٹ میں ایسا درد ہوا کہ خدا کبھی گرگِ بیابان کے نصیب میں بھی نہ کرے۔

ابراہیم نے جب میری یہ حالت دیکھی تو تیزی سے میری طرف بڑھا اور مجھے اٹھانے لگا۔ مختصر یہ کہ بہت تکلیف، مشقت اور ابراہیم کی مدد کے ساتھ میں کسی نہ کسی طرح کھڑا ہوا۔ پیٹ اور پاؤں میں ہونے والے بے انتہا درد کے باوجود، اس درد کی پرواہ کیے بغیر گلے ملا اور حال احوال، خیر خیریت دریافت کی۔

میرے پیٹ میں بری طرح درد ہو رہا تھا۔ میری پتلون خاک آلود ہو چکی تھی۔ میں نے اسے جھاڑا اور آہستہ سے قمیص اٹھا کر دیکھا کہ پیٹ پر چند خراشیں پڑی ہیں اور جلد سرخ ہو چکی ہے۔ لیکن میں نے اسے نظر انداز کیا۔ دوست سے ملاقات اس چیز سے زیادہ اہم تھی کہ بندہ ایسی چیزوں کی طرف دھیان دے۔

ابراہیم نے سائیکل پکڑی۔ میں اس کے پیچھے پیچھے لنگڑاتا ہوا چل رہا تھا۔ ہم آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ میں ابراہیم کو اپنے گھر لے کر جانا چاہتا تھا تاکہ اس کے والد کی ہمارے ساتھ کی گئی محبت کے صلے میں اس کی کچھ خدمت کروں اور یہ کہ بی بی کو بھی اسی سے ملوانا چاہتا تھا تاکہ بی بی کو یہ معلوم ہو کہ وہ کتنا موٹا ہو چکا ہے۔ لیکن اچانک مجھے یاد آیا کہ ہمیں تو حاج ماشاءاللہ کے گھر جانا ہے جس کی وجہ سے اس کی خاطر مدارت نہیں کر پائیں گے۔ چنانچہ اسی وجہ سے میں نے کہا، ”ابراہیم! تم میرے مہمان ہو۔ چل کر فالودہ کھاتے ہیں۔ “ پہلے تو اس نے تکلف کیا، لیکن جب میں اس کے پیچھے پڑا اور کہا، ”لازمی چل کر فالودہ کھانا ہے۔ نہیں تو میں ناراض ہو جاؤں گا۔ “

آخر اس نے میری دعوت قبول کر لی۔ ایک فالودہ کی دکان پر پہنچے جو کہ یہاں نئی نئی ہی کھلی تھی۔ میں فالودے کی دکان کے مالک کو نہیں جانتا تھا۔ یہ دکان صاف ستھری، خوبصورت اور مرتب تھی۔ باقی سب تو ایک طرف، یہاں تک کہ چھت پر بھی شیشہ کاری کی ہوئی تھی۔ میزیں اور ان کے گرد رکھی کرسیاں بالکل نئی اور صاف ستھری تھیں۔ یہ جگہ واقعی کسی کی دعوت کرنے کے قابل اور میزبان کی عزت و آبرو بڑھانے کے لائق تھی۔ تاہم اس شیشہ کاری اور سجاوٹ کے لئے شاید زیادہ پیسے دینے پڑیں اور بٹوے کا منہ زیادہ کھلا کرنا پڑے۔

دکان کے باہر سائیکل کھڑی کی اور پھر کچھ اس تکلف کہ ”پہلے آپ، نہیں پہلے آپ“ کرنے کے بعد ہم اندر پہنچے اور ایک میز کے گرد بیٹھ گئے۔ گلے سے آواز نکالی اور انگلیوں کی مدد سے چند بار میز کو کھٹکھٹایا ہی تھا کہ دکان میں کام کرنے والا ملازم لڑکا آ گیا۔ میں نے کہا، ”ہمارے لیے دو فالودے لے آؤ، ان میں عرق ’نعنا‘ ڈالنا اور میٹھا تیز ہو۔ “

ابراہیم مسکرا کر بولا، ”مجید! کیوں اتنا تکلف کر رہے ہو؟ “
میں نے کہا، ”یہ کیا بات ہوئی ابراہیم؟ یہ فالودہ تمھاری خدمت کے لائق کہاں۔ بی بی گھر پر نہیں ہے ورنہ ہم گھر ہی جاتے۔ “

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *