ہمارے اعمال اور اللّہ کا عذاب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کفر کا نظام تو چل سکتا ہے مگر ظلم کا نہیں، قابلِ افسوس بات تو یہ ہے کہ کفر کا فتوٰی لگانا ہو تو ہم سب آگے آگے ہوتے ہیں کہیں جنونی شکل میں کہیں انتہا پسندوں میں مگر جب بات ظلم کی ہو تو صرف ذرا سا منہ بسور کر دل دکھی ہونے کی فرمیلٹی ادا کرتے ہیں اور پھر سر کان لپیٹ کے یہ جا وہ جا۔

دراصل ہم لاشعوری طور پر اس طرز کے عادی ہو چکے ہیں کہ جب تک آفت ہمارے اپنے سر پر نہ پڑھ جائے ہمیں احساس نہیں ہو سکتا کہ سہنے والوں پر کیا بیتتی ہے۔

ہمیں دوسروں کے برے اعمال تو نظر آتے ہیں مگر اپنے نہیں، ہمارے ملک میں کیسے کیسے مظالم ڈھائے جا رہے ہیں، شہوتوں کا یہ عالم ہے کے نوملود بچے بھی محفوظ نہیں، ہر فرد اپنی جگہ فرعون ہے جس کو موقعہ ملے دوسرے کا حق ضرور غصب کرے گا، تمام اشیاء ملاوٹ زدہ اور اکثر کردار بدبودار ہو چکے ہیں، فحاشی کے اڈوں کی رونکیں اور ہم جنس پرستوں کا بچوں پر بڑھتا استحصال، اور ہر عورت کی کامیابی اور ناکامی کے راستے میں براجمان اپنی خدمات پیش کرنے والے مرد نما بھیڑئیے ہمارے معاشرے کے عکاس ہیں لیکن عذابِ الٰہی کی بات ہو تو ہمیں کفار یاد آجاتے ہیں، اپنے اعمال پر نظر کریں تو اب تک ہمیں نست و نابود ہو جانا چائیے تھا کون سا ایسا عمل ہے جو گزری اقوام نے کیا تباہ ہوئیں اور اب ہم وہ نہیں کر رہے؟ مگر صدقے اس پاک ہستیؐ کے جن کی وجہ سے اس قوم پر ابھی تک پتھر نہیں برسے۔

حالیہ دنیا کرونا وائرس کی متعدی وباء سے نبردآزما ہے۔ جب تک بات دوسروں کی تھی پاکستانیوں نے خوب مذاق بنایا لیکن پھر اللّہ نے اس وباء کا رخ ہماری طرف موڑ دیا حیرت کی بات تو یہ ہے کہ اب بھی پاکستانی اس وباء کی تباہ کاریوں سے خوف نہیں کھارہے اور با ایمان ہونے کے چکر میں بنی اسرائیل کا طرزِعمل اختیار کر چکے ہیں جیسے بنی اسرائیل کو عذابِ الٰہی سے ڈرایا جاتا تو وہ مذاق اڑاتے تھے اور آج ہم بھی تو وہی کر رہے ہیں، جبکہ یہ تو اللّہ سے ڈرنے کا مقام ہے۔

چین جیسا ملک اس وباء سے نمٹ گیا تو ضروری نہیں کہ ہم بھی نمٹ لیں گے کیونکہ نا تو ہم اقتصادی طور پر مضبوط ہیں نا ہی ہمارے اطوار وباوُں پر قابو پانے والے ہیں، عجیب بات ہے کہ ظلم اور گناہ کے وقت ہمیں یاد نہیں ہوتا کہ اللّہ موجود ہے اللّہ دیکھ رہا ہے لیکن احتیاط کی بات آئی تو اللّہ ہے کچھ نہیں ہوگا زندگی موت اللّہ کے ہاتھ ہے بے شک جو کرتے پھرو، ہمارے ایمان کے بھی کیا کیا رنگ ہیں۔ روزگار تو حکومت سے مانگتے ہیں حلانکہ رزق کا وعدہ تو اللّہ نے کیا مگر آج حکومت گھروں میں بیٹھنے کا کہہ رہی ہے تو کھلے سانڈ کی طرح گھومنے کے لئے اللّہ پر بات ڈال کر اپنی بے حسی جسٹیفائی کررہے ہیں۔ جناب اللّہ تو رسولؐ کی آمد مبارک سے پہلے بھی تھا لیکن تمھارے لئے رسولؐ کو بھیجا کہ تمہیں زندگی کا طریقہ سمجھائیں کہ اللّہ کی دی ہوئی زندگی کیسے گزارنی ہے لیکن ہر معاملے میں اپنی مرضی چلا کر ایسے معاملات میں اللّہ کا نام استعمال کرنا ہمارے ایمان کے دوہرے معیار کی گواہی دیتا ہے۔

اس میں شک نہیں کہ اللّہ پر توکل کرنا چائیے اور تقدیر میں لکھا ہو کر رہتا ہے مگر تدبیر بھی تو کوئی شہ ہے؟ اگر سب تقدیر ہے تو بیٹھ جائیں ہاتھ پر ہاتھ دھر کر کیوں رزق کمانے خوار ہوتے ہیں قسمت میں ہوا تو من و سلویٰ آسمان سے اتر آئے گا نہیں تو بھوکے مر جاوُگے یہ بھی تو قسمت ہوگی ناں؟ گھروں میں رات کو دروازے بند کرکے کیوں سوتے ہیں انسانوں اور حیوانوں کا ڈر ہے؟ آج سے دروازے کھلے چھوڑ کر لمبی تان کے سونا ہے حفاظت تو اللّہ کرے گا اور جو ہوگا پھر وہ بھی قسمت ہوگی۔

بھئی کیا کہنے آپ کو تو اپنا ایمان جیسے اصحاب اور انبیاء سے بھی زیادہ مضبوط لگتا ہے، ان کو اللّہ اور اس کی لکھی تقدیر پر تو یقین تھا ہی مگر تدبیر بھی کرتے تھے لیکن آپ تو تدبیر کو مانتے ہی نہیں، کیونکہ آپ کے بقول تو تدبیر غیر مذہب کا دردِ سر ہے آپ تو مزے کریں گے کیونکہ آپ کا تو اللّہ ہے ناں۔

لیکن ہم تو ٹھہرے عادت سے مجبور الزامی جواب تو دینا بنتا ہے ناں؟ کسی نے کیا خوب کہا ہے عقل نہ ہووے تے موجاں ہی موجاں۔

1400 سال پیچھے چلتے ہیں، اللّہ ازل سے ہر چیز پر قادر ہے اور ہمیشہ رہے گا مگر آخری نبیؐ کو بھیجا تو پہلے چھپ کر تبلیغ کرنے کا حکم دیا پھر اعلان کا پھر ہجرت کا پھر جہاد کا پھر عمرہ کے لئے صلح حدیبیہ کا اور پھر فتح مکہ کا۔ اب اگر آج کے مسلمانوں کی طرح سوچیں تو اتنا طویل پراسس کیوں واپس مکہ آنا تھا تو ہجرت کیوں؟ اور جہاد بعد میں کیوں پہلے ہی ہو جاتا نبیؐ کے ساتھ اللّہ کی طاقت تو تھی ہی اصحاب کی کیا ضرورت تھی؟

کفار کے ساتھ صلح کیوں بھلا کیا کسی میں اتنی طاقت تھی کے اللّہ کے رسولؐ کو عمرہ سے روک سکتے؟ یقین جانیئے اللّہ چاہتا تو چٹکیوں میں کر سکتا تھا اور کروا سکتا تھامگر اللّہ ہمارے رسولؐ کے ذریعے ہمیں تقدیر اور تدبیر کو ساتھ لے کر چلنا سکھانا چاہتا تھا، کوشش اور جدوجہد بھی تو دنیا کو سکھانی تھی کیونکہ معجزے انبیاء کے ہوتے ہیں امتوں کے نہیں۔

ہمیں بدر تو یاد ہے کہ اللّہ نے فرشتے بھیجے تھے اور یہاں سے ہم اللّہ پر توکل کرنا سیکھتے ہیں لیکن ہمیں خندق یاد نہیں کہ خندق بھی ہمارے نبیؐ اور ان کے اصحابؓ نے کھودی تھی۔ جو اللّہ جنگِ بدر کے لئے فرشتے بھیج سکتا تھا جنگِ خندق کے لئے بھی بھیج سکتا تھا مگر یہاں اللّہ نے عقل کی نعمت سے استفادہ کروا کر مدد دی اور سکھایا کے عقل بھی میں نے ہی دی ہے اس سے بھی استفادہ کرنا ہے۔

یہ جو انوکھے غازی مٹر گشت کر کے کورونا وائرس سے جہاد کرنے نکل کھڑے ہوتے ہیں خدانخواستہ یہ خود بھی مریں گے اور دوسروں کی موت کا بھی سبب بنیں گے۔ ان کو یہ جان لینا چائیے کہ صرف ڈاکٹرز اور کورونا وائرس کے مریضوں کی ایز اے ڈیوٹی خدمت کرنے والے ہی جہاد کر رہے ہیں باقی جہاد نہیں خودکشی ہے جو لوگ بدمستی میں کریں گے، قسمت قسمت کرنے والے پھر لاکھ ڈاکٹر ڈاکٹر کریں سب بے سود ہوگا۔

کچھ لوگ مسجد میں باجماعت نماز نا ادا ہونے پر کمزور ایمان کے فتوے لگاتے پھر رہے ہیں، پہلی بات تو یہ کہ یہ طرزِعمل نبیؐ کی سنتِ مبارکہ سے ثابت ہے دوسری بات یہ کہ معصوم جانوں پر کھیل کر جو آپ اپنی نمازیں قبول کروانا چاہ رہے ہیں کیا اللّہ قبول کر لے گا؟ کیونکہ اللّہ تو کہتا ہے اپنے حقوق معاف کردوں گا مگر اپنے بندوں کے نہیں۔ کچھ لوگوں کو فکر لگی ہے کہ اس طرح تو لوگ نماز سے دور ہو جائیں گے کچھ لوگ تو محض جمعہ کو مسجد کا رخ کرتے ہیں اب اس سے بھی ہاتھ دھو لیں گے تو سوال یہ ہے کے ایسے نمازیوں کا کرنا بھی کیا ہے کے ایک ماہ یا چند دن نماز باجماعت نا پڑھنے سے نماز کی عادت ہی چھوٹ جائے گی، نماز پڑھنے والوں کو تو بلالؓ جیسا ہونا چائیے جن کو مسجد جانا درکنار قبلہ رخ ہونے کا اختیار بھی نہیں تھا لیکن جسے اللّہ کو یاد کرنا ہو وہ حیلے نہیں ڈھونڈتا، مسجد ایک ماہ کیا سال بھر بھی بند ہو لیکن جب کھلے گی اور موذن کہے گا ”آؤ نماز کی طرف آوُ فلاح کی طرف“ تو اللّہ سے مخلص نمازی سر کے بل دوڑتے ہوئے جائیں گے لہٰذا دوسروں کو دین کے معاملے میں جذباتی ٹارچر نا دیں اور نا ہی کورونا وائرس کے پھیلاوُ کی وجہ بن کر مسلمانوں کی اموات کی وجہ بنیں۔

جو احتیاط درکار ہے اس پر عمل کریں ہمارے پاس مذید وقت نہیں ہے کہ اگر ہم نے اب بھی اس صورتِ حال کی سنگینی کو نا سمجھا تو پھر شاید مرنے اور رونے کے سوا اور کچھ نہیں بچے گا، مذید بے حسی اور لاپرواہی کا یہی مطلب ہوگا کہ ہم اٹلی کی صورتِ حال کو دعوت دے رہے ہیں۔ اور یاد رکھیں ہم وہ ملک نہیں ہیں جو اقتصادی لحاظ سے اتنا مستحکم ہو کے اس وباء پر قابو پا سکے لہذا اپنی مدد آپ کریں، احتیاط کریں گھروں میں رہیں۔ منفی تاثر سے گریز کریں اور مثبت اقدامات کو فروغ دیں۔

اس وباء سے اپنی اور دوسروں کی زندگی کی حفاظتی مہم میں مثبت کردار ادا کریں۔
ہم نے چین اور باقی دنیا کا جو مذاق اڑایا اس پر اللّہ سے توبہ کریں اور دعا کریں کہ مسلمانوں سمیت تمام انسانوں کو اللّہ اس وباء سے ہمیشہ کے لئے نجات دے آمین۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply