مجید نے دوست کی دعوت کی۔ ہوشنگ مرادی کرمانی کی کہانی
”میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ یہ کیا معاملہ ہے کہ جب بھی فالودہ کھانے کے بعد آئس کریم کھاتا ہوں تو میری آنکھوں میں جلن ہونے لگتی ہے اور ان میں آنسو جمع ہونے لگتے ہیں۔ “
ابرہیم نے کہا، ”بڑی عجیب بات ہے میں نے اس سے پہلے ایسا کبھی نہیں سنا۔ “
میں نے کہا، ”ہاں، کچھ لوگ اس طرح کے بھی ہوتے ہیں۔ “
اچانک مجھے سائیکل کا خیال آیا۔ میں نے دل میں کہا، ”شاید یہ فالودہ فروش لوگوں کی سائیکل کو کچھ دیر کے لئے گروی رکھ لے۔ “ چنانچہ میں نے فالودے فروس کے ملازم کو آواز دی، ”آغا! تمہاری دکان میں سائیکل رکھنے کے لئے جگہ ہے؟
اس نے کہا، ”نہیں۔ ہمارے پاس ادھر سائیکل رکھنے کے لئے جگہ نہیں ہے۔ “
سائیکل کے بارے میں یہ معلوم ہو کر کچھ راحت ہوئی۔ میں نے کہا، ”یہاں، اس فالودے کی دکان میں کبھی لڑائی ہوئی ہے؟ “
اس نے کہا، ”نہیں۔ اب تک تو کوئی لڑائی نہیں ہوئی۔ بھلا یہاں جھگڑا کیوں ہو؟ “
میں نے کہا، ”آج ممکن ہے جھگڑا ہو۔ میں نے کل رات خواب میں دیکھا تھا۔ “
ملازم اور ابراہیم دونوں ہنسنے لگے۔ ملازم ہنس رہا تھا کہ استاد، یعنی فالودہ فروش نے ایک کرخت آواز میں کہا، ”کیا کر رہے ہو؟ کام کی طرف دھیان دو۔ کچھ ایسا مت کرو کہ پٹائی کرنے سے مر ہی نہ جاؤ۔ “
ملازم نے اپنا منہ بند کیا اور واپس اپنے کام کی طرف مڑنے لگا کہ میں نے کہا، ”جب جھگڑا ہوتا ہے تو معمولاً بندے کو کس طرح پیٹا جاتا ہے؟ “
وہ مسکرایا لیکن کوئی جواب نہ دیا۔ ابراہیم ہنسا اور کہا، ”مجید تم نے ابھی تک اپنی یہ مذاق کرے کی عادت نہیں چھوڑی۔ اٹھو چلیں۔ “
مار کھانے، گروی رکھنے اور شرمندگی محسوس کرنے کا وقت اب قریب آ چکا تھا۔ میرے ہاتھوں اور پاؤں سے جان نکل چکی تھی۔ ہر ممکن کوشش کر کے ابراہیم کو، کہ جس کی جیب میں ایک تومان کا نوٹ موجود تھا اور پیسے دینے کا بہت اصرار کر رہا تھا، دکان سے باہر بھیجا۔ میں اسے شرمندہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔ میں چاہتا تھا کہ اس کی نگاہوں سے دور ہو کر فالودہ فروش سے التماس کروں۔ لیکن ابراہیم دکان کے بالکل باہر فٹ پاتھ پر کھڑا تھا اور میری جانب ہی دیکھ رہا تھا۔ میں نے اپنی آواز کو بلند کرتے ہوئے کہا، ”ابراہیم! جاؤ ان درختوں کے سایے میں کھڑے ہو۔ یہاں دھوپ میں کھڑا ہونا ٹھیک نہیں ہے۔ میں بس ابھی آتا ہوں۔ “ ابراہیم کو میری بات سن کر متعجب ہوا، سر جھکا کر درختوں کے نیچے پہنچا۔
جب اس کر طرف سے اچھی طرح اطمینان ہو گیا تو میں ڈرتے ڈرتے کاؤنٹر کی جانب بڑھا اور فالودہ فروش کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ فالودہ فروش ایک گاہک کے ساتھ گفت و شنید میں مصروف تھا۔ بھویں غصے میں سکیڑ رکھیں تھیں اور اسے برا بھلا کہہ رہا تھا۔ آخر گاہک نے تلخی میں پیسے کاؤنٹر پر دھرے اور چلا گیا۔ فالودہ فروش نے جب دیکھا کہ میں گردن ٹیڑھی کر کے اور منہ لٹکائے اس کے سامنے کھڑا ہوں۔ تو کہا، ”تمہارے کل آٹھ قران ہوئے۔ “
میں نے سانس کو سینے میں روکا۔ زبان ہونٹوں پر پھیری۔ گلوگیر آواز میں کہا، ”آغا! سائیکل جسے درخت کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا کیا ہے، میری نہیں ہے۔ وہ میرے ایک دوست کی ہے۔ “ میری بات کی اسے سمجھ نہیں آئی۔ ایک کفگیر کی مدد سے اس نے فالودے ایک پیالے میں ڈالا۔ اس پر بوتل سے عرق گلاب ڈالا اور میری طرف ٹکٹکی باندھ کر دیکھا۔ میں نے پھر اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا، ”اگر میں اپنی بیلٹ دوں تو میری ہئیت بگڑ جائی گی اور پتلون نیچے سرک جائے گی۔ بیلٹ قیمتی بھی نہیں ہے۔ جوتے بھی بالکل سستے سے ہیں، پھٹے ہوئے اور سلائی شدہ۔ البتہ میری جرابیں اچھی ہیں۔ بالکل نئی۔ آج پہلی بار ہی پہنی ہیں۔ “
فالودہ فروش جسے میری کوئی بات پلے نہیں پڑ رہی تھی، بولا، ”یہ کیا بات کر رہے ہو؟ تمہارے کل آٹھ قران ہوئے۔ پیسے ادا کرو اور مجھے اپنا کام کرنے دو۔ “
میں نے پیچھے مڑ کر ابراہیم کی طرف دیکھا جو کہ درختوں کے نیچے کھڑا میری طرف ہی دیکھ رہا تھا۔ میں نے آہستہ سے فالودہ فروش سے کہا، ”مہربانی کر کے دکان کی اس طرف آئیے، ایک گزارش کرنی ہے۔ “
فالودہ فروش میرا رنگ، حال اور ہاتھوں اور ہونٹوں کی کپکپی دیکھ کر سمجھ گیا کہ میری حالت ٹھیک نہیں ہے۔ اس نے اپنا کام چھوڑا اور میرے پیچھے دکان کے دوسرے کونے کی طرف آیا۔ میں نے کہا، ”آغا! اگر مجھے مارنا ہے تو یہیں پر ماریں۔ دکان کے سامنے ٹھیک نہیں ہے۔ ابراہیم دیکھ لے گا اور میری عزت جاتی رہے گی۔ میرے چہرے پر مارو گے تو نشان پڑ جائے گا۔ ابراہیم سمجھ جائے گا کہ تھپڑ پڑا ہے۔ “
فالودہ فروش حیران ہوا میری طرف دیکھ رہا تھا۔ آہستہ آہستہ اس کی شکل اور آنکھیں مہربان تر ہوئی گئیں۔ اس نے کہا، ”کیا بات ہے بیٹا؟ مجھے بتاؤ! “
میں نے کہا، ”میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔ لیکن مہمان ہے۔ دو فالودے اور دو آئس کریم کھائیں ہیں۔ پیسے ہیں لیکن ساتھ لانا بھول گیا ہوں اور اب بہت ڈرا ہوا ہوں۔ میری بات کا یقین کریں میں جھوٹ نہیں بول رہا ہوں۔ “
میں انتظار کر رہا تھا کہ ابھی فالودہ فروش کا بھرا ہوا چھوٹی اور موٹی انگلیوں والا ہاتھ پیچھے جائے گا اور پھر صاف میرے چہرے کے طرف آئے گا اور میری آنکھوں کے سامنے تارے ناچنے لگ پڑیں گے۔ میں انتظار کر رہا تھا اور سوچ رہا تھا۔ لیکن اس کے برعکس فالودہ فروس ہنسا اور اس کے سامنے کے دو سونے کے دانت دکھائی دیے۔ اس نے کہا، ”خیر ہے۔ کوئی بات نہیں بیٹا۔ میں اپنے گاہکوں کو اچھی طرح پہچانتا ہوں۔ فالودے اور آئس کریم کے پیسے جب ہوئے دے جانا۔ “
آپ کو میں یہ بتا نہیں سکتا کہ میں کس قدر خوش تھا۔ جیسے خدا نے اپنی دنیا مجھے دے دی ہو۔ میرا دل چاہا کہ آگے بڑھ کر فالودہ فروش کے ہاتھوں کو بوسہ دوں۔ اس کی شکل میرے لئے بالکل تبدیل ہو چکی تھی۔ وہ دنیا کا مہربان ترین شخص بن چکا تھا۔ میں نے فورا کہا، ”بہت شکریہ آغا! “
میں دکان سے باہر نکلا۔ سائیکل پکڑی، ابراہیم بخیر خوبی خدا حافظ کہہ کر رخصت ہوا۔ اور میں اپنے اتارے ہوئے ان کپڑوں کے پاس پہنچا۔ پانچ قران جیب سے نکالے اور تین قران بی بی سے لیے۔
فالودہ فروش کی دکان پر پہنچ کر آٹھ قران دے اور کہا، ”یہ لیجیے آغا! یہ رہے آپ کے پیسے۔ لیکن آغا! آپ تو ایک مہربان دل رکھتے ہیں۔ لیکن اپنی شکل اور حلیہ آپ نے یوں اس طرح کا کیوں بنا رکھا ہے؟ میں تو واقعی آپ سے کافی ڈر گیا تھا۔ “
وہ جواب میں صرف مسکرایا اور پھر اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔ میں نے آئینے میں خود کو دیکھا۔ عکس میں خود کو خوش دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ میں دکان سے باہر نکلا اور گھر کی طرف چل دیا۔

