وبا کے دنوں میں سیاحت


مارچ کے ان آخری دنوں میں انٹرنیٹ پر دنیا بھر کا نقشہ کھولے میں یہ غور و فکر کر رہا ہوتا تھا کہ اس بار گرما کی چھٹیوں میں کہاں جایا جائے۔ دنیا بھر کے اتنے بہت سارے ملک دامنِ دل کھینچ کر کہتے تھے کہ جا ایں جاست۔ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا تھا۔ اس بار ان دنوں دنیا کا نقشہ کھولوں تو یہی سوال میرے سامنے ہوتا ہے کہ کہاں جایا جائے۔

سوال وہی ہے لیکن اس بار اس سوال کا مطلب بدل چکا ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب دنیا کے کئی ملکوں میں لوگ ایک وبا سے ہلاک ہو رہے ہیں مجھے سیاحت کی کیا سوجھی؟ سیاحت تو فرصت کے دنوں کا کام ہے، ایسے لوگوں کا جن کے پاس فراغت بھی ہو اور دولت بھی۔

سیاحت کا یہ وہ مطلب ہے جو ہمارے معاشرے میں رائج ہے۔ میں سیاحت سے کچھ اور مراد لیتا ہوں۔

میلان کنڈیرا نے اپنے ناول ”وجود کی ناقابلِ برداشت لطافت“ میں لکھا کہ ہمارا بحران یہ ہے کہ ہم جن لفظوں کا مطلب کچھ سمجھتے ہیں ان کا مطلب کوئی اور کچھ اور سمجھتا ہے۔ اب لفظ ’سیاحت‘ ہی کو دیکھیے۔ اس کا مطلب تفریح لیا جاتا ہے اور بڑی حد تک یہ ہے بھی۔ لیکن دنیا کے بڑے سیاح کسی اور ہی غرض سے سیر و سیاحت کیا کرتے تھے۔ بس سمجھیے کہ آتش کے الفاظ میں : تپشِ دل مجھے ناچار لیے پھرتی ہے، والا معاملہ تھا۔ اب یہ تپشِ دل کیا ہے، یہ اپنے اپنے ذوق پر منحصر ہے۔

میرے نزدیک سیاحت میری وہ جلاوطنی ہے جسے میں سفر کے ذریعے اپنے باہر بھی پھیلا دیتا ہوں۔ جیمز جوئس نے جلاوطنی کو ادیب کے لیے ضروری قرار دیا تھا۔ یہ بات مجھے بہت بعد میں معلوم ہوئی کہ اس جلاوطنی کے لیے ملک سے باہر مستقل طور پر چلے جانا ضروری نہیں، بل کہ آپ اپنے ملک کے اندر رہتے ہوئے بھی خود کو جلاوطن محسوس کر سکتے ہیں۔ میں اپنی دھرتی، اپنے لوگوں سے محبت کے باوجود اپنی تنہائیوں میں خود کو ان سے کٹا ہوا محسوس کرتا ہوں۔ وہ مجھے ایسی کہانیوں کی طرح لگتے ہیں جن کے انجام پہلے سے معلوم ہوں۔ میں انھیں ان کے حسرت ناک انجام کی جانب بڑھتے دیکھتا ہوں اور کچھ کر نہیں پاتا۔ کچھ کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو لوگ میری زبان کو اجنبی بتاتے ہیں اور کبھی طعن و دُشنام آزماتے ہیں۔

ایسے میں دور دراز کے شہر مجھے بلاتے ہیں۔

دور دراز کے ان شہروں میں دور دراز کے دوسرے شہروں کے کھوئے ہوئے لوگ آتے ہیں۔ اپنے اپنے شہروں کے اجنبی، اپنے اپنے شہروں کے آؤٹ کاسٹ، اپنے آپ میں گُم۔ وہ جو ایسے نہیں تھے ان کی تنہائیاں ان کے موبائل فون نے بانٹ لیں۔ اب وہ دنیا بھر میں اکیلے بھی سفر کریں تو ان کے چُنیدہ ہم جولی، ان کی سلیکٹ گیدرنگ موبائل فون کی ڈبیا میں اُن کے ہم راہ ہوتی ہے۔ سو کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ پورا دن گزر جاتا ہے اور اجنبی شہر کے اجنبی راستوں پر کسی سے بات بھی نہیں ہو پاتی۔ ن م راشد نے جو کہا تھا کہ : ایسا سناٹا کہ اپنا نام یاد آتا نہیں۔ یہ تجربہ مجھ پر بیتا ہے کہ دن بھر کی خاموشی کے بعد ایک نئے شہر پہنچا اور ہوسٹل والے نے نام پوچھا تو ایک دو لمحے کے لیے یہ بھی یاد نہ رہا کہ اسے کیا بتانا ہے۔

پھر بھی سیاحت مجھے پسند ہے۔ جب پورے شہر میں کوئی آپ کا نام بھی نہ جانتا ہو تو خود سے نئے سرے سے پوچھنے کا موقع ملتا ہے کہ ہاں بھئی آپ کون ہیں، کیا چاہتے ہیں۔ انھی خاموشیوں میں مجھے معلوم ہوا کہ مجھے تاریخی مقامات سے زیادہ لوگ پسند ہیں۔ اجنبی لوگ جنھیں سارا دن بھی دیکھا کیجیے تو پلٹ کر نہیں پوچھتے کہ میاں خیریت ہے؟ جانتے ہیں کہ مسافر ہے، ٹریولر ہے۔ چاہے دن بھر چپ ہی رہیے مگر شہر کی سڑکیں ناپنا شروع کیجیے تو ات سے بات نکلتی چلی جاتی ہے۔

ون سونّے لوگ، ون سونّی عادتیں۔ کچھ شہروں کے در و دیوار باتیں کرتے ہیں اور کچھ شہروں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ جیسے یہاں پہلے بھی آئے ہوں۔ کچھ شہروں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ایک زندگی یہاں بھی گزاری جا سکتی تھی۔ کچھ شہروں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ہماری زندگی تو یہیں تھی اور وہ شہر جو پیچھے چھوڑ آئے ہیں وہاں خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سُنا افسانہ تھا۔

ایک غلط فہمی کا ازالہ اور کرنے کی کوشش کر لی جائے۔ ہمارے ہاں سیاحت کا ایک مطلب ایسی عیش کوشی ہے جس کے صرف بہت صاحبِ ثروت لوگ ہی متحمل ہو سکتے ہیں۔ اکثر لوگ سیاحوں کو دیکھتے اور حسرت سے سوچتے ہیں کہ ان کے پاس بھی پیسے ہوتے تو وہ بھی بیرون ملک جاتے۔ نہ صرف میرے نزدیک بل کہ دنیا بھر کے زیادہ تر سیاحوں کے نزدیک بھی سیاحت کا یہ مطلب ہرگز نہیں۔ سج سنور کر، اور بٹوے میں رقم دیکھ کر سیاحت شاید ہمیں کرتے ہیں کیوں کہ ہم ابھی سیاحت کے مزاج سے بہت دور ہیں۔

میں نے یورپ میں زیادہ تر سیاحوں کو پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس اپنی کمر پر بھاری سامان باندھے دیکھا ہے۔ اسی میں ان کا بستر ہوتا ہے اور کپڑے بھی اور اکثر کھانے پینے کا سامان بھی۔ صحیح معنوں میں درویشی کی صفت انھی میں دیکھی۔ کیمپنگ کرنے والے طالبِ علم اپنا خیمہ اپنی کمر سے باندھے گھومتے ہیں۔ بہت سے سیاحوں کے پاس اپنی سائیکل ہوتی ہے اور وہ اس پر میلوں سفر کرتے ہیں۔ یورپ میں لوگوں کو ان کے بچپن سے ہی کیمپنگ سکھائی جاتی ہے اور وہ اکیلے لمبے لمبے سفر کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔

ان کے لیے سیاحت نہ صرف ایک معمول کا واقعہ ہے بل کہ انھیں یہ بھی معلوم ہے کہ سیاحت کے لیے روپے پیسے سے پہلے آپ کے ارادے اور مزاج کی اہمیت ہے۔ یورپ میں خاص طور پر اتنے قسم کی سیاحت دست یاب ہے کہ آپ چاہیں تو لاکھوں ڈالر صرف کر کے ایک بھی شہر کی مکمل سیر نہ کر پائیں اور چاہیں تو چند سو ڈالروں میں کئی شہر گھوم لیں۔

میں جب یورپ کے پہلے سفر پر روانہ ہوا تھا تو میرے پاس ایک سوٹ بھی تھا۔ میں سب سے پہلے جرمنی کے شہر برلن اُترا تھا اور وہاں سے ایک صحافتی کانفرنس کے لیے بون گیا تھا جہاں میں نے بہ صد ناز اس سوٹ میں تصویریں بھی بنوائیں۔ بعد کے اسفار میں ہوٹل سستے سے سستے تر اور کپڑے کم سے کم تر ہوتے چلے گئے۔ اب بس چار چھے قمیصیں اور تین چار پتلونیں رکھتا ہوں اور مہینے بھر کے سفر پر چل پڑتا ہوں۔ چار پتلونوں کی جگہ دو نیکریں زیادہ کارکُشا و کارساز ثابت ہوتیں لیکن اپنے جسم پر کپڑوں کی مقدار دیگر سیاحوں کو دیکھنے کے بعد بھی کم نہیں کر سکا کیوں کہ میں دیکھ چکا ہوں کہ نیکر پہنے انڈین مرد اور خواتین، یورپی نیکر پوشوں کے مقابلے میں خاصے بے ڈھب لگتے ہیں۔

دو ہزار اٹھارہ میں یورپ میں تیس روز گزارے تو تیس سے چالیس یورو یومیہ پر ہوٹل بک کرانے میں زیادہ تکلیف محسوس نہیں ہوئی تھی۔ مگر دو ہزار انیس میں اکتیس روز گزارنے یہاں دوبارہ آیا تو نہ صرف میڈیا میں تن خواہیں کم ہو چکی تھیں بل کہ ڈالر کے مقابلے میں روپیہ بھی پٹخنیاں کھا کھا کر ادھ موا ہو چکا تھا، سو مجھے طالب علموں کے ہاسٹلوں میں بکنگ پرمجبور ہونا پڑا۔ دس یورو یا اس سے بھی کم یومیہ پر ملنے والے ان ہوسٹلوں میں ایک ہی کمرے میں بہت سے بستر لگے ہوتے، صبح کا ناشتہ مفت ملتا، اور کوئی نہ کوئی گفتگو کرنے والا بھی مل جاتا۔ ان ہوسٹلوں میں قیام کے بعد میں زمانہ ء حال کی بین الاقوامی سیاحت کے اصل رنگ سے آگاہ ہوا۔

اس برس سوچا تھا کہ اہل خانہ کو بھی ساتھ لے کر سفر کروں گا، لیکن اس برس ڈالر اور بھی بیش قیمت ہو چکا جب کہ ملکی اور ذاتی معیشت اور بھی خراب ہو چکی۔ بچے بہت چھوٹے ہوں تو انھیں ساتھ لے کر سفر کرنا، سفر کا لطف غارت کر دیتا ہے۔ اب بچے کچھ بڑے ہیں اور میری خواہش ہے کہ انھیں حیران ہونا سکھاؤں کہ حیرت سوال پیدا کرتی ہے اور سوال انسان کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ انھیں دنیا کے سیاحتی کلچر سے روشناس کراؤں تا کہ وہ زندگی کی مختلف اور اجنبی صورتوں کا مشاہدہ کریں اور اپنے ذہنوں میں وہ کشادگی پیدا کریں جس سے آج یورپ اور امریکا ہی نہیں بلکہ چین اور جاپان کے نوجوان بھی بہرہ مند ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ وہ اپنی زندگی میں پڑھائی اور کام کے ساتھ ساتھ دنیاکے مشاہدے اور تفریح کے لیے بھی گنجائش پیدا کریں۔

اس برس عالمی نقشے میں میری نظر ایران پر ٹھہری تھی۔ ایران جہاں میں دو ہزار پندرہ میں جا چکا تھا۔ اب تک میں جتنے ملکوں میں گھوم چکا ہوں ان میں مجھے ایران سے زیادہ سستا ملک اور کوئی نہیں ملا، کینیا اور تنزانیہ بھی نہیں۔ میرا خیال تھا کہ ہم کوئٹہ اور تافتان کے راستے مشہد جائیں گے اور پھر وہاں سے تہران۔ پھر کیسپئین کے کنارے سے ہوتے ہوئے اہواز جائیں گے اور اگر آذربائیجان کا ویزا بھی مل گیا تو ایرانی سرحد پار کر کے باکو تک بھی ہو آئیں گے۔ لیکن کورونا کی وبا چین کے بعد ایران میں بھی پھوٹ پڑی تو ایران کے نقشے پر خطرے کا نشان آ گیا۔

میرا اگلا انتخاب انڈونیشیا تھا۔ سترہ سو سے زیادہ جزیروں کا ملک انڈونیشیا جس کا نام آتے ہی لوگوں کو مندروں کا جزیرہ بالی یاد آتا ہے۔ لیکن انڈونیشیا اور بھی تو بہت کچھ ہے۔ یہاں جکارتہ سے سفاری کی جاتی ہے اور بچے استوائی جانوروں اور پرندوں کو ان کے اصل ماحول میں دیکھ سکتے ہیں۔ انڈونیشیا میں بارانی جنگلات ہیں، مُردہ آتش فشاں ہیں، اورنگوٹان بندر ہیں اور پھر کموڈو ڈریگن ہے جو کموڈو آئی لینڈ میں پایا جاتا ہے۔

ڈیوڈ ایٹن بورو نے اپنی خودنوشت میں کموڈو ڈریگن سے اس جزیرے پر ملاقات اور اس کی فلم بندی کا بہت دلچسپ احوال لکھا ہے۔ کموڈو جزیرے پر اہلِ خانہ کے ساتھ جانا آسان نہیں مگر ننھے محمد علیان کو جانوروں کی ڈاکیومینٹری فلمیں دیکھنے کا شوق ہے، ڈائنوسار کے بعد کموڈو اس کا پسندیدہ ترین جانور ہے اور وہ اس کی دید کا مشتاق۔

لیکن اس دوران انڈونیشیا میں کموڈو ڈریگن سے زیادہ خطرناک کورونا وائرس اپنے پنجے گاڑ کربیٹھ گیا۔

اب حال یہ ہے کہ دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں بچا جہاں کورونا کی وبا نہ پہنچی ہو۔ ان حالات میں اگر اس وبا پر قابو پا بھی لیا جائے تو دنیا بھر میں سیاحت کی بحالی میں کچھ وقت لگے گا۔ اب مسلسل یہ خطرہ موجود رہے گا کہ کورونا کی وبا پھر سے نہ پھوٹ پڑے کیوں کہ یہ وبا ایسی دو دھاری تلوار ہے کہ لگتی آسانی سے ہے اور جاتی مشکل سے ہے۔ اب انفلوئنزا کی طرح اس کی ویکسین ہی تیار ہوئی تو شاید دنیا کورونا سے پہلی والی دنیا جیسی ہو سکے۔ ورنہ زیادہ تر ملک سخت بارڈر کنٹرول اور ہوائی ٹریفک پر پابندیوں کی طرف جا چکے ہیں۔

کچھ ہی ماہ پہلے تک یہ بات ناقابلِ تصور تھی کہ دنیا کے تقریباً تمام ملک، دوسرے ملکوں کے باشندوں کے لیے سفری پابندیاں لگا دیں گے بل کہ خود اپنے ملک کے باشندوں سے بھی کہیں گے کہ اپنے شہروں یا اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ کسی عالمی جنگ کی صورت میں بھی کچھ ملک یقینی طور پر ایسی پابندیوں سے محفوظ رہ جاتے، لیکن کورونا نے پوری دنیا کا نقشہ بدل دیا۔ غالب نے کہا تھا: اب میں ہوں اور ماتمِ یک شہرِ آرزو۔ میرا شہرِ آرزو تو یہ پوری دھرتی تھی جس کا کونا کونا دیکھنے کا میں نے خواب دیکھا تھا۔ ایمیزون کے جنگل تھے، استوائی گنی کی ناممکن پہاڑیاں تھیں، بحرالکاہل کے کنوارے جزیرے تھے۔ کیا کچھ تھا جسے دیکھے بغیر یہ آنکھیں مرنا نہیں چاہتیں۔

مارچ کے ان اختتامی دنوں میں اب میں بدلی ہوئی اس دنیا کا ایک اور نقشہ دیکھتا ہوں۔ ایک نقشہ جس میں ہر ملک کے نام کے ساتھ اس ملک میں موجود کورونا کے مریضوں کی تعداد لکھی ہے۔ وہ سارے ملک جو دامنِ دل کھینچتا کرتے تھے اب دامن کش ہیں۔ ہم تو بس یہ چاہتے تھے سیر کے واسطے تھوڑی سی فضا اور سہی۔ لیکن اب سیر کی فضا تو کیا، کہیں جائے اماں بھی نہیں۔
میر دلی سے نکلے، گئے لکھنؤ؛ہم کہاں جائیں گے، تم کہاں جاؤ گے

Facebook Comments HS