کرونا وائرس اور دھرتی ماں کی کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نظام شمسی کے اندر زمین وہ واحد سیارہ ہے، جہاں زندگی اپنے پورے جوبن اور ترنگ کے ساتھ موجود ہے۔ آج سے ساڑھے چار ارب قبل زمین کی پیدائش کے وقت ایسا نہیں تھا۔ کائنات جس کی کوکھ سے نظام شمسی اور پھر ہماری زمین نے جنم لیا تھا، بے پروا اور بے رحم ہے۔ ہماری ماں زمین نے اپنی نوعمری سے لے کر جوان ہونے تک بہت دکھ سہے۔ اور زندگی کو پیدا کرنے کے قابل ہوتے ہوتے اس پر کیا بیتی یہ کروڑوں صدیوں پر محیط ایک طویل داستان ہے۔ اگر اس کہانی کو چند الفاظ میں بیان کرنا ہو تو یوں ہوگی:

۔ ”پیدائش کے وقت ہماری دھرتی ماں ایک کالی چٹان تھی جس کی سطح سے ہر وقت لاوے ابلتے رہتے تھے۔ اس کا درجہ حرارت بارہ سو سنٹی گریڈتھا اور اس کے اردگر فضا میں کاربن ڈائی آکسائڈ، نائٹروجن اور آبی بخارات تھے۔ اور زندگی کا کوئی امکان نہ تھا۔

پھر کروڑوں سال بعد ایک دور ایسا بھی آیا جب زمین ٹھنڈی ہونا شروع ہوگئی۔ کئی لاکھ سال تک زمین یخ بستہ گلئشیر بنی رہی۔

پھر کئی کروڑ سال بعد جب زمین کا درجہ حرارت معتدل ہوا تو اس کی کوکھ میں زندگی کے آثار پیدا ہوئے۔ اس کی سطح پر موجود پانی کے ذخائر میں پہلے پہلے نباتات اور پھر حیوانات پیدا ہونے شروع ہو گئے۔ یہ ارتقائی عمل مزید کئی ایک کروڑ سال جاری و ساری رہا۔ ”

تین لاکھ سال قبل جب دھرتی ماں کے ہاں انسان کی صورت میں پہلے پہلے بچے ظہور پذیر ہوئے تو وہ بہت خوش ہوئی تھی۔ پھر اس نے اپنی تمام جوانی۔ جولانی اور توانائی اپنے بچوں کی پرورش پر صرف کردی۔ اس نے انسان کے اپنی موجودہ شکل اختیار کرنے سے قبل اس کے کھانے پینے کے لیے طرح طرح کے پھل، سبزیاں اور دیگر نباتات فراوانی سے پیدا کر رکھی تھیں تا کہ اس کی اولاد کو زندہ اور صحتمند رہنے کے لیے کوئی دقت پیش نہ آئے۔ مگر انسان کو زندہ اور صحتمند رہنے کے لیے اپنی سوتیلی ماں فطرت کا سامنا تھا۔ کائنات کی طرح بے رحم تھی۔

اپنی سوتیلی ماں کے مظالم سے بچنے اور زندہ رہنے کے لیے انسان نے سردی، گرمی، بھوک، پیاس اور قدرتی آفات سے بچنے کے لیے تدابیر کرنی شروع کر دی۔ یوں جذبہ بقاء اور بے رحم فطرت کے ساتھ نبرد آزمائی سے انسانی دماغ کا ارتقاء ہزاروں سال تک جاری رہا۔

دھرتی ماں کو سب سے زیادہ خوشی اس وقت ہوئی جب انسان نے ایک لاکھ سال قبل شعورجیسی نادر صلاحیت حاصل کر لی۔ تمام بچوں کے مقابلے میں انسان ایک ذہین، قدرے شرارتی اور متجسس بچہ تھا، اس لیے یہ دھرتی ماں کے دل کو بہت لبھاتا بھی تھا۔

پھر کوئی پانچ ہزار سال قبل انسانوں نے پانی کے زخائر کے آس پاس بستیاں بنانے کا آغاز کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے عظیم الشان محلات، راحت کدے اور شہری بستیاں آباد ہونی شروع ہو گئیں۔

مگر اس کے ساتھ سا تھ بادشاہتیں، مذاہب او ر فوجیں بننی شروع ہوگئیں۔ اب دھرتی ماں کو تشویش ہوئی، کیونکہ اس کو پہلی د و اشیا ء سے اکثر کمزور بچوں کا استحصال ہوتا نظر آیا۔ وہ کچھ لوگ جو طاقتور تھے وہ عام اور کمزار اکثریت کو کنٹرول کرنا چاہتے تھے۔

جب کہ فوجیں آپس میں لڑنے اور دوسرے علاقے کے وسائل پر قبضہ کرنے کے لیے بنائی گئی تھیں۔ دھرتی ماں کا خدشہ درست ثابت ہوا۔ اس نے دیکھا کہ اس کے بچے طمع، حرص او ر لالچ میں مبتلا ہو کر اکثر لڑ پڑتے ہیں او ر دوسرے علاقوں میں موجود ذرائع رزق پر قابض ہونے کے لئے اپنے ہی بھائیوں کا خون بہانے سے باز نہیں آتے۔

گزشتہ صدی میں اس کے بچوں نے دو عالمگیر جنگیں بھی کیں جن میں لاکھوں انسان کام آئے۔ اپنے سینے پر ایٹم بم جیسے تباہ کن ہتھیاروں سے اپنے ہی بچوں کے ہاتھوں اپنے جیسے دوسرے انسانوں کی ہلاکتیں اور بچوں کو معذور ہوتا دیکھ کر دھرتی ماں بہت روئی تھی۔ پھر مذہب کے نام پر اپنے بچوں کا بہیمانہ قتل و غارت دھرتی ماں کے لیے ایک اور غم تھا، جس کے بارے سوچ سوچ کر وہ اکثر کڑھتی رہتی۔ وہ سوچتی کہ اس کے بچوں نے مذہب کے نام پر اپنے بھائیوں کو جتنا قتل کیا ہے وہ دو عالم گیر جنگوں کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں سے کہیں کم ہے۔

اٹھارویں صدی میں برپا ہونے والے صنعتی انقلاب کے بعد دھرتی ماں کے بچوں نے اپنی زندگی کو آسودہ بنانے کے لیے بہت تیز رفتاری سے ترقی کی۔ انسان نے ذرائع نقل و حمل اور مواصلاتی نظام میں حیرت انگیز ترقی حاصل کر لی۔ اب وہ مہینوں کی بجائے گھنٹوں میں ایک شہر سے دوسرے شہر پہنچ جاتے، ہزاروں میل دور بیٹھے دو افراد ایسے بات کرتے جیسے ایک کمرے میں موجود ہوں۔ انسانی زندگی تیزی سے ترقی کرنے لگی، بہت سے شارٹ کٹ ایجاد ہوگئے۔ مگر وقت بچنے کی بجائے کم پڑ گیا اور دھرتی ماں کی دیکھ بھال اور خبر گیری کے لیے کسی کے پاس وقت نہیں تھا۔ دھرتی ماں دو عالمی جنگوں سے اتنی پریشان نہیں ہوئی تھی جتنی گئی صنعتی ترقی سے ہوئی۔ کیونکہ اس ترقی نے اس کے سارے جسم کو لاغر کرنا شروع کردیا تھا۔

زمین نے محسوس کیا کہ اس کے ارد گرد فضا میں ہر روز ایک لاکھ کے قریب جہاز اڑتے جو لاکھوں ٹن کاربن ڈائی آکسائڈ جیسی گرین ہاؤ س گیس فضا میں چھوڑ دیتے ہیں۔

جب کہ اس کے پانیوں میں سفر کرتے بحری جہاز جو تقریبا اتنی ہی تعداد میں ہیں پانی اور فضا کو آلودہ کر نے میں کسی سے پیچھے نہیں۔

مگر دھرتی ماں کی تکلیف ختم نہیں ہوئی سب سے زیادہ تکلیف دھرتی ماں کو ان ڈیڑھ ارب گاڑیوں اور ریل گاڑیوں سے ہوئی جو اس کے جسم کو چیر پھاڑ کر بنائی گئی سڑکوں، سرنگوں اور پٹریوں پر دوڑتی پھرتی ہیں اور ہر روز ہزاروں ٹن کاربن ہوا میں چھوڑ رہی ہیں۔

دھرتی ماں کو دکھ تھا کہ اس کا سب سے لاڈلا اور ذھین بچہ اس کے جسم پر غلاضت پھیلانے کے اعتبار سے جانوروں سے آگے نکل گیا۔ وہ فیکٹریوں سے خارج ہونے والے زہریلے مادے کو تلف کرنے کا نہیں سوچتا بلکہ جنگلات تلف کرنے کے در پہ رہتا ہے جو آکسیجن پیدا کرنے کا واحد ذریعہ ہیں۔

اس کو تشویش تھی کہ ترقی کی دوڑ اور اس ساری گہما گہمی میں دھرتی ماں کا خیال انسان کو نہیں تھا۔ وہ نہ تو اس کی صفائی کا خیال رکھتا اور نہ اس کے ارد گرد فضا کو مکدر ہونے سے بچانے کا کوئی خاطر خواہ بندو بست کرتا۔ اس کو سانس لینے بھی دشواری ہوتی اور بیمار بھی رہنے لگی۔

پھر ایک دن اس کی سوکن فطرت کی کارستانی سے ایک عجیب وبا ء دھرتی ماں کے سینے پر پھوٹی۔

کرونا نامی وائرس انسان کی سانس کی نالی میں داخل ہو کر پھیپھڑوں پر حملہ آور ہو جاتا۔ اس وباء سے وہ لوگ زیادہ متاثر ہوئے جو قدرے زیادہ عمر اور کم قوت مدافعت کے مالک تھے۔ دو ماہ میں پوری دنیا میں چار لاکھ کے قریب لوگ متاثر اور چار ہزار کے قریب ہلاک ہو گئے۔

اس وباء نے چین سے شروع ہو کر آہستہ آہستہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ پوری دنیا کے ڈاکٹر اور سائنسدان اس وباء پر قابو پانے کی تدابیر کرنے لگے۔ وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ جب تک وہ اس وائرس کا توڑ معلوم نہیں کر لیتے تمام دنیا کے لوگ اپنے اپنے گھروں تک محدود ہو جائیں۔ لوگوں نے ڈاکٹروں اور حکومتوں کے مشورے پر عمل شروع کردیا، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دھرتی ماں کو صاف ہوا ملنے لگی،

جب اس کی سانس ہموار ہوئی تو اس نے دیکھا کہ شور شرابہ اور غلاظتیں بھی اس کے جسم سے دور ہو رہی ہیں۔ کیونکہ ہوائی جہازوں، بحری جہازوں، گاڑیوں اور ریل گاڑیوں کی آمدورفت نصف رہ گئی تھی۔

اگرچہ دھرتی ماں اس وباء سے قدرے پریشان ہے۔ مگر دو باتوں پر وہ مطمئن بھی ہے :

ایک یہ کہ اس کے بچے اپنی عقل اور سائنسی ترقی سے اس وباء پر قابو پا لیں گے جیسا کہ انھوں نے چودھویں صدی میں طاؤن جیسی موذی بیماری پر قابو پا لیا تھا جو اس وقت کا نصف یورپ ہڑپ کر گئی تھی۔ اس کے بعد بھی مختلف ادوار میں مختلف عالمی وباؤں پر قابو پانے کا انسانی ریکارڈ مایوس کن نہیں ہے۔

دوسرا اطمینان دھرتی ماں کو یہ ہے کہ اس کی اولاد اس المیے سے ضرور کچھ نیا سیکھے گی۔ نہ کہ اس پر قابو پانے کے بعد بھول جائے گی۔

اس کی خواہش ہے کہ انسان اپنا طرز زندگی اور سوچ میں کچھ تبدیلیاں لائیں :

انسان دھرتی ماں کے وسائل کو ضائع نہ کریں۔

اگر وہ ایندھن کا استعمال اسی رفتار سے کرتے رہے تو ایک سو سال بعد تیل کے تمام ذخائر ختم ہو جائیں گے۔

انسان صرف ضروریات کو مد نظر رکھ کر زندگی گزاریں نہ کہ خواہشات پر۔

اس تیز رفتار زندگی کی دوڑ میں سے کچھ وقت نکال کر کچھ اپنے آپ پر اور کچھ اپنے پیاروں پر صرف کریں۔

رنگ، نسل، مذہب اور زبان پر مبنی تعصبات اور دشمنیاں ختم کر کے ایک کنبے کی طرح مل جل کر رہیں اور بڑے ممالک اور ترقی یافتہ ممالک، چھوٹے اور ترقی پذیر ممالک کے وسائل رزق چھیننے کے لیے ان پر جنگیں مسلط نہ کریں،

اور تمام انسان مل کر دھرتی ماں کو امن، سکون اور محبت کا گہوارا بنانے کے لیے سنجیدہ کوششیں کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *