آپ ہی بتائیے کہ مختارا کیا کرے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگرچہ ندیم افضل چن صاحب نے کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کے حوالے سے نہایت موثر انداز میں ’مختیارے‘ کو سمجھایا تھا، مقدور بھر ڈرایا بھی تھا کہ گھر میں رہو، باہر نہیں نکلنا مگر مختارا سمجھتا ہی نہیں ہے۔ قصور مختارے کا بھی نہیں ہے۔ حکومت تو لاک ڈاؤن کرکے بیٹھ گئی۔ اب بازاربند ہیں، کاروبار بند ہیں، روزگار بند ہیں، مختارا جائے تو کدھر جائے لیکن جب چوبیس گھنٹے گھر میں پڑا رہے گا تو بچے بھی ایک دوسرے سے پوچھیں گے کہ یہ آدمی کون ہے جو ان دنوں ہمارے گھر میں لیٹا رہتا ہے، اس کی تصویر بھی ہمارے فیملی فوٹو میں ہے۔ ایسی باتیں سن کر مختارا غصے میں گھر سے باہر نہیں نکلے گا تو اور کیا کرے گا۔

دیکھیں! کھانا پینا صحت اور زندگی کے لیے ضروری ہے۔ مگر مختارا روکھی سوکھی کھا کر اپنی روکھی پھیکی زندگی کے چند لمحات پان، سگریٹ اور نسوار سے رنگین بنانے کی ناکام کوشش کرتا ہے تو اس میں کسی کا کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ دھیان میں رکھیے کہ مذکورہ بالا اشیا کے حصول کے لیے گھر سے نکلنا لازم ہے۔ اب باہر جائے تو پولیس کی مار اور سوشل میڈیا والوں کی پھٹکار کا نشانہ بنتا ہے۔ بالفرضِ محال مطلوبہ اشیا حاصل کر کے گھر پہنچ جائے اور سگریٹ سلگا لے تو بیوی کی للکار سنائی دیتی ہے کہ خبردار جو گھر کے ماحول کو آلودہ اور دھواں دار کیا۔ اب وہ باہر نہ جائے تو کیا کرے۔

ان دنوں مختارا اپنی زوجہ محترمہ کو بھی یوں دیکھتا ہے جیسے چڑیا گھر میں کوئی محفوظ فاصلے سے آہنی سلاخوں کے پیچھے خونخوار شیرنی کو دیکھتا ہے۔ جیسے ہی چھ فٹ سے فاصلہ کم ہو زوجہ اپنی کھردری آواز میں گنگناتے ہوئے تنبیہ کرنے لگتی ہے۔

”پاس نہیں آئیے

ہاتھ نہ لگائیے

کیجیے نظارہ دور دور سے

کیجیے اشارہ دور دور سے ”

مختارا دل مسوس کر رہ جاتا ہے اور زیرِ لب ’کورونا‘ کو ایک موٹی سی گالی دے کر کہتا ہے، ”جا وے کورونا تیرا ککھ نہ روے“۔

مختارا ٹی وی لگائے تو چاہے جتنے بھی چینل بدل لے اسے ایک ہی خبر دکھائی دیتی ہے۔ کورونا سے ڈراتے ہوئے اینکر چیخ چیخ کر اعلان کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ آج کورونا نے فلاں ملک میں اتنی دہشت پھیلائی اور فلاں شہر میں اتنے لوگوں کا قتلِ عام کیا۔ مختارے بے چارے کا دل بڑا کمزور ہے۔ وہ خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ کورونا تو اسے بعد میں دبوچے گا اس سے پہلے ہی وہ ڈر سے مر جائے گا کیوں کہ اس نے سن رکھا ہے ’جو ڈر گیا وہ مر گیا‘ مختارا مرنا نہیں چاہتا اس لئے ڈر، خوف اور دہشت کے ماحول سے بچنے کے لیے وہ فلمیں دیکھتا ہے۔ کبھی جوش میں آ کر فیس بک پر اعلان کر دے کہ میں فلمیں دیکھ رہا ہوں تو لوگ اس کا مذاق اڑاتے ہیں، ملامت کرتے ہیں، شدید مذمت کرتے ہیں کہ دنیا ایک آفت میں مبتلا ہے اور تم فلمیں دیکھ رہے ہو۔ اللہ اللہ کرو۔

مختارا اپنے دین کے حوالے سے بڑا حساس ہے۔ وہ چاہے دس روپے کا ماسک چار سو روپے میں بیچ دے، کورونا کے متوقع علاج کی دوا کا نام سن کر اسے مارکیٹ سے غائب کر دے، جھوٹ بول لے، ملاوٹ کر لے، کسی کا حق مار لے، چوری چکاری، زنا الغرض کچھ بھی کر لے لیکن وہ نمازباجماعت ادا کرنے کے ثواب سے دستبردار ہونا پسند نہیں کرتا۔ دنیاداری کی باتیں تو ہوتی رہتی ہیں لیکن آخرت کو سنوارنے کی سعی کرنا بھی ضروری ہے۔

اب سفری پابندیوں کی وجہ سے حج و عمرے کے لیے جانا موقوف ہوا۔ نہ جانے یہ پابندی کب تک رہے گی۔ نماز باجماعت ادا کرنے کی سعادت تو حاصل کی جا سکتی ہے۔ حکومت کی طرف سے ایسی پابندیاں لگانا کہ مسجد میں جمعہ نہ پڑھیں یا باجماعت نماز ادا نہ کریں، اگر جانا ہے تو پانچ افراد نہ سے زیادہ نہ ہو، اس طرح کی شرطیں مختارے کے دل کو ٹھیس پہنچاتی ہیں۔ اور پھر وبا کے دنوں میں، دکھ، مصیبت اورآفت کے زمانے میں تو دعا کرنے اور اللہ توبہ کرنے کی ضرورت بہت زیادہ ہوتی ہے۔

یوں تو گھر میں بھی عبادت کی جا سکتی ہے مگر باجماعت نماز ادا کرنے کے ثواب سے محروم ہونا بھی کوئی اچھی بات نہیں۔ جہاں تک کورونا کا معاملہ ہے تو اگر مختارے کی دعائیں قبول ہو جائیں تو کورونا مختارے کو چھو بھی نہیں سکتا۔ اسی لیے مختارا گھر سے نکلتا ہے۔ باہر اہلکار ڈنڈے سوٹے لیے اس کے منتظر ہوتے ہیں۔

سو! اے صاحبانِ دانش و بینش مختارے پر ’ناحق تہمت ہے مختاری کی‘ وہ بے چارہ تومجبورِ محض ہے اور ہر طرح سے تعاون کے لیے تیار ہے۔ اس نے قوم کے وسیع تر مفاد میں فیصلہ کیا ہے کہ خدا نخواستہ اسے نزلہ، زکام، کھانسی وغیرہ کی شکایت ہوئی تو گھر میں خود ہی علاج کر لے گا۔ کورونا کا ٹیسٹ نہیں کروائے گا کیوں کہ ٹیسٹ کروانے کے لیے اس کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ ٹیسٹ پازیٹو آ گیا تو حکومت کو مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا کیوں کہ حکومت کے پاس مطلوبہ مقدار میں وینٹی لیٹر نہیں ہیں۔ بہرحال مختارے کو اطلاع ہو کہ ایک اخباری خبرکے مطابق حکومت نے ہر ضلعے میں پندرہ سو تابوت تیار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کوئی مختارا مدفون ہونے کے انتظار میں گل سڑ نہ جائے۔ مختارے پر اس خبر سے بھی پینک اٹیک کا خطرہ ہے۔ اب آپ ہی بتائیے کہ مختارا بے چارہ کیا کرے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply