وقت آگیا ہے کہ ریاست سے سرکاری مذہب کا تصور ختم کیا جائے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مذہب میں بہت کچھ ایسا ہے جس کی تعریف میں بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے۔ لیکن جب بات غریب اور امیر کی آتی ہے تو مذہب غریب کے لئے تو ایک فلسفہ ہے۔ ایمان ہے۔ یقین کی بات ہے۔ اس کا جینا بھی ہے اور مرنا بھی۔ لیکن جب یہ امرإ جاگیردار حکومتی اداروں ملٹری اور ملاّ الائنس کے ہتھّے چڑھتا ہے تو صرف اور صرف عوام الناس کو کنٹرول میں رکھنے ان کی چیختی آوازوں کا گلا دبانے اور ان کی مزاحمت کو گستاخی سے تعبیر کرنے کے کام آتا ہے۔ پھر مذہب صوفیانہ نظامِ زندگی نہیں بلکہ ایسی حکمتِ عملی بن کر رہ جاتا ہے جس سے لوگوں کا منہ حسبِ ضرورت بند کیا جا سکتا ہے۔

اسٹیٹ اپنے آپ کو خدا کا نمائندہ اور ایسا دیوتا بنا دیتی ہے جس پر سوال اٹھانا نا ممکن ہے۔ جان لیں آپ سوال اٹھائیں گے تو مرتد کہلائیں گے بھلے آپ کے سوال کا مذہب سے کوئی تعلق بھی نہ ہو۔ بھلے آپ بھوکے ہوں روٹی مانگتے ہوں یا پھر مظلوم ہوں اور انصاف کے طلبگار ہوں۔ مذہب کے نام پر ہم نے کیسا معاشرہ قائم کیا ہے جس میں نہ عدل ہے نہ انصاف۔ جابر حاکم جب حکم دے سرکش کو گستاخ بنا کر اس کا سر تن سے جدا کردے۔ یہ مذہبی انتہا پسندی کی ایسی آگ ہے جو معاشرے کو نگل گئی ہے۔ سیاستدان بھی مذہب کے کندھے پر بندوق رکھ کر چلاتا ہے۔ کہیں نظامِ مصطفیٰ کی باتیں ہوتی ہیں تو کہیں ریاستِ مدینہ کی۔

جرنلسٹ کمیونٹی نے جب عمران خان سے سوال کیا کہ کرونا سے کون لڑے گا؟ تو انہوں نے کہا۔ اللّہ۔ اپنی نا اہلی کو مذہب کی آڑ میں چھپا لیں، لوگ اظہار کی آزادی مانگیں تو انہیں سخت سزاٶں کی دھمکی لگا دیں۔ یعنی کہ مان لیں کہ حکمران پر سوال اٹھانا جرم ہے۔ وہ خود کو زمین پر اللّہ کا نائب قرار دے تو کون کمبخت سوال اٹھا کر اپنی کم بختی لائے۔ ہر لیول پہ مذہب لوگوں کو کنٹرول کرنے کا ایسا آزمودہ نسخہ ہے جس میں اب شک کی گنجائش نہیں بچی۔ گدی نشین اپنی پیرخانے کی سیاست سے لوگوں کو کنٹرول کرتا ہے۔ عام انسان کے لئے فقیری کا درس ہے اور اپنے لئے طاقت کا جنون اور دولت کا نشہ۔ ریاستی ادارے مزاحمتی قوتوں کو کچلیں تو مذہب کے نام پر۔

آپ نے اکثریتی اور سرکاری مذہب کا چولا اوڑھ رکھا ہے تو آپ پاکستانی بھی ہیں اور وفادار بھی۔ غیر مسلموں کے ساتھ سلوک اور جبری مذہب کی تبدیلی توایک طرف، سرکاری مذہب میں بھی آپ کسی اقلیتی فرقے سے ہیں تو آپ کے پاس جینے کا حق نہیں ہے۔ آپ جس دھرتی پر رہتے ہیں۔ وہ مذہب سے متصادم کیوں بتائی جاتی ہے۔ آپ کی لسانی اور علاقائی شناخت آپ کی پہچان ہے اس کا مذہب کے ساتھ موازنہ بے بنیاد ہے۔ سوال یہ ہے کہ لوگوں کی ثقافتی شناخت زیادہ پائیدار ہے یا وہ نظریاتی تشخص جو ریاستی طاقت کے ذریعے ان پہ مسلط کیا گیا ہے۔

کیا یہ نظریات ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ جی نہیں۔ مسئلہ تو صرف امیر اور غریب کا ہے۔ غریب کو روٹی کی بجائے فلسفہ دیجئیے۔ نظریے سے اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں۔ لفاظی سے اس کا پیٹ بھرا جائے۔ تاکہ وہ اپنے جائز حق کے لئے بھی نہ لڑ سکے۔ صبر اور شکر اچھی عادتیں ہیں۔ لیکن کسی کا حق صبر کی تعلیم کے دم پر سلب نہیں کیا جا سکتا۔ غریب کو کیا چاہیے؟ روٹی مذہب یا فلسفہ؟

مذہب سے ہم معاشرے کو کتنا سنوار سکے ہیں؟ سوال مذہب پر اعتراض کا نہیں۔ مذہبی کارڈ کے غلط استعمال کا ہے۔ اب وہ وقت آگیا ہے کہ یورپ کی طرح ریاست کے سرکاری مذہب سے پیچھا چھڑا لیا جائے۔ کیونکہ مذہب کے نام پر سیاست سے کوئی بڑا جرم بھی نہیں ہے اور یہ ایسا جرم ہے جس کے لئے کوئی عدالت بھی نہیں ہے۔ مذہب کا کارڈ ایک ایسا کارڈ ہے جس کے آگے ریاست بھی گھٹنے ٹیک دیتی ہے۔ بلکہ اس کو اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لئے استعمال بھی کرتی ہے۔ پاکستان اگر کسی پارسا شخص کا خواب ہے تو اس خواب کے عذاب جھیلنے کو کوئی مسیحا سامنے کیوں نہیں آتا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

3 thoughts on “وقت آگیا ہے کہ ریاست سے سرکاری مذہب کا تصور ختم کیا جائے

  • 01/04/2020 at 10:03 pm
    Permalink

    ریاست کا مذھب سے اور مذھب کا ریاست سے کوٸ واسط نہیں ہونا چاھیے۔ اکثر ریاست کے ٹھکیدار مذھب کارڈ استعمال کرکے اپنے مفادات حاصل کرتے ھیں۔ اکثریت اور اقلیت کے چکر میں اکثر میرٹ کا قتل ھوتا ھے۔ اقلیت کے قابل لوگوں کو اھلیت ھونے کے باوجود اسلیۓ اگنور کر دیا جاتا ھے کہ تم قابل اور لاٸق تو ھو، لیکن اقلیت کا کوٹہ نہیں یا کم ھے اس لیۓ تم سے کم میرٹ لسٹ والے اکثریت کے بندہ کو سلکٹ کیا جاٸیگا۔ تم دنیا کی کسی بھی عدالت میں چلے جاٶ تمہارا کچھ بھی نہیں ھوسکتا۔ ہوسکتا ہے میری بات اکثریت کے لوگوں کو بری لگے لیکن کھرا سچ یہی ھے۔

  • 05/04/2020 at 9:41 am
    Permalink

    بہت ھی عمدہ تحریر. مذھب, جو پيغمبر لائے تھے, اب اپنی اصل شکل میں کہیں بہی نہیں تو کوئی بہی اسٹیٹ اسکو نافذالعمل نھیں کر سکتی۔ اب یہ صرف خدا اور فرد کا معاملہ ھو چکا, اس کے لئے (يعنی عبادت کے لئے) کوئى بهی اسٹیٹ منع نهيں کرتی۔اسٹیٹ اور امراء کلاس کے لئے مذھب کا کردار ايک استحصالی قوت کے علاوہ کچھ نہیں, جو عوام کے حقوق چھيننے کے علاوہ ان کو بس جاھل رکھتا ہے اور سائنسی سوچ سے دور رکہتا ھے۔

  • 11/04/2020 at 11:58 am
    Permalink

    ریاست کا مذہب سے اور مذہب کا ریاست سے تعلق ناگزیرہے۔ جو ممالک ان دونوں الگ کرنے کی بونڈی کوشش کررہے ہیں وہ عملی طور پرایسا کچھ چابت نہیں کر سکے۔ بھارت اپنے آپ کو سیکولر ریاست کہتا ہے مگر وہاں عملی طور پر ہندووں کی برتری کو سپورٹ کیا جاتا ہے۔ مغرب کے کئی ممالک سیکولر ہونے کے دعوے دار تو ہیں مگر عملی طور پر وہاں کسی نہ کسی مذہب کی عمل داری موجود ہے۔ صرف فرق یہ ہے وہاں پر حکومت کسی بھی مذہب کو سپورٹ نہ کرنے کا دعوی کرتی ہے۔ مندرجہ بالا مضمون میں مصنفہ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کچھ حقائق کو نظر انداز کر گئیں ہیں۔ لاک ڈاون پر عمل نہ کرنا کسی مذہب کی وجہ سے نہیں بلکہ جہالت کی وجہ سے۔ بڑے بڑے مذہبی علماء تو اس کے حق میں فتوی دے چکے ہیں۔ جامعۃلازھر سے بھی اس کے فتوِی آیا ہے۔ اب جو نام نہاد علماء اس کی مخالفت کر رہے ہیں، ان کے خلاف کاروائی ہونی چا ہیئے۔ دوسری طرف اٹلی تو ایک سیکولر ریاست ہے۔ وہاں پر بھی تو لوگ لاک ڈائوں پر عمل نہیں کر رہے تھے۔ اسی طرح سننے میں آ رہا ہےکہ لو گوں کو گھروں تک محدود رکھنے کے لئے فرانس نے سڑکوں پر شیر چھوڑ دئیے ہیں۔ اب فرانس تو سیکولر ریاست ہے۔ اسی طرح فلپائن کی حکومت کی طرف سے لاک ڈائون کی مخالفت کرنے والوں کو گولی مارنے کی دمھمکی دی گئی ہے۔ اب ، فلپائن کوئی مذہبی ریاست ہے؟ بات یہ ہے کہ انسان جبلی طور پر کسی پابندی کو پسند نہیں کرتا اس کا مذہب سے کیا تعلق۔ رہی بات لاک ڈائون پر عمل نہ کرنے کی تو اس کی وجہ حکومت کی کمزوری ہے۔ چین میں لاک ڈائون کامیاب اس لئے ہوا کہ یہ ایک کمیونسٹ ملک ہے۔ یہاں پر حکومت جو کہ دے اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔ شخصی آزادی کا تصور حکومت کے سامنے مو جود ہی نہیں ہے۔ اسی لئے چین میں یہ حکمت عملی کامیاب رہی۔ دوسری طرف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں بھی تو کچھ حد تک کامیابی ملی ہے نا۔ اس کی وجہ بھی حکومت کی کار کردگی ہے نہ کہ مذہب سے لا تعلقی۔ اب سعودی عرب تو شریعت نافذ ہے۔ پھر بھی پچھلے جمعہ کو مکہ اور مدینہ میں کرفیو لگانا پڑا۔ لہذا حکومت یا پالیسیوں کی ناکامی کو کسی مذہب کے ساتھ نہ جوڑا جائے تو بہتر ہے۔ دوسری طرف اگر وزیراعظم نے یہ کہا ہے کہ کورونا کے مقابلے میں اللہ بہتر کرے گا تو یہ بات یاد رکھئیے کہ اسبابِ دنیا کو استعمال کئے بغیر اللہ سے کسی معجزے کی امید کرنا سراسر جہالت اور غیر اسلامی طریقہ ہے۔ چنانچہ سورۃالنجم میں ارشا د ہے کہ انسان کے لئے وہی کچھ ہے جس کے لئے وہ کوشش کرے۔ لہذا قرآن خود اسبابِ دنیا کے استعمال اور کوشش پر زور دیتا ہے۔ اسی طرح حدیث میں آتا ہےکہ پہلے اونٹ کی رسی کو مظبوطی باندھو اور اس کے بعد اللہ سے دعا کرو کہ اونٹ چوری نہ ہو جائے۔ آخر میں میں یہ ہی کہوں گا انسانی کو تاہیوں کو مذہیب پر نہ ڈالا جائے تو بہتر ہے۔ یہ ایک غلط رویہ ہے اور راہ فرار اختیار کرنے کے مترادف ہے۔ اب بھارت سمیت دنیا کے کئ سیکولر ممالک میں لاک ڈائون اُتنا کامیاب نہیں جتنا ہو نا چا ہئیے تھا، اس کی کیا وجہ ہے؟ دوسری طرف سعودی عرب ار متحدہ عرب امارات جو کہ حقیقت میں مذہبی اور اسلامی ریاستیں ہیں وہاں اتنا کامیاب کیوں ہے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *