مشرقی اور مغربی طرزِ زندگی کا بنیادی فرق کیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زیبا شہزاد بنام خالد سہیل 

محترم ڈاکٹر خالد سہیل صاحب!

گذشتہ دنوں ویمن ڈے گزرا ہے۔ ویسے تو یہ دن ہر سال مختلف ملکوں کی خواتین اپنے اپنے انداز سے مناتی ہیں۔ لیکن دوسال پہلے یہ ”وبا“ جب پاکستان میں داخل ہوئی تو کسی نے اس پر اتنا دھیان نہیں دیا، لہذا گذشتہ سال اس دن کی طرف توجہ دلانے کے لئے ایسے نعرے لائے گئے کہ جس کی بازگشت پورا سال سنائی دیتی رہی اور اگلے سال سب اس دن کی طرف متوجہ ہو ہی گئے، بلکہ کچھ حلقے خوفزدہ دکھائی دیے کہ پچھلے سال جیسا کچھ نہ ہو جائے۔

جیسے جیسے آٹھ مارچ قریب آرہا تھا، لوگ عجیب سے ہیجان میں مبتلا ہو رہے تھے، ہنگامہ سا ہنگامہ تھا، کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی، میڈیا انڈسٹری مچھلی منڈی میں بدل چکی تھی، جہاں دو گروہ اپنی اپنی پراڈکٹ کی تشہیر کر رہے تھے۔ دو گروہ آمنے سامنے تھے، ہر کسی کے پاس اپنا بیانیہ تھا۔ یوں لگتا تھا طبل جنگ بج چکا اور دونوں گروہ ہتھیار اٹھائے مرنے مارنے کو تیار ہیں۔ ہرگروہ خود کو حق پر سمجھ رہا تھا اور انتہا یہ تھی کہ دونوں گروہ انتہا پہ تھے، کوئی بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھا۔

ان کے بیانات، جملہ بازی سے لگتا تھا کہ ویمن ڈے نہیں آرہا کوئی آفت آرہی ہے جس سے بچاؤ کے لئے احتیاطی تدابیر کی جا رہی ہیں۔ حالانک اگر نارمل رہا جاتا تو کچھ بھی نہیں ہونا تھا کچھ خواتین پلے کارڈز اٹھا کر آتیں، نعرے لگاتیں اور واپس چلی جاتیں، لیکن ہلہ گلہ کرنے کی شوقین قوم نے حسب عادت، حسب روایئت تماشا لگادیا۔ خواتین سے متعلقہ مسائل پر بات کرنے کی بجائے دونوں گروہ خواتین کے جسم کے آر پار دیکھتے رہے۔

پلے کارڈز اٹھا کر بڑے بڑے نعرے لگانا بہت آسان کام ہے لیکن اصل مسائل کی نشاندہی کرنا اور پھر ان کے حل کے لئے کام کرنا مشکل ہے، اور مشکل کام کرنے کے ہم عادی نہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اگر دن منا ہی رہے ہیں تو پسماندہ علاقوں میں رہنے والی خواتین کے مسائل پر بات کی جاتی، خواتین کو صحت کے متعلق آگاہی دی جاتی، خواتین میں تعلیم کی اہمیت اجاگر کیا جاتا، کم اجرت پر کام کرنے والی خواتین کو شعور دیا جاتا کہ بظاہر برانڈڈ نظر آنے والی ان دیسی میموں کو دست کاری کے ذریعے اپنا ہنر اونے پونے داموں نہیں بیچنا، بلکہ ان سے فائدہ اٹھانے والوں سے اپنا پورا حق، پورا معاوضہ وصول کرنا ہے۔

اگر ریپ ہوجاتا ہے یا ان پر تشدد کیا جاتا ہے تو اس پر انھیں کیا کرنا چاہیے، کس طرح قانون کا سہارا لے کر مجرموں کو سزا دلوانی ہے، ایسے عنوانات پر تقاریر کی جاتیں، جائیداد سے حصہ کیسے لینا ہے اس بارے معلومات دی جاتیں، میڈیا پہ ایسے پروگرام پیش کیے جاتے کہ خواتین اپنے حقوق سے آگاہی حاصل کرتیں۔ لیکن نہ جی ایسے موضوعات کو تو چھیڑا بھی نہیں گیا۔ مردوں کے برابر حقوق کا مطالبہ سرفہرست رہا، ایسے نعرے ہائی سوسائٹی سے تعلق رکھنے والی خواتین کا تھرل تو ہو سکتے ہیں خواتین کے مسائل کا حل نہیں، کہ عورت کچھ بھی کر لے مرد کے برابر نہیں آسکتی، یہ قدرت کا قانون ہے اس پر بحث فضول ہے۔

حق تو یہ تھا کہ عورت کو اس کا جائز حق ملنے کی بات کی جاتی۔ لیکن ایک اچھا دن جینز اور حجاب میں الجھ کر رہ گیا۔ دونوں فریقین ایک دوسرے پہ الزام لگاتے رہے۔ عورت مارچ کرنے والوں کا خیال تھا کہ یہاں عورت ذات شدید خطرے میں ہے یہاں کے مرد نے عورت کو محکوم بنا رکھا ہے سو اسے ہر حال میں مرد سے آزادی چاہیے۔ جبکہ مخالفین کو یقین تھا کہ اس مارچ سے عورت ذات ہی کو خطرہ نہیں بلکہ عورت کے ساتھ اسلام کو بھی خطرہ ہے، جو یہ مارچ بہا لے جائے گا، اورمارچ کرنے والی یہ چند خواتین مغربی ایجنڈا لے کر آئی ہیں، ان کے پیچھے مقصد یہ ہے کہ یہاں کی عورت بے باک ہوجائے، وہ یہاں کی عورت کو مغرب کی عورت جیسا بنانا چاہتی ہیں، جس سے ان کا خاندانی نظام تباہ ہو کر رہ جائے گا۔

یہاں ہر کوئی مغرب سے ڈرا بیٹھا ہے لیکن حقیقت بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ وہاں کا طرز معاشرت کیا ہے، وہاں آزادی ایک حد تک ہے یا ساری حدیں پار ہو چکیں، وہاں کی عورت کیسی ہے، اس کا طرز زندگی کیسا ہے، وہ اپنے خاوند کے ساتھ مخلص ہوتی ہے یا اپنے ساتھی کے ہوتے ہوئے مختلف مردوں سے جنسی تعلقات بھی رکھتی ہے۔ ان افواہوں کی اصل حقیقت عام لوگ نہیں جانتے کہ مغرب کی زندگی کیسی ہے، سب سنی سنائی پر ایمان لا چکے ہیں۔ زیادہ تر مفروضوں پر بات کی جاتی ہے۔

ڈاکٹر صاحب آپ چونکہ کافی عرصہ سے کینیڈا میں مقیم ہیں، نفسیاتی معالج بھی ہیں، ادب سے بھی خاص انسیت رکھتے ہیں، مختلف طرح کے لوگوں سے آپ کا واسطہ رہتا ہے اور دیگر مغربی ممالک میں بھی آپ کا آنا جانا لگا رہتا ہے آپ نے وہاں کے معاشرے کو قریب سے دیکھا ہے تو آپ سے گزارش ہے کہ مغرب کی عورت کے رہن سہن اس کی ازدواجی، معاشرتی زندگی پر تفصیل سے روشنی ڈالیں۔ ویسے تو ہر خطے میں رہنے والوں کا اپنا الگ طرز زندگی ہوتا ہے۔

ممکن ہے جو چیز یہاں ٹھیک ہو، دوسرے خطے کے رہنے والے اسے غلط سمجھتے ہوں، اور جو چیز جو فعل کسی دوسرے خطے میں مقبول ہو اسے ادھر اچھی نگاہ سے نہ دیکھا جاتا ہو۔ لیکن مغرب سے متاثرہ اور مغرب سے خائف گروہوں کے درمیان ہماری خواتین فٹبال بن گئی ہیں وہ فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں کہ انھیں کس طرف جانا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہمارے یہاں کی عورت خود فیصلہ کرے کہ اسے کس طرح کی طرز زندگی چاہیے َ، اسے اپنے لئے کیا چاہیے کہ مشرق کے رہنے والے ہوں یا مغرب کے انسانی حقوق و فرائض تو سب کے لئے یکساں ہیں۔ اور ہوسکتا ہے آپ کا مغربی معاشرے پر غیر جانبدارانہ تجزیہ، اور مشرقی طرز زندگی کا ذاتی تجربہ ہمارے ہاں کی خواتین کو مدد فراہم کرسکے، وہ یہ فیصلہ کرنے میں آسانی محسوس کریں، کہ اس کے ہاں کا مرد اس کے لئے ٹھیک سوچتا ہے یا آزادی کا نعرہ لگانے والی چند خواتین۔

زیبا شہزاد

٭٭٭             ٭٭٭

ڈاکٹر خالد سہیل بنام زیبا شہزاد

۔ ۔ ۔

محترمہ زیبا شہزاد صاحبہ!

میں آپ کا تہہِ دل سے شکر گزار ہوں کہ آپ نے مجھے ایک تفصیلی خط لکھا اور مجھ سے عورتوں کی آزادی اور مغربی طرِزِ زندگی کے بارے میں چند اہم سوال کیے۔

اس سے پہلے کہ میں آپ کے سوالوں کے جواب دوں میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ اپنے تمام تر نظریاتی اختلافات کے باوجود میں آپ کے ’ہم سب‘ پر چھپے کالم باقاعدگی سے پڑھتا ہوں اور آپ کی تحریروں میں ڈھکے چھپے طنزو مزاح سے محظوظ بھی ہوتا ہوں۔

جہاں تک عورتوں کی آزادی و خود مختاری کا تعلق ہو ایک انسان دوست ادیب ہونے کے ناتے میرا موقف یہ ہے کہ چاہے وہ مشرقی عورتیں ہوں یا مغربی انہیں انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کا پورا حق ہے اور مردوں کو ان کی جدوجہد میں ان کی مدد اور حوصلہ افزائی کرنی چاہیے تا کہ ہم ایسے معاشرے قائم کر سکیں جہاں مردوں اور عورتوں کوبرابر کے حقوق و مراعات حاصل ہوں اور دونوں مل کر ایک پرامن معاشرہ قائم کر سکیں۔

آپ اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ میں نے آدھی زندگی مشرق میں اور آدھی زندگی مغرب میں گزاری ہے۔ مجھے دونوں معاشروں اور ثقافتوں میں رہنے کا تجربہ ہے۔ میں اپنے تجربے ’مشاہدے‘ مطالعے اور تجزیے سے جن نتائج پر پہنچا ہوں وہ آپ کے سامنے پیش کیے دیتا ہوں۔ یہ میری ذاتی رائے ہے، کسی ماہرِ سماجیات کی رائے نہیں ہے۔ آپ کو میری رائے سے اختلاف کا پورا حق ہے۔ میری نگاہ میں ہر انسان کی انفرادی زندگی اس کی خاندانی اور سماجی زندگی سے جڑی ہوئی ہے۔ اس لیے وہ ایک دوسرے کو متاثر کرتے رہتے ہیں۔ ہر انسان کے حقوق و مراعات اس سماج کی معاشی ’سماجی اور سیاسی زندگی کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔

جب میں مشرقی اور مغربی ثقافت ’پہلی اور تیسری دنیا یا امیر اور غریب ممالک کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو مجھے ان کے باسیوں‘ خاندانوں اور معاشروں کے رہن سہن میں کچھ بنیادی خصوصیات نظر آتی ہیں جو ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔

مجھے لگتا ہے کہ مشرقی معاشرہ ’جہاں میں پلا بڑھا ہوں‘ وہاں اب تک اجتماعی زندگی کو فروغ دیا جاتا ہے۔ ان معاشروں میں اجتماعی زندگی کو انفرادیت پر فوقیت دی جاتی ہے۔ اسی لیے جب بھی گروہ اور فرد میں اختلاف ہوتا ہے تو معاشرہ فرد سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ اپنی ضروریات ’خواہشات اور خوابوں کو گروہ کے لیے قربان کر دے۔

اجتماعی نظام کا دوسرا رخ یہ ہے کہ کسی فرد کو اپنی ضروریات ’خواہشات اور خوابوں کو خاندان یا برادری پر قربان کرنے کے بعد اگر اسے کسی مدد کی ضرورت ہوتی ہے تو پورا خاندان اور برادری اس کی مدد کو حاضر ہوتے ہیں اور اسے سہارا دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ مشرق کے کئی علاقوں میں تین نسلیں آج بھی ایک ہی محلے یا شہر میں قریب قریب رہ رہی ہیں اور کسی بھی خوشی یا غم کے موقع پر سب رشتہ دار ایک ہی جگہ جمع ہو جاتے ہیں اور ایک دوسرے کی مدد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس نطام میں اگر کوئی انسان ’خاص طور پر عورت‘ خاندانی احکامات یا روایت سے بغاوت کرتا ہے تو اسے باغی اور غیر ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔ اس معاشرے میں بزرگ نوجوانوں کی زندگیوں کے فیصلے کرنا چاہتے ہیں۔

ایسے نظام کی ایک وجہ یہ ہے کہ غریب ممالک کی حکومتیں ابھی تک سوشل ویلفیر کے فری ہسپتال اور علاج، تعلیم یا انشورنس کے نظام قائم نہیں کر پائی ہیں اس لیے شہریوں کو حکومت سے مدد لینے کی بجائے دوستوں اور رشتہ داروں سے مدد لینی پڑتی ہے۔

مشرقی طرزِ زندگی کے مقابلے میں مغربی ثقافت میں چونکہ بیسویں صدی میں اتنی اقتصادی ’مذہبی اور سیاسی تبدیلیاں آئی ہیں کہ روزمرہ زندگی انفرادیت کے لیے زیادہ موافق ہو گئی ہے۔ فرد کی توجہ زندہ رہنے کے بنیادی مسائل سے نکل کر خود شناسی اور انفرادی صلاحیتوں کی پہچان پر مرکوز ہو گئی ہے۔ جب بھی فرد اور گروہ کے درمیان کوئی اختلاف ہوتا ہے گروہ فوری طور پر فرد کی ضروریات‘ خواہشات اور خوابوں کو اپنے نظام کا حصہ بنانے کی کوشش کرتا ہے جس کی وجہ سے انفرادی حقوق انفرادی ذمہ داری سے زیادہ اہم قرار پاتے ہیں۔ اسے لیے خاندان کا نظام EXTENDED FAMILY سے NUCLEAR AND SINGLE PARENT FAMILY کی طرف سفر کر رہا ہے۔

اس تبدیلی میں مغرب میں مفت ہسپتال اور علاج ’سوشل ویلفیر اور انشورنس کمپنیوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ بہت سی انسانی ضروریات کو مشرق میں دوست اور رشتہ دار پوری کرتے ہیں مغرب میں نرسین ڈاکٹر اور سوشل ورکر پوری کرتے ہیں۔

مغرب نے عورتیں کو تعلیم دینے کا انتظام کیا ہے۔ مغربی عورتیں یہ جان گئی ہیں کہ ان کی آزادی اور خود مختاری کی جدوجہد میں ان کی ڈگری اور ڈرائیونگ لائسنس اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ جان گئی ہے کہ اس کی نفسیاتی اور سماجی آزادی کے لیے معاشی آزادی بہت اہم ہے۔

مغرب میں جب ایک جوان عورت کالج اور یونیورسٹی کی ڈگری حاصل کر کے ایک اعلیٰ نوکری حاصل کر لیتی ہے تو وہ تنہا رہ سکتی ہے اور اپنا گھر اپنی کار اور اپنے دوست رکھ سکتی ہے۔ پھر وہ جس سے چاہے محبت اور شادی کر سکتی ہے اور اگر اس کا محبوب یا شوہر اس کی عزت یا احترام نہیں کرتا تو وہ اسے چھوڑ کر کسی اور سے دوستی محبت اور شادی کر سکتی ہے۔

مغرب میں ایک سیکولر اور جمہوری فضا قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے اس لیے تمام انسانی رشتوں کو مذہب کی کسوٹی پر نہیں پرکھا جاتا۔ وہ عیسائیت اور کیتھولک چرچ کی روایات سے بہت دور آ گئے ہیں۔ اب بہت سے لوگ اپنی زندگی کے فیصلے اپنی عقل اور اپنے ضمیر کی روشنی میں کرتے ہیں۔

مغرب کی عورت نے چند حقوق اور مراعات تو حاصل کر لیے ہیں لیکن ابھی بھی اس کی آزادی و خودمختاری کی جدوجہد جاری ہے۔ وہ ابھی بھی کئی حوالوں سے دوسرے درجے کی شہری ہے۔ وہ اب بھی اس معاشرے کے لیے کوشاں ہے جہاں مردوں اور عورتوں کو برابر کے حقوق و مراعات حاصل ہوں گے۔ مغربی عورتیں ہر سال دوسری عورتوں کے ساتھ مل کر مارچ کرتی ہیں اور ایک دوسرے کو یاد دلاتی ہیں کہ

؎ چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی

مغرب میں بہت سے انسان دوست مرد اور جمہوری حکومتیں عورتیں کی آزادی و خودمختاری کی مارچ کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

زیبا شہزد صاحبہ!

میں آپ کے سوالوں کے تسلی بخش جواب تو نہیں دے سکا لیکن جو ذہن میں آیا لکھ دیا۔ امید ہے قبول فرمائیں گی۔

آپ کا کالموں کا مداح

ڈاکٹر خالد سہیل

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 326 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *