چین سے امریکی صحافیوں کا انخلا اور کورونا سے جڑے سیاسی سوالات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کورونا وائرس کی وبا (پینڈیمک) پورے عالم کو اپنی گرفت میں قابُو کر چکی ہے۔ اس وبا کے پھیلنے کے جہاں پر طبّی، معاشرتی، سیاسی اور اقتصادی اسباب ہیں اور اثرات مرتب ہوئے ہیں، وہیں اس کے سفارتی نتائج بھی برآمد ہو رہے ہیں، جو باقی عوامل کی طرح گہرے اور دُور رس ہوں گے۔ اس وبا پھیلنے کا محرّک کیا تھا! اس پر بھی دنیا کے اذہان سوچیں گے، صرف وہ فی الحال اس انسان کُش وبا سے بچاؤ اور روز ہزاروں کی تعداد میں بیمار ہونے والے اور لقمہء اجل بننے والے لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو روکنے کے لیے مستقبل قریب میں ملنے والے کسی امکانی طبی حلَ اور حال میں ممکنہ انتظامی احتیاطوں کے اطلاق سے فرصت پا لیں!

اس وبا کا پھیلاؤ جہاں دنیا کی سماجی، سیاسی اور انتظامی شکل تبدیل کر چکا ہے، وہیں کم و بیش تمام ممالک کی ترجیحات بھی تبدیل ہو گئی ہیں۔ دنیا کے سُپر پاورس کو ایک دوسرے کے ساتھ تنازع کے نئے بہانے ملے ہیں اور ”رَیس کے ٹریک“ کے اس موڑ پر آئے ان اتفاقی کھڈوں کا فائدہ لیتے ہوئے، پیچھے رہ جانے والے ریس کے کھلاڑیوں کی طرح کوشش کرنے والے چند چھوٹے ممالک اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے، آگے نکلنے کی حکمت والی کوشش میں بھی مگن ہیں۔

کسی کو بھی نہیں پتہ کہ یہ بُحران کتنا طویل ہوگا اور اس بحران کے اختتام تک دنیا کی ڈیموگرافک شکل کیا بن چکے ہوگی، مگر اتنا یقین ضرور ہے کہ اس بحران کے ختم ہونے تک (جو خدا کرے جلدی ہو! ) کافی چیزوں کی تعریف تبدیل ہو چکی ہوگی۔ شاید تب تک ”سُپر پاور“ ہونے کی کسوٹی اور معیار بھی تبدیل ہو جائیں۔ اس وبا کا علاج بنانے اور اس کو عام کرنے والے ملک کو تب تک باقی بچ جانے والی دنیا بجا طور پر سر پہ بٹھا سکتی ہے اور اس کے ”بایو وار“ (حیاتیاتی جنگ) والے خدشے درست ہونے کی صُورت میں اس کا محرک بننے والی منفی قوتّوں کو دنیا ”بلیک لسٹ“ بھی کر سکتی ہے۔ ان تمام خدشات اور امکانات کے بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا، مگر یہاں ہر سوچنے والے ذہن کو ”بڑے مُمالک“ کے کیے گئے اقدامات، بیانوں اور حکمتِ عملی پر گہری نظر ضرور رکھنی چاہیے۔ ایسا کرنے سے انہیں عالمی منظرنامے کے خدوخال زیادہ حد تک سمجھنے میں آسانی ہوگی۔

کورونا کا آغاز چین سے ہُوا اور اِس وقت اِس وبا پر سب سے زیادہ قابُو پانے والے ممالک میں بھی حیرت انگیز طور پر چین ہی سرِفہرست ہے (جو اپنی جگہ پر کافی سارے سوالات پیدا کرنے والی بات بھی ہے۔ ) اس وبا کے علاج کی ایجاد کے حوالے سے دنیا اس وقت یورپ سے بھی زیادہ امریکا کی جانب پُر امید نظروں سے دیکھ رہی ہے۔ ان دونوں ممالک (چین اور امریکا) کے آپس میں اس وبا سے پہلے اور بعد والے تعلقات کی بدلتی صُورتحال بہت دلچسپ ہے، جس کا بغور مشاہدہ کرنے سے آپ کو بہت سارے سوالات کے جوابات از خود مل جائیں گے۔

حال ہی میں منگل، 24 مارچ 2020 ء کو امریکا سے جاری ہونے والے، دنیا کے تین بڑے اخبارات ”دی وال اسٹریٹ جرنل“، ”دی واشنگٹن پوسٹ“ اور ”دی نیو یارک ٹائمز“ میں ”دی وال اسٹریٹ جرنل“ کے ناشر ”ولیم لیوِس“، ”دی واشنگٹن پوسٹ“ کے پبلشر ”فریڈ ریان“ اور ”دی نیو یارک ٹائمز“ کے ناشر، ”ای۔ جی۔ سلزبرگر“ کے دستخطوں کے ساتھ، حکومتِ چین کے نام ایک کُھلا خط شایع ہوا، جس میں ان تینوں اداروں نے چینی سرکار سے، ان کے صحافیوں کو ملک بدر کرنے پر احتجاج کرتے ہوئے، ان کا یہ فیصلہ واپس لینے کی گزارش کی ہے۔ اس پورے خط کا ترجمہ شدہ متن مندرجہ ذیل ہے :

”کورونا وائرس کا وبائی مرض سرحدیں عبُور کرتا ہوا، لگ بھگ ہر ملک میں لوگوں کو بیماری میں مبتلا کرتا اور مارتا ہوا، دنیا کی معیشت کو بری طرح سے نقصان پہنچاتا، ایک ایسا چیلینج بن چکا ہے، جس جیسا چیلینج ہماری زندگیوں میں اس سے قبل کسں نے بھی نہیں دیکھا۔ شاید یہ جدید تاریخ میں خبروں میں آنے والے واقعات میں سب سے بڑا واقعہ ہے، جو اس لمحے بذریعہ حقیقی بصیرت اور رپورٹنگ حاصل کیے گئے تجربات کے ابلاغ کے لیے وبا کے مرکز بنے علاقوں میں سرزمین سے براہِ راست تحقیقی، مُصدّقہ خواہ فوری رپورٹنگ اور مُصدّقہ معلُومات کی اہمیت کو اُجاگر کر رہا ہے۔

پورے دنیا کے لیے یکساں نقصان دہ بُحران میں، چینی سرکار نے، ہم تینوں اداروں ( ”دی وال اسٹریٹ جرنل“، ”دی واشنگٹن پوسٹ“ اور ”دی نیو یارک ٹائمز“ ) سمیت میڈیا کے متعدد اداروں میں سے امریکی صحافیوں کو نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام حکومتِ متحدہ ریاست ہائے امریکا کی جانب سے تازہ انخلا والے عمل کی جوابی کارروائی کے طور پر کیا گیا ہے اور یہ ایسا عمل ہے، جس کے خلاف ہم ہر حال میں احتجاج کریں گے۔ یہ لاپرواہی پر مشتمل عمل صحافت کو بری طرح نقصان پہنچا رہا ہے، کیونکہ دنیا اس وبا پر ضابطہ لانے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ یہ ایک ایسی جدوجہد ہے، جس کے لیے دنیا کی قابلِ اعتبار معلُومات اور خبروں کی روانی سے فراہمی کی اشد ضرُورت ہے۔

ہم حکومتِ چین سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں، کہ وہ نہ صرف ان امریکی صحافیوں کو اپنے ملک سے نکالنے والے اپنے سخت فیصلے کو واپس لے، بلکہ اور بھی وسیع سطح پر، ایک قدم آگے بڑھ کر، چین میں ہمارے میڈیا اداروں کے خلاف جاری کریک ڈائُون کے حوالے سے ہلکا ہاتھ رکھے۔ چین اور امریکا کی حکومتوں کے درمیان جاری اس سفارتی تنازع (جھگڑے ) میں مجموعی طور پر میڈیا کو نقصان پہنچا ہے اور اس خطرناک صورتحال میں دنیا کے انتہائی نازک معلُومات سے محرُوم رہنے کا خطرہ ہے۔

ووہان میں کورونا وائرس کے شروع ہونے اور تیزی سے پھیلنے کے حوالے سے ابتدائی خبریں اور رپورٹس، چین میں ہمارے ادارے کے لیے کام کرنے والے صحافیوں اور دوسری نیوز تنظیموں کے لیے خدمات انجام دینے والے ان کے ساتھی نمائندوں ہی نے باقی دنیا تک پہنچائیں۔ ہم نے اپنے نمائندوں کو اس وبا کے اعداد و شمار اور اس میں مبتلا لوگوں کے علاج کے لیے جدوجہد کو دستاویزی حوالے سے محفوظ کر کے دنیا تک پہنچانے کا اہم فریضہ انجام دینے کے لیے چین میں بیماری کے گڑھ بنے ہوئے علاقوں میں زیادہ مُدت تک رہنے کے لیے بھیجا ہے۔

ہم روزِ اوّل سے اپنے اخبارات میں حکومتِ چین کی جانب سے اس وبا کے پھیلاؤ کی روک تھام اور کمی کے حوالے سے کی جانے والی قابلِ ذکر پیش رفت کے بارے میں اپنی خبروں اور تجزیوں میں واضح طور پر جگہ دیتے رہے ہیں۔ پھر بھی، ہمارے کچھ صحافیوں کو چین بدر ہونے جیسی صُورتحال کا سامنا ہے۔ وہ پھر بھی وہاں سے مثبت خبریں اور اطلاعات رپورٹ کر رہے ہیں کہ چین اس وبا کے خلاف ویکسین تیار کرنے میں کئی ریاستی وسائل کو متحرک کر رہا ہے، جو عمل وہاں کے مقامی خواہ پوری دنیا میں بسنے والے اربوں لوگوں میں امید جگا سکتا ہے۔

ہمارے میڈیا کے ادارے پیشہ ورانہ انداز میں آپس میں حریف ہیں۔ ہم اہم ترین موضوعات کی رپورٹوں اور خبروں کی (فوری خواہ مصدقّہ) اشاعت کے حوالے سے ایک دوسرے سے سخت مقابلے میں رہتے ہیں۔ کورونا کے موضوع پر بھی ہماری آپس میں مسابقت جاری ہے۔ مگر اس معاملے میں ہم ہم آواز ہیں۔ ہم دونوں ممالک اور باقی دنیا کے باصلاحیت صحافیوں کا فائدہ اسی میں ہے۔ ہمارے چین میں کام کرنے والے صحافیوں میں سے کافی سارے چینی زبان روانی سے بول سکتے ہیں اور چینی ثقافت سے بہت اچھی طرح سے واقف ہیں، وہ دنیا کی دوسری بڑی اقتصادی طاقت (چین) کے بارے میں خبریں دیتے ہیں، جو عالمی مصنوعات کا مرکز ہے، جس کی آبادی کو بدقسمتی سے جدید دور کی بدترین وبا نے نقصان پہنچایا ہے۔ اس حد تک کہ، ہمیں یقین ہے کہ جب یہ بحران گزر جائے گا، تو دونوں ممالک خبروں تک آزادانہ رسائی اور ایک دوسرے سے متعلق معلُومات سے فائدہ حاصل کرنے کے عمل کو جاری رکھیں گے۔

سپر پاورز کے مابین کشمکش کے دوران (اس قدر کہ، جب یہ کشمکش دونوں حکومتوں کے لیے بھی چیلینج بن جائے) ، صحافت ہی رہنماؤں اور عام شہریوں کو اپنی زندگی اور فیصلوں کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے اہم معلُومات اور آگہی فراہم کر کے مضبُوط اور تمدّن پر مشتمل معاشروں کو تقویت بخشتی ہے۔ ہم بغیر کسی ابہام کے یہ سمجھتے ہیں کہ یہ دونوں ممالک کے عوام کے ساتھ ساتھ ان کے رہنماؤں کے حق میں بھی بہتر ہے، کہ وہ صحافیوں کو اپنا کام کرنے دیں۔ ”

آپ اس خط کے متن کے ساتھ ساتھ اس کی ”زبان“ اور طرزِ تخاطب پر بھی غور کریں، جس میں بہ یک وقت ”گزارش“ اور ”احتجاج“ جیسے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں، تو ان تینوں معتبر اخبارات (جن کو ”نقطہء نظر تشکیل دینے والے“ اور ”دنیا کی سوچ کی دھارائیں تبدیل کرنے والے“ ادارے سمجھا جاتا ہے ) ساتھ بیٹھ کر جو خط ڈرافٹ کیا ہے، اس میں ”التماس“ بلکہ ”دھمکی“، دونوں کا رنگ موجود ہے۔ آپ پہلے پیراگراف سے لے کر آخری پیراگراف تک تخاطب، دلائل اور اسباب کی پیشکش کے انداز اور ”آخری جملے“ پر غور کریں گے، تو آپ کو بین السطُور پیغام بھی سمجھ میں آ جائے گا۔ یہ زبان اس سفارتی اندازِ تخاطب سے بھی کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے، جو امریکا، چین سے رابطے کے دوران عام طور پر استعمال کرتا ہے۔ اس خط کو پڑھنے کے بعد ایک عام ذہن میں اُبھرنے والے چند بنیادی سوالات قلمبند کرکے، آپ کو دعوتِ فکر دی جاتی ہے :

۔ حکومتِ چین کی جانب سے امریکی صحافیوں کو ملک بدر کرنے کا ایسا اقدام چین کا ”عمل“ ہے؟ یا ردِّ عمّل ”؟ اگر“ ردِّ عمل ”ہے تو امریکا کے تازہ کس کس عمل کا؟

۔ چین کا امریکا پر یہ الزام کہ یہ وائرس اُس پر امریکا کی جانب سے ہونے والا حملہ ہے، جس کا مقصد چینی معیشت کو تباہ کرنا تھا اور امریکا کی جانب سے چین پر لگائے ہوئے اسی نوعیت کے الزام میں سے زیادہ وزن کس کے الزام میں ہے؟ یا دونوں کے الزامات صرف مفروضوں پر مشتمل ہیں؟

۔ اس وبا کا علاج ڈھونڈھنے اور ویکسین بنانے کی ضمن میں دونوں ممالک میں سے زیادہ سنجیدہ کوشش کون کر رہا ہے؟ وہ؟ جو (ابھی تک تو) روز خالی دعوے کر رہا ہے؟ یا وہ؟ جو (شاید) چُپ چاپ اس کی دوا بنانے میں دن رات مصروفِ عمل ہو اور اچانک اس کا علاج مارکٹ میں لا کر دنیا کو حیران کر دے۔

۔ اگر اس عالمگیر بحران کے ”حیاتیاتی جنگ“ (بایو وار) ہونے والا مفرُوضہ درست ہے، تو ایسا تو نہیں کہ اس جنگ کو شروع کرنے والا ملک (یا والے ممالک) پہلے ہی اس وبا سے لڑنے والا ہتھیار (ویکسین) بنانے کے بعد اس ”آزار“ کو عالمی مارکیٹ میں پھینکا ہے اور اچانک اس کا علاج (جو ہو سکتا ہے اس یا ان کے پاس پہلے سے ہی تیّار ہو! ) سامنے لائے، اور اس طرح سے پوری دنیا کی معیشت اپنی جانب کھینچ کے راتوں رات اقتصادی سُپر پاور بن جائے؟

۔ اگر مندرجہ بالا مفروضہ درست ہے، تو کیا پُوری دنیا ”ایک طاقت کے زیرِ تسلط انتظام“ والے فارمولے کی جانب تو نہیں بڑھ رہی؟ جہاں ممالک کی سرحدیں تو بھلے الگ الگ ہی رہیں، مگر وہ کسی ایک طاقتور ”دادا“ (ملک) کی کالُونی بن جائیں (بننے پر مجبُور ہو جائیں ) اور اقتصادی خواہ انتظامی حوالے سے سب ممالک کسی ایک آمر ملک کے زیرِ سلط ہو جائیں۔

۔ اس عالمی (بظاہر) طبّی بُحران کا امریکی فوج کے افریقی میجر ”شینن بِیبے“ کی بتائی ہوئی ”پانچویں نسل والی لڑائی“ (ففتھ جنریشن وارفیئر) سے بالواسطہ یا بلاواسطہ کیا تعلق ہے؟ اور اس جنگ کی فتح کے طریقے اُسی کے بتائے ہوئے مفروضوں پر مشتمل ہوں گے؟ یا ان سے مختلف ہوں گے؟

اور سب سے اہم سوال:

۔ کیا یہ عالمی بحران ”مصنوعی ذہانت“ (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) کے لیے راہ ہموار کرنے کی غرض سے ایک دھماکا (بہانا) تو نہیں؟ کہ اس بحران کے حل کے لیے ”آرٹیفیشل انٹیلیجنس“ کو عالمی پلیٹ فارم پر عظیم الشان انداز میں لانچ کیا جائے اور دنیا میں اسے اس عالمی مسئلے کا واحد حل بتاتے ہوئے، اس کو اپنایا جائے اور اس طرح یہ مصنوعی ذہانت ایک دم سے ہماری زندگیوں کے ہر معاملے کا لازم و ملزوم حصّہ بن جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *