جب ماں غضبناک ہوتی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اے طاقت اور تکبر سے بھرے انسانو، سنو، میں تم سے مخاطب ہوں، تمہاری ماں، تمہاری مدر نیچر۔ تم پوچھتے ہو کہ میں نے کس جرم میں تمہیں گھروں میں بند کردیا؟ لو سنو اور عبرت پکڑو۔

تمہیں یاد ہیں وہ دن جب تم Hominid Family کا ایک بے بضاعت حصہ تھے اور افریقی جنگلوں میں ایک لاچارجانور کی زندگی بسر کیا کرتے تھے؟ اور جب تم اتنے بے بس تھے کہ دوسرے جانوروں کے لیے لقمہ تر سے زیادہ کچھ نہ تھے َ؟ یہ وہ دن تھے جب مجھے ایسے ساتھی کی ضرورت محسوس ہوئی جو زندگی کی نمو میں میرا ہاتھ بٹاتا، میری قوتوں میں میرا شریک ہوتا اور اس کرہ ارض پر رنگ بہار لانے میں میرا معاون ہوتا۔ تب میں نے اپنی تمام مخلوقات کے لیے نیچرل سلیکشن کا قانون نافذ کیا اور تمہاری پوشیدہ صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے تمہیں حیاتیاتی طور پر توانا کرنا شروع کردیا۔ شروع میں تم سیکھنے میں بہت خام اور سست تھے اور تمہارے لیے جنگل سے الگ اپنی شناخت کو پہچاننا مشکل ہورہا تھا۔ تب تم ایک بندر سے زیادہ نہ دکھتے تھے، گو ذرا چنچل اور پارہ صفت تھے لیکن میرے کسی کام کے نہ تھے۔ سو میں نے یہ کیا کہ تمہاری کمر کو سیدھا کیا اور تمہیں دو ٹانگوں پر چلنا سکھا دیا تاکہ تمہارا دماغ خون کے دباؤ سے آزاد ہوکر نشو و نما پاسکے اور تم اس قابل ہوسکو کہ خود کو اور اپنے ماحول کو پہچان سکو۔

جنگل کے دنوں میں تمہارے حریف کسی نہ کسی ہنر میں تاک تھے۔ وہ اپنا دفاع بھی کرسکتے تھے اور اپنی بھوک مٹانے کے لیے دوسری مخلوقات کو شکار بھی کرسکتے تھے مگر تم اتنے بودے اور کمزور تھے کہ تمہارے پاس لقمہ تر بننے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ سو میں نے تمہیں جنگل کے ماحول سے نکال کر ایشیا اور یورپ کی وسعتوں پر روانہ کردیا۔ اور ہاں، اس سے پہلے میں نے تمہارے ہاتھوں کی ساخت کو بدل دیا اور انہیں تمہارا ہتھیار بنادیا۔

اگر تم اپنے لاشعور کو کھنگالو تو لگ بھگ بیس لاکھ سال پہلے کی یادداشت تمہارے دماغ میں تازہ ہوسکتی ہے۔ ذرا سا دماغ پر زور دو تو تمہیں یاد آجائے گا کہ جب تم کھلے میں آئے تو تمہارے تن پرکپڑا تھا نہ سر پر چھت تھی مگر ایک دماغ تھا جو سوچنے کے قابل ہورہا تھا اور دو ہاتھ تھے جو اشیاء کو اپنی گرفت میں لے سکتے تھے۔ تمہارے سامنے اپنی نوع کے بقاء کا سوال تھا اور تم مجبورِ محض تھے مگر خوش نصیب تھے کہ تمہارا ہاتھ میرے ہاتھ میں تھا۔

اور پھر میں نے تمہیں سوچنا اور اپنے ہاتھوں کو استعمال کرنا سکھایا۔ تم نے مجھ سے ایک اور سبق بھی سیکھا؛ بقائے باہمی کا سبق۔ تم نے جان لیا کہ اگر تمہیں میری سفاک وسعتوں میں جینا ہے تو مل جل کر رہنا ہوگا اور مل بانٹ کر کھانا ہوگا۔ یوں تم نے غاروں میں پناہ لی، خاندان بنائے اور پھر مجھ سے آگ جلانے کا ہنر سیکھ کر اپنے شکار کو پکا کر کھانا شروع کردیا۔ یہ تہذیب کے سفر پر تمہارا پہلا قدم تھا۔ اس سفر میں تمہیں پنڈلیوں کی طاقت، ہاتھوں کی لچک اور دماغ کے تحرک کا آسرا تھا سو تم نے میرے سکھائے ہر سبق کو غور سے سننا اور میری ہر نشانی کو غور سے دیکھنا شروع کردیا۔ تم نے پتھروں کو توڑ کر چھوٹے چھوٹے اوزار بنانا شروع کردیے، پہلے ان گھڑ اور پھر گھڑے گھڑائے۔ تم نے انہی ہاتھوں اور اسی دماغ سے اپنے لیے آسانی کے سامان مہیا کرنا شروع کیے۔ انہی دنوں تم نے پہیہ بنایا اور اس پر سوار ہوکر تمدن کے سفر پر گامزن ہوگئے۔ تم جہاں زاد تھے، اس دھرتی کے بیٹے تھے اور میرے لاڈلے تھے، میں کیسے تمہیں تند موسموں اور برفانی ہواؤں کے رحم وکرم پر رہنے دیتی سو میں نے تمہیں گھر بنانا اور اس میں جوڑا جوڑا رہنا سکھایا۔ میں نے تمہیں کپڑا بننا اور موسموں کی سختی سے محفوظ رہنے کے لیے لباس سینا سکھایا اور میں نے یہ بھی سکھایا کہ تم کیسے اپنی آسانی اور راحت کے لیے میرے وسائل کو استعمال کرسکتے ہو۔ اور پھر میں نے تمہیں نطق کی قوت بخشی اور الفاظ دیے کہ تم ایک دوسرے سے کلام کرسکو۔ اور میں نے تمہیں ہنر دیا کہ جنگل کے جانوروں کو سدھاؤ اور میرے مقاصد کی نگہبانی کے لیے انہیں اپنا معاون بناؤ۔

اس کے بعد میں تمہیں دریاؤں کے کنارے لے چلی جہاں تم نے بستیاں بسائیں اوردریاؤں کے بہاؤ پر حکمرانی کرنا سیکھی۔ مجھے اعتراف ہے کہ تم ایک ہونہار شاگرد ثابت ہوئے کہ میں تمہیں سکھاتی گئی اور تم سیکھتے گئے۔ میں تمہیں رنگوں کا استعمال اور تصویر کشی تو پہلے ہی سکھا چکی تھی، بستیوں میں آباد ہونے کے بعد میں نے تمہیں بانس سے بانسری اور لکڑی سے بربط بنانا بھی سکھادیا تاکہ حسن اور آہنگ کی تخلیق میں تم میرے ساتھی بن سکو۔ پھر میں نے تمہیں اعداد سکھائے اور اشیاء کو گننا سکھایا اور قلم بنانا اور بولے جانے والے الفاظ کو لکھنا سکھایا۔

تم نے جو سیکھا مجھ سے ہی سیکھا، میرے ہی بخشے ہوئے وسائل کو کام میں لاکر اپنی طاقت میں اضافہ کیا لیکن افسوس طاقت جو میں نے تمہیں اس لیے بخشی کہ اسے کام میں لاکر کل مخلوقات کے لیے بھلائی کا سامان کرسکو اس نے تمہارے دماغ میں تکبر بھرنا شروع کردیا۔ تم خود کو اس کرہ ارض کا ملک سمجھنے لگے جو معلوم کائنات میں میرا اور میرے بچوں کا واحد گھر تھا۔ میرے بچے وہ تمام مخلوقات ہیں جن پر تم اپنے طاقت اور اپنے علم سے غالب آچکے تھے۔ تم جانتے تھے کہ اس صد رنگ دھرتی کا اگر کوئی مالک ہے تو میں ہوں کیونکہ میں ماں ہوں اور میرا مقام سب سے مقدم ہے۔ مگر تم طاقت کے زعم میں میری نافرمانی اور میری تحقیر پر تل چکے تھے۔

اگر تم ’چراغ آفریدم‘ وغیرہ کی حد تک رہتے تو خوب تھا مگر تم نے تو میرے خلاف باقاعدہ جنگ چھیڑ دی تھی۔ میں تمہیں بقائے باہمی کی شرط پر جنگلوں سے نکال کر لائی تھی مگر تم نے دھرتی پر طاقت کے قانون کو نافذ کرنا شروع کردیا۔ تم نے قرار دیا کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ سو ہر بشر اس لاٹھی کے حصول کے لیے بولایا پھرنے لگا۔ یوں سارے میں افراتفری سی مچ گئی، بستیوں پر دھاوے، مار دھاڑ اور جدال و قتال کا رواج عام ہونے لگا۔ تمہارے تکبر نے تمہیں چالاکی سے کام لینا سکھادیا تھا سو تم نے کمزوروں پر اپنے تسلط کے لیے فلسفے گھڑنا شروع کردیے، قانون کی کتابیں لکھنا شروع کردیں اور مذاہب کو اپنے حق میں استعمال کرنا شروع کردیا تاکہ تم اپنے تصرف کو جائز ثابت کرسکو۔ اس پر مستزاد یہ کہ تم نے کمزوروں کو تقدیر اور توکل کا جھانسا دے کر چپ چاپ ظلم سہنے پر مجبور کرنا شروع کردیا۔ میں یہ سب دیکھتی رہی اور اپنے طریقے سے تمہیں بار بار انتباہ کرتی رہی لیکن تمہارے دماغ پر تکبر کی چربی چڑھ چکی تھی سو تم نے اپنے کان بند کرلیے اور آنکھیں موند لیں۔ تمہاری طاقت کی ہوس بڑھتی رہی اور اس کے ساتھ ساتھ تمہاری چیرہ دستیاں بھی بڑھتی رہیں۔ تم میں سے جو طاقتور تھے ان کے ظلم سے کسی کو مفر نہ تھا، نہ کسی چرند پرند کو اور نہ کسی کمزور اور نہتے انسان کو۔ تم اپنی طاقت بڑھانے اور دہشت پھیلانے کے لیے پر امن بستیوں پر دھاوے مارنا شروع ہوئے، یہاں تک کہ تم نے کھوپڑیوں کے مینار بنانا شروع کردیے۔ اپنی وحشت میں تم یہاں تک چلے گئے کہ بہت سی ایسی تہذیبوں کا نشان تک مٹاڈالا جہاں پر امن لوگ آباد تھے اور میرے بقائے باہمی کے سبق پر عمل پیرا تھے۔

جیسے خیر اورحسن لامحدود ہے ویسے ہی شر اور ہوس بھی کسی حد کی پابند نہیں سو تم نے قومی ریاستوں کے نام پر زمین پر لکیریں کھینچیں اور ذاتی ملکیت کے نام پر مال سمیٹنے کا ایسا سلسلہ شرو ع کردیا جس کی کوئی انت نہ تھی۔ میری کتابوں میں ترقی نام ہے مل جل کر آگے بڑھنے کا مگر تم نے تباہی کو ترقی قرار دے دیا اور ایک ایسی راہ پر چل نکلے جہاں سے واپسی ممکن نہ تھی۔ تم نے دوسروں پر اپنی طاقت نافذ کرنے کے لیے جنگوں کو رواج دیا اور ان جنگوں کو جیتنے کے لیے تباہی پھیلانے والے ہتھیار بنائے اور پھرانہیں زیادہ سے زیادہ تباہ کن بناتے چلے گئے۔ یہاں تک کہ تم نے ذرے کے جگر کو چیر کر توانائی کو اپنے قابو میں لانا سیکھ لیا۔ اگر تم چاہتے تو اس لا انتہا توانائی کو بھلائی اور خیر کے لیے بھی استعمال کرسکتے تھے لیکن صدیوں کی بربریت نے تمہارے جینز میں بگاڑ پیدا کردیا تھا سو تم نے اس سے ایٹمی ہتھیار بنائے اور پھر بناتے چلے گئے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *