پاکستان میں ڈاکٹر اور طبی عملہ: لاٹھی چارج سے سیلوٹ تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آنسو گیس کے گولے پھٹ رہے تھے، فضا میں پھیلی گیس آنکھوں، ناک اور حلق میں گھستی تھی۔ آنکھوں سے پانی بہہ بہہ کے سامنے کے منظر کو دھندلاتا تھا۔ کھانسی تھی کہ رکتی نہ تھی، ہر سانس جسم پہ قرض بنا جاتا تھا۔

آنسو گیس ک چھاؤں میں لاٹھیاں برس رہی تھیں۔ برسانے والے ہر گز نہیں دیکھتے تھے کہ لاٹھی کھانے والے نہتے بھی تھے اور اس ملک و قوم کا مستقبل بھی۔ نہ ہی وہ یہ سوچتے تھے کہ لاٹھی کی ضرب کسی کو ہمیشہ کے لئے معذور بنا سکتی ہے۔ لاٹھیاں کھانے والوں میں لڑکے بھی تھے اور لڑکیاں بھی۔

اسی کی دہائی کا وسط، واپڈا ہاؤس اور پنجاب اسمبلی کے سنگم پہ بنا چوک، آپے سے باہر پنجاب پولیس کی بربریت اور نہتے ہم!

چونک گئے نا آپ!

آج یہ یاد ماضی کے ان افسرده لمحات سے زندہ ہو کے باہر نکلی ہے جن سے ہم خود بھی نظر نہیں ملاتے۔ بالکل اسی سامان کی طرح جو گھر سے باہر پھینکنے کا حوصلہ نہیں پڑتا اور کسی تاریک دوچھتی کی زینت بن جاتا ہے یا سیلن زدہ تہہ خانے میں گلنے سڑنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔

ہوا کے دوش پہ لہراتی ہوئی ایک وڈیو ہم تک پہنچی ہے جس میں پنجاب پولیس باجماعت ہو کے ڈاکٹر وں کو ہدیہ تبریک پیش کر رہی ہے۔ دیکھنے کے بعد ایسا لگا جیسے برسوں پرانے زخم سے کھرنڈ اتر گیا ہو۔ آنسو گیس کی مرچوں بھری اذیت جاگ اٹھی ہے اور ہمیں یہ محسوس ہو رہا ہے کہ ہم شاہراہ فاطمہ جناح پہ ننگے پاؤں دوڑتے چلے جا رہے ہیں اور ہمارے تعاقب میں ریاست ڈنڈا اٹھائے دوڑ رہی ہے۔ جو بھی لڑکی گرتی ہے، اس کو پکڑ کے خوب پیٹا جاتا ہے۔ ہم ہانپ رہے ہیں اور ایک ہی خواہش ہے کہ گرنے سے پہلے کالج تک پہنچ جائیں۔

ڈاکٹر وہ طبقہ ہے جو کسی زمانے میں بلاشک وشبہ قوم کا ذہین ترین اثاثہ سمجھا جاتا تھا۔ جہاں کوئی بچہ اچھے نمبر لے کر آیا، والدین کی امیدیں بندھ گئیں کہ وہ ڈاکٹر کے ہونے والے ماں باپ ہیں.۔ میرٹ میں اول آنے والے ڈاکٹری کا اانتخاب کرتے اور جو اس دوڑ میں تھوڑا سا پیچھے رہ جاتے انہیں مجبوراً دوسرے شعبوں میں جانا پڑتا۔ آج بھی کسی دوسرے شعبے کے پرانے پاپی سے پوچھیے تو ڈاکٹر بننے کی خواہش کسی دفینے سے جھانکتی نظر آئے گی۔

ہماری ملاقات ایک انتہائی سینئیر بیورو کریٹ سے ہوئی جو ترقی کی منزلیں بھی طے کر چکی تھیں اور سرکاری نوکری کے مزے بھی لوٹ رہی تھیں۔ کچھ بے تکلفی کے بعد انہوں نے ایک سرگوشی میں بتایا کہ وہ آج بھی خواب دیکھتی ہیں کہ ان کا میڈیکل کالج میں داخلہ ہو گیا ہے اور وہ سفید کوٹ پہنے ادھر سے ادھر گھوم رہی ہیں۔ ہم نے کچھ اچنبھے سے انہیں دیکھا کہ ہم سرکاری نوکری کے گرداب سے ہو کے نکلے تھے اور ہمیں علم تھا کہ اس غوطہ خوری میں ہم نے کیا کیا ذلت نہ سہی تھی۔

معاشرے میں ڈاکٹروں کا حق تلف یوں ہوا کہ ان کا سروس سٹرکچر بنانے کی زحمت ہی نہ کی گئی۔ نوکری مل بھی جاتی تو سہولیات کا اس قدر فقدان کہ نوکری سزا بن جاتی اور ہمیں سمجھ میں نہ آتا کہ ڈاکٹر خالی پیٹ ملک و قوم کی خدمت کیسے کر سکتا ہے؟

ہم ہمیشہ رشک سے بیورو کریٹ سہیلیوں اور صاحب کی فوجی نوکری کے سروس سٹرکچر کو دیکھتے اور خود سے سوال کرتے کہ ڈاکٹر سے یہ سوتیلا سلوک کیوں ؟ کسی اور کا کیا حال سنائیں ہم نے 1991 سے 2008 یعنی سترہ برس ترقی کی خواہش میں گریڈ سترہ کی نوکری کرتے گزار دیے۔ کسی فوجی افسر یا بیوروکریٹ کے ساتھ یہ معاملہ کبھی سنا آپ نے؟

 دوسری طرف دنیا بھر میں ڈاکٹروں کی عزت، رتبے، مقام اور مالی حالت کا کسی بھی اور شعبے سے کوئی مقابلہ نہیں۔ ہماری اٹھارہ سالہ پنجاب گورنمنٹ کی نوکری اور دیار غیر کی گیارہ سالہ سرکاری نوکری بلا شک وشبہ قطب شمالی اور قطب جنوبی سمجھے جا سکتے ہیں۔

تو معاملہ کچھ یوں ہوا کہ اسی کی دہائی کے وسط میں پنجاب اسمبلی کا اجلاس جاری تھا۔ ہم کالج کی کلاسز میں مصروف تھے کہ ہمارے دروازے پہ دوسرے میڈیکل کالجز کی بسیں آ کے رکیں۔ معلوم ہوا کہ سروس سٹرکچر کے متعلق پنجاب اسمبلی کے سامنے پر امن احتجاجی مظاہرہ کرنا ہے۔ لیجیے جناب، ہمیں تو موقع چاہیے تھا، ہم اور باقی ہم جماعتوں نے ایجنڈا سنا اور کشاں کشاں چئیرنگ کراس کی طرف چل پڑے۔

اسمبلی ہال کے سامنے بڑی تعداد میں پولیس جمع تھی۔ سب لڑکے اور لڑکیوں نے چوک میں ڈیرا لگایا اور نعرے بازی شروع کی۔ کچھ دیر میں تقریریں وغیرہ شروع ہوئیں، زیادہ تر مقرر ساتھی طالب علم ہی تھے۔ کسی نے اس نکتے کی نشان دہی کرتے ہوئے طالبات کی طرف سے کسی کو تقریر کرنے کا کہا۔ ہماری شعلہ بیانی کسی سے ڈھکی چھپی نہ تھی سو قرعہ فال ہمارے نام پڑا اور ہمیں فٹ پاتھ کے ساتھ لگی آہنی جالی پہ چڑھا دیا گیا۔ ہم نے بھی آؤ دیکھا نہ تاؤ، مکے لہرا لہرا کے کہنا شروع کر دیا ؛ لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے/ میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا۔

نعرے، تالیوں، جوش کی ایک پرامن لہر تھی جو فضا میں رقصاں تھی کہ یکایک اسمبلی ہال کی سیڑھیوں سے کنٹوپ پہنے، لاٹھیاں لہراتے سپاہیوں کا جم غفیر اس طرف بڑھتے دیکھا گیا۔ کوئی اندازہ نہیں لگا سکا کہ ان کے کیا ارادے ہیں؟ لیکن جب فضا میں چیخوں کی آواز گونجی اور بھاری بوٹوں کی دھمک اور وزنی لاٹھیوں کی برسات نے فضا میں ارتعاش پیدا کیا، تب محسوس ہوا کہ کچھ غلط ہونے جا رہا ہے۔ ابھی اسی سوچ میں تھے کہ کیا؟ ایک طرف سے آواز آئی، بھاگو کالج کی طرف۔

ہم ان خوش قسمت لوگوں میں سے تھے جو بھاگنے میں پھسڈی ہونے کے باوجود کہیں نہیں گرے تھے اور کالج کے دروازے میں داخل ہونے میں کامیاب رہے تھے۔ جو لوگ گرے یا پکڑے گئے تھے، ان پہ بہت بری طرح تشدد ہوا تھا۔ کسی ایک طالبہ کی تلی بھی پھٹ گئی تھی اور اگلے دن کے اخبارات میں پنجاب پولیس کے ہٹے کٹے مرد وزن نہتے گرے ہوئے طلبا و طالبات کو مارتے ہوئے دیکھے جا سکتے تھے۔

قوم کے سیاسی رہنماؤں نے ایک جائز مطالبے کے بدلے میں نوجوان نسل کی بات سننے کی بجائے انہیں ڈنڈے اور آنسو گیس کا تحفہ دیا تھا۔ مکالمہ ہار گیا تھا، جبر کی زبان میں قوم کے مسیحاؤں کا علاج کیا گیا تھا۔ بے تحاشا لوگ زخمی ہوئے تھے اور لاہور کے تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے تھے۔

ہم اگلے دن گھر روانہ ہو گئے تھے۔ گھر والے اخبارات میں تصاویر دیکھ چکے تھے اور ایک تصویر میں فٹ پاتھ کی آہنی باڑ پہ چڑھی ہاتھ لہراتی ہوئی نو عمر پرجوش طالبہ کا ہیولہ انہیں شک میں مبتلا کرتا تھا کہ بغاوت کے جراثیموں سے بخوبی واقفیت تھی۔ ابا نے حسب معمول تفتیش نہیں کی تھی اور آپا کے سوال کے جواب میں ہم نے سر نفی میں ہلا دیا تھا۔

چلیے کورونا کا ایک فائدہ تو وطن عزیز کے ڈاکٹروں کو ہوا۔ ایک کھوئی ہوئی متاع، عزت گم گشتہ کے ملنے کے اسباب تو پیدا ہوئے۔ ہمیں کہنے کی اجازت دیجیئے کہ بچ نکلے تو سلیوٹ کے ساتھ ساتھ شاید فوج اور بیوروکریسی والی مراعات مل ہی جائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *