شہباز شریف کی کرونا سیاست

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونا ایک سیاسی بیماری ہوتی تو آل پارٹیز کانفرنس میں بیٹھے مستند ڈاکٹر صاحبان کی مہارت سے ضرور فائدہ اٹھایا جاتا۔ یہ ایک مرض، ایک وبا ہے، جس سے تین فریقوں نے لڑنا ہے۔ حکومت نے وسائل فراہم کرنا ہیں، ڈاکٹروں نے علاج کرنا ہے اور عوام نے حکومت اور ڈاکٹروں کی ہدایات پر عمل کر کے خود کو محفوظ بنانا ہے۔ وزیر اعظم، وزراء اور مشیر اپنا کام کر رہے ہیں۔ آئسولیشن وارڈ بن رہے ہیں، سکریننگ ہو رہی ہے، متاثرہ افراد کو گھروں سے منتقل کرنے کا نظام فعال ہو چکا ہے، عوام کے لئے 1000 ارب روپے کا پیکیج دیا جا چکا ہے۔

ڈاکٹروں نے محاذ سنبھال لیا ہے۔ فوجی طبی عملہ بھی ان کا ساتھ دے رہا ہے۔ نرسیں، ٹیکنیشنز اور مدگار دن رات کام کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں خالی دماغ شیطان کا گھر ہوتا ہے، وبا سے ڈرے عوام کو ذہنی طور پر مصروف رکھنے کے لئے سیاستدان متحرک ہو گئے ہیں۔ شہباز شریف کی ملمع کاری وقت کی بارشوں میں اتر رہی ہے۔ وہ ایک ہشیار منیجر ہیں جس کے پاس وسائل ہوں تو وہ کچھ نہ کچھ کر لیتا ہے۔ مگر وہ دانشمند نہیں جو وسائل اور سہاروں کے بغیر مشکل پر قابو پانا جانتا ہو۔

تازہ واردات یہ کہ چین سے 5 ہزار سستے گاؤن اور ماسک منگوائے تاکہ غریبوں میں بانٹ سکیں۔ ساتھ ہی ساتھیوں نے مہم چلا دی کہ چینی کمپنی نے عمران خان پر اعتبار نہیں کیا اور شہباز شریف کو سامان بھیج دیا۔ یہ نہیں بتاتے کہ یہ سامان کمپنی سے پرائیویٹ آدمی نے خریدا ہے چینی حکومت نے نہیں دیا۔ ہمارے عزیز شاہ حسن گیلانی نے اپنا نیا نیا کام شروع کیا ہے حسن کی آمدن بہت محدود ہے مگر 5000 ہزار ماسک اور سینی ٹائزر بانٹے ہیں۔

ایک شہباز شریف ہی کیا پاکستان کی ساری سیاسی قیادت ایسی ہی ہے۔ کاروبار سلطنت چلانے کے لئے بیورو کریسی اور بیرونی امداد پر تکیہ کیا جاتا ہے۔ کیا یہ بات باعث حیرت نہیں کہ ڈینگی کے خاتمہ کا کریڈٹ لینے والے شہباز شریف اپنے دس سالہ دور میں وباؤں کو کنٹرول کرنے کا کوئی مستقل نظام نہ بنا سکے۔ صاف پانی نہ ہونے کی وجہ سے بہت سی بیماریاں پیدا ہوئی ہیں۔ بیرونی ملکوں نے ہماری غربت پر ترس کھا کر صاف پانی کی فراہمی کے لئے اربوں روپے کے فنڈ دیے۔

اس منصوبے سے ایک بوند کسی کے حلق میں نہیں گئی مگر اربوں روپے خرچ ہو گئے۔ حمزہ شہباز غیر اعلانیہ اس کمپنی کے مختار بنائے گئے۔ پسندیدہ افسر اس کا حصہ بنے۔ سب نے فنڈز کی رقم سے قیمتی گاڑیاں خریدیں۔ ہر اجلاس میں شرکت کرنے والوں کو اچھی خاصی رقم دی جاتی۔ ایچ بلاک ماڈل ٹاؤن میں اکثر اجلاس ہوتے اور سب اپنے الاؤنس جیبوں میں بھر کر رخصت ہوتے۔ اب حمزہ شہباز مقدمات بھگت رہے ہیں اور کرونا سے خوفزدہ عوام کو ان کے والد صاحب باور کرا رہے ہیں کہ وہ لندن سے پاکستانیوں کی مدد کے لئے آئے ہیں۔

شہباز شریف کا لندن سے اچانک آنا کئی سوال پیدا کرتا ہے، وہ کہتے ہیں کہ فلائٹس بند ہونے کے پیش نظر وہ پاکستان آئے۔ اس سے قیاس کیا جا سکتا ہے کہ انہیں جس مدت کے لئے باہر رہنے کی اجازت دی گئی تھی وہ پوری ہونے کو تھی لہٰذا اس اندیشے کے تحت وہ آخری فلائٹ سے پاکستان آ گئے کہ جہاز بند ہو گئے تو ان کو اجازت دینے والے کوئی کارروائی نہ کریں۔ دوسرا نکتہ یہ ہو سکتا ہے کہ پاکستان میں ان کی جماعت بکھرتی نظر آ رہی ہے۔

چند ہفتے قبل ان کے کئی اراکین اسمبلی نے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات کی۔ پارٹی نے ان اراکین کو غدار قرار دے کر جواب طلبی کی۔ جواب میں پارٹی قیادت کو کئی سخت باتیں سننا پڑیں۔ بکھرتی جماعت کو جوڑے رکھنے کے لئے ایک ایک کر کے حال ہی میں ضمانت پر رہا ہونے والے شاہد خاقان عباسی، مفتاح اسماعیل، احسن اقبال اور دیگر کو ذمہ داریاں دی گئیں مگر کام نہ چل سکا۔ مریم نواز بھی ایک بار کیمروں کے سامنے آئیں۔

حالات میں بہتری کے امکانات نہ دکھائی دینے پر شہباز شریف کو آنا پڑا۔ مسلم لیگی طرز سیاست میں نمائش اور پالش کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔ تھوڑے سے کام کی نمائش پر اربوں روپے کے اشتہارات جاری کیے جاتے، ڈینگی کیا یہاں تو لیٹرینوں پر بھی وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے اشتہارات لگے ہوتے تھے۔ اینکر، کالم نگار اور کچھ صحافی ان جعلی کارروائیوں کی پالش کیا کرتے۔ ایک بھوکے کو ہزار روپے کی مدد دیتے ہوئے دس ہزار کے نمائشی اور پالشی اخراجات معمول کی بات تھی۔

شہباز شریف حکومت کی یہی گورننس تھی۔ عادت بگڑ جائے تو کہاں جاتی ہے۔ لندن سے آنے والے اپوزیشن لیڈر نے آتے ہی اپنے سابق وزیروں اور مشیروں پر مشتمل ٹاسک فورس بنا دی، اعلان کیا کہ مسلم لیگ کی مقامی تنظیمیں کرونا کے انسداد کے لئے کردار ادا کریں گی۔ ایک ہفتہ ہوا چاہتا ہے ن لیگ کی ٹاسک فورس اور اس کی تنظیم کہیں سرگرم ہوئی نہ کسی نے ان کو دیکھا۔ انسان کو دل عطا کر کے ایک آواز دی گئی۔ جب کوئی نہ ہو تو دل کی آواز سننے کی کوشش کریں۔

یہ آواز اچھی نہ لگے تو دماغ کی سکرین آن کر لیں۔ دفتر میں کام کرتے، لوگوں سے ملتے ملاتے کچھ خوش کن یادیں ابھی تک منتظر ہیں کہ آپ ان پر پڑی گرد صاف کریں، ایک بار پھر ان کو یاد کریں۔ کرونا وائرس کے معالجین نے احتیاط بتائی ہے کہ تمام انسان ایک دوسرے سے سماجی دوری اختیار کر لیں۔ تین ارب انسان لاک ڈاؤن میں ہیں، کروڑوں مشینیں بند ہوئیں، بے شمار دفاتر پر تالے پڑے ہیں، اربوں ٹیلی فون خاموش ہیں۔ فضا میں ریل گاڑیوں، موٹروں اور ہجوم کی تکلیف دہ آوازیں کہیں مری پڑی ہیں۔

سوچ رہا تھا، کسی جبر کے ہاتھوں جب ایک انسان دوسرے سے دور ہو تو اسے وچھوڑا کہتے ہیں، خود اختیار کردہ دوری کو جانے کیا نام دیا جاتا ہے کچھ دانشوروں نے کہہ رکھا ہے کہ انسان سماجی حیوان ہے، سماج تو میل ملاقات اور مل کر رہنے سے بنتا ہے، سوشل ڈسٹنس ہو تو سماج کی اقدار بدلنے کا امکان ضرور ہو گا۔ سیاستدانوں کی بات پر دھیان نہ دیں۔ جس طرح حکومت اپنا وقت ضائع نہیں کر رہی آپ بھی ان کو بھول جائیں۔ یہ سمجھیں ہیں نہ سمجھیں گے، آپ تنہائی کا مزہ اٹھائیں۔
بشکریہ روزنامہ 92۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *