کرونا، انسان اور پرندہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اے میرے صاحب

کل بہرحال بیگم سے آنکھ بچا کے ہم چھت پہ جانکلے ارد گرد کی چھتوں پہ ہو کا عالم تھا تیسرے سے چوتھے گھر کی چھت پہ دھیمی دھیمی آواز میں افشاں کا گایا ہوا مست ملنگ چا کیتا ائی بج رہا تھا تین چار مست ملنگ دھواں اڑانے میں مصروف تھے اس نشیلے دھویں کی مہک ہم نے اپنے ارگرد محسوس کی تو ناک سے لمبے لمبے سانس لیتے ہوئے اس مہک کو اپنے پھیپھڑوں تک پہنچانے کی بھی کوشش کی اور یہ اس لیے کہ فیس پہ بک جہاں دیگر علاج برائے کرونا وائرس ٹوٹکے بتائے جا رہے ہیں۔ وہاں اس نشیلے دھوئیں کا بھی ذکر آ رہا ہے۔

ذکر تو خیر سفید بوٹی کا بھی آ رہا ہے مگر وہ آنگن چھت یا گھر ہمارے گھر سے کوسوں دور ہے۔ مگر تادم تحریر سفید بوٹی کا ٹوٹکا کار آمد نظر آتا ہے کیونکہ اس گھر یا گھر کے کسی مکین یا اس گھر کے مکین سے مسلسل رابطے میں رہنے والے کسی بھی شخص کے بارے میں ابھی تک کوئی منفی خبر سننے کو نہیں ملی البتہ جو خبریں سنائی اور دکھائی دے رہی ہیں وہ کوچ کے حوالے سے ہیں۔

نیچے گلی میں چاچا رحمو اپنی لاٹھی ٹیکتے اور مسلسل کھانستے ہوئے مسجد کی طرف جا رہا ہے۔ اس کی لیڈی ڈاکٹر بہو گلی کی نکڑ تک اسے کے پیچھے بھاگتے ہوئے اسے سمجھانے اور گھر میں نماز پڑھنے کے لیے واپس لانے کے لئے کوشش کر رہی وہ اسے بتا رہی ہے کہ کرونا وائرس کتنا خطرناک ہے اور آپ کو تو کھانسی بھی لگی ہوئی ہے۔ ستر سال آپ کی عمر لہذا آپ مہربانی فرما کے گھر میں نماز پڑھ لیں چاچا رحمو بہو سے بار بار ہاتھ چھڑاتے ہوئے ایک دوبار تو گرتے گرتے بچا مگر اپنی ضد پر قائم رہتے ہوئے سخت لہجے میں بہو سے کہا تم نے چار کتابیں کیا پڑھ لیں ہیں۔ تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے۔ اگر خطرے کی کوئی بات ہوتی تو مولوی اللہ رکھا مجھے بتا دیتا اس سے میں نے لوگوں کے سامنے بھی اور ایک دوبار کان میں بھی پوچھا ہے کہ میں گھر میں نماز پڑھ لیا کروں مگر انہوں نے ہر بار یہی کہا ہے۔

کسے قیمت تے مسجد نہ چھڈیں کسے بے دین دی گل نہ منیں اے سارا فساد کافراں دا پھیلایا ہویا ہے۔ سانوں کرونا وائرس کے اکھڑاں اے۔ (کسی قیمت پر مسجد نا چھوڑنا، کسی بے دین کی بات نہیں ماننی، یہ سارا فساد کافروں کا پھیلایا ہوا ہے۔ ہمیں کرونا وائرس نے کیا کہنا ہے۔ )

سامنے والے گھر کی چھت پر کبوتروں کے پنجرے میں بھی مردنی سی چھائی ہوئی ہے۔ شیدا جو پانچ وقت کبوتروں کی دیکھ بھال کرتا تھا اب بہت کم نظر آتا ہے۔ اسے کسی نے کہا ہے کہ کرونا وائرس پرندوں کے ذریعے بھی لگ سکتا ہے سو کم بخت نے کبوتروں کو دانہ پانی ڈالنا بھی چھوڑ دیا ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں ہم کرونا وائرس سے بچتے بچتے گھروں میں قید پرندوں جانوروں کو خوراک نا ڈالنے کے عمل کی وجہ سے نہ کسی پکڑ میں آجائیں۔ آج میرا ارادہ ہے کہ اسے سمجھاؤ نگا کہ کرونا وائرس انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہوتا ہے۔ قدرت نے پرندوں اور جانوروں کو اس سے محفوظ رکھا ہوا ہے۔ انہیں دانہ پانی ڈالتے رہو ایسا نہ ہو کرونا وائرس کے بعد ان پرندوں اور جانوروں کی آہ کا وائرس پھیل جائے۔

آسماں پہ پرندے ناچتے گاتے پھرتے ہیں۔ روزانہ کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ موج مستی کر رہے ہیں۔ ایک دوسرے کے محبوب پرندے آج کچھ ضرورت سے زیادہ ایک دوسرے کے قریب محسوس ہو رہے ہیں۔ ایک بوڑھا پرندہ جو یقیناً ان کے لئے بہت قابل احترام ہے۔ بآواز بلند کہہ رہا ہے۔

سنو میرے بچو

زمین پر پھیلے ہوئے انسانوں کو دیکھو ان سہمے ہوئے لوگوں کو غور سے دیکھو یہ وہی لوگ ہیں۔ جو گھونسلوں سے ہمارے بچے اٹھا لیتے تھے یہ وہی لوگ ہیں۔ زمین سے ہمیں نشانہ بناتے ہوئے لہو لہان کر دیتے تھے یہ وہی لوگ جو ہم سے ہماری آزادی چھینتے ہوئے پنجروں میں قید کر کے گھروں کو پرندوں کی جیل بنایا کرتے تھے۔

تمہیں یاد ہے۔ ابھی میری شادی کو چند دن ہوئے تھے ہم میاں بیوی خوش تھے کہ ہمارے آنگن میں بچوں کے پھول کھلنے والے اس خوشی میں ہم ناچتے گاتے اڑتے پھرتے تھے کہ زمین سے اوپر اٹھتے ہوئے ایک قہر نے مجھ سے میری بیوی اور اس کے پیٹ میں موجود میرے بچے چھین لئے۔

دیکھو اور غور سے دیکھو

وہ جنہیں اپنے کمالات پہ بہت فخر تھا اپنی ایجادات پہ بہت ناز تھا اپنی طاقت پہ بہت گھمنڈ تھا آج کیسے اپنے اپنے گھروں میں قید ہوچکے ہیں۔ کیسے ایک دوسرے سے خوف زدہ ہیں۔
لیکن یاد رکھو ہم پرندے ہیں۔ انسان نہیں ہیں۔ ہم نے انسانوں کے ساتھ ہی جینا مرنا ہے۔ ہمیں ان کی سلامتی کی دعائیں مانگنی چاہیے۔

میرے بچو انسانوں کے کیے ہوئے ہر ظلم کو بھول جاؤ سچے دل سے معاف کردو اور روتے ہوئے دل کے ساتھ رب العزت کی حمد وثنا کرو اور انسان کے حق میں دعا کرو آسمان کا رب العزت زمین والوں پہ رحم کرے آمین

مگر بابا؟
ایک قدرے چھوٹی عمر کے پرندے نے بزرگ پرندے سے پوچھا یہ انسان انسان کب بنیں گے؟

بوڑھے پرندے نے چھوٹے سے پرندے کے سر پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
میرے بچے تمہاری ذمہ داری یہ ہے کہ قدرت نے تمہیں پرندہ بنایا ہے۔ سو تم پرندہ بن کے جیو۔ بنانے والے نے انسان کو انسان بنا کے بھیجا ہے۔ سو انسان بن کے جینا اس کی ذمہ داری ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *