کیا کرونا وائرس عذاب الہی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے دنوں ملک کے ایک نہایت ہی مشہور کالم نگار نے کرونا وائرس بارے اپنے ایک کالم میں لکھا ہے کہ کیا یہ عذاب الہی ہے؟ اور جواباً یہ بتلایا ہے کہ یہ آزمائش اور امتحان ہے۔ ان صاحب سے گزارش ہے ہے کہ ہر فن کے مخصوص ماہرین ہوتے ہیں ہیں اور انہی کا کام ہوتا ہے کہ وہ اس فن بارے اپنی ماہرانہ رائے کا اظہار کریں۔ وہ اپنے فن صحافت میں بلاشک و شبہ کامل دستگاہ رکھتے ہیں اور پورے ملک میں ان کے کالم بڑے شوق سے پڑھے جاتے ہیں۔

میں بھی اکثر ان کے کالم پڑھتا رہتا ہوں۔ ان کی باتیں بڑی دلچسپ اور معلومات افزا ہوتی ہیں۔ تا ہم جب بھی انہوں نے مذہب پر قلم اٹھایا تو مجھے اکثر ان سے اختلاف ہوا ہے۔ اب کی بار بھی جو انہوں نے کالم لکھا ہے اس میں انہوں نے کرونا وائرس کو آزمائش قرار دے کر اس کو عذاب قرار دینے کی نفی کی ہے۔ موجودہ حالات کے تناظر میں اس تحریر کو لکھنے کا ہمارا مقصد صرف اور صرف مسلمانوں کی اصلاح احوال ہے۔ معلوم نہیں ان کا کیا مقصد تھا؟

صرف معمول کی آزمائش قرار دے کر اپنے معمولات زندگی کو ویسے ہی بحال رکھنے کا اور فسق و فجور سے اجتناب نہ کرنے کا یا کچھ اور؟ بہرحال ہمارا حسن ظن ہے کہ ان کا مقصد اچھا ہی رہا ہوگا لیکن معلومات کی کمی کی وجہ سے وہ درست نتیجہ اخذ نہ کرسکے۔ جواباً عرض یہ ہے کہ جی ہاں اغلب گمان یہی ہے کہ یہ عذاب الہی کی ہی ایک شکل ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ طاعون ایک عذاب ہے جو تم سے پہلی امتوں پر آیا تھا، اس لیے جس علاقے میں یہ وبا پھیلی ہوئی ہو، تم وہاں مت جاؤ اور اگر تم کسی علاقے میں ہو اور وہاں یہ وبا پھیل جائے تو وہاں سے نہ نکلو۔ ( مسند احمد 1491 )

قرآن مقدس میں بھی ذکر ہے کہ بنی اسرائیل پر اللہ رب العزت نے طاعون کا عذاب بھیجا تھا۔ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :

پھر ہم نے ظالموں پر ان کی نافرمانی کی وجہ سے آسمان سے عذاب نازل کیا۔ (سورۃ البقرۃ: 59 )

یہ عذاب ان کے ظلم و نافرمانی کی وجہ سے آیا تھا اور علماء کے نزدیک طاعون سے مراد وبا ہی ہے۔ (نفائس الفقہ 4 / 266 ) چاہے وہ کرونا وائرس کی شکل میں ہو یا کسی اور بیماری کی شکل میں وہ طاعون ہی کہلائے گی۔ اب رہا یہ سوال کہ یہ عذاب کیوں آتے ہیں؟ تو قرآن و سنت کی تعلیمات اور سابقہ اقوام کے قصص بتلاتے ہیں کہ عذاب الہی تب آتے ہیں جب زمین میں کفر و فسق اور ظلم و عصیان عام ہو جاتے ہیں تو پھر عذاب ہی آیا کرتے ہیں۔

پوری دنیا میں مسلمانوں پر جو ظلم ہو رہا ہے وہ کسی سے مخفی نہیں ہے۔ چائنا، برما، فلسطین وغیرہ میں مسلمانوں پر قیامت گزر چکی اور کسی نے اس پر آواز تک نہیں اٹھائی۔ کشمیر میں آٹھ ماہ ہونے کو ہیں اور وہاں پر ابھی تک کرفیو لگا ہوا ہے دنیا کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ ملک شام کی اس معصوم بچی کی وہ آواز آج تک کانوں میں گونج رہی ہے کہ میں اللہ کے پاس جا کر سب کچھ بتاؤں گی۔ جب مخلوق خدا پر ظلم بڑھ جاتا ہے اور مظلوموں کو کو اپنا کوئی ہمدرد نظر نہیں آتا تو پھر وہ اپنی آہ و زاری اللہ رب العزت کی بارگاہ میں بلند کرتے ہیں تو پھر عذاب آیا ہی کرتے ہیں۔ قرآن پاک میں ہے :

تو نوح (علیہ السلام) نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ میں کمزور ہوں۔ اب تو ان سے بدلہ لے۔ پس ہم نے زور کے مینہ سے آسمان کے دہانے کھول دیے اور زمین سے چشمے جاری کردیئے۔ تو پانی اس کام کے لئے جو مقدر ہوچکا تھا جمع ہوگیا۔ ( القمر :: 10۔ 12 )

اور یوں جب عذاب آتے ہیں تو اس کی علت یہ بھی ہوتی ہے کہ لوگ اللہ کی نافرمانی اور ظلم سے باز آ جائیں۔ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :

فساد پھیل گیا خشکی اور تری میں لوگوں کے کرتوتوں سے (اور اس کا ضروری نتیجہ یہ ہے ) کہ مزا چکھائے ( اللہ) ان کو ان کے بعض اعمال کا تاکہ وہ (ایسی حرکتوں سے ) باز آجائیں۔ (سورۃ الروم: 41 )

اب رہا یہ سوال کہ کیا طاعون عمواس میں جن اکابر صحابہ کی موت واقع ہوئی تھی کیا یہ ان کے لیے بھی عذاب ہی تھا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ نہیں یہ طاعون ان لوگوں کے لئے عذاب نہیں تھا بلکہ شہادت تھی۔ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : شہید پانچ لوگ ہیں ( 1 ) جو طاعون میں مرے ( 2 ) جو پیٹ کے مرض میں مرے اور ( 3 ) جو ڈوب کر مرے اور ( 4 ) جو دب کر مرے اور جو ( 5 ) اللہ کی راہ میں شہید ہوا۔ (بخاری : 653 ) تو پھر یہ کفار کے لیے عذاب کیسے ہو گیا؟ اس کی دلیل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد مقدس ہے :

طاعون میری امت کے لیے شہادت اور رحمت ہے اور جب کہ کافروں کے لیے عذاب ہے۔ (مسند احمد : 20767 )

اسی لیے بہت سے صحابہ نے تو دعائیں کی تھیں کہ ان کا انتقال اسی طاعون کی وبا میں ہی ہو جائے تا کہ مرتبہ شہادت پر فائر ہو جائیں۔

ویسے کرونا وائرس کا آزمائش ہونا انہیں بھی تسلیم ہے اور آزمائش سے مراد مصیبت آفت یا بلا ہی ہوتی ہے اور مصیبت کافروں کے لیے عذاب اور مومن کے لیے بلندی درجات کا سبب ہوتی ہے۔ بہت سے لوگوں کو ہو سکتا ہے کہ یہ بات سمجھ میں نہ آئے کہ ایک ہی بیماری ایک شخص کے لئے عذاب ہو اور دوسرے شخص کے لئے رحمت ہو یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ تو اس کی مثال یہ ہے کہ فرض کریں کسی جگہ حادثے وغیرہ کی وجہ سے مختلف مذاہب کے لوگوں کا جن میں یہودی، عیسائی، پارسی، سکھ، ہندو اور مسلمان سب شامل ہیں کا انتقال ہو جاتا ہے۔ اب کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان سب کے لئے ایک جیسا حکم ہے؟ نہیں بلکہ بحکم حدیث جو مسلمان اس میں وفات پائیں گے ان پر شہادت کا اطلاق کیا جائے گا اور جو کافر ہیں ان پر یہ حکم نہیں لگے گا۔

درست نقطہ نظر یہی ہے کہ ہم واپس اللہ رب العزت کی طرف لوٹ آئیں اپنے گناہوں سے توبہ کریں آہ و زاری کریں استغفار کریں۔ قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کریں تو کچھ بعید نہیں کہ اللہ رب العزت اس وبا کا خاتمہ فرما دے جیسا کہ حضرت یونس علیہ الصلاۃ و السلام کی قوم کے ساتھ ہوا تھا۔ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا ہے ہے کہ اللہ رب العزت ملک پاکستان کی حفاظت فرمائے اور اس کے باسیوں کو اس وبا سے جلد سے جلد نجات عطا فرمائے آمین۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *