کرونا کے بعد: معاشیات اور معاشرت کی صورت کیا ہو گی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بہت سے گھروں میں کام کرنے والی ماسی ایک گھر سے ”فارغ“ ہو کر دوسرے گھر میں آئی اور کچھ فکر مندی سے بولی ”باجی پہلے گھر والوں نے تو مجھے تنخواہ دے کر فارغ کر دیا ہے کہ بہت خطرہ ہے، حکومت کی ہدایات بھی یہی ہیں کہ فی الحال کام کرنے والی ماسیوں کو عارضی چھٹیوں پر بھیج دیا جائے، آپ لوگوں کا کیا ارادہ ہے؟ “ اس باجی کا جواب بھی یہی تھا جو پچھلے گھر والوں کا تھا، ایڈوانس تنخواہ اور عارضی چھٹی۔ حالات یہی نظر آ رہے ہیں کہ عارضی چھٹیوں کا دورانیہ بڑھ بھی سکتا ہے۔

صرف ایک مہینے کے چند دنوں کی پیشگی تنخواہ کافی نہیں، ان کے لیے چھٹیوں کے تمام دورانیے کی تنخواہ کا بندوبست ہونا چاہیے۔ سب باجیوں کے لیے یہ آسان نہیں کہ بغیر کام کے ان کو تنخواہیں دی جائیں لیکن ان کو ایسا کرنا چاہیے کہ وہ مشکل وقت میں ان کے کام بہت کم معاوضے پر کرتی ہیں اور اب ان کو بھی مشکل وقت میں ان کے کام آنا چاہیے۔ یاد رہے کہ اس فکر مند ماسی کے چھ بچے ہیں اور اس کا خاوند حسبِ معمول ویلیاں کھانے کے علاوہ نشہ بھی کرتا ہے۔

کرونا کے اس دور میں ان ماسیوں کے علاوہ اور بھی بہت سے لوگ ہیں جن کو بغیر کام کے تنخواہ اور ضرورت کی اشیاء چاہئیں۔ پاکستان جیسے ملکوں میں تو بہت زیادہ۔ یہ برطانیہ تو ہے نہیں جہاں کے شہر برمنگھم سے ایک پاکستانی شہری نے بتایا کہ اس مشکل وقت میرے گروسری سٹور والے نے مجھے ای میل کی ہے کہ جس چیز کی بھی ضرورت ہو، ہمیں ای میل کر دیں ہم آپ کے گھر پہنچائیں گے، بینک والوں نے بھی میل کی ہے کہ ہنگامی صورت میں ہم آپ تک نہ صرف نقدی آپ تک پہنچانے کا بندوبست کر سکتے ہیں بلکہ ضرورت کے وقت آپ کو قرض بھی دیں گے، دفتر والے پیچھے نہیں رہے انہوں نے گھر بیٹھنے پر بھی مکمل تنخواہ دینے کی خوش خبری بھی سنائی اور خدا نخواستہ بیمار ہونے کی صورت میں محفوظ قرنطینہ کے بندوبست کی بھی پیش کش کی۔ اور تو اور ایک رچرڈ نام کا ایک شہری دوسرے گھروں کی طرح ان کے گھر بھی اپنا کارڈ پھینک کرگیا ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں وہ سودا سلف، ادویات اور دوسرے کام کے لئے اس کی خدمات بلا معاوضہ حاصل کی جا سکتی ہیں۔

کرونا کے اس عہد اور اس کے بعد جو معاشی دھچکے ہمارے منتظر ہیں وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ ادارے یا کمپنیاں کیا، ممالک کے ڈوبنے کو خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ ایک مشکل وقت ہے، اس نے بالآخر گزرنا ہے، اس مشکل کے بعد ان شاءاللہ آسانی بھی آئے گی لیکن ایک بھاری بھرکم قیمت وصول کرنے کے بعد۔

معاشرتی صورتحال بھی کچھ اسی طرح ہے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے پوری دنیا گھروں میں قید ہو کر رہ گئی ہے کہ عافیت اسی میں ہے۔ خوشی اور غمی دونوں میں شرکت مشکل ہو گئی ہے۔ مذہبی اور متبرک ترین مقامات بھی بندش کی زد میں ہیں۔ ایک وقت تھا کہ مذہبی مقامات سے آنے والوں کو لوگ بڑے ذوق وشوق سے ملنے جاتے تھے، تا کہ وہاں سے لائے گئے متبرکات میں سے کچھ حصہ بھی لے سکیں۔ اب یہ عالم ہے کہ وہاں سے لائی گئی اشیاء کیا ان سے ملنے کی چاہت بھی ختم ہو گئی ہے۔

اب ان کی یہی خواہش اور دعا ہے کہ اس دورِ آشوب کے گزرنے تک ان کا سامنا بھی نہ ہو۔ جس شہر میں ایران سے آنے والے زائرین کے پڑاؤ کی خبر ملتی ہے، اس شہر کے لوگ احتجاج شروع کر دیتے ہیں کہ ان کو ”یہاں“ نہیں ”وہاں“ رکھیں۔ شہر تو شہر صوبوں کے باسی بھی یہی چاہتے کہ یہ ہمارے صوبے میں نہ رہیں۔ کسی محلے میں کوئی عمرہ زائر واپس آتا ہے تو پورا محلہ چوکس ہو جاتا ہے۔ کراچی سمیت بڑے شہروں میں کارخانے بند ہوگئے ہیں تو وہاں کام کرنے والے اپنے اپنے گھروں میں واپس آئے ہیں تو ان کے علاقوں کے رہنے والے فکر مند ہوگئے ہیں اور احتجاج کر رہے ہیں یہ اپنے ہی گھروں سے کہیں دور چلے جائیں۔

یہ سب کچھ فطری ہے کہ ہو سکتا ہے دوسرے شہروں سے آنے والے اپنے ساتھ یہ وائرس لے کر آئے ہوں۔ گھر میں بھی کسی کو چھینک یا کھانسی کی صرف ”کھ“ ہی آ جائے تو تشویش پھیل جاتی ہے۔ فرانس سے بھی خبر آئی ہے کہ ایک ہسپتال میں داخل زندگی سے مایوس ایک آدمی نے اپنے اہلِ خانہ سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا تو گھر والے ملاقات پر راضی نہیں ہوئے کہ ہم بھی اس وائرس کا شکار ہو سکتے ہیں۔ خبر ہے کہ ڈاکٹرز نے مریض کو ان کے لئے مکمل محفوظ کر دیا تھا لیکن وہ پھر بھی نہیں مانے۔ حشر میں بھی تو ایسے ہی ہونا ہے کہ ماں نے بیٹوں کو اور بیٹوں نے ماں کو نہیں پہچاننا۔ یہ بھی ایک چھوٹا سا حشر ہی ہے۔

اس وائرس کے مکمل خاتمے کے بعد حالات سازگار ہونے کے بعد بھی اس کے معاشرتی اثرات موجود رہیں گے۔ بہت سے لوگ اس کا شکار ہو کر تندرست بھی ہو رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ڈاکٹرز کی طرف سے صحت مندی کی سند ملنے کے بعد اس کے ارد گرد رہنے والے، اس کے محلے والے حتیٰ کہ اس کے گھر والے بھی اس کو تندرست سمجھیں گے یا ”اچھوت“ ہونے کا سرٹیفکیٹ مستقل اس کے گلے میں لٹکا رہے گا؟ لوگوں کے ذہن میں وائرس کے مہلک ہونے کا اس قدر خوف پیدا کر دیا گیا کہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ وہ بیچارہ تندرست ہونے کے باوجود ترچھی اور مشکوک نطروں کا شکار ہو کر زندہ درگور ہی رہے گا۔ اللہ نہ کرے ایسا ہو لیکن ایسی صورتحال میں یہ عارضی سماجی فاصلے مستقل رخ بھی اختیار کر سکتے ہیں۔ اور اگر صورتحال گھر، محلہ اور شہر سے ہوتی ہوئی متاثرہ کے گھر تک بھی پہنچ گئی تو بہت افسوس ناک ہوگی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *