کرونا کو شکست دینے میں ناکام: عوام یا حکمران؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میڈیکل سائنس کے مطابق کسی بھی وائرس کو ختم نہیں کیا جاسکتا، لیکن انسانی جسم میں قوت مدافعت کو بڑھا کر وائرس کو کمزور کیا جاسکتا ہے۔ ویکسین کو کسی بھی ایسے مادے کے ذریعے جسم میں داخل کیا جاتا ہے جو جسم کے مدافعتی نظام کو اُس مادے کے خلاف مزاحمت کرنے کے قابل بنادیتا ہے۔ انسانی جسم اپنے ارتقا ئی مراحل میں صدیوں سے انواع و اقسام کی بیماریوں کا شکار ہوتے ہوتے زمانہ حال میں اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ انسانوں کے لئے خطرناک وائرس کو غیر موثر بنانے کے لئے ایسا ماہ تیار کیا جائے جو اُس وائرس کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرنے کی قوت رکھتا ہو۔

1803 میں برطانوی سائنس دان نے ویکسین کو اُس وقت متعارف کرایا جب اس نے چیچک سے بچاؤکے خاطر اپنا طریقہ کار علاج دریافت کیا۔ اس ے اپنی دوا ایک وائرس جس کو variolae vaccinac (یعنی cowpox virus) کہتے ہیں، سے حاصل کی، لاطینی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ہیں ”گائے“۔ زمانہ قدیم سے حال تک انسان اپنے بچاؤ کے لئے مختلف تدابیر اختیار کرتا چلا آرہا ہے۔ دور جدید کو عالم انسانیت میں میڈیکل و سائنس کے ارتقاء کا زمانہ سمجھا جاتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک و ترقی پذیر ممالک کے ساتھ تیسری دنیا کی اصطلاحات نے طبقاتی تفریق کو بہت نمایاں کیا ہے۔ رواں صدی میں انسانی تاریخ کی بدترین جنگوں سے کروڑوں انسان زمین میں دفن ہوچکے ہیں، لیکن اس کے باوجود آج بھی زمین پر انسانوں کے درمیان جنگ جاری ہے۔

کرونا وائرس نے جس طرح پوری دنیا کو اپنے شکنجے میں لیا وہ ایک بدترین عبرت کا نشان ہے۔ کرونا وائرس کو کئی زاویوں سے جانچنے اور سمجھنے کی کوشش کی جا رہی ہیں لیکن اس وقت پوری دنیا کی نظریں اس اَمر کی جانب لگی ہوئی ہیں کہ کرونا وائرس کے خلاف میڈیکل سائنس میں کامیاب کون ہوتا ہے؟ امریکا اپنے مشیروں پر ناراض ہوچکے ہیں کہ انہوں نے ابھی تک کرونا وائرس کا توڑ دریافت کیوں نہیں، ایک جانب صدر ٹرمپ اپنی قیاس آرائیوں کی وجہ سے جگ ہنسائی کا سبب بن چکے ہیں۔

امریکی صدر نے اپنی ایک ٹویٹ میں ملیریا کے لئے استعمال ہونے والی ادویات chloroquine اور hydroxychloroquine کو کارآمد قرار دے دیا ہے، دوسری جانب نائیجریا میں ان ادویات کو استعمال کرنے سے دو مریضوں کے جسم میں زہر پھیلنے کی اطلاع بھی دنیا کی توجہ کا مرکز بنی۔ واضح رہے کہ امریکا کے اہم طبی ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے ) کرونا وائرس کے علاج پر صدر ٹرمپ کے بیان کی توثیق کرنے سے انکار کردیا تھا، انہوں نے یہ وضاحت خود امریکی صدر کے سامنے میڈیا بریفنگ کے دوران دی، ایف ڈی اے کے کمشنر ڈاکٹر سٹیفن ہاہن کا کہنا تھا کہ وہ غلط امید نہیں دلانا چاہیں گے، ’ہوسکتا ہے کہ کرونا وائرس کی ہمارے پاس ٹھیک دوائی موجود ہو لیکن یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کی درست ڈوز ابھی دستیاب نہ ہو جس کی وجہ سے زیادہ نقصان ہوسکتا ہے۔

پریس کانفرنس کے بعد ایف ڈی اے نے وضاحت دی کہ کلوروکوئین کورونا وائرس کے علاج کے لیے ایف ڈی اے نے منظور نہیں کی اور نہ ہی کوئی دوسری ڈرگ، کلوروکوئین کو دوسرے مقاصد کے لیے منظور کیا گیا، ڈاکٹروں کو قانونی طورپر اجازت دی گئی کہ اگر وہ چاہتے ہیں تو کورونا وائرس کے خلاف تجویز کرسکتے ہیں، لیکن کورونا وائرس کے لیے اس کا موثر اور محفوظ ہونا ابھی ثابت نہیں ہوا، ایف ڈی اے کمیشنر ڈاکٹر سٹیفن نے ٹرمپ کی پریس کانفرنس کے بعد کہا کہ کلوروکوئین کا کرونا وائرس کے مریضوں پر کلینکل ٹرائل ہو گا۔

اس وقت ترقی یافتہ ممالک کو طبی آلات کے کمیابی کا بدترین سامنا ہے۔ کرونا وائرس نے ایک طرف دنیا کے امیر و ترقی یافتہ ممالک کی حقیقت کو آشکار کیا ہے تو دوسری جانب ترقی پذیر ممالک کو اپنی ترجیحات طے کرنے کے لئے سوچ بچار کا موقع بھی فراہم کیا ہے۔ اس وقت نہیں کہا جاسکتا کہ کرونا وائرس پر کتنے عرصے میں مکمل طور پر قابو پا لیا جائے گا، قیاس آرائیاں ہیں کہ ویکسین کی تیاری میں اب بھی کم ازکم 18 مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی سینٹر آف ڈیزیز کنٹرول اینڈ پری ونشن کی نئی رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کسی بھی سطح پر 17 دن تک زندہ رہ سکتا ہے۔

امریکی سینٹر آف ڈیزیز کنٹرول اینڈ پری ونشن نے کورونا وائرس سے متاثرہ 2 بحری جہازوں ڈائمنڈ پرنسز اور گرانڈ پرنسز میں وائرس کے پھیلاؤ پر تحقیق کی۔ امریکی سینٹر آف ڈیزیز کنٹرول اینڈ پری ونشن کے مطابق تحقیق میں دونوں بحری جہازوں کے کیبنز کے خالی ہونے کے 17 دن بعد بھی وائرس کی موجودگی ظاہر ہوئی۔ یہ ایک بہت بھیانک صورتحال ہے جس کا نقشہ دنیا کے پورے نظام کو لپیٹ رہا ہے۔

کرونا وائرس کی شدت کے ساتھ ہی دنیا بھر میں فیس ماسک اور سینیٹائزرز کی شدید قلت پیدا ہوگئی اور ذخیرہ اندوزں کے ساتھ ساتھ فیس ماسک اور سینیٹائزرز بنانے والوں نے اسٹاک کو لاک کرکے مہنگے داموں میں فروخت کرکے اربوں روپے کمائے۔ اس حوالے سے دنیا بھر میں ایک خصوصی پروپیگنڈا مہم چلائی گئی اور اس تاثر کو عام کیا کہ کرونا وائرس سے بچاؤ کے لئے فیس ماسک اور سینیٹائزرز ناگزیر ہیں، تاہم شدید قلت کے بعد اس منفی پروپیگنڈے کو زائل کرنے کی کوشش کی گئی کہ فیس ماسک سب کے لئے پہننا ضروری نہیں، اس کے استعمال کی ترجیحات میں واضح کیا گیا کہ جس فرد میں کرونا وائرس کی علامات ظاہر ہو رہی ہوں یا متاثرہ جگہ پر کرونا وائرس کے متاثرین موجود ہیں، ان کے لئے فیس ماسک ضروری ہیں۔

بالخصوص کرونا وائرس کے علاج کرنے والے میڈیکل عملے و رضا کاروں کے لئے۔ اسی طرح سینیٹائزرز کو ”آب حیات“ بنا کر پیش کرنے سے افراتفری پیدا ہوئی، جس کے رد کے لئے بعدازاں مہم چلائی جانے لگی کہ جراثیم کے خاتمے کے لئے بیس سیکنڈ تک کسی بھی صابن سے ہاتھ دھونا کافی ہیں، تاہم اُس وقت تک سینیٹائزرز کی قیمت میں ہزار گنا اضافے سے منافع خور فائدہ اٹھا چکے ہیں، ٹشو و ٹوائلٹ پیپر کی بھی شدید قلت نے ہنگامی صورتحال پیدا کی اور عوام کو خوف کے ہیجان میں مبتلا کرکے دنیا بھر میں ریکارڈ کمائی کی گئی۔

کرونا وائرس کے شکار مریضوں کے لئے سب سے اہم تریں ضرورت وینٹی لیٹر قرار دیا جاتا ہے۔ وینٹی لیٹر مصنوعی طریقہ سے آکسیجن انسانی پھیپڑوں تک پہنچانے کا کام کرتا ہے۔ کرونا وائرس سے شدید ترین مریضوں کے لئے وینٹی لیٹرز کی کمیابی نے اُن تمام ممالک کا چہرہ بے نقاب کردیا جو انسانیت کی تباہ کاریوں کے لئے جدید سے جدید ترین جنگی ساز وسامان بنانے کے لئے ہتھیاروں کی دوڑ میں لگے ہوئے تھے، لیکن اُن کے پاس اپنے شہریوں کی حفاظت کے لئے ایسے انتظامات ہی نہیں تھے جو کسی بھی وبا کے نتیجے میں انسانی جان کو ضائع ہونے سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتے۔

اس اَمر کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ صرف امریکا میں اس وقت امریکا میں محض ایک لاکھ 60 ہزار وینٹی لیٹرز موجود ہیں جب کہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکا میں وینٹی لیٹرز کی ضرورت والے کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 95 لاکھ تک جا سکتی ہے۔ امریکا کے علاوہ اٹلی بلکہ برطانیہ اور جرمنی جیسے ممالک کو بھی وینٹی لیٹرز کی قلت کا سامنا ہے اور دنیا کی سب سے بڑی کار ساز کمپنیوں نے بھی حکومتوں کو وینٹی لیٹرز تیار کرنے کی پیش کش کی ہے اور اس حوالے سے جلد گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنیاں وینٹی لیٹرز تیار کریں گی۔

وینٹی لیٹرز تیار کرنے والی امریکی و یورپی کمپنیوں کے ملازمین کے مطابق انہیں جدید ترین وینٹی لیٹر تیار کرنے کے لیے کچھ ایسے پرزوں کی ضرورت پڑتی ہے جو وہ چین سے خریدتی ہیں اور انہیں چین سے پرزوں کی دستیابی میں مشکل کا سامنا ہے۔ ادھر چینی کمپنیوں کے مطابق انہیں دنیا کے کئی ممالک نے ہزاروں وینٹی لیٹرز کے آرڈرز دے رکھے ہیں اور اگلے ایک سے ڈیڑھ ماہ تک کمپنیوں کے آرڈرز بک ہیں۔ پاکستان، امریکا، برطانیہ، اٹلی، اسپین اور جرمنی جیسے ممالک میں بھی جہاں فیس ماسک اور سینیٹائزرز کی قلت ہے، وہیں دیگر طبی آلات کی بھی عالمی سطح پر قلت دیکھی جا رہی ہے۔

قریباً تین مہینے کے بعد دنیا اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ کرونا وائرس کی تباہ کاریوں کو روکنے کے لئے شہروں و قصبات کا لاک ڈاؤن کرنا ناگزیر ہے۔ سماجی رابطوں کو معطل کرنا اور نقل و حرکت کو کم کرنے سے وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔ کرونا وائرس کی روک تھام کے لئے واحد طریقہ جو اس وقت سامنے آیا ہے وہ ”لاک ڈاؤن“ ہے۔ جو دنیا میں تباہی مچانے والے ممالک میں حکومتوں نے مجبور ہوکر اختیار کیا ہوا ہے۔ یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ لاک ڈاؤن سے کرونا وائرس کی روک تھام کس طرح ممکن ہے تو اس پہلو پر تھوڑی توجہ کی ضرورت ہے۔

ماہرین طب کے مطابق کسی بھی صحت مند انسان کے سماجی میل جول و رابطوں سے کرونا وائرس کا پھیلاؤ خطرناک حد تک تیزی سے ایک دوسرے کو منتقل ہوتا ہے، مریض کے ہاتھ ملانے یا گلے لگانے سے انسانی جسم میں کرونا وائرس تیزی سے سرایت کرجاتا ہے، لاک ڈاؤن کا مقصد یہی قرار دیا جارہا ہے کہ اس طرح کرونا وائرس کو محدود کرکے اُن متاثرین تک پہنچا جاسکتا ہے جو کسی نہ کسی صورت اس وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں لیکن علامات ظاہر نہ ہونے کی وجہ سے سماجی رابطوں کی وجہ سے یہ پھیلاؤ کا سبب بن کر خطرناک صورتحال اختیار کرسکتے ہیں، اس وقت چین کے بعد اٹلی، ایران، و دیگر ممالک اس کی مثالیں ہیں کہ ان ممالک میں عوام نے احتیاطی تدابیر اختیار میں سہل پسندی کا مظاہرہ کیا، جس کے نتیجے میں ہزاروں قیمتیں جانوں کا نقصان ہوا اور لاکھوں جانیں اس وقت موت کی دہلیز پر ہیں، ہر گزرتا وقت انسانی جانوں کے لئے بڑی تباہی کا باعث بن رہا ہے۔

احتیاطی تدابیر میں ماہرین صحت کے مطابق باقاعدگی سے ہاتھ دھونا، ماسک کا استعمال، کھانسی اور چھینک کے وقت ٹشو پیپر یا رومال کا استعمال یا عدم دستیابی کی صورت میں کہنی سے ناک کو ڈھانپ لینا اس وائرس سے انسان کو محفوظ بناتا ہے۔ کرونا وائرس کے مشتبہ مریض سے بغیر حفاظتی اقدامات یعنی دستانے یا ماسک پہنے بغیر ملنے سے گریز کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق گوشت اور انڈوں کو اچھی طرح پکانا بھی حفاظی تدابیر میں شامل ہے۔

نزلہ اور زکام کی صورت میں پرہجوم مقامات پر جانے سے اجتناب اور ڈاکٹر سے تفصیلی طبی معائنہ کرانا بھی اس مرض سے بچاؤ کے لیے فائدہ مند ہے۔ کرونا وائرس کی علامات عام فلو کی طرح ہی ہیں۔ ماہرین صحت کے مطابق بخار، کھانسی، زکام، سردرد، سانس لینے میں دُشواری کرونا وائرس کی ابتدائی علامات ہو سکتی ہیں۔ لیکن ضروری نہیں کہ ایسی تمام علامات رکھنے والا مریض کرونا وائرس کا ہی شکار ہو۔ البتہ متاثرہ ممالک سے آنے والے مسافروں یا مشتبہ مریضوں سے میل جول رکھنے والے افراد میں اس وائرس کی منتقلی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر بیماری شدت اختیار کر جائے تو مریض کو نمونیہ ہو سکتا ہے۔ اور اگر نمونیہ بگڑ جائے تو مریض کی موت واقع ہو سکتی ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق انفیکشن سے لے کر علامات ظاہر ہونے تک 14 روز لگ سکتے ہیں۔ لہذٰا ایسے مریضوں میں وائرس کی تصدیق کے لیے اُنہیں الگ تھلگ رکھا جاتا ہے۔

پاکستان اس وقت کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں بدترین صورتحال کا سامنا کررہا ہے، صوبائی حکومتوں کی جانب سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایات پر عوام میں پزیرائی کا نہ ہونا ایک بڑی خطرناک علامت ہے۔ صوبائی حکومتوں نے اپنے طور پر لاک ڈاؤن کرتو دیا ہے لیکن دنیا کے دیگر ممالک بالخصوص چین، اٹلی، امریکا کی طرح پاکستان میں کرونا وائرس کی روک تھام کے لئے عوام کی جانب سے غیر محتاط رویے نے خدشات بڑھا دیے ہیں کہ ٹریول ہسٹری نہ ہونے کے باوجود مقامی طور پر کرونا وائرس تیزی سے پھیلتا جارہا ہے اور خدا نخواستہ بے احتیاطی کی وجہ سے متاثرین کی تعداد میں یک دم اضافہ ہونے کے خدشات سے متاثرین کو طبی سہولیات فراہم ہونے میں شدید دقت کا سامنا ہوگا۔

امریکا سمیت ترقی یافتہ ممالک میں طبی آلات کی کمی کو سامنے رکھتے ہوئے اگر پاکستان جیسے ملک کی صحت عامہ کی عمومی صورتحال پر غور کیا جائے تو مستقبل کا بھیانک نقشہ ابھر کر سامنے آتا ہے، جس کا تصور بہت وحشت ناک ہے۔ اس مرحلے پر کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی اُن سازشو ں و منصوبوں کو ایک جانب رکھنا ضروری ہے، کیونکہ کرونا وائرس پاکستان میں تیزی کے ساتھ پھیلتا جارہا ہے۔ اسپتالوں میں وینٹی لیٹرز کی سہولیات انتہائی ناکافی ہیں، ان حالات میں میڈیکل اسٹاف جس طرح کام کررہا ہے وہ قابل تحسین ہے، لیکن قرنطینہ بنانے کے باوجود احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے کے سبب، موجودہ صورتحال کو تسلی بخش قرار نہیں دیا جاسکتا۔

سندھ حکومت نے پہل کرتے ہوئے کئی اہم اقدامات کیے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد بھی حاصل کی، لیکن اس کے باوجود دیکھنے میں یہی آیا کہ بین الاصوبائی راستے بند نہ ہونے کے سبب عوام کو گھروں میں محدود رکھنے کی حکمت عملی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکے گی۔ حکومت سندھ نے سخت لاک ڈاؤن کیا ہے لیکن وفاق کی جانب سے ملک گیر لاک ڈاؤن نہ کیے جانے کے فیصلے کے سبب صوبوں و وفاق میں تناؤ بڑھتا واضح نظر آرہا ہے، حالاں کہ وزیر اعظم کی جانب سے ملک گیر لاک ڈاؤن کے احکامات جاری نہ کیے جانے کے باوجود 80 فیصد حصوں میں صوبائی حکومتوں نے لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا ہے، صوبہ پنجاب، خیبر پختونخوا، جہاں تحریک انصاف کی صوبائی حکومتیں ہیں، انہوں نے بھی جزوی لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے اور فوج سے مدد طلب کی ہے، تاہم عوام کی جانب سے اپنی مدد اپ کے تحت کرونا وائرس کی سنگینی کو سنجیدگی سے نہیں لیا جارہا۔

یہ ایک افسوس ناک عمل ہے۔ تادم تحریر دنیا بھر میں پانچ لاکھ کے قریب کرونا وائرس سے متاثر مریضوں کی تصدیق کی جاچکی ہے۔ جن میں ہلاکتوں کی تعداد 22 ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے۔ جب کہ صحت مند افراد کی تعداد ایک لاکھ 20 ہزار کے قریب ہے۔ یہ اَمر تسلی بخش ضرور ہے کہ کرونا وائرس ایک ایسا جان لیوا مرض نہیں ہے جو آنا فاناً انسانی یا جنگلی حیات کو ختم کرسکے، جتنی بھی ہلاکتیں سامنے آرہی ہیں اُس میں زیادہ تر وہ افراد ہیں جنہیں بروقت طبی امداد نہیں مل سکی یا پھر عمر زیادہ ہونے کے باعث کمزور قوت مدافعت کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔

یہاں یہ اَمر بھی سامنے آیا کہ ضروری نہیں کہ 50 برس سے زاید العمر افراد کو ہی خطرات لاحق ہوں گے، بلکہ جواں سال متاثرین کو بھی زندگیاں کھونا پڑی ہیں، جس کی مثال کرونا وائرس کے خلاف کام کرنے والے پاکستان کے نوجوان ڈاکٹر اسامہ ریاض بھی ہیں جنہوں نے وائرس کی تباہ کاریوں کی باوجود اپنے جان خطرے میں ڈال کر انسانوں کی جان بلا امتیاز رنگ و نسل اور مذہب و مسلک بچانے کی کوشش کی۔

پاکستانی عوام کو عالمی ادارہ صحت اور حکام کی جانب سے دی جانے والی ہدایات کو جنگی صورتحال سمجھ کر سنجیدگی سے لینا ہوگا، غیر سنجیدگی ایک ناقابل تلافی نقصان کا سبب بن سکتا ہے اور اس کے بعد لاکھ چاہنے کے باوجود اپنے پیاروں سے محروم ہوسکتے ہیں، وقت سے قبل افسوس سے ہاتھ ملنے کے بجائے ضروری ہے کہ حکومتی اقدامات پر عمل کیا جائے۔ یہ ضرور ہے کہ لاک ڈاؤن کے منفی معاشی حالات بھی سامنے ہیں، لیکن عوام کو یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ان کے پاس اقدامات پر عمل نہ کرنے کے علاوہ دوسرا آپشن کیا ہے، حکومت کی جانب سے ریلیف ملنا، اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے، لیکن یہ بھی نہ ملے تو کیا کرونا کی تباہیوں کو روکا جاسکتا ہے۔

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک، اپنی معاشی قوت کو وقت کے ساتھ سنبھالنے میں کامیاب ہوجائیں گے، لیکن پاکستان جیسے ترقی پزیر اور قرضوں میں ڈوبی عوام خود کو قیامت خیزیوں کے بعد کس طرح اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکے گی اس پر ہر ایک شخص کو سوچنے و سمجھنے کی ضرورت ہے۔ عالمی وبا کے خاتمے کے آثار تاوقت دکھائی نہیں دے رہے، یہی وجہ ہے کہ ہمیں چار و ناچار کرونا وائرس سے بچنے کے لئے حفاظتی اقدامات اپنی مدد آپ کے تحت ہی کرنا ہوگا۔

حکومت سے گلہ اور ریاست کی جانب سے ریلیف کی توقعات اپنی جگہ۔ سیاست و اختلافات بھی محفوظ رکھیئے، لیکن اس وقت پوری دنیا کرونا وائرس کے خلاف لڑ رہی ہے، ہمیں اس موقع پر اللہ تعالی کی جانب رجوع کرنا چاہیے۔ اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی ضرورت ہے کہ آج ایک ایسے وائرس نے پوری دنیا کو ہلادیا ہے جو قیامت صغریٰ کا منظر پیش کررہا ہے۔ عالمی وبا پر حکومت و اپوزیشن کا ایک صفحے پر اتفاق رائے کا پیدا نہ ہونا، مسائل کو کم کرنے کے بجائے بڑھائے گا جو کسی کے بھی حق میں بہتر نہیں قرار دیا جاسکتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *