اللہ سے رجوع کرنا ناگزیر ہو چکا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اپاہج ذہنوں، بوسیدہ سوچوں اور گوشت پوست کے برائے نام انسانوں کے سامنے بھلائی کی بات کرنا کسی پہاڑ کے ایک بڑے پتھر کے سامنے کھڑے ہوکر یہ منتیں کرنا کہ کیوں نہ آج آپ میرے ساتھ ہی چلیں کے مترادف ہے۔

وہ زمانہ جس کے بارے میں گزشتہ نسلوں کی آخری نشانیاں اکثر کہا کرتی تھیں کہ ایک وقت آئے گا جب ہر انسان اپنے تک محدود اور مقید ہوجائے گا آج ہی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ یوں اچانک یہ سب کچھ ہوجائے گا کبھی سوچا نہ تھا یقین کیجئیے انسان سمجھنے سے قاصر ہوچکے ہیں۔ کیا حالات اب اتنے خراب ہیں کہ سمجھانے کے لئے موت کا آنا لازمی ٹھہر گیا ہے؟

ارے اے لوگوں خدارا گھروں میں رہئیے۔ یہ دہائیاں اور یہ چیخیں چاروں طرف سنی جارہی ہیں لیکن سماعتوں پر جہالت کے پردے ہیں جنہوں نے ذہن کے ساتھ رابطہ ہی ختم کیا ہوا ہے۔

یہ ایک دو دن کی بات نہیں کسی کی برسوں کی محنت ہے جس کی وجہ سے عقلوں پر پردے، بصارتوں پر دیوانگی اور سماعتوں پر جہالت کا قبضہ ہوچکا ہے یہ محنت کس کی ہے یہ ابھی تک حل طلب مسئلہ ہے۔ فی الحال اشرف المخلوقات کو گھروں کے اندر رہنا ہوگا ورنہ سیارہ زمین انسانوں سے کم از کم خالی ہو ہی جائے گا۔

خدارا خود کو محدود کیجئیے۔ سمجھنے کے لئے کیا ضروری ہے کہ ارد گرد لاشیں ہی پڑی ہوں۔ موت سے ڈرئیے۔ موت زندگی کا خاتمہ کردیتی ہے اور یاد رکھئیے ہمارے آس پاس کرونا وائرس کی شکل میں موت ہی رقص کر رہی ہے۔

ہم موت سے کتنا ڈرتے ہیں یہ اندازہ لگانے کے لئے دن بہ دن بڑھتے ہوئے کرونا وائرس کے متاثرین کے بارے میں سوچئیے۔ اللہ کا عذاب اور انجنئیرڈ وائرس یہ دو خیالات ہیں۔ دونوں میں سے جس کا بھی انتخاب کرو گے نتیجہ ایک ہی ملے گا اور وہ یہ کہ انسان پوری دنیا میں پھنسے ہوئے ہیں اور کسی کے پاس اس مسئلے سے نکلنے کی یا تو کوئی تدبیر نہیں یا وہ تدبیر استعمال کرنے کی کوشش نہیں کر رہا۔ ہمیں اس صورتحال سے نکالنے والا اللہ ہی ہے لیکن ہم کیا ایسی صورت میں کہ جب ہر کام میں نافرمانی کے ماہر بن چکے ہیں اللہ سے رجوع کرسکتے ہیں۔

نافرمانی کی شدت بہت ہے اور وہ ایسے کہ پچھلے کئی برسوں میں معصوم بچیوں کی عزتیں تار تار ہورہی تھیں تو تماشبین بے شمار تھے۔ کشمیر کا تو نوحہ ہی طویل ہے اپنے ہی ملک میں درندوں نے کیا اللہ کے قہر کو دعوت نہیں دی تھی جب بار بار معصوم بچوں کے ساتھ گھناؤنے کھیل کھیلتے رہے۔ حکمران غافل بنے رہے، عوام لطف اندوز ہوتے رہے اللہ مگر دیکھتا رہا اور آج ہم مانتے ہیں کہ کرونا وائرس اللہ کا عذاب ہے باز آنے سے مگر پھر بھی کترا رہے ہیں۔ بلند وبانگ چیخوں سے توبہ تائب ہونے کی کوشش تو ہو رہی ہے مگر شاید ابھی امتحان باقی ہے۔ طاقتور طبقوں نے خود ان مظالم کا نظارہ کیا لیکن ایک بار کسی نے سوچنے کی زحمت ہی نہیں کی کہ ایک آہ عرش تک اگر پہنچ گئی تو پھر جینا ناممکن ہوجائے گا۔

رب کائنات نے کھلے عام حکم صادر فرمایا ہے تم سود کی لعنت سے بچو۔ سود میرے خلاف اعلان جنگ ہے۔ ہم نے سنا اور بعد میں سوچا دنیا معاشی ترقی کر رہی ہے کیوں نہ اس ترقی میں خود کو شامل کرکے سود کا نام ہی بدل ڈالیں۔ کارپوریٹ دنیا کا پہلا اصول ہی سود ہے تو ہم کیسے دنیا سے خود کو الگ کرسکتے ہیں۔ ہم سود کو قومی سطح سے انفرادی سطح تک لے آئے اور مسجد کی صفوں میں جب سود خور دوڑ کر امام کے پیچھے کھڑا ہوتا ہے تو ہماری آنکھیں بند ہوجاتی ہیں۔

ہم خود اپنا بھلا سوچ سکتے ہیں یہی ہماری غلط فہمی ازل سے رہی ہے اور اس بار بھی ہم نے کرونا کے اس عذاب میں یہ نہیں سوچا کہ جس سے مدد مانگنے پر تلے ہوئے ہیں اس کے خلاف تو ہم نے جنگ کا آغاز کیا ہوا ہے۔ تاریخ کا ایک مسلسل سبق ہے کہ جہاں فطرت کے اشارات پر غور وفکر نہیں کی جاتی وہاں پھر حادثے رونما ہوتے ہیں جن سے صرف اذیت ملتی ہے اور ہم برسوں سے ایک مستقل اذیت سے گزر رہے ہیں۔

شراب کے بارے میں حکم آیا یہ حرام ہے۔ مدینہ کی گلیوں میں دوڑتا ہوا ایک صحابی مسلسل اعلان کرتا رہا شراب پر پابندی لگ چکی ہے۔ قریب ہی ایک مسلمان جام ہونٹوں سے لگائے اعلان سنتا ہے اورعین اسی لمحہ شراب سے توبہ کرتا ہے۔ مدینہ کی گلیوں میں شراب کے مٹکے توڑ دیے جاتے ہیں اور تاریخ خود شاہد بن جاتی ہے کہ اس دور کے مسلمان پھر شراب کے قریب تک نہیں جاتے۔

ہم مگر ایسے مسلمان ہیں جو شراب ہیتے بھی ہیں اور پلاتے بھی ہیں۔ ببانگ دہل شراب کی محفلیں سجاتے ہیں جس پر شباب کی چادر بھی چڑھائی جاتی ہے اور ایسے میں جب کوئی اجتماعی مسئلہ آجاتا ہے تو ذہن کو چھیڑتے رہتے ہیں لیکن گالیوں اور خرافات کے سوا کچھ نکلتا ہی نہیں۔

کیسے ہوگا ممکن۔ ہم ظلم کرنے میں ماہر ہیں، سود خوری کے عادی ہیں اور شراب کے دلدادہ اور اوپر سے دلوں کے اندرکی کدورتیں، آنکھوں میں غضب کی نفرت اور اعمال میں انتہا کی حد تک منافقت۔ اجتماعی بحرانوں پر قابو پالینا آسان ہوتا ہے جب قومی امور میں اللہ کی رضا کا عنصر شامل کردیا جاتا ہے ہم نے مگر مستقل طور پر اس عنصر کو نکال ہی دیا ہے۔

اس بار نکلنے کی ایک ہی صورت ہے اللہ کی طرف رجوع۔ ہم ایسا اگر اس بار نہیں کرسکیں تو پھر شاید کبھی بھی ہمارے لئے ممکن نہ رہے۔ ہم لاکھ چاہے لیکن خود کو اس آفاقی حقیقت سے الگ کر ہی نہیں سکتے جس کی وجہ سے پوری دنیا میں ہماری اپنی ایک پہچان ہے۔ اللہ کی طرف جانا ہوگا اور یہی ہماری وہ طاقت ہوگی جس کی وجہ سے ہماری بقاء دائمی رہ سکے گی۔

اللہ کی طرف دوڑ کر جانا ہوگا۔ ہم دوڑیں گے تو بات بنے گی۔ ہم یوں ہاتھ پر ہاتھ دھریں بیٹھے رہیں گے تو روز مریں گے۔ ہم اس بار نہ دوڑیں تو مرنا یقینی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *