بلاول بھٹو اور شہباز شریف بہت برے ہیں: آپ تو کچھ کر کے دکھائیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا ہم واقعی کرونا کے خلاف تیار ہیں؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب شاید کسی کے پاس نہیں۔ حکومت لاک ڈاؤن کیا جانا چاہیے یا نہیں کیا جانا چاہیے اور اگر کیا جائے تو لاک ڈاؤن کی کون سی قسم ہونی چاہیے وفاق اور صوبے ایک جیسا لاک ڈاؤن کریں یا مختلف۔ غرضیکہ حکومت بمہ حکومتی ادارے جنہوں نے عوام کے لئے کرونا جنگ لڑنا ہے وہ جنگ کے ابتدائی مرحلے پر اس ہتھیار کا انتخاب ہی نہیں کر پارہے کہ جیسے پہلے وار کے طور پر استعمال کیا جانا ہے۔ بہرحال میرا مسئلہ لاک ڈاؤن ہر گز نہیں میرے پیش نظر وہ اقدامات ہیں جو ہمیں ہسپتالوں ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کی تربیت کے لئے درکار ہیں جو کرونا مریضوں کی دیکھ بھال اور انہیں صحت یاب کرنے کے لئے مہیا کیا جانا ہیں

سر دست کاغذوں اور خبروں کی حد تک تو بہت کچھ ہو چکا ہے مگر حقیقت حال یہ ہے کہ کرونا مریضوں کے لئے مختص کیے گے وارڈز اور بستر تو موجود ہیں مگر وھاں کوئی طبی عملہ تعینات نہیں ہے۔

میو ہسپتال لاہور کا قدیم ترین ایک بڑا ٹیچنگ ہسپتال ہے اس میں جو مریض کرونا وائرس کے لائے گے ان میں سے پیشتر کے لواحقین کے مطابق ہسپتال کا عملہ ان مریضوں کو کرونا انفیکشن کے ڈر سے ان کے قریب بھی نہیں جاتا کیونکہ عملے کا کہنا ہے کہ ان کے پاس وہ بنیادی حفاظتی لباس موجود نہیں ہے جو انہیں کرونا انفیکشن سے محفوظ رکھ سکے۔ کچھ اطلاعات کے مطابق کرونا کے مریضوں کو ہسپتال داخل تو کیا جاتا ہے مگر عملے کے چند ارکان مریض کو وارڈ کے ایک ائسولئٹڈ حصہ میں بیڈ پر ڈال کر باقاعدہ اسے بیڈ سے باندھ دیتے ہیں کوئی اس کی آواز سنتا ہے نہ ہی کسی عزیز کو اس سے ملنے دیا جاتا حتی کہ اسے کھانا تو درکنار پانی تک مہیا نہیں کیا جاتا۔

گذشتہ شب ہی سوشل میڈیا پر جاری ایک وڈیو میں ایک مریض رو رو کر عملے کو بلا رہا ہے مگر قریب کھڑے عملے کو کوئی رکن اس کا کوئی جواب تک نہیں دے رہا۔ ایسا ہی ایک اور ساٹھ سالہ مریض یونہی عملے کو پکارتے پکارتے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر موت کو گلے لگا چکا ہے۔ اور نجانے ایسے کئی ایک واقعات رپورٹ ہوئے ہوں گے اگر لاہور جیسے شہر کا یہ حال ہے تو چھوٹے شہروں اور قصبوں میں کیا ہو رہا ہوگا کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ وزیر اعلی عثمان بزدار نے تحقیقات کو حکم تو دے دیا ہے۔

جناب وزیراعلی آپ کی انتظامی اور گورنس کے حوالے سے پہلے ہی پورا ملک پریشان ہے اور سوال اٹھا رہا ہے اور اب کسی جو کرونا ہے یا نہیں کچھ پتہ نہیں کیونکہ ٹسٹ کی سہولیات تک نہیں ہیں لہذا اب ہلاکتیں کرونا کی وجہ سے ہو رہی ہیں یا کسی بھی وجہ سے مگر ہلاکتیں علاج معالجہ کی سہولت کی بجائے طبی عملے کی بے حسی اور غیر انسانی رویے سے ہے ہو رہی ہیں تو پھر آپ کا ہی نہیں اس ملک خدادا کا بھی اللہ ہی حافظ ہے۔ آپ کرونا وارڈ ضرور بنائیں مگر اس کے ساتھ ان وارڈز میں طبی عملہ بھی مہیا کریں جیسے باقاعدہ حفاظتی لباس دیا گیا ہو، تاکہ وہ کم از کم مرتے ہوئے مریض کی آخری ہچکی تو سن سکیں ں یعنی مرنے والے کو اتنا تو اطمینان رہے کہ اس نے انسانی باہوں میں اگر نہیں تو انسانوں کی بستی میں جان دی ہے۔

وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان تادم تحریر تین سے چار مرتبہ قوم سے خطاب فرما چکے ہیں اور اتنی ہی مرتبہ وہ صحافیوں سے بھی مل چکے ہیں۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ جناب وزیراعظم کیا فرماتے ہیں کیونکہ وہ ایک ہی انداز سے ایک سکول ٹیچر کی طرح میڈیا یا قوم سے مخاطب ہوتے ہیں اور انئیں پرائمری کلاس کا سبق دے کر تشریف لے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق ہیلتھ کارڈ کی اخراجات حد سات لاکھ روپے ہے اور مریض پانی پانی پکارتے مر جاتے ہیں جناب وزیراعظم آپ تو سپیکر کانفرنس میں بھی اپنا خطاب فرما کر تشریف لے جاتے ہیں اور کسی کو سننا گوارا تک نہیں فرماتے نہیں۔

آپ کی خدمت میں عرض ہے کہ قوم نے آپ کو اپنا وزیراعظم بنایا ہے کالج یا کسی تعلیمی ادارے میں ٹیچر یا لیکچرار بھرتی نہیں کیا قوم آپ سے اپنے غموں اور کرونا جیسی وبا سے نپٹنے کے لئے بچاؤ کے فوری اقدامات چاہتی ہے آپ ایران سے پابندیاں اٹھانے کا پیغام امریکہ کو دے رہے ہیں مگر ایک آواز اپنے ہم وطنوں، اپنے عوام کی پکار پر بھی بلند کریں جنہوں نے آپ کو اس منصب پر فائز کیا ہے۔

بلاول بھٹو یا شہباز شریف آپ کو پسند نہیں آپ بہت بڑے ہیں اور ان جیسوں کو منہ لگانا آپ کے شایان شان نہیں ہوگا مگر درست فیصلے تو کر لیں مکمل لاک ڈاؤن کریں۔ اس کی توجہات پیش نہ کریں۔ ہسپتالوں میں عملے کو حفاظتی لباس مہیا کریں تاکہ وہ مریضوں کو دیکھ سکیں ان کر داد رسی کر سکیں۔ ڈیہاڑی دار مزدور کو تو اس کا ہمسایہ روٹی مہیا کردے گا مگر اس مریض کا کیا جو کرونا کی وبا میں مبتلا ہوا آپ نے گرفتار کرکے ہسپتال میں ڈالا اور عملے نے اسے بستر پر باندھ کر مرنے کے لئے چھوڑ دیا۔ یہی ہو رہا ہے

یہ دنیا مقافات ُعمل کا نام ہے۔ یہاں سب کو اپنا حساب چکا کر جانا پڑتا ہے۔ حکمران، ڈاکٹر، طبی عملہ، حکومتی ادارے، ہمسائے، بہن بھائی، ماں باپ، بچے، سب اپنی اپنی رئیت میں جواب دہ ہیں اور جواب دینا ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *